Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

بھارت کی پاکستان دشمنی اور ضمیر کی خلش

  1. بھارتی وزارت داخلہ کے سابق نائب سیکرٹری آروی ایس مانی نے انکشاف کیا ہے کہ بھارت کی پارلیمنٹ پر اور ممبئی میں حملے خود بھارت کی حکومت نے کرائے اور ان کا الزام پاکستان پر لگا دیا۔ بھارت کے سابق نائب سیکرٹری نے یہ انکشاف عشرت جہاں جعلی مقابلہ کیس میں عدالت میں جمع کرائے گئے اپنے بیان میں کیا ہے۔ بیان کے مطابق انہیں مذکورہ بات بھارت کے خفیہ اداروں سی بی آئی اور ایس آئی ٹی کی تحقیقاتی ٹیم میں شامل ستیش ورما نے بتائی۔ ستیش ورما نے بتایا کہ ممبئی پر ہونے والا حملہ طے شدہ تھا اور اس کا مقصد انسداد دہشت گردی کے قانون یو اے پی اے کو مضبوط بنانے کے لیے جواز پیدا کرنا تھا۔ ستیش ورما نے مزید بتایا کہ 13 دسمبر سن 2001ء کو بھارتی پارلیمنٹ پر حملے کا مقصد دہشت گردوں کے حملوں کی روک تھام کے قانون پوٹا میں ترامیم کرانا تھا۔ اطلاعات کے مطابق بھارت کے ذرائع ابلاغ نے اس سلسلے میں ستیش ورما سے رابطے کی کوشش کی تو انہوں نے بات کرنے سے انکار کردیا۔ اس سلسلے کی اہم بات یہ ہے کہ ان حملوں کا ملبہ صرف پاکستان پر نہیں گرا بلکہ بھارتی پارلیمنٹ پر حملے کے مقدمے میں کشمیری رہنما افضل گورو اور ممبئی حملے کے مقدمے میں پاکستانی شہری محمد عامر اجمل قصاب کو سزائے موت دے کر اس پر عمل درآمد بھی کیا جاچکا ہے۔
    دنیا میں بہت سے ملک خراب تعلقات کی تاریخ رکھتے ہیں لیکن بھارت نے پاکستان کے ساتھ تعلق کی بنیاد خرابی پر نہیں دشمنی پر رکھی۔ دو قومی نظریہ ایک مذہبی، تہذیبی اور تاریخی حقیقت تھا مگر کانگریس کی قیادت اس حقیقت کو نظر انداز کر کے کئی سال ایک قومی نظریے کا پرچار کرتی رہی۔ لیکن تاریخ کے جبر کے آگے اس کی ایک نہ چلی اور اسے طوہاً وکرہاً دو قومی نظریے اور قیام پاکستان کو قبول کرنا پڑا۔ لیکن یہ قبولیت دل ودماغ کی قبولیت نہیں تھی مجبوری کی قبولیت تھی۔ اس کا اندازہ اس بات سے کیا جاسکتا ہے کہ ہندو قیادت آج بھی قیام پاکستان کو ’’بٹوارے‘‘ کا نتیجہ کہتی ہے۔ پاکستانی بھی پاکستان کے سلسلے میں ’’تقسیم برصغیر‘‘ کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں مگر بٹوارے کا مفہوم یہ ہے کہ پاکستان کا جواز تو نہیں تھا مگر سازش اور دھاندلی نے کام دکھایا اور ہندوستان کا ’’بٹوارہ‘‘ ہوگیا۔ اس کے برعکس تقسیم برصغیر کی پشت پر دو قومی نظریہ کھڑا ہے۔
    پاکستان بن گیا تو کانگریس کی قیادت بٹوارے کی نفسیات کے سائے میں آگے بڑھی اور اس نے پاکستان کے حصے کی رقم روک لی۔ افراد کی طرح قومیں بھی اپنی دولت اور طاقت سے نہیں اپنی اخلاقیات سے پہچانی جاتی ہیں۔ قیام پاکستان کے وقت پاکستان خالی ہاتھ کھڑا تھا اور اسے مالی وسائل کی سخت ضرورت تھی چنانچہ اس موقع پر اسے نقد رقم سے محروم کرنے کا مطلب اس کی شہ رگ پر پائوں رکھنا تھا۔ لیکن کانگریس کی قیادت نے یہ کام کیا اور اسے پڑوسی کے ساتھ تعلق کا کوئی تقاضا یاد نہ آیا۔ اصولی اعتبار سے دیکھا جائے تو کشمیر کا مسئلہ موجود ہی نہیں تھا۔ قیام پاکستان کا فارمولا بالکل واضح تھا۔ ہندوستان کے تمام مسلم اکثریتی علاقے پاکستان کا حصہ تھے اور کشمیر مسلم اکثریتی علاقہ تھا مگر بھارت نے ’’بٹوارے‘‘ کے اصول پر بھی عمل نہ ہونے دیا۔ اس نے کشمیر میں فوج داخل کردی اور طاقت کے ذریعے کشمیر پر قبضہ کرلیا۔ حیدرآباد اور جونا گڑھ میں بھی کشمیر کی تاریخ دہرائی گئی۔ اگر کشمیر پر بھارت کے قبضے کا یہ جواز تھا کہ کشمیر کا ہندو راجا بھارت کے ساتھ رہنا چاہتا تھا تو حیدرآباد دکن کے نظام کی تمنا آزاد رہنے کی تھی مگر بھارت نے اس تمنا کو یہ کہہ کر کچل دیا کہ حیدرآباد دکن ہندو اکثریتی علاقہ ہے اور بھارت کی بات درست تھی مگر کشمیر مسلم اکثریتی علاقہ تھا اور بھارت کو چاہیے تھا کہ وہ خاموشی کے ساتھ اسے پاکستان کے حوالے کردیتا۔ ان حقائق کو دیکھا جائے تو خیال آتا ہے کہ بھارت کا مسئلہ کبھی بھی اصول نہیں تھا اس کا مسئلہ پاکستان کی دشمنی تھا۔ اس دشمنی کا ایک روپ مشرقی پاکستان میں بھارت کی فوجی مداخلت کی صورت میں سامنے آیا۔ اس دشمنی نے سیاچن پر بھارت کے بلاجواز قبضے کی راہ ہموار کی۔ اس دشمنی نے بھارت سے پاکستان کے خلاف آبی جارحیت کرائی۔ یہی دشمنی بھارت کی پارلیمنٹ اور ممبئی حملوں کی پشت پر رقص کناں ہے۔ لیکن اس دشمنی کا ایک دلچسپ پہلو بھی ہے۔ قیام پاکستان کے وقت بھارت نے پاکستان کی رقم روکی تو یہ دو طرفہ تعلق کے اصول کی ایسی خلاف ورزی تھی کہ گاندھی جی کو اس سلسلے میں صدائے احتجاج بلند کرنا پڑی۔ گاندھی جی کی صدائے احتجاج دراصل کانگریس قیادت میں ضمیر کی خلش کا اظہار تھی۔ اس طرح بھارت نے کشمیر پر قبضہ تو کرلیا مگر یہ قبضہ اتنا غاصبانہ تھا کہ ضمیر کی خلش نہرو کو کشمیر کے مسئلے کے ساتھ اقوام متحدہ میں لے گئی۔ نہرو کے اس اقدام کو آرالیس ایس اور اس کے ہمنوائوں نے آج تک معاف نہیں کیا۔ ان کا خیال ہے کہ کشمیر بھارت کا ٹوٹ انگ ہے اور نہرو کو اس سلسلے میں اقوام متحدہ سے رجوع نہیں کرنا چاہیے تھا۔ پاک بھارت تعلقات کی تاریخ کا ایک اہم واقعہ سمجھوتا ایکسپریس کا آتش زنی کی نذر ہونا ہے۔ اس سانحے میںہندو انتہا پسند اسیم آنند ملوث تھا لیکن یہ بات اسیم آنند ہی کو معلوم تھی۔ اچانک ایک دن اسیم آنند کا ضمیر بیدار ہوا اور اس نے اپنے جرم کا اقرار کرلیا۔ بھارت کے حوالے سے سامنے آنے والے تازہ ترین انکشاف کا معاملہ بھی شاید یہی ہے۔ آر وی ایس مانی بھارت کے نائب سیکرٹری رہ چکے ہیں اور انہیں پاکستان کا ایجنٹ قرار دینے کا کوئی جواز موجود نہیں۔ چنانچہ ان کے انکشاف کا ایک ہی سبب ہوسکتا ہے کہ ان کے ضمیر نے انہیں ملامت کی اور انہوں نے اس ملامت کے زیر اثر پاک بھارت تعلقات کی تاریخ کا ایک راز آشکار کردیا۔
    انسانی تعلقات میں ضمیر کی خلش کا پہلو ایسا نہیں کہ اسے یکسر انداز کردیا جائے۔ اسرائیل ایک ناجائز ریاست ہے اور اسرائیل کا ہر باشندہ اس ناجائز ریاست کا شہری ہے چنانچہ اسرائیل کے کسی شہری سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ اسرائیل کے ساتھ ’’غداری‘‘ کرے گا۔ لیکن چند سال پہلے اسرائیل کی فضائیہ کے ڈیڑھ درجن سے زیادہ ہوا بازوں نے یہ کہہ کر فلسطینیوں پر بمباری سے انکار کر دیا کہ نہتے فلسطینیوں پر بم برساتے برساتے ہم تھک چکے ہیں اور اب ہم مزید یہ کام نہیں کرسکتے۔ ایڈور ڈسنوڈن امریکا کا وفا دار شہری ہے اور وہ طویل عرصے سے امریکی حکومت کے لیے کام کررہا تھا لیکن ایک مرحلے پر اسے محسوس ہوا کہ امریکا کی حکومت نے انسانوں کی نجی زندگی میں مداخلت کی انتہا کردی ہے چنانچہ اس نے امریکا کی حکومت کے چہرے پر پڑا ہوا نقاب اتار دیا۔ منٹو نے اپنے کئی افسانوں میں انسانی فطرت کا یہ راز آشکار کیا ہے کہ برا انسان بھی ایک حد تک ہی برا ہوسکتا ہے۔ ایک مرحلہ آتا ہے کہ اس کی فطرت برائی سے ابا کرنے لگتی ہے۔ پاک بھارت تعلقات میں خلٹس کایہ پہلو قائد اعظم کے بارے میں لکھی گئی جسونت سنگھ کی کتاب تک میں موجود ہے۔ اس کتاب میں جسونت سنگھ نے قائداعظم کو تھوڑے سے مختلف انداز میں دیکھا ہے اور کہا ہے کہ تقسیم کے ذمہ دار صرف محمد علی جناح نہیں کانگریس کی قیادت بھی تھی۔ ہندو قیادت محمد علی جناح کو ہندو مسلم تعلقات کی تاریخ کا ایک بڑا ولن ثابت کرتی رہی ہے مگر جسونت سنگھ نے قائداعظم میں تھوڑا سا ’’ہیروپن‘‘ تلاش کیا ہے اور کانگریس کی قیادت میں تھوڑی سی وہ چیز دریافت کی ہے جو ولن کے کردار کا حصّہ ہوتی ہے۔
     

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں









سوشل میڈیا لنکس