Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

مولانا ابوالکلام محمد یوسفؒ

  1. عمر ہا درکعبہ وبت خانہ می نالد حیات
    ناز بزم عشق یک دانائے راز آید بروں

    جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے نائب امیر ممتاز عالم دین، بے لوث اور دیانت دار سیاست دان، خوش خلق وشیریں بیان خطیب ، مخلص مسلمان اور عظیم انسان، مولانا ابوالکلام محمد یوسف تقریباً 88سال کی عمر میں 9فروری 2014ءکو جیل کی کال کوٹھڑی میں داعی ¿ اجل کو لبیک کہہ گئے۔ انا للّٰہ وانا الیہ راجعون۔ کہنے کو تو انھیں جیل کے ہسپتال میں منتقل کردیا گیا تھا مگر فرشتہ اجل آجانے کے بعد انھیں جیل کے سیل سے زنداں کے شفاخانے لے جانا مزید اذیت ہی کا باعث تھا۔ وہ عظیم انسان سرخرو ہوگیا، نہ جھکا، نہ بکا، نہ رویا، نہ دھویا اور نہ ہی کسی سے شکوہ وشکایت کے لیے زبان کھولی۔ وہ صحیح معنوں میں صابر وشاکر مومن تھے۔ ان کی موت اللہ کی راہ میں آئی ہے، یہ شہادت ہی کی موت ہے۔
    مولانا اے کے ایم یوسف بنگلہ دیش کے ایک چھوٹے سے گا ¶ں راجیر(سارن کھالہ) ضلع باگرہاٹ میں 1926ءکو پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک چھوٹے سے کاشتکار گھرانے سے تھا۔ ان کے والد زیادہ تعلیم یافتہ نہ تھے۔ انھیں اپنے بیٹے سے بھی یہی امید تھی کہ وہ ابتدائی اور بنیادی تعلیم اور ددین سے واقفیت کے بعد کاشتکاری میں ان کا ہاتھ بٹائے گا۔ مولانا محمد یوسف صاحب کی والدہ کو اس بات کا شوق تھا کہ ان کے بچے تعلیم حاصل کریں۔ خود مولانا محمد یوسف بھی تعلیم حاصل کرنے کا شوق وعزم رکھتے تھے۔ وہ انتہائی ذہین بھی تھے۔ ابتدائی تعلیم اپنے گا ¶ں کے مدرسے سے حاصل کی۔ پھر مزید تعلیم کے لیے ان کی جدوجہد جاری رہی۔ رائنڈہ سکول سے مڈل پاس کرنے کے بعد محمد یوسف صاحب گالہ مدرسہ باریسال میں داخل ہوئے۔ اس زمانے میں انھیں گھر سے اپنی درس گاہ جانے اور آنے کے لیے کشتی اور جہاز میں سفر کرنا پڑتا تھا۔ رائنڈہ بندرگاہ سے بھنڈاریہ بندرگاہ کے راستے ان کی آمدورفت ہوتی تھی۔ ان کی تعلیم کے دوران 1939ءمیں دوسری جنگ عظیم شروع ہوئی تو کئی طلبہ کو آمدورفت کی مشکلات کے سبب تعلیم ادھوری چھوڑنا پڑی۔ مولانا یوسف صاحب نے اس زمانے میں باریسال کے دینی مدرسے میں صرف ونحو اور قرآن وحدیث کے علوم میں تعلیم حاصل کی، جبکہ اعلیٰ تعلیم پبلک مدرسہ عالیہ ڈھاکہ سے مکمل کی۔ انڈر گریجویٹ اور گریجویٹ کے امتحانات میں پورے ملک میں فرسٹ پوزیشن حاصل کی۔ 1950ءمیں فاضل (بی اے آنر) کے امتحان میں پورے مشرقی پاکستان میں فرسٹ پوزیشن حاصل کی۔ اس کے بعد تعلیم کے آخری مدارج تک انھیں سرکاری وظیفہ ملتا رہا۔ انھوں نے علوم اسلامیہ میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کی، جس میں 1952ءمیں انھیں شاندار کامیابی پر ممتاز المحدثین کا خطاب ملا جو علوم حدیث میں بنگلہ دیش کا سب سے اعلیٰ اور امتیازی ٹائٹل ہے۔
    مولانا یوسف صاحب نے مختلف مدارس میں بطور ہیڈ ماسٹر کئی سال تعلیمی خدمات سرانجام دیں۔ 1949ءمیں دورِ طالب علمی ہی کے دوران مولانا کی شادی ہوگئی تھی۔ اللہ نے آپ کو 11بچے عطا فرمائے جن میں سے آٹھ (5بیٹیاں اور3بیٹے) اس وقت زندہ ہیں۔ تعلیم کے آخری مدارج میں مولانا محمد یوسف، مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی تحریروں سے متاثر ہوئے اور جماعت میں شامل ہوگئے۔ بہت جلد انھیں جماعت کا رکن بنا لیا گیا۔ جماعت کے اندر رہتے ہوئے انھوں نے کسان ویلفیئرسوسائٹی کی بنیاد رکھی۔ سالہاسال تک وہ اس کے صدر اور پھر سرپرست رہے۔ یہ سوسائٹی تمام بنگلہ دیش کی این جی اوز میں سب سے ممتاز اور وسیع تر نیٹ ورک کی حامل ہے۔ اس وقت بنگلہ دیش کے تمام کے تمام چونسٹھ اضلاع میں اس کی ضلعی اور ذیلی تنظیمیں قائم ہیں۔ متحدہ پاکستان میں مولانا یوسف صاحب جماعت اسلامی ضلع کھلنا کے امیر 1956ءمیں مقرر ہوئے۔ ایوب خان کا مارشل لا لگا تو اس کے خلاف پرامن تحریک میں مولانا نے بہت نمایاں خدمات سرانجام دیں۔ ایوبی مارشل لا اٹھنے کے بعد مولانا یوسف صاحب کی خدمات اور متحرک شخصیت کے پیش نظر انھیں مشرقی پاکستان جماعت اسلامی کا نائب امیر مقرر کردیا گیا تھا۔ بنگلہ دیش کی علیحدگی تک وہ اس منصب پر فائز رہے۔ بنگلہ دیش کی علیحدگی کے بعد مولانا یوسف بنگلہ دیش جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل مقرر ہوئے۔ انھوں نے مولانا عبدالرحیم اور پروفیسر غلام اعظم صاحب کے ساتھ بطور قیم جماعت کام کیا۔ ان کی قیم جماعت کے طور پر تقرری تین مرتبہ ہوئی۔ اس کے بعد انھیں نائب امیر مقرر کیا گیا۔ اپنی وفات کے وقت وہ بنگلہ دیش جماعت کے سینئر نائب امیر تھے۔
    مولانا کو جنگی جرائم کے لیے قائم کردہ نام نہاد ٹربیونل کے حکم پر 12مئی 2013ءکو گرفتار کر لیا گیا تھا۔ ان کے خلاف بھی دیگر جماعتی راہنماوں کی طرح جھوٹے مقدمات کی ایک طویل فہرست گھڑی گئی۔ ان پر 13الزامات لگائے گئے۔ ان لغو الزامات میں قتل، لوٹ مار اور ہندو آبادی کو زبردستی مسلمان بنانے جیسے جھوٹے الزامات شامل تھے۔ جھوٹ کے ساہوکاروں کے بقول مولانا محمد یوسف نے 8 افراد کو خود قتل کیا اور سات سو افراد کو قتل عام کا حکم دے کر موت کے گھاٹ اتارا۔ ان پر دو سو مکانات اور چارسو دکانوں کو جلانے کا بہتان بھی لگایا دیا گیا۔ گرفتاری کے وقت مولانا کی عمر 87سال تھی اور وہ ضعیف العمری کے علاوہ بہت سے بڑے بڑے امراض میں بھی مبتلا تھے۔ اس ساری صورت حال کے باوجود نہ ظلم ڈھانے والے سنگ دل حکمرانوں اور کارندوں کو ذرا بھی خوف خدا اور خلق خدا سے شرم محسوس ہوئی، نہ مظلوم بزرگ اسیر نے سرجھکانے اور بھیک مانگنے کے بارے میں ایک لمحے کو بھی سوچا۔ ظالموں کے سامنے جھکنا اہلِ حق کا کھبی شیوہ نہیں رہا۔ یہ عالم ربانی بھی امام ابوحنیفہؒ ، امام احمدبن حنبلؒ، امام ابن تیمیہؒ، امام احمد سرہندیؒ، سید قطبؒ اور سید مودودیؒ کی طرح باطل کے سامنے سینہ سپر ہوگیا۔ پیک اجل نے جہاں ظالموں کی فردِ جرم پر مہر لگادی ہے وہیں اس بے گناہ مظلوم کے دکھوں کے خاتمے اور اللہ کی وسیع رحمتوں میں داخلے کا بھی اعلان کردیا ہے۔
    مولانا اے کے ایم یوسف صاحب کو بہت قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ وہ متحدہ پاکستان میں جماعت اسلامی کی مرکزی مجلس شوریٰ کے رکن (1962-71ئ) اور پاکستان قومی اسمبلی میں ایم این اے (1961-69ئ) رہے۔ ایم این اے منتخب ہونے کے وقت ان کی عمر 35سال تھی اور وہ مشرقی پاکستان کے سب سے کم عمر ایم این اے تھے۔ اس عرصے میں ان کا کافی وقت مغربی پاکستان میں گزرتا تھا۔ وہ اسلامی جمعیت طلبہ اور جماعت اسلامی کے تربیتی وتنظیمی اجتماعات میں شریک ہوتے اور شستہ اردو میں تقریر فرماتے تھے۔ ان کی اسلامی علوم پر بھی گہری نظر تھی اور عصری علوم وجدید نظریات پر بھی ماہرانہ نگاہ رکھتے تھے۔ بطور ایم این اے ایوب خان کے آمرانہ دور میں انھوں نے قومی اسمبلی میں اپنی تقاریر، سوالات اور نقطہ ہائے اعتراض وتوجہ کے تحت ہمیشہ اپنے حلقے کے عوام اور جماعت اسلامی کے منشور کی بہترین نمایندگی وترجمانی کی۔ پریس کے نمایندوں سے بھی ہمیشہ کھل کر بات کی اور اپنا موقف پیش کرنے میں کسی موقع پر ادنیٰ سی مداہنت بھی گوارا نہ کی۔
    مشرقی پاکستان کے بنگلہ دیش بن جانے کے بعد مولانا اے کے ایم یوسف کئی بار جماعت اسلامی پاکستان کے کل پاکستان اجتماعات عام میں شرکت کے لیے پاکستان آتے رہے اور مجمع عام میں علمی خطابات سے نوازتے رہے۔ ایسے مواقع پر جب بھی ان کا پاکستان آنا ہوتا جماعتی احباب اور تنظیم ان کو کم وبیش ہر بڑے شہر میں آنے کی زحمت دیتی رہی اور وہ ہر جگہ اجتماعات میں شریک ہوتے رہے۔
    مولانا محمد یوسف صاحب جب بھی منصورہ تشریف لاتے تو احباب کی محفلوں میں پرانی یادوں کے دیپ بھی جلاتے اور بنگلہ دیش میں جماعت اور اس کی برادر تنظیمات بالخصوص کسان ونگ کے بارے میں بہت اہم اور مفید معلومات بھی فراہم کرتے۔ ان میں حسِّ مزاح بھی تھی اور ان کا حافظہ بھی بلا کا تھا۔ احباب جماعت سے معمولی تعارف ہوتا تب بھی ان کے ناموں سے ان کو بلا کر ا پنائیت کا اظہار فرماتے۔ ایک مرتبہ منصورہ تشریف لائے تو شیخ فقیر حسین مرحوم، مولانا ملک غلام علی مرحوم ، سیداسعد گیلانی مرحوم اور کئی دیگر پرانے ساتھیوں کی فیملی اور بچوں کے بارے میں پوچھا۔ مرحومین کے بچے کیا کام کرتے ہیں، تحریک کے ساتھ کس قدر وابستگی ہے، وغیرہ وغیرہ۔ بظاہر یہ معمولی نوعیت کے سوالات ہیں مگر ان سے ایک شخص کی شخصیت کا اصلی روپ سامنے آتا ہے۔
    مولانا عالم دین تھے۔ قرآن وحدیث اور فقہ پر گہری نظر تھی۔ انھوں نے زندگی کے آخری ایام جیل کی سلاخوں کے پیچھے جانے سے ایک ہفتہ قبل ایک وصیت لکھی۔ دراصل ان کے اہل وعیال کی بھی فرمایش تھی کہ مولانا اپنے ہاتھ سے کچھ لکھ دیں جوان کے بعد ارکانِ خاندان اور احباب ورفقا کے علاوہ عام مسلمانوں کے لیے بھی مفید ہو۔ مرحوم کے بچوں کی خواہش تو یہ تھی کہ وہ اپنی سوانح عمری کے اہم واقعات بھی لکھ دیں مگر مولانا نے اپنی وصیت میں اپنی آب بیتی کا بہت کم تذکرہ کیا ہے، البتہ تذکیر کا بھرپور اہتمام فرمایا ہے۔ ان کی یہ وصیت ان کی رحلت کے ساتھ ہی منظر عام پر آگئی اور بنگلہ دیش کے ذرائع ابلاغ نے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا۔ اس مختصر سی تحریر میں مولانا مرحوم ومغفور یوں رقم طراز ہیں۔ عنوان ہے ”اپنے اہل وعیال اور بہی خواہوں کو خطاب“
    اس کے متن میں لکھتے ہیں:”میں اس وقت زندگی کی 87 بہاریں خزاں میں بدل چکا ہوں۔ میرے بیشتر رفقائے کار، پیارے ساتھی اور ہم عصر واقفانِ حال دارِ فانی کو خیر باد کہہ کر دار البقا کو سدہار چکے ہیں۔ عمر کے ضعف اور بے شمار عوارض کے باوجود میرے مالکِ مہربان نے مجھے زندہ رکھا ہوا ہے۔ مجھے اللہ نے جو اولاد بخشی ان میں میرے آٹھ بچے (پانچ بیٹیاں اور تین بیٹے) اور چوبیس پوتے پوتیاں، نواسے نواسیاں ہیں۔ الحمدللہ سب ٹھیک ٹھاک ہیں اور ان میں سے بیشتر تعلیم اور معاش کے سلسلے میں وطن سے باہر مختلف ممالک میں مقیم ہیں۔ کچھ یو ایس اے میں ہیں، کچھ کینیڈا اور کچھ یو اے ای میں ہیں جبکہ بنگلہ دیش میں بھی میرے بچے رہایش پذیر ہیں۔
    اب میری عمر بھی کافی ہوچکی ہے اور میری صحت بھی بیماریوں کی وجہ سے اتنی کمزور ہوچکی ہے کہ کسی بھی لمحے میرا مالک وخالق مجھے اس عارضی وفانی دنیا سے عالم دائمی وباقی میں منتقل فرما دے گا۔ اس صورت حال کو دیکھ کر میرے بچے اور میرے بہت محبت کرنے والے رفقا مجھ سے درخواست کرتے رہتے ہیں کہ میں اپنی زندگی کے بارے میں کوئی مختصر سی تحریر لکھ دوں جسے وہ میری وفات کے بعد معلومات اور افادہ ¿ عام کے لیے چھاپنا چاہتے ہیں۔ ان کے اصرار وفرمایش پر میں یہ چند سطور ان کے اور ان لاتعداد انسانوں کے نام لکھ رہا ہوں جو مجھ سے تعلقِ خاطر رکھتے اور مجھ سے محبت کرتے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ آپ سب میری ان معروضات کو میری وصیت کے طور پر قبول فرمائےں گے۔ میں اس تحریر کا ایک ایک لفظ اپنے دل کی گہرائیوں سے اور مکمل اخلاصِ نیت اور خوف خدا سے لکھ رہا ہوں۔
    میں اللہ غفورورحیم کا بالکل ایک ادنی اور عاجز بندہ ہوں۔ میرے اندر کوئی کمال اور خوبی نہیں ہے۔ اس بندہ عاجز کو مالک حقیقی نے بے شمار انعامات سے نوازا ہے جو میری آل اولاد پر بھی اس کے فضل ورحمت سے جاری ہیں۔ مجھے وہ کچھ دیا گیا ہے جس کا میں استحقاق نہیں رکھتا اور نہ مجھے مانگنے کا سلیقہ آتا ہے۔ اللہ کے انعامات پر ان کا حقیقی شکر ادا کرنے کے لیے میرے پاس الفاظ نہیں ہیں۔ میں زندگی بھر اللہ کے برگزیدہ بندوں کی گرد تک بھی نہ پہنچ سکا۔ اس کے باوجود اللہ کا شکر ہے کہ اللہ کی ذات پر میراایمان اور اس کے سچے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت وعقیدت نے مجھے اپنے نبیِ محترم کے نقش پا پر چلنے کی سعادت بخشی۔ میں زندگی بھر حتی المقدور کوشش کی کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ کو سامنے رکھوں۔ یقینا میں بارہا ارادی اور غیرارادی طور پر پھسلا۔ مگرمیں ہمیشہ اللہ کی طرف پلٹا اور اس سے معافی کا طلب گار ہوا۔ میں اس کے در کا گدا ہوں اور اس کی رحمت کا محتاج ہوں۔ اللہ تعالیٰ کا اپنا فرمان مجھے ہمت دلاتا ہے جس میں اس نے خود فرمایا ہے کہ اے نبی! کہہ دو کہ اے میرے بندو، جنھوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوجاو، یقینا اللہ سارے گناہ معاف کردیتا ہے، وہ تو غفور µرحیم ہے۔(الزمر39:53)۔
    میں نے اپنے اہلِ خانہ اور تمام خیرخواہوں سے یہ گزارش کرتا ہوں کہ زندگی بھر میں نے کوشش کی کہ اپنے والدین، اپنی اہلیہ، بچوں، رشتہ داروں اور تمام دور ونزدیک کے انسانوں کو پوری ذمہ داری سے ان کے حقوق ادا کروں۔ اللہ اور اس کے رسول کے احکام کے مطابق میں نے ہمیشہ اپنے ہمسائیوں اور اپنے معاشرے کے تمام انسانوں کے حقوق ادا کرنے کی جدوجہد کی ہے۔ میں نے اپنی محدود صلاحیتوں کے مطابق ان لوگوں کا ساتھ دیا ہے جو کلمہ حق کی سربلندی کے لیے کوشاں ہیں۔ میں نے اپنے ملک اور بحیثیت مجموعی امت مسلمہ کی فلاح وبہبود اور مفاد کے لیے تگ ودو کی ہے۔
    میں اپنے بچوں اور آگے ان کے بچوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ تمھیں اپنے والدین، جیون ساتھیوں، اولاد، رشتہ داروں، ہمسائیوں اور غربا ومساکین اور اپنے گرد ونواع میں محتاج اور بے بس لوگوں کے حقوق پوری ذمہ داری سے ادا کرنے چاہییں۔ امت مسلمہ کی بھلائی کو کبھی اپنی نظروں سے اوجھل نہ ہونے دینا۔ اللہ تعالیٰ کا مجھ پر احسان تھا کہ میں نے بہت سی قومی اور بین الاقوامی خیراتی تنظیموں اور مخیر افراد کے ساتھ مل کر انسانیت کی خدمت کی ہے۔ یہ سارے کام اور ادارے میرے لیے صدقہ ¿ جاریہ ہیں جو مادر وطن کے مختلف علاقوں میں آج بھی چل رہے ہیں۔ جہاں تک آپ کے ذرائع ووسائل اور امکانیات اجازت دیں، آپ لوگوںکو بھی صدقہ ¿ جاریہ کے میدان میں اپنا حصہ ادا کرنا چاہیے۔ یہی اعمال انسان کے دنیا سے جانے کے بعد بھی اس کے لیے باعث اجروثواب ہوتے ہیں۔
    میرے پیارے بچو، میری آخری وصیت یہ ہے کہ حالات جو بھی ہوں، نتائج جو بھی نکلیں، آپ لوگوں کو صراط مستقیم پر ثابت قدمی سے چلتے رہنا ہوگا۔ اللہ کے احکام کی پابندی اور تمام فرائض کی ادایگی اپنے اوپر لازم کرلیں۔ نماز، روزہ، زکوٰة خیرات اور حج بیت اللہ کی استطاعت ہوتو سستی نہ کرنا۔ غلط اور حرام چیزوں کے قریب بھی نہ پھٹکنا اور ہمیشہ اس بات کی کوشش میں لگے رہنا کہ اپنے اخلاق وکردار میں اعلیٰ سے اعلیٰ معیار قائم کرسکیں۔ یہ وصیت کے چند الفاظ جو میں اپنے بچوں کے لیے چھوڑے جارہا ہوں، یہی میرے دوست واحباب، رفقائے کار اور مجھ سے تعارف رکھنے والے تمام احباب اور تحریک اسلامی کے جملہ پیروجوان سبھی کے لیے یکساں حرفِ وصیت ہیں۔
    ابوالکلام محمد یوسف
    4مئی 2013“
    اس وصیت کا ایک ایک لفظ اخلاص، سادگی اور مومنانہ استغنا کے ساتھ بندہ مومن کے عجز وانکسار کا بہترین نمونہ ہے۔ مولانا مرحوم خے اندر تمام خوبیاں موجود تھیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو انبیائ، صدیقین، شہدا اور صالحین کی معیت عطافرمائے۔ آمین۔
     

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں

سوشل میڈیا لنکس