Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

امریکی مداخلت اور اس کا سد باب

  1. راولپنڈی سے گلگت جانے والی ۴ بسوں کے سواروں کو کوہستان میں اتار کر شناخت کیا گےا اور بعد میں 19 شہریوں کو گولیوں سے چن دیا گیا اور کئی کو زخمی کیا گےاحساس اداروں کی رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ جنوری میں گلگت بلتستان میں ۸ افراد کے قتل کی وجہ سے ہوا کشیدگی اسی وقت سےتھی اگر بروقت کاروائی کی جاتی تو سانحہ سے بچا جا سکتا تھا ٹھیک ہے یہ ممکن ہو مگراس سے ملتے جلتے واقعات بلوچستان میں بھی ہو چکے ہیں کیا وہاں بھی کوئی شیعہ سنی کشیدگی تھی ہمارے نزدیک کوئی مسلما ن اس طرح کی حرکت نہیں کر سکتا آخر امریکہ کی پاکستان میں موجودہ مداخلت اور پاکستان کی اس جنگ میں شرکت سے پہلے طویل عرصے میں ایسی جسارت کبھی بھی کسی نے نہیں کی پھر کیا بات ہے کون یہ سب کچھ کر رہا ہے یہ ہمارے سوچنے کی بات ہے ملک میں نام نہاد دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری ہے۔یہ جنگ ہمارے پڑوسی ملک افغانستان سے امریکہ ہمارے ملک میں اپنے مقاصد کےلیے لے آیا ہے وجہ یہ ہے کہ وہاں امریکہ طالبان سےبُری طرح شکست کھارہا ہے اوروہاں سے نکلنے کی تدبیریں کررہا ہے ہمارے ملک کے طول وعرض میں ایسے واقعات اور خودکش دھماکے اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ افغان قوم کبھی بھی کسی غیرملکی کی غلام نہیں رہی ہے۔روس کی شکست سے پہلے برطانیہ نےبھی بہت کوشش کی کہ افغانیوں کو زیر کرے مگر بےسودرہی۔ آخری بار جب برطانیہ نے اپنی فوج افغانستان بھیجی تھی توواپس صرف ایک فوجی آیا تھا اُسے بھی افغانیوں نے صرف اس لیے چھوڑا تھا کہ وہ اپنے کمانڈروں کو واپس جاکر حالات بتائے۔ اتنی عبرت ناک شکست کے باوجود بھی اس سے سبق حاصل نہیں کیا گیا مگرکیا کہا جائے ”دنیا کی سب سے بڑی حقیقت ہے کہ لوگ تاریخ سے سبق نہیں لیتے“ اوراپنی طاقت کو اندھا دھند غریب ملکوں پر مسلط کر دیتے ہیں امریکہ نےجوکام عراق میں کیاوہی تجربہ ہمارے ملک پاکستان میں آزما رہا ہے ۔وہاں شیعہ سُنی فسادات کروائے گئے تھے ایک دوسرے کے مقدس مقامات پر خودکش حملے کروائے گئے تاکہ لوگ دست و گریبان ہو جائیں اور امریکہ اپنے مقاصد حاصل کرلے۔امریکہ کےلیے بلیک واٹرایسے کام عراق میں کرتارہا ہے اوراب ہمارے ملک میں یہ دہشت گرد ی کے واقعات میں ملوث ہے ۔وہ اسطرح سُنی اور شیعہ لوگوں کو لڑانا چاہتا ہے۔ مگر داد دینی چاہیے علماءاکرام کو وہ اس سازش سے بخوبی آگاہ ہیں ۔اس سے قبل بھی امام بارگاہوں اور مساجد پر خود کش حملے کروائےگےتھے مگرالحمداللہ کوئی بھی مذہبی گروہ آپس میں دست وگریبان نہیں ہوا۔ یہ علماءحضرات کی بالغ نظری تھی۔تمام مکتبہِ فکر کے لوگوں نے ایسے حادثوں پر اپنےغم و غصے کا اظہار کیا ۔سوال یہ ہے کسطرح یہ کام روکا جائے؟ورنہ آئے دن بے گناہ لوگوں کا جانی و مالی نقصان ہوتا رہے گا۔قوم کب تک لاشیں اُٹھاتی رہےگی۔ جب تک ہم شیطان کبیر امریکہ سے اپنی جان نہیں چھڑائیں گے یہ خون خرابہ ہوتا رہے گا ۔حکومت وقت اس قدر امریکہ کی گودمیں چلی گئی ہے کہ بلیک واٹر کے متعلق امریکہ کا وزیر دفاع ربرٹ گیٹس اپنے ملک میں بیان دے رہا ہے کہ بلیک واٹرنے امریکہ کاساتھ عراق میں اچھی طرح سے دیا اور اب وہ پاکستان میں بھی امریکہ کی مدد کر رہی ہے ۔بلیک واٹر بنانے والے مالک یعنی بانی (ایرک پرنس) کا انٹرویو اخبارات میں چھپ چکا ہے کہ بلیک واٹر پاکستان میں کام کررہی ہے اور اُس نے یہاں تک کہا کہ وہ مسلمانوں کو صفحہ ہستی سے مٹانا چاہتا ہے۔ ہمارے ملک کے وزیر داخلہ کئی بار اخبارات میں بیانات دے چکے ہیں کہ بلیک واٹر پاکستان میں کام نہیں کررہی ہے( چاہے نام بدل کر کام کر رہی ہو)۔کس کی بات کو سچ مانا جائے اور کس کی بات کوجھوٹ مانا جائے ۔جبکہ ملک میں کئی دہشت گردی کے واقعات ہو چکے ہیں اور ملک کی سیاسی پارٹیوں کےسربراہوں کےبیانات آچکے ہیں یہ کام بلیک واٹر کا ہے۔ آئے دن ا مریکیوں کی اسلحے کے ساتھ ملک میں آزادی سے چلت پھرت بھی اخبارات کی زینت بن چکی ہے لاہور میں پولیس نے امریکیوں کو اسلحے سمیت گرفتار کیاتھامگر بعد میں ان کا پتہ تک نہ چلا۔اسلام آباد میں بھی اس طرح کے واقعات اخبارات میں رپورٹ ہوے تھے مگر سفارت خانے نے ان کو چھڑوا لیا۔ اسلام آباد میں امریکی میرین نے بھاری کرایا پر بنگلے بڑی تعداد میں لیے اوران میں رہائش پذیر ہیں ۔پشاور سے چلا ہوا اسلحہ سےبھرا ٹرک اسلام آباد پولیس نےپکڑا تھا جس کے ڈرائیور نے بیان دیا کہ یہ اسلحہ حیات آباد پشاورسے ایک امرہکی نے لوڈ کروایا اوراسلام آباد کے سفارت کار کا فون نمبر بھی ڈرائیور کو دیا گیا تھا اور کہا گیاتھا کہ اسلام آباد جاکر فون کرنا وہ تمہیں وصول کر لیں گے اخباری خبر کے مطابق پہلے سفارت کار نے انکار کیا پھر ٹرک کا پتہ بھی نہ چلا تھا۔ کئی تعداد میں کنٹینرجوکراچی سے ناٹو کے لیے سپلائی لےکر جاتے ہیں وہ پاکستان میں گم ہو گئے۔ ناٹو کےلوگوں کے خلاف مقدمہ بھی قائم ہواپاکستان کی پارلیمنٹ میں ان کی تعداد بھی زیر بحث رہی ہے۔سہالہ پولیس ٹرنینگ سنٹر کے انچارج نے حکومت کو اطلاع دی تھی کہ امریکی فوجیوں نے سنٹر کے ایک حصے میں اسلحہ جمع کیا ہوا ہے وہاں کسی کو جانے کی اجازت نہیں ہے یہ بیا نات اخبارات کی زینت بنتے رہے۔ محبِ وطن میڈیا نے سوال اٹھایا تھا کہ کہوٹہ کے نزدیک جو پاکستان کا حساس علاقہ ہے امریکی فوجیوں کے رہنے کی اجازت دینے کی کیا ضرورت؟ ان کو فوراً وہاں سے ہٹایا جائے اس احتجاج پر امریکیوں کو وہاں ہٹایا گیا تھا۔ تربیلا کے قریب غازی میں امریکی فوجی اڈااب بھی کام کر رہا ہے۔ڈرون حملے شہباز شمسی ائیر پورٹ سے اڑان سے ہو تے رہے ہیں کی خبریں بھی اخبارات میں آتی رہیں جواب خالی کرایا گیا ہے۔ کراچی پورٹ پر امریکہ کوگودی الاٹ کرنے کےکیا معانی ؟ہر ملک اپنے ہاں آنے والے سامان کی چیکنگ کاحق رکھتا ہے ہمارا چیکنگ کا حق کہاں گیا؟نہ جانے کیا کیا ہمارے ملک میں امریکہ سے آ رہا ہے اور کس کس دہشت گرد کے ہاتھ لگ رہا ہے اس کا جواب حکومت وقت کو دینا ہےہم لوگ امریکہ کےغلام بن گئے ہیں امریکہ دہشت گردوں سے ہماری فوج کو مذاکرات بھی نہیں کرنے دیتا بس ڈومور کی رٹ لگاتارہتا ہے کب تک ہم اپنے لوگوں سے لڑتے رہیں گےناروے حکومت کی خاتون کا اپنی پارلیمنٹ میں غلطی سے زبان سے نکلنے والے بیان کہ ان کی فوج کا خفیہ ادارہ پاکستان میں جاسوسی کر رہا ہے اس بات کاثبوت ہے کہ مغربی ملکوں نے ہمارے ملک کوباجگزار سمجھ رکھا ہے اپنے اس بیان پر خاتون کو استفیٰ دینا پڑا۔ڈاکٹر شکیل آفریدی جیسے ملک کےغداران ہی خفیہ جاسوسوں نےبنائے ہیں اوربنا رہے ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے کی بات ہے امریکہ میں ہونے والے سی آئی اے اور آئی ایس آئی کے ناکام مذاکرات کے بعد امریکہ کا کہنا کہ ہم نے خود فاٹا میں جاسوسی کا نظام قائم کر لیاہے ہمیں آئی ایس آئی کی ضرورت نہیں ہےحکمرانوں یہ کیا ہے؟ہمارے ملک میں ہماری اجازت کےبغیر جاسوسی کا نظام قائم کر لینا عجیب منطق ہے پاکستان میں امرہکی مداخلت کی بہت طویل داستان ہے ہم نے اختصار سے کام لیا ہے۔
    قارئین اس خرابی کا سدباب یعنی حل کیا ہے؟اس مسئلے کا حل یہ ہے کہ امریکہ بہادر سے اس نام نہاد دہشت گردی کی جنگ سے اپنے آپ کو علیحدہ کر لیا جائے ۔ شمالی وزیرستان اور حقانی نٹ ورک کے خلاف کاروائی جیسی ڈومور کی بات نہ مانی جائے۔ ملک کے ناراض لوگوں سے فوراً مذاکرات شروع کرنے چاہیئں۔ بلیک واٹر یا( نام بدل کر کام کرنے والی سکورٹی) پاکستان میں کس معاہدے کے تحت کا م کررہی ہے اس کا معاہدہ کنسل کیا جائے۔ رہے سہے امریکی اور دوسرے ملکوں کے جاسوسوں کو فوراً ملک سے باہر نکالا جائے ۔ڈرون حملوں بند ہونے چاہیںع۔ پارلیمنٹ کی سابقہ قرادادوں پر فوراً عمل کیاجائے۔ نیٹو سپلائی پرجوپابندی عائدہے اسے کسی صورت بھی بحال نہیں ہونا چاہیے تاکہ قوم امریکہ کےظلم سے نجات پاسکے۔
     

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں

سوشل میڈیا لنکس