Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

غلام اعظم جماعت اسلامی نہیں پاکستان کا مسئلہ ہے

  1. سارا میڈیا ایک ہی بات کہہ رہا ہے… کہ جماعت اسلامی کے سابق امیر پروفیسر غلام اعظم کو بنگلہ دیش میں سزا سنادی گئی… چونکہ نام سے پہلے جماعت اسلامی آگیا ہے اس لیے سارے میڈیا نے اپنی اپنی بساط سے بڑھ کر اس خبر کو چھوٹے سے چھوٹا غیر اہم سے غیر اہم بنانے کی کوشش کی ہے۔ ظاہری بات ہے پورے ملک سے صرف تین نشستیں جیتی ہیں دوسرے گروہ جو اقتدار اور قوت رکھتے ہیں ہمارا میڈیا ان سے خوف بھی تو رکھتا ہے شرم تو نہیں اس لیے ان کا بھی خیال کرنا پڑتا ہے۔ چنانچہ اب عام لوگوں میں جو تاثر ہے وہ یہ ہے کہ بنگلہ دیشی حکومت نے ایک آدمی کے خلاف مقدمہ چلایا بس سزا زیادہ سنادی ہے۔ تھوڑی کم ہونی چاہیے تھی۔ وغیرہ وغیرہ کسی کسی کے ذہن میں یہ بات ضرور ہے کہ ٹریبونل ہی غلط تھا مقدمہ بھی غلط تھا اور سزا بھی غلط ہے۔ لیکن پورے ملک کا سروے کر لیں کہیں یہ تاثر نہیں ملے گا کہ یہ پاکستان کا معاملہ ہے۔ جی ہاں پروفیسر غلام اعظم کے خلاف جو کچھ ہورہا ہے وہ صرف اس لیے ہورہا ہے کہ وہ پاکستان کے حامی تھے، اسلام کے علمبردار تھے اور جو لوگ آج کل پاکستان ہیں اور مسلم لیگ ن ہے تحریک انصاف ہے پیپلز پارٹی ہے اور پاک فوج ہے ان میں سے کسی کے کان پر جوںتک نہیں رینگی کہ یہ مسئلہ ہمارا بھی ہے۔ حالانکہ بنگال اس مسلم لیگ کی جائے پیدائش ہے جو آج حکمران ہے اور جنرل نیازی کا پستول اس مسئلہ کی جڑ ہے۔
    خوامخواہ میں اس معاملے کو صرف جماعت اسلامی کا معاملہ بنایا گیا ہے صرف اس لیے کہ پروفیسر غلام اعظم جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے سابق امیر ہیں شاید کم ہی لوگ جانتے ہوں گے کہ پروفیسر غلام اعظم بنگلہ زبان تحریک کے ہیرو بھی ہیں۔ جماعت اسلامی میں شمولیت سے قبل وہ بنگلہ زبان تحریک کے روح رواں تھے۔ مولانا مودودیؒ سے ملاقات کے بعد انہوں نے اردو سیکھی جماعت اسلامی سے قریب آئے اور پھر جماعت اسلامی کے امیر بنے… اگر بنگلہ بندھو کی بیٹی کو بنگالی قومیت سے کوئی تعلق ہوتا تو شاید بنگلہ زبان کے ہیرو کے خلاف جنگی جرائم کا مقدمہ نہیں چلایا جاتا۔ ہم یہاں یہ باتیں نہیں کریں گے کہ ٹریبونل کن قوانین کے تحت بنا تھا۔ مقدمہ درست چلایا گیا، الزامات کا دفاع کرنے دیا گیا یا نہیں بلکہ ہم صرف یہ بات کررہے ہیں کہ پروفیسر غلام اعظم 1971 میں بنگلہ دیش کے قیام سے قبل پاکستانی تھے جو اقعات اس دوران ہوئے اس وقت وہ مغربی پاکستان میں تھے خراب حالات کے باوجود مشرقی پاکستان جارہے تھے کہ ان کا طیارہ سعودی عرب کی طرف موڑ دیا گیا۔ وہ وہاں رہے لندن میں رہے اور مجیب کی طرف سے شہریت کی منسوخی کا حکم آگیا۔ جنگی جرم اگر کیا ہے تو بھارت نے کیا ہے غیر بنگالیوں یا محب وطن پاکستانیوں پر مظالم مکتی باہنی اور عوامی لیگ کے غنڈوں نے کیے ان کے خلاف مقدمات چلنے چاہئیں۔ لہٰذا جنگی جرائم اور پروفیسر غلام اعظم کا تو کوئی تعلق ہے ہی نہیں۔ اس نام نہاد ٹریبونل کو تو پھر بنگلہ دیشی سپریم کورٹ کے ان ججوں کو بھی طلب کرنا چاہیے تھا جنہوں نے پروفیسر صاحب کی بنگلہ دیش کی شہریت بحال کی تھی اور اس پارلیمنٹ کو بھی طلب کیا جاتا جس کے وہ ممبر رہے اور اس اسپیکر کو بھی جس نے ان سے حلف لیا تھا۔
    یہ تو تھی بات پروفیسر غلام اعظم اور ان کے خلاف مقدمے کی لیکن اس کا جواب دینا کس کی ذمہ داری ہے۔ اگر پروفیسر غلام اعظم کے خلاف مقدمہ، ان کی سزا اور ان کے ساتھیوں کو موت اور عمر قید کی سزائوں پر حکومت پاکستان خاموش رہی تو یہ اس بات کا ثبوت ہوگا کہ پاکستان کے ایک شہری نے جنگی جرائم کا ارتکاب کیا اس کے خلاف مقدمات چلے اور حکومت پاکستان خاموش رہی… کیوں… کیا پاکستان نے یہ جرائم کیے تھے۔ پہلے ہی پاکستان کے لیے قربانیاں دینے پر جماعت اسلامی پر البدر اور الشمس کے طعنے چپکے ہوئے ہیں گویا پاکستان کے خلاف سازش کرنے والوں کو ہار پہنایا جائے اگر اب انہیں ہار نہیں پہنایا تو پھر بہاری بننا پڑے گا بنگلہ دیش کے کیمپوں میں ڈھائی لاکھ محصورین پاکستان سے محبت کی سزا ہی تو کاٹ رہے ہیں۔ پروفیسر غلام اعظم نے عمر کے 92 برس تو مکمل کر لیے ہیں آگے کتنے دن باقی ہیں یہ خدا بہتر جانتا ہے لیکن پاکستان کو دو لخت کرنے والوں کی اولادوں کے ہاتھوں پاکستان سے محبت کا اظہار کرنے والوں کے خلاف ظلم پر پاکستان کے ٹھیکیدار خاموش بیٹھے ہیں یہ بہت سنگین مسئلہ ہے۔ صرف 24 میں پاکستانیوں کو ان کے وطن سے دور کردیا گیا۔ ہماری نسلوں کے دماغوں سے مشرقی پاکستان کھرچ کر رکھ دیا گیا ہے۔ اندرا گاندھی تو سقوط ڈھاکا پر کہتی ہے کہ ہم نے مسلمانوں سے ہزار سالہ غلامی کا بدلہ لے لیا۔ اسرائیلی تو ڈھائی ہزار برس بعد فسلطین پر قبضہ کرتے ہیں اور ہم ہیں کہ پلٹن میدان کا وہ پستول بھول گئے جو جنرل نیازی نے اروڑا کے حوالے کیا تھا۔ خدا کے واسطے ایک ایک پاکستانی بچے کے کان میں یہ پھونک دو کہ یہ پستول واپس لانا ہے۔ قوم بنائی ہے تو قوموں کی طرح جینا ہوگا بے غیرتوں کی کوئی تاریخ نہیں ہوتی۔
     

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں









سوشل میڈیا لنکس