Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

انتخابی منظر نامہ، توقعات و خدشات

  1. آنے والے انتخابات اس ملک کے لیے بڑی اہمیت کے حامل ہیں۔ ملک گونا گوں مشکلات و مسائل میں گھرا ہوا ہے۔ ہر شخص دو وقت کی روٹی کو ترس رہا ہے، دیگر ضروریات زندگی کا تو کہنا ہی کیا ہے۔ ایسے میں بعض امیدواران پیسہ پانی کی طرح نہیں بہا رہے بلکہ مٹی کی طرح اڑا رہے ہیں۔ ملک کی تین چار بڑی پارٹیاں جو یا تو اقتدار کے ایوانوں میں مزے لوٹتی رہی ہیں یا ان کے ہاتھ کوئی قارون کا خزانہ آگیا ہے، میڈیا کی تشہیر میں اس قدر پیسہ لگا رہی ہیں کہ اس کے تصور ہی سے دل بیٹھ جاتا ہے۔ انتخابی اخلاقیات اور خرچ کے تمام ضابطے اور ان کی مقررہ حدود منہ پیٹ کے رہ گئی ہیں۔ کئی لوگوں کی چاندی نہیں سونا بن رہا ہے اور یہ کرشمہ دنوں میں نہیں لمحات میں رونما ہو رہا ہے۔ ایسے میں کیا یہ انتخابات آزادانہ و مصنفانہ شمار کیے جاسکیں گے؟ یقینا نہیں۔ یہ تو سرمایہ داری بلکہ سرمایہ کاری کا کھیل ہے۔ اگر ووٹر میں شعور ہو تو وہ یوں پیسہ بہانے والوں سے فوراً ہوشیار ہوجائے کہ کل کو یہ پیسہ اس کی جیب سے نکلنا ہے اور سود در سود کے ساتھ۔ سرمایہ کار آخر گھاٹے کے لیے تو سرمایہ کاری نہیں کیا کرتا، اس کے پیش نظر نفع اور جلبِ زر ہوتا ہے۔
    ایک جانب یہ صورت حال، دوسری جانب الیکشن کمیشن کی بے بسی و مجبوری! الیکشن کمیشن کی جو بھد دفعہ 62 اور63 کے موضوع پراڑی ہے اور ریٹرننگ افسران کے ان دفعات کی روشنی میں مختلف سیاسی کھلاڑیوں اور انتخابی مداریوں کو نااہل قرار دینے کے فیصلوں کا جو انجام ہواہے، اسے دیکھ کر ان انتخابات کے نتیجہ خیز اور ملک و قوم کے لیے ثمر بار و باعثِ خیر ہونے کا اندازہ بخوبی لگا یا جاسکتا ہے۔ ایک گھن چکر ہے جس نے ذہنوں کو ماﺅف او ماحول کو دھندلا دیا ہے۔ اللہ خیر کرے اور ملک کو اندرونی و بیرونی سازشوں کے مقابلے پر اپنی خصوصی رحمت و حفاظت کا حصار عطا فرمائے۔
    اس سارے افسوسناک تناظر میں جگہ جگہ بم دھماکوں اور خود کش حملوں کی نئی اور انتخابات سے قبل کے مقابلے میں زیادہ سنگین وارداتیں اور تباہیاں مزید پریشان کن ہیں۔ یہ دھماکے کیوں ہو رہے ہیں؟ کون کروا رہا ہے؟ کچھ پتا نہیں۔ اس کے مقاصد کیا ہیں، یہ رازِ سربستہ ہے۔ کیا خوف و ہراس پیدا کرنا مقصود ہے، یا چند مخصوص سیاسی گروہوں کے لیے ہمدردی کے جذبات اور ان کو مظلومیت کا لبادہ پہنا کر ووٹرز کے دلوں سے ان کے خلاف نفرت کھرچنا مقصود ہے؟ کچھ کہا نہیں جاسکتا۔ بعض لوگوں کے نزدیک یہ انتخابات ہی کو سبوتاژ کرنے اور غیر معینہ مدت کے لیے نیا سیٹ اپ لانے کی گہری اور خفیہ پلاننگ ہے۔ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ ان اسباب میں سے کوئی سبب ہے یا کوئی اور گھناﺅنا مقصد حاصل کرنے کے لیے سازشوں کا تانا بانا بنا جارہا ہے۔ بہرحال یہ سب خطرے کی علامتیں ہیں۔
    اگر انتخابات ہو بھی گئے اور اللہ کرے کہ وہ مقررہ تاریخ پر ہوجائیں، تو ان کے نتائج بذاتِ خود عجیب و غریب منظر پیش کریں گے۔ اس قدر تقسیم ہوگی اور پھر اس میں علاقائیت کا عنصر یوں کچھ عناصر کو ابھارنے اور دیگر کی نفی کرنے کا سبب بنے گا کہ پہلے ہی خطرات میں گھری یہ سرزمینِ پاک نئے چیلنج سے دوچار ہوجائے گی۔ بڑے بڑے کھلاڑی ایک دوسرے کے بارے میں جو زبان استعمال کر رہے ہیں، وہ کسی مہذب معاشرے کی قیادت کا تصور اجاگر نہیں کرتی۔ سیاسی اختلاف کی جگہ ذاتی و شخصی حملے کسی سنجیدہ اور قومی سطح کی سیاسی شخصیت کے شایانِ شان نہیں۔ یہ رویے قومی سطح کی قیادت ہی کو نہیں، بلکہ سیاسی میدان میں اترنے والے کسی بھی نمائندے کو ہر گز زیب نہیں دیتے۔ ایسی زبان کے استعمال سے کسی کی بھی عزت باقی نہیں رہتی۔
    آنے والے حالات میں غیر مرئی قوتوں کو سیاسی جماعتوں اور اسمبلیوں میں پہنچنے والے نمائندگان کو بلیک میل کرنے کے زیادہ مواقع نظر آرہے ہیں۔ ان انتخابات سے اگر کوئی مثبت بات راقم کو نظر آرہی ہے تو وہ یہ ہے کہ عام آدمی پہلے کی نسبت، اب اپنے تبصرے میں کسی نہ کسی حد تک اس بات کا اظہار کرتا ہے کہ بار بار آزمائے ہوئے لوگوں اور شیخی بگھارنے والے عناصر کی جگہ سنجیدہ اور عام حالات میں عوام کو دستیاب ہونے والے امیدواروں کو موقع ملنا چاہیے۔ یہ سوچ اگرچہ ایک قلیل تعداد میں دیکھنے میں آئی ہے مگر پہلے کے مقابلے میں یہ ایک مثبت تبدیلی ضرور ہے۔ نوجوان اور دیہاتی ووٹر بھی پہلی بار سیاست کے امور میں دلچسپی لیتا ہوا دیکھا گیا ہے۔ یہ ان شاءاللہ مستقبل میں ایک بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔ انتخابات ہر حال میں اپنے مقررہ دن اور وقت پر منعقد ہونے چاہییں، ان میں تعطل کا نقصان ان کے انعقاد کے مقابلے میں زیادہ ہوسکتا ہے۔ مسلسل اور منصفانہ انتخابات سے عام آدمی کا سیاسی شعور بھی بلند ہوگا اور ہمارا معاشرہ بھی مہذب و متمدن روپ دھار سکے گا۔
     

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں









سوشل میڈیا لنکس