Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

مصرکاانقلاب روکنے میں پڑوسی ممالک کا کردار

  1. مصر کے صدر محمد مرسی نے جو دستور دیا اُس کا تشخص اسلامی تھا، اس لیے اس کے نفاذ کا راستہ روکنے کے لیے اس وقت کی عبوری فوجی انتظامیہ اور عدلیہ کے لادین عناصر نے طرح طرح کے ہتھکنڈے استعمال کیے، جن میں ایک یہ بھی تھا کہ اس قانون ساز کمیٹی کو ہی توڑنے کا فیصلہ کیا گیا جو پارلیمنٹ نے دستور سازی کے لیے تشکیل دی تھی۔ لیکن اس مرحلے پر صدر مرسی نے تمام اختیارات اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے اس سازش کو ناکام کردیا، اور دستور عوامی ریفرنڈم کے لیے پیش کردیا۔ عوام کی عظیم اکثریت نے15 دسمبر2012 ء کے ریفرنڈم میں دستور اور اپنے منتخب صدر مرسی پر اپنے بھرپور اعتماد کا اظہار کیا۔
    اس سازش کی ناکامی کے بعد صدارتی انتخابات میں ہارنے والے تینوں امیدواروں ائیر مارشل احمد شفیق، عرب لیگ کے سابق سیکریٹری جنرل عمرو موسیٰ اور محمد البرادعی نے ڈاکٹر محمد مرسی کے خلاف ایک اتحاد تشکیل دیا۔ اس اتحاد میں ان کے ساتھ ملک کے تمام سیکولر طبقے اور غیر ملکی آلہ کار شامل تھے۔ یہ اتحاد دراصل سابق ڈکٹیٹر حسنی مبارک کی باقیات پر مشتمل تھا اور اس کا بنیادی مقصد اسی ڈکٹیٹرشپ کے نظام کو واپس لانا تھا جو مصر میں گزشتہ نصف صدی سے زیادہ عرصہ سے جاری تھا۔ ڈاکٹر محمد مرسی نے اس اتحاد کے سامنے جھکنے سے انکار کردیا۔ صدر مرسی کے مخالفین کے اس اتحاد کے پاس پڑوسی عرب ممالک اور امریکا اور اسرائیل کی طرف سے دیے جانے والے سرمائے کی کمی نہیں تھی، اس لیے انہوں نے ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کو آزادی چوک میں جمع کردیا، جن کی طرف سے یہ مطالبہ کیا جانے لگا کہ منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کو برطرف کردیا جائے۔
    یہاں یہ ملحوظ رہے کہ مصری اخبار جریدۃ الیوم کے مطابق آزادی چوک میں کرائے پر جمع کیے جانے والے اوباش لوگ بڑی تعداد میں مصری خواتین خصوصاً جوان لڑکیوں کی اجتماعی آبروریزی کرتے رہے، جس کی تفصیلات کئی مصری اور امریکی اخبارات میں شائع ہوتی رہیں۔ چنانچہ مشہور امریکی صحافی پیراہ لیڈ (PARAHLAD) نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ قاہرہ کے آزادی چوک کو جہاں یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہاں عظیم انقلاب نے جنم لیا، مصری ڈکٹیٹر حسنی مبارک کی حکومت کے خاتمے کا باعث بنا، وہاں آزادی چوک اس اعتبار سے بدنام بھی ہے کہ وہاں مصری صدر ڈاکٹر محمد مرسی کے مخالف مظاہرین نے سینکڑوں عورتوں خصوصاً نوجوان لڑکیوں کی آبروریزی کی۔ جنسی زیادتی کا شکار ہونے والی ان عورتوں میں ہالینڈ کی22 سالہ صحافی خاتون بھی شامل ہے۔ چنانچہ نیویارک میں قائم ہیومن رائٹس واچ نے اس کی مزید تفصیلات بھی بیان کی ہیں جن کے مطابق صرف جمعہ سے اتوار تک ان غنڈوں کے ہاتھوں آبروریزی کا شکار ہونے والی خواتین کی تعداد 51 ہے۔ ان عناصر کے پاس چونکہ امریکا، اسرائیل اور بعض پڑوسی عرب ممالک کی طرف سے دیے جانے وسائل کی کمی نہیں تھی، اس لیے انہوں نے ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کو کرائے پر لاکر مصر کے آزادی چوک میں جمع کردیا، جن کی طرف سے یہ مطالبہ کیا جانے لگا کہ منتخب صدر مرسی کو برطرف کردیا جائے، اور پھر کرائے کے ان لوگوں کے اس مطالبے کو بنیاد بناکر مصر کے ان لادین عناصر نے فوج کے ساتھ مل کر مصر کے منتخب صدر کو برطرف کرنے کی سازش تیار کی، جس کے مطابق فوج کے لادین عناصر نے صدر مرسی کی برطرفی کا اعلان کردیا، جسے عوام کی غالب اکثریت نے لاکھوں کی تعداد میں سڑکوں پر آکر مسترد کردیا، اور یوں مصری عوام اور فوج اور عدلیہ کے لادین عناصر میں جاری کشمکش ایک نئے مرحلے میں داخل ہوگئی ہے۔ یہاں اس خوفناک حقیقت کی طرف بھی اشارہ کرنا ضروری ہے کہ مصر کے بعض پڑوسی ممالک نے اس فوجی بغاوت کی سازش کو پروان چڑھانے کے لیے کروڑوں بلکہ اربوں ڈالر خرچ کیے ہیں، صرف اس لیے کہ مصر کے عظیم انقلاب کے اثرات ان کے ممالک تک نہ پہنچ پائیں۔ ان ممالک نے مصر کے منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کے خلاف فوجی انقلاب کی سازش کا خیرمقدم کرنے میں بھی کوئی باک محسوس نہیں کیا، یہاں تک کہ شام کے ڈکٹیٹر بشارالاسد نے بھی جس کے اپنے ملک کی سڑکیں عوام کے خون سے لالہ زار بنی ہو ئی ہیں، اس بغاوت کا خیرمقدم کرنے میں کوئی حیاء محسوس نہیں کی۔
    دوسری طرف دنیا کے بہت سارے ممالک نے، جن میں ترکی سرفہرست ہے،اس غیر آئینی انقلاب کو ماننے سے انکار کردیا ہے اور واضح اور دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ وہ صرف ڈاکٹر محمد مرسی کو مصر کا آئینی اور منتخب صدر مانتے ہیں۔اسی طرح پاکستان سمیت دنیا کی تمام اسلامی تحریکوں کی طرف سے صدر مرسی کی غیر آئینی برطرفی کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔باوثوق ذرائع کے مطابق مصر کی افواج کے چیف کمانڈر جنرل عبدالفتاح السیسی کے اس غیر آئینی اقدام کے خلاف مصری فوج میں شدید ردعمل پایا جاتا ہے، اور ایک بغاوت کی سی کیفیت برپا ہے، جس کی وجہ سے جنرل عبدالفتاح السیسی شدید خوفزدہ ہے، اور وہ ملک سے راہِ فرار اختیار کرنے کی فکر میں ہے۔
    یہاں یہ بات بطورِ خاص قابلِ ذکر ہے کہ مصری فوج کی سیکولر ہائی کمان کے اس اقدام کے خلاف مصری فوج کے اعلیٰ افسروں اور سپاہیوں میں شدید ردعمل پایا جاتا ہے اور و ہ اپنی ہائی کمان پر مسلسل دباؤ ڈال رہے ہیں کہ مصر کے منتخب صدر کے خلاف اس غیر ائینی اقدام کو جلد از جلد واپس لیا جائے۔ ہمیں یقین ہے کہ مصر میں ڈاکٹر محمد مرسی کے حامیوں اور مخالف سیکولر حلقوں کے درمیان یہ کشمکش بالآخر ڈاکٹر مرسی اور ان کے حامیوں کی کامیابی پر منتج ہو گی، اِن شاء اللہ۔
     

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں









سوشل میڈیا لنکس