Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

حکومت کی ترجیحات میں مسئلہ کشمیرکہاں ہے

  1. 2013ء کے انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کی کامیابی پر کشمیر کے دونوں حصوں کی قیادت نے میاں نواز شریف کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے ان توقعات کا بھی اظہار کیاکہ کشمیر سے ان کی دیرینہ وابستگی اور مسلم لیگ کے صدر کی حیثیت سے مسئلہ کشمیر پر بانئی پاکستان حضرت قائد اعظم کے تصورات کے مطابق ایسی حکمت عملی تشکیل دیں گے جو مشرف کے یوٹرن کے بعد کاز کو پہنچنے والے نقصان کا ازالہ کر سکے گی اور مقبوضہ جموں وکشمیر میں بر سر پیکار حریت پسندوں کو یہ پیغام بھی ملے گاکہ مسلم لیگ کی نئی حکومت مسئلہ کشمیر پر اپنے پیش رو حکمرانوں سے زیادہ سنجیدہ ہے۔ اس سلسلے میں بزرگ قائد حریت سید علی شاہ گیلانی نے ایک تفصیلی خط بھی مسلم لیگی قیادت تک پہنچایا جس میں کشمیر اور پاکستان سے متعلق بھارتی حکمت عملی کو بے نقاب کرتے ہوئے انہیں متوجہ کیا گیا کہ نئے منظر نامہ میں تحریک آزاد ی کشمیر کی تقویت کے لیے کس محاذ پر کیا کیا اقدامات کرنے کی ضرورت ہے؟ اسی طرح کی توقعات کا اظہا ردیگر قائدین حریت جناب میر واعظ عمر فاروق ‘جناب شبیر احمد شاہ صاحب اور جناب یاسین ملک صاحب نے بھی اپنے پیغامات میں کیا جو ذرائع ابلاغ میں نمایاں طو رپر شائع ہوئے۔
    اس کے بعد توقع تھی کہ میاں صاحب ترجیحاً کشمیر کے حوالے سے حکمت عملی طے کریںگے اور اس سلسلے میں کشمیری قیادت کو بھی شریک مشورہ کریں گے لیکن ان کے ابھی تک کے اقدامات سے کشمیری حلقوں میں شدید تشویش ہے کیونکہ میاں صاحب کے اولین پارلیمانی خطاب میں لوڈ شیڈنگ اور دہشت گردی کو تو اہم مسائل قر اردیا گیا لیکن مسئلہ کشمیر کا تذکرہ تک نہ تھا حالانکہ لوڈ شیڈنگ اور دہشت گردی جیسے مسائل پیدا کرنے میں دوسرے عوامل کے علاوہ بھارتی لابی اور اس کی ایجنسیوں کا واضح کردار ہے ۔ جس کا اظہار وقتاً فوقتاً اعلی ٰترین سطح پر حکومتی ذمہ داران کرتے رہتے ہیں ۔ افغانستان میں ’’را ‘‘ کے مراکز جو بلوچستان فاٹا سمیت ملک کے دیگر حصوں میں کار ستانیاں کر رہے ہیں وہ اب کوئی راز کی بات نہیں ۔اسی طرح توانائی کے بحران کا سب سے بڑا سبب کالا باغ ڈیم جیسے منصوبوں کا مکمل نہ ہونا بھارتی لابی کی ایسی کارستانی ہے جس کے بارے میں ماہرین کے تجزیات شائع ہوتے رہتے ہیں۔باخبر حلقے جانتے ہیں کہ بھارت دیامر بھاشا ڈیم میں رکاوٹیں پید اکرنے کے لیے بین الاقوامی معاون مالیاتی اداروں کے سامنے کس طرح رکاوٹیں کھڑی کرتا رہا ہے۔
    یہ حقیقت بھی واضح ہو چکی ہے کہ سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستان کی طرف بہنے والے تمام دریائوں پر درجنوں ڈیم بنائے جا رہے ہیں نیز بھارتی سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کی آڑ میں ان دریائوں کا رخ موڑنے کے منصوبے پر بھی عمل ہورہا ہے ۔کشمیر جسے بانئی پاکستان نے پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا کو مستقل قبضہ میں رکھتے ہوئے بھارت پاکستان کی سلامتی کو دائو پر لگانے کے در پے ہے اس پس منظر میں تحریک آزادی کشمیر نہ صرف کشمیر کی آزادی کی تحریک ہے بلکہ وہ پاکستان کی سلامتی اور بقا کی جنگ بھی ہے۔اس لحاظ سے تحریک آزادی کشمیر پاکستان کی سلامتی کے لیے ایک بوجھ نہیں بلکہ اثاثہ ہے جسے کمزوریا تحلیل کرنے کے معنی محض کشمیر کاز سے بے وفائی نہ ہوگی بلکہ پاکستان کی بقا اور سلامتی کو دائو پر لگانے کے مترادف ثابت ہوگا۔اس تشویش میں مزید اضافہ یوں بھی ہو رہا ہے کہ وزرات خارجہ کو نئی حکومت کی طرف سے جو رہنما خطوط دیے گئے ہیں ( جو ذرائع ابلاغ میں شائع بھی ہو چکے ہیں) میں بھی مسئلہ کشمیرکا تذکرہ تک نہیں ہے۔ ہاں یہ ذکر ضرور ہے کہ پڑوسی ممالک سے بہتر اور دوستانہ تعلقات استوار کیے جائیں۔ان میں بھارت بھی شامل ہے جو گزشتہ بائیس سال کے دوران میں ایک لاکھ سے زائد کشمیریوں کو شہید کر چکا ہے جس نے آٹھ لاکھ سے زائد فوج مسلط کر رکھی ہے اور انسانی حقوق کی بد ترین پامالیاں کر رہا ہے جس کے قتل عام کے نتیجہ میں دس ہزار شہداء کی گمنام قبریں دریافت ہونے کا عمل جاری ہے ۔ جس پر بھارت کے اہل دانش سراپا احتجاج ہیں جس پر ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ایشیا واچ جیسے ادارے مستند رپورٹیں شائع کر رہے ہیں جو بھارت کو عالمی ضمیر کے کٹہرے میں کھڑا کیے ہوئے ہیں۔ایسے ’’مہربان ‘‘پڑوسی سے یک طرفہ دوستی کے شوق کو خود فریبی کے سوا کیا نام دیا جا سکتا ہے ؟ میاں صاحب کوہالہ اور میر پور کے پن بجلی منصوبوں کے افتتاح کے حوالے سے ایک ماہ میں دو مرتبہ آزا دکشمیر کے دورے پر آئے دونوں مرتبہ نہ انہوںنے مسئلہ کشمیر پر لب کشائی کی اور نہ کشمیری قیادت سے مشاورت کا اہتمام کیا ‘ میری یادداشت کے مطابق تاریخ میں پہلی مرتبہ پاکستانی قیادت نے کشمیر کے دورے پر اس طرح کی بے رغبتی برتی ہے جو انتہائی لمحہ فکریہ ہے ۔حالانکہ قبل ازیں وزیر اعظم یا صدر پاکستان جب بھی کشمیر کے دورے پر آئے ساری کشمیری قیادت نے ان کا استقبال بھی کیا اور دوروں کے موقع پر باہم مشاورتی اجلاس بھی ہوئے۔
    میاں صاحب کے سابقہ دونوں ادوار میں وہ خود بہت توجہ سے اس کا اہتمام کرتے رہے ۔ اہل کشمیرکو اس میاں نواز شریف کو تلاش کر رہے ہیں جس نے اسلامی اتحاد کے قائد کی حیثیت سے راجیو گاندھی کے دورہ کے موقع پر کشمیرہائوس کے بورڈ ہٹانے پر سخت احتجاج کیا تھا اور اس وقت کی حکومت پر الزام لگایا تھا کہ اس نے کشمیر سیل آئوٹ کر لیا ہے ۔ اس نواز شریف کی تلاش ہے جس نے قوم کے جذبا ت کی ترجمانی کرتے ہوئے بھارتی گھمنڈ توڑنے کے لیے ایٹمی دھماکے کیے بلکہ نوے کی دہائی میں اپوزیشن لیڈر کی حیثیت سے نیلا بٹ کے مقام پر بھارت پر دو ٹوک واضح کیا تھا کہ کشمیر میں مظالم بند نہ ہوئے اور بھارت نے جنگ مسلط کی تو اسے منہ کی کھانی پڑے گی ‘اس لیے کہ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے ۔یہ کسی ذمہ دار پاکستانی لیڈر کی طرف سے پاکستان کی ایٹمی صلاحیت کا پہلا اعتراف تھا ۔میاں صاحب نے دہشت گردی کو قومی سلامتی کے حوالے سے اہم مسئلہ قرا ردیا جو یقیناً اس سے نمٹنے کے لیے جامع حکمت عملی تشکیل دینے کی ضرورت ہے لیکن کشمیر اس سے بڑا سلامتی کا مسئلہ ہے ۔
    بعض مجہول دانش ور اور تجزیہ نگار یہ رائے سازی کر رہے ہیں کہ کشمیرکو ایک طرف رکھتے ہوئے بھارت سے دوستی کا ماحول پیدا کرتے ہوئے پانی کا مسئلہ حل کرنا چاہیے جو قطعاً ناممکن ہے ۔پانی کا مسئلہ بھی اسی صورت میں حل ہوگا جب مسئلہ کشمیر حل ہوگا ‘اس لیے پالیسی سازوں کو حقائق کا صحیح ادراک کرنا چاہیے۔ بعض حلقے یہ دانش بھی بھگارتے ہیں کہ تائیوان کے مسئلہ پر جس طرح چین اصولی موقف اختیار کرنے کے باوجود مذاکرات کا عمل جاری رکھے ہوئے ہے یا اس نے ہانگ کانگ کے مسئلے پر طویل انتظار کیا ‘اسی طرح ہمیں بھی انتظار کرنا چاہیے ۔اول تو ہانگ کانگ یا تائیوان چین کی سلامتی کے حوالے سے وہ اہمیت نہیں رکھتے جو کشمیر کی پاکستان کے حوالے سے ہے ۔دوسرے ان خطوں کے اندر کوئی ایسی تحریک بھی نہ تھی جسے کچلنے کے لیے قابض طاقتوں نے کھلا قتل عام کیا ہو ۔ کشمیر میں بھارت کی آٹھ لاکھ افواج اور ایجنسیاں جس بے دردی سے قتل عام اور انسانی حقوق کی پامالی کا ارتکاب کر رہی ہیں ‘ انہیں نظر انداز کرتے ہوئے بھارت سے دوستی کے راگ الاپنے پر حریت قیادت بہت دل گرفتہ ہے اور وہ کہنے میں حق بجانب ہے کہ پاکستانی حکمران دوستی کے لیے بھارت یا کشمیریوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کریں ۔ قاتل اور مقتول ‘ ظالم اور مظلوم دونوں سے بیک وقت دوستی ناممکن ہے۔
    بھارتی وزارت داخلہ کے افسر آر وی ایس مانی کی طرف سے بھارتی پارلیمنٹ اور ممبئی حملوں کے حوالے سے ہوشربا انکشافات کے بعد ضرورت اس امر کی ہے کہ پہلے بھارت سے دو ٹوک بات کی جائے ۔ دو طرفہ بین الاقوامی سطح پر وضاحت طلب کی جائے کہ اس نے دہشت گردی کی کارروائیوں کا ارتکاب کیا اور الزام پاکستان ‘ کشمیری مجاہدین اور آئی ایس آئی پر ڈال دیا ۔ یہ انکشافات ان پاکستانی دانشوروں اور سیاسی رہنمائوں کی آنکھیں کھولنے کے لیے بھی کافی ہیں جو بھارت کے سارے مظالم اور پاکستان دشمن حکمت عملی کو نظر انداز کر کے اپنے اداروں کو مطعون کرتے رہے۔ امید ہے کہ اس انکشاف کے بعد میاں صاحب اور ان کی حکومت بھارت کے ساتھ یک طرفہ دوستی کے سراب سے نکلے گی اور کشمیری قیادت سے مشاورت سے ایک ایسی حکمت عملی تشکیل دے گی جو کشمیریوں کے حق خود ارادیت کے حصول میں موثراور کار گر ثابت ہوگی۔
     

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں









سوشل میڈیا لنکس