Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

امریکہ کی مسلم دشمنی

  1. دوامریکی مصنفین دی پی گریڈ اور مارک امینڈر نے اپنی نئی کتاب ای بک[دی کمانڈ، صدر کی خفیہ فوج] میں انکشاف کیا ہے کہ امریکی وزارت دفاع نے آزاد کشمیر میں 2005ء زلزلے کے فوری بعد جوائنٹ اسپیشل آپریشنزکمنڈ[جے اے سی پی]کے ارکان کو امدادی کاروائیوں کی آڑ میں آزاد کشمیر میں داخل کرایاتھا۔اس موقع پر جے ای سی اورسی وی آئی اے کے متعدد اہل کار پاکستان میں غائب ہوگئے اس کا مقصد پاک فوج اور خفیہ اداروں میں دراندازی کرنا اور پاکستان کے جوہری پروگرام کے بارے میں اطلاعات جمع کرنا تاد۔ دوسرا مقصد پاکستان میں مخبروں کا جال بچھانا تھا کہ اس حوالے سے القائدہ کی نشان دہی بھی کرسکیں۔2011ء میں پاکستان امریکہ کی شدید کشیدگی کے دنوں میں ان تمام افراد کو واپس بلالیاگیا۔ میڈیا میں رپورٹ آئی ہے کہ محمد رشید نامی بھارتی مصنف نے اپنی کتاب "پاکستان آن دی برنک" امریکہ پاکستان اور افغانستان کا مستقبل" میں کہا ہے کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی سے مقابل اور اوجھل ایک خفیہ ایجنسی قائم کرنے کی پلاننگ کا منصوبہ تھا۔ تاہم دونوں ملکوں میں کشیدگی بڑھنے کے باعث عمل نہ ہوسکا۔ اس منصوبے کو صدر اوباما کو پیش کیا گیا تھا جسے قبول بھی کر لیا گیا تھا۔امریکی حکومت ہزاروں فوجیوں کو پاکستان بھیجنے کی منظوری چاہتی تھی ۔ مقامی اخبار جسارت میں ایک مشہور تجزیہ نگار نے امریکا کی طرف سےعراق اور افغانستان میں depleted uraniumایٹمی وار ہیڈوالے میزائیلوں اور مشین گن کی گولیوں کا اندھا دھند استعمال کیا۔ جب بھی میزائیل یا مشین گن کی گولی اپنے ہدف سےٹکراتی ہے تواس مقام درجہ حرارت تقریباًچالیس ہزارڈگری سنٹی گریڈ کے قریب ہوتا ہے اس وجہ سے اس کا ستر فیصد کے قریب یورینم جل کر آکسیجن کے ساتھ مل کر یورینیم اکسائیڈ گیس بناتا ہے اور زہریلے اور باریک تابکارذرات میں تبدیل ہوجاتا ہے اور یہ ذرات ہزاروں میل کے رقبے میں پھیل جاتے ہیں اور کئی طرح کے کینسر کا موجب بنتے ہیں ا س طرح قریب کے شہروں تک یہ زہریلے پہنچ جاتے ہیں ۔ اہم شہر جوان ذرات کی زد میں ہیں، ان میں اسلام آباد،نئی دہلی ، بشلیک،بیروت،قاہرہ،انقرہ اور دوسرےشہروں کا ذکرکیا گیا ہے۔ ایک دوسرے مقامی اخبار جناح کےتجزیہ نگار کے مطابق امریکا نے سائبر ہتھیار کا استعمال شروع کیا ہے۔امریکہ نے مسلمانوں کے مذہب سے لگاﺅ کوختم کرنے کےلیےسائبرہتھیار کےنام سے ایک ایسی ویکسین تیار کی ہے جو انسانی دماغ کے اس حصے کو ناکارہ بناہ دیتی ہے جس میں مذہبی روحجانات کی آبیاری ہوتی ہے۔ منصوبہ یہ ہے کہ پولیو،ہپاٹئٹس یا کسی اور موذی مرض کی ویکسی نیشن کی آڑ میں اسلامی دنات کی یوتھ کو نشانہ بنایا جائے اس کا م کے لیے ان کی پروردہ این جی اوئز کی خدمات حاصل کی جائیں گی جیسے پاکستان کے غدار ڈاکٹر شکیل آفریدی نے سیودی چلڈرن نامی بین الاقوامی این جی او کو ملا کر اُسامہ بن لادن کی جاسوسی کے لیے کیا تھا۔کیا پاکستان کے قبائل کے اندر حالیہ و یکسین مہم اس سلسلے کی کوئی کوشش تو نہیں ہے؟ مغربی دنیا اور خصوصاًمریکا کی پروپگنڈا مہم نے مسلمانوں کو زیر کرنے کے لیے اپنا مدمقابل بنا لیا ہے اور اس پرگرفت حاصل کرنے کے لیے ایسے طریقے ایجاد کئے جس کی کوئی بھی مہذب معاشرہ اجازت نہیں دیتا۔مسلمانوں کو بدنام کرنے کے لیے انتہاپسند،دہشتگرد،مذہبی جنونی،غیر مہذب اور خونخوار وغیرہ کی اصطلاحات گھڑی گئیں جبکہ اسلام ایک پرامن مذہب ہے۔ امریکہ سب سے بڑا خونخوار ہے اس نے جاپان پر دنیا کاپہلا اورآخری ایٹم بم برسایا۔ امریکیوں نے نارتھ اور ساوتھ امریکہ میں پچاس ملین انڈین کو قتل کیا۔ افریقہ کے لاکھوں انسانوں کو غلام بنا کر امریکا لے جایا گےا اور کام لینے کے بعد انہیں پھر سمندر میں پھینک دیا گیا۔ ویت نام، کمبوڈیا،سوڈان اور اب تازہ عراق اور افغانستان میں مسلمانوں کے خلاف خون کی ہولی کھیل رہا ہے۔ پاکستانی میڈیا کوفنڈئنگ کے ذریعے مسلم یوتھ کو اسلام سے دور کرنے کے لیے فحاشی،عریانی اور ناچ گانے کو فروغ دے رہا ہے ۔مسلم ممالک میں اپنے زر خرید سیاسی رہنماﺅں کو استعمال کرکے ایک مسلم حکومت کو دوسری مسلم حکومت سے لڑا دیا اس کا تجربہ وہ ایران عراق کو دس سالہ جنگ میں جھونک کر چکے ہیں ۔انہوں نے کویت اور عراق کے اندر جنگ شروع کروائی اور دونوں کی معیشت کوتباہ کیا ۔عراق کا ہوا کھڑا کر کے سعودی عرب کے اندر اپنی افواج کے لیے جگہ بنائی آج وہاں امریکہ کی فوج موجود ہے۔ کیایہ امریکی عزائم کہ مکہ اور مدینہ پر ایٹم بم گرا دیا جائے کی پلاننگ تو نہیں ہے؟ اُسامہ بن لادن کا یہی قصورتھا کہ وہ اپنے ملک سے اور دوسرے اسلامی ملکوں سے امریکی فوجوں کو نکالنے کی بات کرتا تھا اس لیے امریکہ کا دشمن نمبرون ٹھہرا۔امریکہ نے سازش کے ذریعے خلیج کے اندر اپنے فوجوں کو رکھا ہوا ہے تاکہ دنیا کو تیل کے ترسیل کے راستے پراس کا کنٹرول قائم رہے۔ خود پاکستان اورکو افغانستان کو لڑانے کے منصوبے بنا رہا ہے ۔افغانستان کے صوبے نورستان میں سوات سے بھاگے ہوئے مولوی فضل اللہ نے 20 کلومیٹر کی دشوار پٹی پر اپنا قبضہ مستحکم کیا ہوا ہے آئے دن وہاں سے پاکستان کی سرحدی سےکورٹی فورسز پر حملے کیے جا رہے ہیں وہاں امریکی فوج بھی موجود ہے مگر وہ ان کو پاکستان کے سرحدی فورسز پر حملوں سے نہیں روک رہی وہ آئے دن ہماری سیکورٹی فورسز پر حملے کرتے ہیں۔ چند دن پہلے ناٹو کمانڈر سے پاکستان کی شکایت کہ افغانستان سے پاکستان کی سرحدوں پر حملے ہو رہے ہیں ان کو روکا جائے ناٹو کے کمانڈر جواب میں کہہ چکے ہیں کہ پاکستان شمالی وزیرستان میں حقانی گروپ کے خلاف کاروائی کرے تب ہم یہ حملے روکیں گے؟ یہ ہے فرنٹ لین ملک نان نیٹو اتحادی کے ساتھ نیٹو اتحادیوں کا معاملہ امریکیوں نے مسلم ملکوں کو پرامن استعمال کے لیے ایٹمی قوت حاصل کی ہر کوشش کو سازشیوں کے ذریعے روکا تاکہ وہ کسی بھی وقت ایٹمی قوت نہ بن جائیں۔ عراق کی ایٹمی قوت پر اپنے بغل بچے اسرائیل سے حملہ کرواکے اسے تباہ کیا۔ اسی طرح لیبیا کے ایٹمی پروگرام کے پیچھے پڑارہا اور اسے ختم کرنے کے لیے اتنا مجبور کیا کہ اس نے سارا ایٹمی سامان رول پیک کر کے امریکہ کےحوالے کر دیا۔اسی طرح اب ایران کے پیچھے لگا ہوا ہے اس کو پرامن مقصد کےلیے ایٹمی قوت حاصل نہیں کرنے دے رہا۔ اس پر پابندیاں لگائی ہوئی ہیں پاکستان کو قدرتی گےس فراہمی میں رکارٹ بنا ہوا ہے اور اپنی طفیلی ریاست پاکستان کے ذریعے طرح طرح کے روڑے اٹکا رہا ہے خود پاکستان جو اللہ کے فضل سے دنیا کی ساتویں اور پہلی اسلامی ایٹمی قوت بن چکا ہے اس کے خلاف پوری عیسائی دنیا کولا کھڑا کیا ہوا ہے اور اس کے خلاف سازشیں کر رہا ہے۔ ہمارے سپہ سالار اس سلسلے میں امریکا کےصدر سے لکھ کرشکایت کر چکے ہیں جس کی تفصیل مقامی بین الاقوامی پریس میں بھی آچکی ہے دنیا کےتجزئیے نگار کہہ رہے ہیں کہ امریکہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو ختم نہیں توکم از کم بین الاقوامی کنٹرول میں دینے کے پروگرام پرعمل کررہا ہے ۔پورے پاکستان اور خصوصی طور پر دفاعی انسٹالشنی پر حملے ملک میں افراتفری امریکا کی پھیلائی ہوئی ہے۔ بلیک واٹرجوعراق اور افغانستان کے اندر تبائی پھیلانے کےلیےمشہور ہے اسے امریکہ پاکستان کے اندر استعمال کر رہا ہے۔ کچھ عرصہ قبل پاکستانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے سرکاری اداروں نے دبئی کے راستے بلیک واٹر ایجنٹوں کی آمد پر احتجاج کیا ہےتھااور وزیر اعظم کو خط بھی لکھا تھا کہ دبئی کے سفارتی مشن نے ان لوگوں کو پاکستان کے ویزے جاری کئے ہںت جن کو امریکہ میں پاکستان سفارت خانے نے منع کر دیا تھا اس کے باوجود پاکستان کے وزیر داخلہ صاحب کہتے ہیں پاکستان میں بلیک واٹر کا کوئی وجود نہیں ہے۔ نیو یارک ٹائمز کے مطابق سی آئی اے کی سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے چیئرمین کارل لیون نے محکمہ قانون سے کہا ہے کہ اس امر کا جائزہ لے کہ بلیک واٹر نے سرکاری ٹھیکے حاصل کرنے کے لیے ذیلی کمپنیوں کے ذریعے حکومت کو گمراہ تو نںیو کیا؟اخبار لکھتا ہے بلیک واٹر مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث رہی ہے عراق اور افغانستان میں کئی پرتشدد واقعات میں ملوث بتائی جاتی ہے۔تو کیا وہ پاکستان میں پرتشدد اور مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث نہ ہو گی۔
    قارئین۱ پاکستانی عوام کا مطالبہ ہے کہ پاکستان کو امریکا کے فرنٹ لین اتحادی معاہدے سے باہر نکل آنا چاہیے۔امریکی جنگ جو وہ افغانستان سے پاکستان میں منتقل کرنا چاہتا ہے امریکی مسلم دشمنی سے دونوں مسلمان ملکوں کوہوشیار رہنا چاہیے ۔وہ خود تو افغانستان میں شکست کھا چکا ہے اب ہمیں پڑوسی مسلمان ملک سے لڑا کر واپس جانا چاہتا ہے۔وہ کبھی بھی مسلمانوں کا دوست نہیں ہو سکتا۔ اللہ ہمیں اس کی دشمنی سے محفوظ رکھے آمین۔
     

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں

سوشل میڈیا لنکس