Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

ہندوبنیے کی اصل ذہنیت

  1. کھیلوں کی دنیا کا عجیب عالم ہے۔ لوگوں کو جنون کی حد تک کھیلوں سے دل چسپی ہے۔ کھیلوں کے حسن وقبح کے بارے میں تفصیلاً کچھ لکھنا مطلوب نہیں۔ مختصراً عرض ہے کہ جو کھیل جسمانی ورزش اور فٹنس کے لیے مفید ہوں ان میں کوئی حرج نہیں۔ لیکن جو کھیل نماز، روزے اور ذکراللہ سے غافل کردیں ان کھیلوں کو پسندیدہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ کرکٹ ایک ایسا کھیل ہے جو دنیا بھر میں مقبول ہے۔ کرکٹ کھیلنے والے اچھے کھلاڑی دنیا میں بہت معروف اور بعض اوقات خاصے مقبول بھی ہوتے ہیں۔ اس کے ساتھ مال ودولت کی ریل پیل ان کا مقدر ٹھہرتی ہے۔ ایک اور پہلو یہ بھی ہے کہ کھیل کے میدانوں میں عام شائقین جوئے بازی اور دیگر برائیوں کا ارتکاب بھی کرتے ہیں۔ کھلاڑیوں کے سیکنڈل بھی اس حوالے سے سامنے آتے رہتے ہیں۔ پاکستانی کرکٹ میں پچھلے عرصے میں بہت سے شہرت یافتہ کھلاڑی نہ صرف دین کی طرف مائل ہوئے بلکہ دین کے داعی اور مبلغ بن کر سامنے آئے۔ یہ نہایت خوش آیند بات ہے۔
    ان سطور کے لکھنے کی وجہ دراصل ایشیا کپ میں پاکستان اور بھارت کے درمیان کھیلے جانے والے میچ اور اس کے بعد ہونے والے بعض واقعات ہیں۔ پاکستان نے سنسنی خیز مقابلے کے بعد اپنے روایتی حریف انڈیا کو عبرت ناک شکست دی۔ کھیل کے میدانوں میں فتح وشکست ہوتی رہتی ہے۔ پاکستان میں اس میچ کے ختم ہوتے ہی گلی کوچوں میں گولے اور پٹاخے چھوٹنے کی آوازیں آنے لگیں۔ کئی منچلوں نے اندھا دھند ہوائی فائرنگ بھی کی۔ یہ ان کا اظہار خوشی کا اپنا انداز تھا۔ اس اظہار میں ایک چیز تو واضح ہے اور وہ انڈیا کے بارے میں پاکستانی عوام کے جذباتِ نفرت ہیں۔ انڈیا نے پاکستان کو ہمیشہ نقصان پہچانے کی بلکہ اس کے ٹکڑے کرنے کی سازشیں کی ہیں۔ وہ پاکستان کا ازلی دشمن ہے۔ اس لیے اس سے جو نفرت ہر پاکستانی کے رگ وریشے میں رچی بسی ہے وہ فطری عمل ہے۔
    پاکستان نے بنگلہ دیش کو بھی اسی سریز میں بہت سنسنی خیز مقابلے کے بعد شکست دی تھی، مگر اس موقع پر پاکستان کے گلی کوچوں میں گولے پٹاخے اور فائرنگ کی آوازیں نہیں آئی تھیں۔ یہ اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ بھارت ہمارے بارے میں جو عزائم رکھتا ہے، ہمارے عوام اس سے بے خبر نہیں ہیں۔ لیکن ہمارے حکمرانوں کا معاملہ اس کے برعکس ہے۔ انھیں انڈیا سے محبت ہے اور اسے پسندیدہ ترین ملک قرار دینے کے لیے ان کی بے چینی چھپائے نہیں چھپتی۔ انڈیا بھی جب پاکستان کے مقابلے پر کوئی میچ جیتتا ہے تو اس کے گلی کوچوں میں بھی وہی منظر ہوتا ہے جو پاکستان کی جیت بمقابلہ انڈیا کے موقع پر پاکستان میں نظر آتا ہے۔ اس مرتبہ کرکٹ میچ جیتنے پر کشمیری عوام نے اسی انداز میں خوشی کا اظہار کیا اور پاکستان زندہ باد کے نعرے لگائے، جس طرح وہ ہمیشہ مقبوضہ کشمیر میں لگاتے رہے ہیں۔ نئی بات یہ ہوئی کہ اس مرتبہ میرٹھ یونی ورسٹی (یوپی) میں زیر تعلیم کشمیری مسلم طلبہ نے بھی پاکستان زندہ باد کے نعرے لگائے۔ ان نعروں پر 68 طلبہ کے خلاف کارروائی کی گئی۔ نہ صرف انھیں یونی ورسٹی سے خارج کرنے کا نوٹس ملا بلکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ان پر غداری کا مقدمہ بھی دائر کردیا۔ اس پر پوری دنیا میں احتجاج ہوا۔ بھارت نے پہلی مرتبہ پسپائی اختیار کی اور اپنے فیصلے پر نظر ثانی کا اعلان کردیا۔
    بعد میں معلوم ہوا کہ یہ واقعہ صرف میرٹھ ہی میں نہیں ہوا بلکہ بھارت کے مختلف علاقوں میں کسی نہ کسی انداز میں وقوع پذیر ہوا ہے۔ آن لائن کی ایک رپورٹ کے مطابق اتراکھنڈ کے اندر بھی پاکستان زندہ باد کے نعرے لگے: ”ایشا کپ میں بھارتی کرکٹ ٹیم کی پاکستان کے ہاتھوں شکست پر اتراکھنڈ حکومت نے بھی ٹہری ضلع کے ایک کالج کیمپس میں ” پاکستان زندہ باد “کے نعرے بلند ہونے کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ بھارتی اخبار ”ٹائمز آف انڈیا“ کے مطابق اتوار اور منگل کے روز ٹہری ضلع کے ایک کالج کیمپس میں پاکستان کے حق میں نعرے بلند ہوئے جس کی تحقیقات کا حکم دے دیا گیا۔ پہلا واقعہ اتوار کی شام نئی ٹہری میں بادشاہی تہاول کی ایچ این بی گڑھوال یونیورسٹی کے SRTکالج کیمپس میں پیش آیا۔ ایشیا کپ میں ڈھاکہ کے مقام پر پاکستان کے ہاتھوں بھارت کی شکست پر دیہاتیوں نے پاکستان کے حق میں نعرے سنے۔ اسی کالج میں منگل کی شب بھی پاکستان کے حق میں نعرے بلند ہوئے جب پاکستان نے بنگلہ دیش کو شکست دی۔
    یہ واقعات میرٹھ کی سوامی ویویکانند سو بھارتی یونیورسٹی میں پیدا ہونے والی صورتحال کاری پلے ہیں جہاں 68 کشمیری طلباءکو بے دخل کیا گیا۔ ٹہری ضلع کی انتظامیہ اس پر کسی بھی قسم کا تبصرہ کرنے سے گریز کر رہی ہے۔ سینئر ڈسٹرکٹ پولیس افسران کا کہنا ہے کہ کوئی باقاعدہ پولیس کو شکایت اب تک درج نہیں کرائی گئی تاہم کیمپس سے ”پاکستان زندہ باد“ کے نعرے دیہاتیوں نے سنے تھے۔ ہم نے تحقیق شروع کردی ہے۔ ذرائع کے مطابق ساوند کوٹی گاﺅں کے لوگوں نے بھارت کے خلاف پاکستان کی جیت پر پاکستان زندہ باد کے نعرے سنے اور انھیں نظر انداز کیا، لیکن بنگلہ دیش کے خلاف جیت پر ویسے ہی نعرے بلند ہونے پر اشتعال پیدا ہوگیا“۔ (بحوالہ قومی اخبارات8مارچ2014ء)۔ ان سطور کی اشاعت تک ایشیا کپ کا فیصلہ ہوچکا ہوگا۔ فائنل میچ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان اس وقت جاری ہے۔ دونوں ٹیموں میں سے کون سی فاتح بن کر سرخرو ہوتی ہے، ابھی کچھ کہنا مشکل ہے۔ دونوں طرف سے فتح کے دعوے تو کیے جارہے ہیں مگر شاہینوں کا کچھ پتا نہیں ہوتا کہ کس وقت وہ شاہینی چھوڑ کر غیرسنجیدہ نخروں کے نشے میں مبتلا ہوجائیں۔ بہرحال ہماری دعا ہے کہ شاہین ایشیا کپ لے کر واپس پلٹیں۔ اس سے جہاں پاکستانیوں کو خوشی ہوگی وہاں بھارت کا متعصب ہندو بنیا اپنے بغض کی آگ میں مزید جلتا رہے گا۔
    یہ ایک اٹل حقیقت ہے جو باربار منظرعام پر آچکی ہے کہ انڈیا جو امریکہ اور اسرائیل سے مل کر پاکستان میں دہشت گردی اور تخریب کاری کررہا ہے، خود کن حالات سے دوچار ہے۔ انڈیا کے اندر بنیّا راج کے خلاف شدید نفرت ہے۔ مختلف ریاستوں میں اچھوت سیاسی جماعتیں مقبولیت حاصل کررہی ہیں اور کئی ریاستوں میں حکومتیں بھی شودر سیاست دانوں کی سربراہی میں چل رہی ہیں۔ بھارت کو جو بھی داخلی مسائل درپیش ہیں وہ مقامی ہیں، اس کے باوجود وہ ہمیشہ پاکستان کے خلاف سفارتی وابلاغی جارحیت کرکے پوری دنیا کو یہ تاثر دینے میں کامیاب ہوجاتا ہے کہ پاکستان اس کے خلاف دہشت گردی کررہا ہے۔ اس کے مقابلے میں پاکستانی حکمران کھلم کھلا بھارت کی ایجنسی را کے ایجنٹوں کو اپنے ملک میں تخریب کاری کرتے ہوئے پاتے ہیں مگر کبھی یہ تخریب کار کیفرکردار تک نہیں پہنچائے گئے۔ حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کے لیے بالخصوص امریکی بلیک واٹرز اور بھارتی ایجنسیاں سرگرم عمل ہیں۔ یہ ہم سب کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔
     

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں









سوشل میڈیا لنکس