Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

کیا امریکی خواہش پوری ہوگئی؟

  1. ہماے ملک میں گوریلہ جنگ جاری ہے اس کی بنیاد ہمارے (ر) جنرل مشرف صاحب نے اُس وقت رکھی تھی جب صرف ایک کال پر امریکا کے آگے گھٹنے ٹیک دیے تھے پڑوسی ملک مسلمان افغانستان کے خلاف امریکا کا اتحادی بن کر اُس کو تورا بورا بنا دیا گیا اب وہ مکافاتِ عمل کے تحت غداری کے کیس میں پھنسا ہوا ہے میں ڈرتا ورتا نہیں ہوں کے نعرہ لگانے والا اب عدالت میں پیش نہیں ہو نے سے ڈر رہا ہے اور اسپتال میں مثنوی بیماری کے تحت داخل ہے جنگ میں امریکی اتحادی ہونے کی وجہ سے پاکستان جو کولیشن فنڈ حاصل کر رہا تھا وہ بھی امریکا نے یہ کہہ کر بند کر دیا ہے کہ غدارِ ملت شکیل آفریدی کو امریکا کے حوالے کرو نہیں تو کولیشن فنڈ کی رقم نہیں ملے گی مشرف صاحب کے اُس ایک عمل سے پاکستان آگ میں جل رہا ہے اس کی مساجد سے لیکر عام بازاروں میں حملے ہو چکے ہیں اس کی تمام دفاعی انسٹا لیشنوں پر بڑے بڑے حملے ہو چکے ہیں ملک میں امریکی ڈرون حملوں اور دہشت گردی کی وجہ سے پچاس ہزار شہری اور فوجی شہید ہو چکے ہیں سو ارب ڈالر سے زائد کا نقصان ہو چکا ہے اب نئے حملوں کا سلسلہ شروع ہوا ہے جس کا ا علان طالبان نے حکیم اللہ مسعود کی ہلاکت کے وقت کیا تھا وہ امریکہ سے بدلہ تو لے نہیں سکتے اس کے اتحادی سے بدلہ کی پالیسی اپنائی ہوئی ہے پشاور تبلیغی مرکز پر حملہ کیا گیا جس میںانیس افراد شہید ہوئے ساٹھ سے زائدافراد زخمی ہوئے تھے طالبان نے بنوں میں فوجی قافلے پر حملہ کیا جس میں بائیس افراد شہید ہو گئے تیس سے زائد زخمی ہوئے چالیس سے زائد گاڑیوں پر مشتمل قافلہ شمالی وزیرستان جا رہا تھا کہ طالبان نے کاروائی کی نہ معلوم کرایہ پر لی گئی گاڑیوں میں سے ایک میںرکھے بارود کو کیوں نہ چیک کیا گیاجس کی وجہ سے یہ کاروائی ممکن ہوئی۔اس کے بعد دوسرا حملہ جی ایچ کیو کے قریب آر اے بازار میں ٹی چوک خود کش حملے کے ذریعے چودہ پاکستانیوں جن میں نو فوجی بھی شامل ہیں کو شہید کر دیا گیا ان دونوں حملوں کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان نے قبول کر لی جبکہ دونوں حملوں کی پاکستان کے سب لوگوں نے مذمت کی جو لوگ ملکی مفاد میں طالبان سے مذاکرات کے حامی وہ بھی اس مذمت میں شامل ہیں اپنی ریاست سے لڑنے والوں کو یہ پیغام جانا چاہیے کہ اگر ان کا ایجنڈا اسلام کا نفاذ ہے تو وہ پرامن طریقے سے ہی ممکن ہے ہتھیا ر اور بندوق کے زور پر اسلام کا نفاذنہ پہلے ممکن ہوا ہے نہ اب ہو سکتا ہے۔آپ کا نکتہ نظر کچھ بھی ہو وہ پرامن طریقے سے ہی ممکن ہے کسی طرح بھی افواج پاکستان پر حملے برداشت نہیں کئے جائیں گے ابھی دو دن پہلے طالبان کی طرف سے بیان آیا تھا کہ وہ مذاکرات کے لیے تیار ہے امارت اسلامیہ افغانستان کے سربراہ ملا عمر کا بیان بھی آیا ہے کہ نام نہاد مجاہدین کی حرکتوں کو امارت اسلامی افغانستان سے منسوب نہ کیا جائے کسی کو دھمکانا اغوا برائے تاوان، بھتہ خوری اور بے گناﺅں کا قتل اور مقدس مقامات پر حملے ہمارا کام نہیں یہ ناجائز ہیں ۔ دوسری طرف مولانا سمیع الحق کو وزیر اعظم نے بلایا تھا طالبان سے بات چیت کی اجازت دی مولانا نے اپنے ذارئع سے طالبان سے رابطہ کیا اور وزیر اعظم کو طالبان کا پیغام پہنچایا مگر اُن کی طرف سے انتظار کرنے اور مثبت جواب نہ ملنے پر دلبرداشتہ ہو کر ایک خط لکھا کہ میں مذاکرات سے علیحدہ ہو گیا ہوں اور کہا اللہ اور رسول کا واسطہ ہے فوجی آپریشن سے گریز کیا جائے طاقت کا استعمال کیا گیا تو ایسی آگ لگے گی کہ جو بجھانے نہ بجھے گی موجودہ حالات میں منور حسن اور عمران خان اور دوسرے حضرات کے بھی ایسے ہی بیانات ہیں۔ جبکہ پاکستان میں امریکی ایجنٹ فوجی کاروائی کے حامی ہیں کچھ مسلکی مذہبی طبقوں کی طرف سے مذاکرات نہ کرنے اور فوجی کاروائی کا کہا جا رہا ہے جبکہ لال مسجد ،اکبر بگٹی، سوات ،جنوبی وزیرستان اور دوسری جگہوں پر فوجی کاروائی کی ہی وجہ سے تو یہ حملے ہو رہے ہیں۔
    صاحبو! ایک طرف امریکا ہے جس نے یہ جنگ ہمارے ملک پر مسلط کی ہوئی ہے اُس کے عزائم کھل کر سامنے آئے ہوئے ہیں وہ کسی طرح بھی اسلامی اور ایٹمی پاکستان نہیں دیکھنا چاہتا ملک میں افراتفری پھیلا کر پاکستان کو ناکام اسٹیٹ بنا رہا ہے اس کاخود مغربی صحافی وےن مےڈےسن ٹےم نے انکشاف کےا تھا کہ پاکستان مےں افراتفری پھےلا کر اس کے اےٹمی اثاثوں کو مغرب کے کنٹرول مےں دےنا ہے اس انکشاف پر تحقےقی ٹےم کو اےف بی آئی اور سی آئی اے کی جانب سے مسلسل دھمکےوں کا سامنا ہے۔( امرےکا کے محقق صحافی وپاکستانی مےڈےا کی رپورٹ امت کراچی)اس سازش کا انکشاف روسی ایجنسیوں نے بھی کیا تھا پھراسی سازش کا ذکر ہمارے (ر) جنرل کیانی صاحب بھی ۰۴ صفحے کے خط میںاوبامہ صاحب کے نام خط میں کر چکے ہمیں معلوم ہونا چاہیے اُ ن سے زیادہ معلومات رکھنے والا محب وطن اور کون ہو سکتا ہے۔(ر) جنرل حمید گل صاحب ہیں جن کا بیان ریکارڈ پر موجود ہے جس میں انہوں نے کہاتھا اس جنگ میںافغانستان بہانہ اور اصل نشانہ پاکستان ہے۔ ہم نے اپنے گذشتہ کالم میں” یہ خاموشی کب تک“ (ر) جنرل شاید عزیز صاحب کا حوالے دے کر کہا تھا کہ بھارت فاٹا میں اپنے ایجنٹوںکو ٹیرینگ دے رہا ہے وغیرہ۔ امریکا نے اپنے اسی سازشی مقصد کو پورا کرنے کے لیے ہمارے ملک میں جاسوسی کا نیٹ ورک قائم کیا ہوا ہے جس کی مثال سی آئی اے،ریمنڈ ڈیوس، شکیل آفریدی، سیودی چلڈن نامی این جی اوز اور دوسرے نیٹ ورک ہیں ابھی چند دن پہلے وزیر داخلہ نے بلیک واٹر کے متعلق کہا تھا کہ چند دنوں میں اس کا صفایا کر دیا جائے گا صفایا کیا ہوا جماعت اسلامی کے امیر منور حسن کے بیان کےمطابق سی آئی اے، بلیک واٹر اور بھارتی تخریب کار شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں جہاں تک بلیک واٹر کا تعلق ہے تو بلےک واٹر کے متعلق امرےکہ کا سابق وزےر دفاع ربرٹ گےٹس نے اپنے ملک مےں بےان میں کہا تھا کہ بلےک واٹر نے امرےکہ کا ساتھ عراق مےں اچھی طرح سے دےا اور اب وہ پاکستان مےں بھی امرےکہ کی مدد کر رہی ہے ۔بلےک واٹر بنانے والے مالک یعنی بانی (اےرک پرنس) کا انٹروےو اخبارات مےں چھپ چکا ہے کہ بلےک واٹر پاکستان مےں کام کر رہی ہے۔قارئین! امریکا پاکستان پر عرصے سے ڈو مور کادباﺅ ڈال رہا ہے کہ شمالی وزیرستان میں آپریشن کیا جائے اس سے قبل کئی دفعہ امریکا نے اپنے مقامی ایجنٹوں کے ذریعے کوشش کی مگر کامیاب نہ ہو سکا اب پاکستان میں موجودہ واقعات جس میں کراچی میں پولیس کے متنازہ اسلم چوہدری کا قتل، مستونگ میں شیعہ زائرین پر حملہ ،کراچی،مانسہر ہ اور گوجرنوالہ میںپولیو ٹیموں پر حملے پر امریکی ایجنٹوں سی آئی اے،بلیک واٹر اور بھارتیوں کے ملوث ہونے کا کہہ رہے ہیں ساتھ ہی ساتھ طالبان کے حملوں کی وجہ سے پاکستانی فوج کو مجبور کر دیا گیا کہ وہ شمالی وزیرستان پر کاروائی کرے جس کی آج آرمی چیف نے حکومت کو یقین دہانی کرا دی ہے۔ وزیرستان پر جیٹ طیاروں سے بمباری کی گئی جس میں پچاس کے قریب لوگ شہید ہوئے جن میں عسکری ذرائع کے مطابق عدنان رشید ولی ا لرحمٰن متعدد کمانڈر مارے گئے درجنوں ٹکانے تباہ کر دیے گئے سولہ نمازی بھی شہید ہوئے اس تناظر میں محب وطن حلقے پریشان ہیں کہ کیا امریکا کی ڈو مور کی خواہش پوری ہو گئی ہے؟
     

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں









سوشل میڈیا لنکس