Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

فیصلہ پہلے ہی کرلیاگیاتھا

  1. ٭… تحریک پاکستان کے چند حقائق: میں نہیں جانتا کہ آئندہ کبھی مجھے آپ سے مخاطب ہونے کا موقع ملے گا یا نہیں۔ میں آج اس موقع کو مناسب اور غنیمت سمجھتے ہوئے تحریک پاکستان کے متعلق بھی کچھ حقائق بتانا چاہتا ہوں۔
    1940ء کے عشرے میں جب دوسری جنگ عظیم برپا ہوئی تھی اس وقت برطانوی حکومت نے یہ اعلان کیا تھا کہ جنگ ختم ہوتے ہی ہندوستان کو آزاد کردیا جائے گا۔ مسٹر گاندھی اور مسٹر نہرو نے انڈین کانگریس کی طرف سے اعلان کیا کہ انڈین نیشنلزم اور سیکولر ڈیموکریسی کی بنیاد پر ہندوستان ایک ریاست ہے۔ بھارت میں جتنے بھی مذاہب کے ماننے والے لوگ ہیں وہ سب ہندوستانی ہیں اور ایک قوم ہیں۔ قائداعظم نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ نہیں، ہندوستان کے مسلمان ایک الگ قوم اور ہندو دوسری قوم ہیں۔ قائداعظم کی اس بات پر جن لوگوں نے لبیک کہا تھا ان میں بنگال سے حسین شہید سہروردی اور مسلم لیگ کے سرگرم کارکن شیخ مجیب الرحمن بھی شامل تھے۔ ان لوگوں کا مؤقف یہ تھا کہ ہندوستان کی چالیس کروڑ آبادی میں سے دس کروڑ مسلمان اگر انگریزوں کی غلامی سے نکل کر باقی تیس کروڑ ہندوئوں کی غلامی میں چلے جائیں گے تو آخر مسلمانوں کو ہندوستان کی آزادی کا کیا فائدہ پہنچے گا۔
    آخر کار مسلم نیشنلزم کی بنیاد پر مسلم اکثریتی علاقوں کو ساتھ ملا کر علیحدہ ’’پاکستان‘‘ کے نام سے ایک مسلم ریاست قائم کرلی گئی۔ 1946ء کے انتخابات میں پاکستان کے حق میں دس کروڑ مسلمانوں کے ووٹ دینے کے باعث 1947ء میں پاکستان آزاد ہوا لیکن بدقسمتی سے پاکستان قائم ہونے کے بعد، پاکستان کو اس کی اسلامی نظریاتی بنیادوں سے ہٹا دیا گیا۔ اس سے مختلف علاقوں میں ناانصافی کے سبب محرومی پروان چڑھی۔ مشرقی پاکستان بھی اسی محرومی کا شکار ہوا۔ ایسی ہی ناانصافیوں اور محرومیوں کے باعث علیحدگی پسند تحریکیں وجود میں آئی ہیں۔ یہی اسباب بنگلہ دیش کی آزادی کی تحریک کی وجہ بنے اور ایک خونریز لڑائی کے بعد مشرقی پاکستان، مغربی پاکستان سے علیحدہ ہو کر بنگلہ دیش کی شکل میں آزاد ہوگیا۔ اس بات کو اچھی طرح سمجھنے کی ضرورت ہے کہ گزشتہ 65 سال میں بھارت نے خود بھارتی مسلمانوں کے ساتھ جو ظلم وجبر روا رکھا ہوا ہے، اگر پاکستان نہ ہوتا تو بنگلہ دیش کے مسلمانوں کے ساتھ بھی یہی سلوک ہوتا۔ پاکستان بننے ہی کی وجہ سے مشرقی پاکستان میں زندگی کے ہر شعبے میں بے مثال ترقی ہوئی۔ 1947 میں اگر پاکستان نہ بنتا تو بنگلہ دیش میں جو ترقی ہم آج دیکھ رہے ہیں یہ کبھی نہ ہوتی۔
    بنگلہ دیش کے کروڑوں انسان، اللہ پر یقین رکھتے ہیں۔ آخری نبیؐ سے بے پناہ محبت کرتے ہیں اور اللہ کی کتاب قرآن مجید کو مقدس جانتے ہیں اور اس پر ایمان رکھتے ہیں۔ یہاں کے لوگوں کو اچھی طرح سے معلوم ہے کہ حضرت محمدؐ نے قرآن کی تعلیمات کو مکمل طور پر عملی زندگی میں نافذ کیا اور یوں ایک مثالی اسلامی فلاحی ریاست وجود میں آئی۔ حضرت محمدؐ نے جو اسلام پیش کیا وہ محض رسم ورواج پر مشتمل نہ تھا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ کتاب، انسانی کی دنیاوی بھلائی اور آخرت کی نجات کے لیے نازل فرمائی ہے۔ اس پسِ منظر میں اگر دیکھا جائے تو بنگلہ دیش میں لادین سیکولر نظام کو اگر نافذ کرلیا گیا تو پھر انڈین کانگریس کے ہندوستانی نیشنلزم میں کوئی فرق نہیں رہے گا۔ 1947ء میں ہندوستان کی تقسیم اور 1971ء میں بنگلہ دیش کے وجود کی بقاء کی خاطر ہم لوگ بنگلہ دیش کو ایک آزاد خوشحال اور اسلامی فلاحی ریاست بنتا دیکھنا چاہتے ہیں۔ اس کے بعد ہی بنگلہ دیش کی آزادی بامعنی ہوسکے گی۔ اگر ایسا نہ ہوا تو بھارت بنگلہ دیش کو اپنا الگ صوبہ بنا کر چھوڑے گا۔ اس وقت بنگلہ دیش کی سیکولر حکومت مسلم نیشنلزم کی بنیاد اسلام کو ختم کر کے انڈین کانگریس کے انڈین نیشنلزم کو فروغ دے رہی ہے۔ میں اپنی قوم کے مسلم بھائیوں سے اپیل کرتا ہوں کہ آپ لوگ نظم وضبط، صبروتحمل اور اپنے جان ومال کے ساتھ اپنی یہ جدوجہد جاری رکھیں تاکہ بنگلہ دیش ایک اسلامی فلاحی ریاست بن جائے۔ یاد رکھیے کہ یہ ہمارے ایمان کا تقاضا ہے اور بنگلہ دیش کی آزادی کی واحد ضمانت بھی۔
    بنگلہ دیش اس وقت شدید بحران سے گزر رہا ہے۔ قوم کے جو اہم مسائل ہیں اگر اُن پر اتفاق واتحاد نہ ہو تو قوم کی ترقی ناممکن ہوتی ہے۔ اس لیے یہ تمام پارٹیوں اور تمام گروہوں کو یہ کہنا ضروری سمجھتا ہوں کہ سب مل کر بنگلہ دیش کو ان بحرانوں سے نکالنے کی کوشش کریں۔ بحران کے اس دور میں انتشار نہیں، اتحاد چاہیے۔ میری دعا ہے کہ موجودہ حکومت اور مستقبل میں جو لوگ اس ملک کی باگ ڈور سنبھالیں گے وہ اپنے اندر اتحاد پیدا کریں، ملکی ترقی کے لیے کام کریں اور بنگلہ دیش کو ایک اسلامی فلاحی ریاست بنائیں۔ میں یہ دعا کرتا ہوں کہ حکمران طبقہ اپنے پارٹی اور ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر باہمی حسد وبغض سے چھٹکارا پا کر ملک وقوم کی بھلائی اور بہتری کے لیے کام کرے۔ ’’قانون سب کے لیے ایک‘‘ کا ماٹو اپنا کر سماجی انصاف قائم کرنے کے لیے قانونی دائرے میں رہتے ہوئے جو بھی جدوجہد ہوسکتی ہے وہ ضرور کریں۔ اسی طرح سماجی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے جدوجہد جاری رکھیں۔ بزرگوں، غریبوں اور یتیموں کا خاص خیال رکھا جائے۔ آپ لوگوں کو یہ ذمہ داری بھی ادا کرنا ہوگی کہ اس ملک کے لوگ جدید اعلیٰ تعلیم یافتہ اور محب وطن کی حیثیت سے پروان چڑھیں۔
    میں یہ بات ایک دفعہ پھر واضح الفاظ میں بیان کرنا چاہتا ہوں کہ میں نے کبھی بھی انسانیت کے خلاف کوئی کام نہیں کیا۔ معاشرے کے ایک خاص گروہ کے لوگ جو اندھا بن کر اور خود غرضانہ سوچ کے تحت مجھے سیاسی اور سماجی طور پر نیچا دکھانے کے لیے گزشتہ چالیس سال سے گھنائونا پروپیگنڈا پھیلا رہے ہیں ان کا مقصد سادہ لوح عوام کے دل میں میرے خلاف نفرت پیدا کر کے سیاسی فائدہ سیمٹنا ہے۔ انسانیت کے خلاف اگر میں سرگرم رہا ہوتا تو اس لمبے عرصے میں کسی نہ کسی عدالت میں میرے خلاف کوئی مقدمہ ضرور درج ہوتا۔ 1973ء میں شیخ مجیب حکومت نے غیر قانونی طور پر میری شہریت ضبط کی لیکن 1994ء میں سپریم کورٹ کے فل بینچ نے متفقہ فیصلے کے ذریعے میرا یہ حق مجھے واپس دلایا کیونکہ میرے خلاف لگائے گئے تمام الزامات جھوٹ ثابت ہوئے تھے۔ عجیب تماشا یہ ہے کہ اب نئے سرے سے انہی الزامات کو دہرایا جارہا ہے۔
    میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ میں جیل، ظلم، اذیت او رموت سے نہیں ڈرتا۔ موت اٹل ہے اس سے فرار ممکن نہیں۔ ہر ایک کو ایک نہ ایک دن اس دنیا سے رخصت ہونا ہی ہوتا ہے۔ میرا اللہ پر ایمان، آخرت پر یقین ہے اور میں تقدیر کو بھی مانتا ہوں۔ میرا یہ بھی ایمان ہے کہ مشیتِ الہٰی کے خلاف کچھ بھی نہیں ہوتا۔ اللہ اپنے بندوں کے بارے میں جو بھی فیصلے کرتا ہے وہ یقینا کسی نہ کسی حکمت پر مبنی ہوتے ہیں، لہٰذا مجھے موت کی دھمکیوں کی بالکل پروا نہیں۔ مجھے اپنے آپ پر اعتماد ہے کہ میں نے ہمیشہ عوام کے مفاد کے لیے کام کیا ہے۔ کبھی بھی ان کے مفادات کے خلاف کوئی اقدام نہیں کیا۔ ایسا لگ رہا ہے اور جس انداز سے یہ عدالتی کارروائی چلائی جارہی ہے، اس سے صاف ظاہر ہے کہ انتہائی فیصلہ پہلے ہی سے کرلیا گیا ہے اور اب محض الزام ترشی کے ذریعے اس کے حق میں فضا تیار کی جارہی ہے۔ اپنی پچاس سالہ سیاسی زندگی میں، میں نے ملک میں بہت سارے سفر کیے ہیں۔ میں عوام ہی میں رہا ہوں۔ میں نے اپنے اخلاق سے لوگوں کو اسلام کی طرف مائل کرنے کی کوشش کی ہے اس لیے مجھے معلوم ہے کہ یہ حکومت میرے خلاف جو بھی الزام لگا رہی ہے عوام اس کو کبھی بھی تسلیم نہیں کریں گے۔ اگر یہ لوگ مجھے پھانسی بھی دیتے ہیں، جو ان کی خواہش ہے، تو بھی ہمارے عوام مجھے اللہ کی راہ کا ایک سپاہی سمجھیں گے۔
    آخر میں، میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اس ملک کے باشندوں کی دنیا اور آخرت کی بھلائی کے لیے، میں نے اپنی پوری زندگی کھپادی۔ میں نے کسی خودستائی اور خودنمائی سے اپنے آپ کو ہمیشہ بالاتر رکھا ہے۔ میں اس ملک کی سیاسی تاریخ میں واحد سیاستدان ہوں جس نے مکمل سرگرم زندگی گزارنے کے باوجود جماعت اسلامی کی امارت سے ازخود فراغت لینے کی مثال قائم کی۔ میں نے خدمت خلق کا صلہ دنیا میں کسی سے مانگا ہے اور نہ کبھی مانگوں گا۔ میں ہمیشہ اس بات پر ڈٹا رہا ہوں کہ میرے لیے میرا اللہ ہی کافی ہے۔ لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ میں نے اس قوم کی بھلائی کے لیے جو کچھ سوچا تھا اور جس کے حصول کے لیے سر توڑ کوشش بھی کی ہے، نہ معلوم میں اس کو دیکھ بھی پائوں گایا نہیں۔ میں یہ دعا کرتا ہوں کہ اس ملک اور اس کے عوام کی اللہ تعالیٰ حفاظت کرے اور بنگلہ دیش کی آزادی، استحکام اور خودمختاری کو محفوظ رکھے۔ اللہ تعالیٰ اس ملک کے لوگوں کو اس دنیا میں شر سے بچائے اور آخرت میں سرخروئی عطا فرمائے۔ (آمین) میں اپنے عزیز اہلِ وطن سے اس دعا کی اپیل کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ میرے نیک اعمال قبول فرمائے اور میری خطائوں سے درگزر فرمائے اور آخرت میں کامیابی سے ہمکنار کرے۔
     

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں

سوشل میڈیا لنکس