Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

اپناپرچم،اپنا منشور،اپنا نشان

  1. عصری مجلس میں کسی نے سید مودودیؒ سے سوال کیا ’’جماعت اسلامی ایک دینی جماعت ہے اسلامی نظام کا نفاذ اس کا نصب العین ہے۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ آپ آمریت کے خلاف سیاسی جدوجہد میں سیکولر جماعتوں کے ساتھ اتحاد میں کوئی حرج نہیں سمجھتے بلکہ عملاً ایسے اتحادوں میں جماعت اسلامی نہایت فعال کردار ادا کرتی ہے اس کی کیا وجہ ہے؟‘‘
    سید صاحب نے نہایت شگفتہ انداز میں اس سوال کا جواب دیا ’’یوں سمجھ لیجیے کہ مختلف منزلوں کو جانے والے لوگ ایک سڑک پر رواں دواں ہیں کہ سڑک کے بیچ میں ایک ٹرک راستہ روک کر کھڑا ہوجاتا ہے اب سب لوگوں کی کوشش یہی ہوگی کہ سب سے پہلے ٹرک کو سڑک سے ہٹایا جائے تاکہ راستہ صاف ہو اور وہ اپنی اپنی منزل کو روانہ ہوسکیں۔ آمریت کے خلاف مشترکہ جدوجہد کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔ فوجی آمریت کے ٹرک نے جمہوریت کا راستہ روک رکھا ہے ہم سب کا مفاد اسی میں ہے کہ سب سے پہلے اس ٹرک کو راستے سے ہٹائیں۔ راستہ صاف ہوجائے تو پھر سب اپنی اپنی منزل کی جانب روانہ ہوسکتے ہیں جماعت اسلامی اس حکمت عملی کے تحت سیکولر سیاسی جماعتوں کے ساتھ مشترکہ سیاسی جدوجہد میں کوئی حرج نہیں سمجھتی البتہ وہ نفاذ اسلام کے لیے ایسے نصب العین پر کوئی سمجھوتا نہیں کرے گی۔‘‘
    یہ اس زمانے کی بات ہے جب ایوب آمریت کے خلاف تمام سیکولر، لبرل اور مذہبی جماعتیں ایک پلیٹ فارم پر جمع تھیں اور جماعت اسلامی اس اتحاد میں قائدانہ کردار ادا کر رہی تھی۔ جنرل ایوب خان کی فوجی آمریت کا خاتمہ اسی مشترکہ سیاسی جدوجہد کا نتیجہ تھا لیکن جنرل یحییٰ خان نے اس جدوجہد کو سبوتاژ کرتے ہوئے اقتدار پر قبضہ کرلیا۔ یہ حقیقت ہے کہ سید مودودیؒ نے مذہبی جماعتوں کا اتحاد بنانے میں کبھی اپنی توانائی ضائع نہیں کی۔ یہ کام محترم قاضی حسین احمد کے زمانے میں ہوا جو مذہبی قوتوں کو یکجا کرنے کا خواب اپنی آنکھوں میں سجائے ہوئے تھے۔ اس خواب کی تعبیر متحدہ مجلس عمل (ایم ایم اے) کی صورت میں ظاہر ہوئی 2002ء کے عام انتخابات میں اس اتحاد نے خاطر خواہ کامیابی حاصل کی۔ صوبہ خیبر پختونخوا میں ایم ایم اے نے اپنی حکومت بھی بنائی لیکن قومی مفاد اور جماعت اسلامی کے نقطۂ نظر سے یہ تجربہ کچھ زیادہ خوشگوار ثابت نہ ہوا اور بعض مذہب فروشوں نے اس اتحاد کو حکمرانوں کے ساتھ سودے بازی کے لیے استعمال کرکے خود مذہبی جماعتوں کے تقدس کو مجروح کرڈالا۔ یہی وجہ ہے کہ محترم امیر جماعت اسلامی سید منور حسن نے اس مرتبہ ایم ایم اے کی بحالی کے لیے اصولی شرائط عائد کیں لیکن جب ایک طاقتور مذہبی گروہ نے ان شرائط کو ماننے سے انکار کیا تو جماعت اسلامی نے بھی ایم ایم اے کی بحالی میں کوئی دلچسپی نہ لی اور موجودہ انتخابات میں مذہبی جماعتوں کا اتحاد ایک خواب بن کر رہ گیا۔
    جماعت اسلامی نے مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے لیے مذاکرات کیے لیکن یہ مذاکرات اس لیے بے نتیجہ رہے کہ دونوں جماعتیں اپنی اپنی جگہ اس زعم میں مبتلا ہیں کہ وہ انتخابات میں کلین سویپ کر جائیں گی اور آئندہ حکومت ان کی ہوگی۔ میاں نواز شریف سمجھتے ہیں کہ اب ان کی باری ہے اور یہ باری کوئی نہیں چھین سکتا۔ امریکا نے بھی انہیں اس خوش فہمی میں مبتلا کررکھا ہے اور پری پول امریکی جائزے اسی طرف اشارہ کررہے ہیں۔ اس لیے مسلم لیگ (ن) نے جماعت اسلامی کے ساتھ مذاکرات میں کسی سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ رہی تحریک انصاف تو عمران خان پہلے ہی یہ خواب دیکھ چکے ہیں کہ ایک ماہ بعد ان کی حکومت آنے والی ہے پھر بھلا وہ جماعت اسلامی کا احسان کیوں اٹھائیں۔ محترم سید منور حسن نے تمام امکانات کی پرتیں کھولنے کے بعد اعلان کیا ہے کہ جماعت اسلامی اپنے پرچم، اپنے منشور اور اپنے انتخابی نشان کے تحت انتخابات میں حصہ لے گی اور جماعت کے کارکن یک سو ہو کر انتخابی مہم چلائیں۔
    واقعہ یہ ہے کہ یہی فیصلہ درست اور مناسب ہے۔ جماعت اسلامی قیام پاکستان کے فوراً بعد سے میدان سیاست میں ہے اس نے جمہوری قدروں کی بالادستی اور آئین وقانون کی حکمرانی کے لیے تاریخ ساز جدوجہد کی ہے۔ نفاذ اسلام کے لیے بھی اس کی قربانیوں سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ مشرقی و مغربی پاکستان کو متحد رکھنے کے لیے جماعت اسلامی نے جو کردار ادا کیا اس کی سزا آج بھی جماعت کے اکابرین بنگلہ دیش میں بھگت رہے ہیں اور بھارت نواز اسلام دشمن لابی کسی صورت بھی انہیں معاف کرنے کو تیار نہیں ہے۔ جب پاکستان متحد تھا اس وقت بھی جماعت اسلامی عوام کی فلاحی وسماجی خدمات میں پیش پیش تھی۔ سابق مشرقی پاکستان میں اکثر سمندری طوفان اور سیلاب آتے رہتے تھے اور جماعت کے کارکن سب سے پہلے متاثرین کی امداد کو پہنچتے تھے۔ اب باقی ماندہ پاکستان میں بھی جماعت اسلامی کا شعبہ خدمت انتہائی جاندار اور فعال ہے اس نے عوام کی سماجی خدمت کو بھی سیاسی، مذہبی اور گروہی امتیاز سے آلودہ نہیں ہونے دیا وہ سندھ میں غریب ہندوئوں کی بھی اس طرح خدمت کرتی ہے جس طرح غریب اور مستحق مسلمانوں کی۔ اس نے عیسائی اقلیت کو بھی مشکل وقت میں تنہا نہیں چھوڑا ۔ یہی وجہ ہے کہ غیر مسلم اقلیتوں میں جماعت اسلامی کے لیے ہمیشہ خیر سگائی کے جذبات پائے گئے ہیں۔
    یہ امر قابل ذکر ہے کہ پاکستان میں 1973ء کے آئین کے نفاذ کے بعد کتنے ہی عام انتخابات ہوچکے ہیں لیکن اس کی دفعات 62 – 63 پر کبھی عمل نہیں ہوا جو ووٹروں کو امین، صادق، اہل دیانتدار اور اسلامی جمعیت سے سرشار نمائندوں کو منتخب کرنے کا پابند کرتی ہیں یہ پہلا موقع ہے کہ موجودہ انتخابات میں ان آئینی دفعات کا بہت چرچا کیا جارہا ہے۔ الیکشن کمیشن نے بھی انتخابی امیدواروں کو 62 – 63 کی چھلنی سے گزارنے کااہتمام کیا ہے لیکن افسوس اس چھلنی میں اتنے بڑے بڑے چھید ہیں کہ تمام کرپٹ، بدعنوان، قرض نادہندگان، زانی، شرابی اور انتہائی بدکردار لوگ جو پہلے بھی عوامی نمائندگی کے منصب پر فائز تھے اس چھلنی سے گزر کر میدان میں ہیں اور اپنی دولت اور گروہی اثر ورسوخ کی بنیاد پر الیکشن لڑ رہے ہیں۔ انہیں امید ہے کہ میدان پھر ان کے ہاتھ رہے گا اور آئینی دفعات منہ تکتی رہ جائیں گی۔ شاید ایسا ہی ہو لیکن اب کی دفعہ ایک قومی امید یہ بھی ہے کہ میڈیا نے 62 – 63 کی اتنی پبلسٹی کی ہے اور اس کے مثبت اور متفی پہلوئوں کا اس قدر چرچا کیا ہے کہ عوام کے اندر ان شقوں کے بارے میں غیر معمولی آگہی پیدا ہوگئی ہے اور وہ خود یہ فیصلہ کرسکتے ہیں کہ کون امیدوار ان شقوں پر پورا اترتے ہیں اور کون نہیں۔ اب یہ بات بلا مبالغہ کہی جاسکتی ہے کہ جماعت اسلامی کے امیدواروں پر اس حوالے سے کوئی انگلی نہیں اٹھائی جاسکتی۔ یہ واحد جماعت ہے جس کے تمام امیدوار 62 – 63 کے تمام تقاضوں پر پورا اترتے ہیں۔ سید منور حسن نے اپنے پرچم، اپنے منشور اور اپنے انتخابی نشان کے تحت الیکشن لڑنے کا اعلان کرکے جماعت اسلامی کے امیدواروں کو میدان میں لا کھڑا کیا ہے۔ اب یہ فیصلہ کرنا عوام کا کام ہے کہ امیدواروں کے ہجوم میں ان کا بہترین انتخاب کیا ہوسکتا ہے۔ اس میں شبہ نہیں کہ جماعت اسلامی کو میڈیا کی حمایت حاصل نہیں ہے وہ اشتہاری مہم کا بوجھ بھی برداشت نہیں کرسکتی۔ پاکستانی سیاست میں پس پردہ تار ہلانے والی عالمی طاقتیں بھی اس کے خلاف ہیں لیکن ان تمام موانعات کے باوجود اصل فیصلہ عوام کے ہاتھ میں ہے وہ چاہیں تو ملک میں بہت بڑی اور حقیقی معنوں میں مثبت تبدیلی لاسکتے ہیں بلاشبہ
    یہ گھڑی محشر کی ہے
    ’’وہ‘‘ عرصہ محشر میں ہیں
     

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں

سوشل میڈیا لنکس