Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

لبرل اور سیکولرقوتوں کی نئی صف بندیاں

  1. صاف نظر آرہاہے کہ نئی صف بندیاں شروع ہوچکی ہیں۔ ان کے بہت سے محرکات ہیں۔ برطانیہ اور فرانس کی قیادت میں پہلی عالمی جنگ کے خاتمے کے ساتھ ہی مسلم دنیا میں جو عالمی نظام(World Order
    ) جاری ہوا تھا اسے ایک سو سال ہونے کو ہیں۔ اس کے تحت عثمانی خلافت کا خاتمہ ہوا تھا۔ خاص طور پر شرقِ اوسط کی نئی جغرافیائی تشکیل ہوئی تھی۔ کئی ملکوں کے نقشے بدل دیئے گئے تھے۔ترکی میں کمالی سیکولرزم مسلط ہوگیا تھا۔ عرب دنیا میں سیکولر نیشنلزم کی لپیٹ میں آگئی تھی۔ اس عالمی نظام نے مسلم ممالک کی حکومتوں کو تومغرب کی بڑی طاقتوں کا ، خاص طور پر دوسری عالمی جنگ کے بعد امریکہ کا ، باج گزار بنادیا تھا لیکن سارے وسائل بروئے کار لانے اور اپنے دست آموز مسلم حکمرانوں کی ساری کوششوں کے باوجود مسلمان معاشروں کو مکمل طور پر سیکولر نہ بنایاجاسکا۔ اس اسکیم کے بروئے کار آنے کے تقریبا ایک صدی بعد آج جو صورتحال ہے وہ معروف امریکی تھنک ٹھینکPEWکے عالم اسلام کے بارے میں ایک سے زیادہ جائزوں سے منعکس ہوتی ہے۔مسلمان عوام دین کا پورا شعور رکھتے ہوں یا نہ رکھتے ہوں ، اس پر پوری طرح عمل کرتے ہوں یا نہ کرتے ہوں لیکن ان کی ایک غالب اکثریت(اسی فیصد سے زائد)مذہب سے لگاؤ رکھتی ہے اور اس کی خواہش ہے کہ ملکی نظام اسلامی شریعت کے مطابق چلایاجائے۔ اس تھنک ٹینک کی اس رپورٹ کو امریکی انتظامیہ اور پالیسی ساز اداروں پر گہرا اثر رکھنے والے ایک اور تھنک ٹینکRANDkرپورٹوں سے ملا کر پڑھیے جن میں صرف اعتراف کیاگیا ہے کہ مسلمان ممالک میں سیکولر لابیاں وہ اثرات نہیں دکھا سکی ہیں جن کی ان سے توقع تھی۔ اسی لیے رانڈ کی ان رپورٹوں میں بنیاد پرست اور روایت پسند اور جہا دی اور وہابی اسلام کے اثرات زائل کرنے کے لیے صوفی اسلام کو آزمانے کی تجویز پیش کی گئی تھی۔ اب ایک سو سال بعد عالمِ اسلام کے لی ایک نیا شیطانی منصوبہ تیار ہے جس میں اس کی ایک نئی نقشہ گری شامل ہے۔ مسلمان ممالک کی سرحدوں اور ان کے جغرافیائی ڈھانچے میں نئے سرے سے ردو بدل کی تجویزیں زیرِ بحث ہیں۔ پہلا عالمی نظام ا س وقت کی دو مغربی قوتوں ، یعنی برطانیہ اور فرانس ، کی زیرِنگرانی مسلط ہوا تھا۔ نیا ورلڈ آرڈر امریکی منصوبہ سازوں کے عزائم اور ہدایات کے مطابق بروئے عمل لایاجانا ہے۔ اس کا آغاز اکتالیسویں امریکی صدر جارج ہربرٹ والکربُش(93-1989)کے دورِ صدارت میں ہوگیا تھا۔ سیکولر عناصر جن کی بے اثری کا ذکر امریکی تھنک ٹینک نے کیا اب کے اپنی افادیت ثابت کرنے کے لیے سرگرم ہوگئے ہیں۔ وہ اپنے دامن سے نالائقی کا یہ داغ دھونے کی آخری کوشش میں ہیں۔ پاکستان میں بھی ان میں ایک نئی جان پڑتی محسوس ہورہی ہے۔ میڈیا کے محاذ پر تو یہ حضرات بہت زیادہ فعال ہوچکے ہیں۔ پاکستان کے مقاصدکے حوالے سے آج کل یہ جوزوردار بحثیں شروع کی گئی ہیں یہ ان کی اسی فعالیت کا ثبوت ہیں۔
    عالمی سطح پر ان نئی صف بندیوں کی کچھ جہتیں تو بالکل ہی حیران کن ہیں۔ خلیجی ریاستوں کی نئی صف بندی ہی پر نظر ڈالیے ۔ چھ میں تین ریاستیں ایک طرف ہوگئی ہیں اور تین دوسری طرف ۔ سعودی عرب ، امارت اور بحرین کے ایران کے ساتھ تعلقات بہت کشیدہ ہیں۔ وہ اسے اپنے لیے بہت بڑا خطرہ تصور کرتے ہیں لیکن عمان کی ایران کے ساتھ قربتیں عروج پر ہیں۔ ایران کے ایٹمی معاملات پر امریکہ کے ساتھ خفیہ مذاکرات کا مرکز عمان ہی رہا ہے اور سلطان قابوس اس کے Brokerتھے۔ حال ہی میں ایرانی صدر نے عمان کا غیر معمولی دورہ کیا ہے ۔ ماضی قریب میں ایران عراق جنگ کے دوران خلیجی ریاستوں نے کھل کر عراق کا ساتھ دیا تھا۔ اسی جنگ کے کویت نے کوئی سولہ سترہ ارب ڈالر قرض عراق کو دیا تھا۔ جنگ کے بعد جب اس نے اس رقم کی واپسی کا مطالبہ کیا تو صدام حسین اس پر سخت برہم ہوا۔ اس کے خیال میں یہ رقم تو ایران سے خلیجی ریاستوں کے دفاع کی قیمت تھی۔ چنانچہ نہ صرف اس کی واپسی سے انکاری ہوگیا تھا بلکہ کویت پر یلغار کردی۔ دیگر خلیجی ریاستوں کے برعکس کویت کوبھاری قیمت ادا کرنی پڑی تھی۔ اس پرعراق نے قبضہ کرلیاتھا۔ عراقی قبضہ تو امریکہ نے ختم کرادیا لیکن دنیا میں معیار زندگی اور فی کس آمدنی کے لحاظ سے تیسری چوتھی پو زیشن رکھنے والا کویت اس جنگ کے نتیجے میں تیسویں چالیسویں پوزیشن پر چلاگیا۔ اسی لیے کویت اب بہت محتاط ہے۔ وہ ایران کی صورت میں ایک نئے طاقتور دشمن کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ چنانچہ اس کی ایران کے معاملے میں پالیسی تین پڑوسی ممالک کے مختلف ہے۔ قطر اپنی ایک جدا پالیسی پر گامزن ہے جو سعودی عرب کی ناراضی کا موجب بن رہی ہے۔
    یمن جو جزیرۃ العرب کا حصہ ہونے کی وجہ سے GCCکافطری حصہ ہوسکتا ہے، اسے بوجوہ اس علاقائی تنظیم کارکن نہیں بنایاگیا۔ ایک تو اپنی غربت کی وج سے باقی خلیجی ریاستیں اس سے کوئی لگاؤ نہیں رکھتیں، دوسرے یہ القاعدہ کا گڑھ سمجھاجاتا ہے۔ البتہ اردن اور مراکش کے بادشاہی نظام کی وجہ سے ان کو اس کی رکنیت دینے کی تجویز سامنے آئی تھی۔ لیکن یہ تجویز بھی سردخانے میں چلی گئی۔ اس کی اصل وجہ یہ بنی کہ دونوں ملکوں میں اخوان المسلمین گہرا اثررکھتی ہے۔ مراکش کی النہضہ پارٹی تو اخوان ہی کا دوسرا نام ہے۔ اس تجویز کے خلاف میڈیا میں جو دلائل آئے وہ یہ ہیں کہ یہ دونوں ملک GCCکی معیشتپر ویسا ہی بوجھ بن جائیں گے جیسا بوجب یونان اور اسپین یورپی یونین کی معیشت کے لیے خیال کیے جارہے ہیں۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ مصر کی معیشت فوجی انقلاب کے بعد سے بدحالی کی آخری حدوں کو چھورہی ہے۔ اس کا بوجھ انہی تین خلیجی ممالک نے اٹھالیا ہے ۔ غیراعلانیہ طور پر مصر اس وت GCCکا ممبر شمار ہوتا ہے ۔ مصر نے اخوان کے ساتھ حماس کو بھی دہشت گردی تنظیم قراردے دیا ہے۔ اسرائیل کی نظر میں پہلے ہی یہ دونوں کو دہشت گرد ہین۔ یوں اخوان اور حماس دشمنی سے دوستی کاک ایک نیا پیمانہ وضع ہوگیا ہے۔ وہ یہ کہ اخوان اور حماس کا دشمن ہے وہ ہمارا دوست ہے۔ اس پیمانے کے مطابق مصر ، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور بحرین اسرائیل کے دوست ٹھہرے۔ یوں اخوان اور حماس مخالفت نے تین خلیجیج ریاستوں اور مصر اور اسرائیل پر مشتمل نیا بلاک تیار کردیا ہے۔ اس حیران کن صف بندی کی بنیاد اس وقت اخوان کی مذہبی شکل کے مقابلے میں السیسی کا سیکولرچہرہ ہے۔ السیسی خود ہی سیکولر نہیں ہے بلکہ مصر کی ساری لِبرل ، سیکولر، فاشسٹ قوتیں اس کی ہمنوا اور ہم رکاب ہین۔ اس انوکھے سیکولر فرنٹ کے اندر اخوان کی اسلامیت کی مخالفت کی مشترک قدر نے خلیج کی رایت پسند مذہبیت ، قبطی عیسائیت اور اسرائیلی صہیونیت اور انتہا پسند یہودیت میں کامل ہم آہنگی پید اکردی ہے۔
    لبرل اور سیکولر ، پرانے سوشلسٹوں اور کمالسٹوں نے ترکی میں وزیراعظم طیب اردگان کے خلاف بھی اسی نوعیت کا محاذ بنا رکھا ہے۔ حقیقت میں تو وہ اس بات پر تلملا رہے ہیں کہ ان کے خیال اور خدشے کے مطابق اردگان کے دورِ اقتدار میں کمالی سیکولرزم دھندلارہا ہے اور ترکی کی دینی شناخت کے نقوش تیزی سے ابھر رہے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ اردگان عثمانی خلافت کے دور کو لوٹٓانے کے خواب دیکھتے اور ترک قومیت کو دوبارہ ملی رنگ دینا چاہتے ہیں۔ پچھلے سال مئی کے اواخر میں استنبول کے گیزی پارک میں کچھ ترقیاتی کاموں کے سبب پارک کونقصان پہنچنے کا ایشو لے کر ساری اسلام مخالف قوتوں نے ایکا کرکے ایک تحریک برپا کرنے کی کوشش کی۔ حکومت نے سختی سے اس تحریک کو دبادیا۔ یورپی یونین سے لے کر امریکہ تک سے تنقید کے تیر برسنے لگے۔ وہی عناصر جن کو اردگان کے زیرِ سایہ جمہوریت کے مقابلے میں ایک مرتبہ پھر فوجی آمریت گوارا ہے وہ آزادی اجتماع چھیننے کا ماتم کرنے لگے۔ جب یہ وار خالی گیا تو امریکہ میں آسودگی کی زندگی گزارنے والے صوفی فتح اللہ کی گوری چمڑی والی ترک اشرافیہ میں گہرا اثرو نفوذ رکنے والی خدمت کمیونٹی کی کمک طلب کی گئی۔(جی ہاں وہ، خدمت تحریک کہلانے کے بجائے کمیونٹی کہلانا پسند کرتے ہیں) اس کے احوال میرے کالموں میں اس سے قبل بیان ہوچکے ہیں۔یہاں مقصد صرف نئی صف بندیوں کی نشاندہی کرناہے جو شمالی افریقہ سے لے کر خلیج اور وہاں سے لے کر ترکی تک ہمیں نظرآرہی ہے۔ اسی صورتحال کا ہم اپنے ہاں بھی مشاہدہ کررہے ہیں۔ بظاہر نشانے پر تو ترکی کی جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی(AKP)،مصر اور عالم ِ عرب میں اخوان ، احماس اور ہمارے ہاں طالبان ہیں اورنئے محاذ انہی کے قلع قمع کے نام پر بن رہے ہیں لیکن اصل میں بند عالمی سطح پر پالیٹیکل اسلام کی پیش قدمی کے آگے باندھنا مقصود ہے جس کی یہ تینوں تنطیمیں ترکی اور شرقِ اوسط مین اور جماعتِ اسلامی جنوبی ایشیا میں علم بردار ہے۔ طرفہ تماشا یہ ہے کہ مغرب کے زیرِ اثر جدید یت ، لبرٹی، روشن خیالی، اعتدال پسندی کی دعویدار ان قوتوں کو دین و مذہب کی یکجائی کا نظریہ رکھنے والے لوگوں کے زیرِ سایہ خالص جمہوریت بھی گوارا نہیں ہوتی لیکن ان کے مقابلے میں یہ کھلی فسطائی مزاج کی آمریت کو خوشی خوشی قبول کرلیتی ہیں۔ یہ سوال پوچھا جاسکتا ہے کہ ہر جگہ کون سی قوتیں ہیں جو سیکولرازم اور لبرلزم میں جان ڈال رہی ہیں۔ میں اس سوال کا جواب تلاش کرتے کرتے حال ہی میں سندھ حکومت کے کروڑوں کے خرچے سے سندھی ثقافت اجاگر کرنے کے نام پر منعقد ہونے والے میلے میں بلاول شوز پر نظر پڑی۔ ہمارے میڈیا پر تو وہ تصویر میری نظر سے نہیں گزری لیکن وہ خاص پوز شمالی امریکہ کے ایک رسالے نے شائع کیا ہے ۔ اس میں بلاول بھٹو زرداری اپنی شرٹ کے بٹن کھول کر نیچے بنیان پر بنی IIIuminatiکی پر اسرارعلامتیں سینہ پھیلا کر دکھا رہے تھے۔ معروف پاپ سنگر حدیقہ کیانی کے بندے کے بعدIIIuminatiکی یہ پراسرار نشانیاں بلاول کی بنیان پر دیکھیں۔ وہ شرٹ کے بٹن کھول کر یہ علامتیں کیوں دکھا رہے تھے ؟آیئے ہم سب غورکریں۔
     

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں









سوشل میڈیا لنکس