Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

بنگلہ دیش میں ’جنگی جرائم‘ کے مقدمات محض سیاسی انتقام

  1. ۱۹۷۱ء میں سقوطِ مشرقی پاکستان کے الم ناک سانحے کے نتیجے میں بنگلہ دیش تشکیل پایا۔ آج ۴۲برس بعد، یہی بنگلہ دیش ایک بار پھر ایک خطرناک خونیں ڈرامے کا اسٹیج بن گیا ہے۔بنگلہ دیش میں انسانی حقوق کے علَم بردار ادارے اودھی کار (Odhikar) نے اپنے ۵مارچ ۲۰۱۳ء کے اعلامیے میں اس تلخ حقیقت کا اظہار اس طرح کیا ہے:
    اودھی کار بنگلہ دیش کی تاریخ میں قتل و غارت کی انتہائی گھناؤنی لہر اور تشددکے واقعات پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کرتا ہے۔ ہلاک ہونے والوں میں پولیس اور دوسری قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں نے تشدد پر قابو پانے کے عذر کی بنا پر ۵فروری اور ۴مارچ ۲۰۱۳ء کے درمیان بلاامتیاز گولی چلائی اور کم سے کم ۹۸افراد کو جن میں سیاسی کارکن، عورتیں اور بچے اور عام شہری شامل ہیں، مار دیا۔انسانی حقوق کو بڑے پیمانے پر پامال کیا جا رہا ہے۔ جس وقت یہ بیان جاری کیا جارہا ہے، مزید اموات کی خبریں آرہی ہیں۔
    تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ہلاک ہونے والوں کی تعداد ۱۶۶، زخمی ہونے والوں کی ۳ہزار۸سو ۲۸اور جیلوں میں محبوس کیے جانے والوں کی تعداد ۲۰ہزار سے متجاوز ہوچکی ہے اور جیساکہ بنگلہ دیش کے ایک ماہرقانون بیرسٹر نذیراحمد نے امریکا اور انگلستان میں شائع ہونے والے اپنے مضمون میں لکھا ہے کہ پولیس کی جانب سے اندھادھند قتل و غارت، تشدد اور انسانی حقوق کی پامالی کی یہ بدترین مثال ہے جس کا کوئی جواز دستور اور قانون میں موجود نہیں۔ دوسری جانب حزبِ اختلاف کی قائد خالدہ ضیا نے اپنی ۲مارچ ۲۰۱۳ء کی پریس کانفرنس میں اس اجتماعی قتل (mass killing) کو نسل کُشی (genocide) اور انسانیت کے خلاف جرم (crime against humanity) قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ: حکومت جھوٹے مقدمات کا ڈراما رچا کر، سیاسی مخالفین کے قتلِ عام جیسے گھناؤنے جرم کا ارتکاب کررہی ہے۔
    بنگلہ دیش حکومت کے اس اقدام نے ملک کو اس کی تاریخ کے خطرناک اور خونیں تصادم سے دوچار کردیا ہے اور ملک ہی میں نہیں، پوری دنیا میں بے چینی اور اضطراب کی کیفیت پیدا ہوگئی ہے۔ حالات کو جس رُخ پر دھکیلا جا رہا ہے، اس کے بڑے سنگین نتائج ہوسکتے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ اس مسئلے پر پوری دیانت کے ساتھ، اصل حقائق اور عالمی حالات کی روشنی میں گفتگو کی جائے، اور حق و انصاف اور عالمی قانون اور روایات کے مسلّمہ اصولوں کی روشنی میں حل کی راہیں تلاش کی جائیں۔ جب مسئلہ انسانی حقوق کا، انسانوں کے جان و مال اور عزت کی حفاظت کا، اور علاقے میں امن اور سلامتی کا ہو تو پھر وہ مسئلہ ایک عالمی مسئلہ بن جاتا ہے اور اسے کسی ملک کے اندرونی معاملات تک محدود نہیں سمجھا جاسکتا۔ بات اور بھی سنگین ہوجاتی ہے جب ۴۲سال کے بعد ایک طے شدہ مسئلے (settled issue) کے مُردہ جسم میں جان ڈال کر سیاسی انتقام اور نظریاتی کش مکش کو ہوا دی جائے اور ملک کے سکون کو درہم برہم کردیا جائے۔۱؂
    ۱۔ بھارت کے بائیں بازو کے مشہور لبرل مجلہ اکانومک اینڈ پولیٹیکل ویکلی میں ایک ہندو دانش ور نے اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ بنگلہ دیش میں ہونے والے ان مقدمات اور سزاؤں پر ملک گیر اور خون آشام ردعمل کے جو سیاسی اور نظریاتی پہلو ہیں، وہ بنگلہ دیش کی معاشی ترقی اور سماجی ارتقا پر بُری طرح اثرانداز ہوسکتے ہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ بیگم خالدہ ضیا نے ان مقدمات کو غیرمنصفانہ اور حسینہ واجد کے سیاسی انتقام کے ایجنڈے کا حصہ قرار دیا ہے۔ مقالہ نگار کے مطابق عوامی لیگ اگلے انتخابات کے سلسلے میں بی این پی اور جماعت اسلامی کے اتحاد سے خائف ہے اور جماعت کو انتخابات سے پہلے نقصان پہنچانا چاہتی ہے۔ لیکن اس تناظر میں جو ایک اہم نظریاتی پہلو رُونما ہو رہا ہے اس کی طرف بھی اس نے اپنے اضطراب کا اظہار اس طرح کیا ہے: یہ صورتِ حال ، بنگلہ دیش میں حریف نظریاتی قوتوں ___ سیکولر قوم پرستی اور اسلامی انقلابیت کے درمیان ایک نئے پُرتشدد تصادم کے مرحلے کی طرف نشان دہی کرتی ہے۔ (ملاحظہ ہو: The Unfinished Revolution in Bangladesh، از Subir Bhaumik، ۲۳فروری ۲۰۱۳ء، ص ۲۷۔۲۸)
    جنگی جرائم کے مقدمات کیوں؟
    بنیادی سوال ہی یہ ہے کہ بنگلہ دیش کے قیام کے ۴۲سال بعد یہ خونیں ڈراما کیوں رچایا جارہا ہے؟ جماعت اسلامی بنگلہ دیش مارچ ۱۹۷۹ء سے منظم انداز میں اور اپنے دستور کے مطابق، اپنے جھنڈے اور اپنے انتخابی نشان تلے اور اپنی قیادت کی رہنمائی میں ایک سیاسی جماعت کی حیثیت سے سرگرمِ عمل ہے۔ اس اثنا میں پانچ بار (۱۹۸۶ء، ۱۹۹۱ء، ۱۹۹۶ء، ۲۰۰۱ء، ۲۰۰۸ء) ملکی انتخابات میں حصہ لے چکی ہے اور پارلیمنٹ میں مؤثر خدمات انجام دیتے ہوئے اپنا کردار ادا کرچکی ہے، نیز ایک بار حکومت کا حصہ بھی رہی ہے۔ ۱۹۹۰ء میں جنرل حسین محمد ارشاد کی حکومت کے خلاف عوامی جمہوری مزاحمتی جدوجہد میں بنگلہ دیش جماعت اسلامی خود عوامی لیگ کی ایک حلیف جماعت کی حیثیت سے پانچ جماعتوں کے اتحاد کا حصہ رہی ہے۔
    آخر اب ایسا کیا واقعہ ہوگیا کہ ۲۰۱۰ء میں عوامی لیگ کی موجودہ حکومت نے نام نہاد International Crimes Tribunalقائم کیا۔ جماعت کے نو قائدین بشمول سابق امیرجماعت، ۹۱سالہ پروفیسر غلام اعظم، امیرجماعت مولانا مطیع الرحمن نظامی اور نائب امیرجماعت علامہ دلاور حسین سعیدی اور بی این پی کے دوقائدین پر مقدمہ قائم کیا۔ ۲۰۱۳ء کے آغاز میں علامہ دلاور حسین سعیدی کو سزاے موت، اور عبدالقادر مُلّا (اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل بنگلہ دیش جماعت اسلامی) کو عمرقید کی سزا سنائی گئی۔معروف اسلامی اسکالر (مولانا) ابوالکلام آزاد (جو ایک زمانے میں جماعت اسلامی سے وابستہ رہے)اور آج کل ٹیلی ویژن پر قرآن پاک کا درس دینے کی وجہ سے بہت مقبول ہیں، انھیں بھی، ان کی غیرحاضری میں، سزاے موت سنائی گئی۔پھر حکومت کی سرپرستی میں شاہ باغ سکوائر (چوک) میں احتجاج کا سلسلہ شروع کیا گیا۔ سوشل میڈیا پر شاہ باغ اجتماع کو منظم کرنے والے گروہ نے اسلام اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف نازیبا، ہتک آمیز اور بے سروپا الزامات لگائے۔ ایک منصوبے کے تحت کچھ مقامات پر ہندوؤں پر حملے کیے گئے اور ان کے مندر جلائے گئے۔ ساری شہادتیں اس طرف اشارہ کر رہی ہیں کہ یہ سب عوامی لیگ کے جیالوں نے کیا۔ فطری طور پر ان ظالمانہ اور انتقامی کارروائیوں کے خلاف اسلامی اور جمہوری قوتوں نے بھرپور احتجاج کیا اور حالات نے وہ کروٹ لی جو موجودہ سنگین کیفیت تک پہنچ گئی ہے۔
    الحمدللہ جماعت اسلامی کا، اس کی قیادت کا اور اس کے کارکنوں کا دامن ہر ظلم، قتل و غارت گری، فساد فی الارض، لُوٹ مار اور اخلاقی جرائم سے پاک ہے۔ جماعت نے ہمیشہ مبنی برانصاف ٹرائل کا خیرمقدم کیا ہے اور ۱۹۷۱ء اور اس کے بعد الم ناک واقعات کے بارے میں اس نے یہی کہا ہے۔ دسمبر ۱۹۷۱ء تک متحدہ پاکستان کا دفاع اور اس کی حفاظت اور حمایت اور اس پر بھارتی جارحیت کا مقابلہ ایک الگ چیز ہے اور عام شہریوں پر خواہ ان کا تعلق کسی نسل یا کسی مذہب سے ہو، ظلم اور زیادتی ایک الگ معاملہ ہے۔ دونوں کو گڈمڈ کرنا اصولِ انصاف، بین الاقوامی قانون اور خود ملک کے دستور کے خلاف ہے۔
    جماعت اسلامی ہمیشہ مبنی بر انصاف ٹرائل کی حامی رہی ہے اور آج بھی ہے لیکن انصاف کا تقاضا ہے کہ ٹرائل ہراعتبار سے شفاف ہو، مسلّمہ ضابطہ قانون اور انصاف کے تسلیم شدہ عالمی معیارات اور طریق کار کے مطابق ہو۔ ہرشخص کو دفاع کا حق ہو اور بین الاقوامی معیار پر پورے اُترنے والے ججوں کے ذریعے اور عالمی مبصرین کی موجودگی میں ہو، جیساکہ اقوام متحدہ کے طے کردہ ضابطے کے تحت ہیگ کی International Criminal Courtکر رہی ہے۔ لیکن کنگرو کورٹ (بے ضابطہ عدالت، جہاں قانون کی دانستہ غلط تعبیر کی جاتی ہے)کے ذریعے دستور، قانون اور انصاف کے ہر مسلّمہ اصول کو پامال کر کے جو ڈراما رچایا جا رہا ہے، وہ ایک صریح ظلم ہے جسے کسی طور برداشت نہیں کیا جاسکتا۔
    جو کچھ ہو رہا ہے وہ ایک گھناؤنا سیاسی کھیل ہے جس کا مقصد حقیقی جمہوری اور اسلامی قوتوں کو انتقام کا نشانہ بنانا ہے، جس کا ہدف عوامی لیگ کی مقابل قوتوں کو کمزور کرنا اور انھیں سیاسی میدان سے باہر کرنا ہے، اور جس کے ڈانڈے بنگلہ دیش میں بھارت کے سیاسی عزائم اور عالمی سطح پر اسلامی احیا کی تحریکات کے پَر کاٹنے کے ایجنڈے سے ملتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بنگلہ دیش میں جو کچھ ہورہا ہے، اسے عالمی پس منظر اور اس کے نتیجے میں رُونما ہونے والے ان حالات کے تناظر میں دیکھنا چاہیے جن سے بنگلہ دیش میں عوامی لیگ کے اس اندازِحکمرانی کی بنا پر بنگلہ دیش کی آزادی، معاشرت، معیشت اور سیاست سب کو وجودی خطرہ (existential threat) لاحق ہوگیا ہے۔
    بدلتا ہوا منظرنامہ اور بنگلہ دیش
    اقوامِ عالم کی موجودہ صورت حال پر ایک اجمالی نگاہ دوڑانے سے یہ نکتہ واضح ہوجاتا ہے کہ ہم ایک ایسے عہد میں سانس لے رہے ہیں اور معمولاتِ زندگی کے فیصلے کر رہے ہیں جو سردجنگ کے خاتمے کے بعد کی دنیا سے بہت مختلف ہے۔ بظاہر جنگوں سے تھکا ہارا انسان اب امن کی تلاش میں سرگرداں ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ نظریات کی جنگ کے مقابلے میں میزائل اور ڈرون ٹکنالوجی کی حیثیت ثانوی ہوکر رہ گئی ہے۔ اسلامی احیا ایک عالمی لہر کی صورت اختیار کر رہا ہے اور اسلام کے پھر سے قوت بن جانے کا زمانہ قریب محسوس ہو رہا ہے۔ اس انتہائی بنیادی اور اہم تبدیلی کو محسوس بھی کیا جا رہا ہے اور اُس کے متنوع ممکنہ اثرات و مضمرات کو سامنے رکھ کر مختلف عالمی قوتیں اپنا اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔ مسلمان عوام کے جذبات اور عزائم ایک سمت میں ہیں اور عالمی استعمار اور لبرل سیکولر قوتیں اپنا کھیل کھیل رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جہاں اس اہم تبدیلی کے دروازے پر کھڑے اہلِ اسلام کو جگانے والوں کی مساعی کے برگ و بار لانے کا وقت قریب آرہا ہے، وہیں اس کے ساتھ متوازی واقعات بھی رُونما ہورہے ہیں۔ ایک طرف آزادی اور حُریت کا عنوان اسلامی تحاریک کے جمہوری اظہار سے جھلک رہا ہے، تو دوسری طرف ایک بڑا سامراج اس تبدیلی کو روکنے اور فکری و نظری اُلجھاؤ پیدا کرنے میں بھی پوری توانائیاں صرف کر رہا ہے۔ عالمِ اسلام کی بیدار قیادت کو نئی مشکلات کے بھنور میں ڈالنے، ان کی شخصیت اور کردار کو اخلاقی اعتبار سے چیلنج کرنے اور ان کو اپنے نصب العین کی جانب تیزی سے پیش قدمی سے روکنے کے اقدامات خود مسلم دنیا کے اندر سے اُٹھائے جارہے ہیں۔ ایسا ہی منظرنامہ آج بنگلہ دیش میں ترتیب دیا جارہا ہے۔
    ہم اس حقیقت سے بہت اچھی طرح آگاہ ہیں اور ہمیں بجا طور پر اس پر فخر بھی ہے کہ بنگلہ دیش نہ صرف ہمارا برادر اسلامی ملک ہے بلکہ دنیا میں تیسرا بڑا اسلامی ملک بھی ہے۔ پاکستان اور بنگلہ دیش کبھی ایک تھے۔ ایک جسم کے دو بازو! اس طرح وہ ربع صدی رہے۔ مسلم بنگال کو ہی دیکھ لیجیے۔ آل انڈیا مسلم لیگ کا آغاز ڈھاکہ میں ۱۹۰۶ء میں ہوا۔ پاکستان بننے میں، تحریکِ پاکستان کے اُبھرنے اور قوت پکڑنے میں، حتیٰ کہ قراردادِ پاکستان (لاہور ۱۹۴۰ء) اور قرارداد دہلی (۱۹۴۶ء) پیش کرنے والوں میں مسلم بنگال کے مسلم رہنما اے کے ایم فضل الحق اور حسین شہید سہروردی کا کردار ناقابلِ فراموش تاریخی حقائق ہیں۔ برعظیم پاک و ہند کے مسلمانوں کو ایک نمایندہ سیاسی پلیٹ فارم پر جمع کرنے اور مسلم لیگ کو منظم کرنے میں بھی باقی ہندستان کی طرح بنگال کے مسلم رہنماؤں اور عوام کی گراں قدر مساعی کا نمایاں اور فیصلہ کن کردار رہا ہے۔ اس کردار نے روزِاوّل ہی سے برعظیم پاک و ہند میں اسلام اور مسلمانوں کا مضبوط حوالہ بن کر آزادی کے حصول اور ہندو کی غلامی سے نجات کے لیے یہاں کے مسلمانوں کے راستے کشادہ کیے ہیں۔
    یہ حقیقت تلخ سہی، تاریخ کی ایک حقیقت ہے کہ دونوں بازو دو الگ الگ ملکوں میں تبدیل کردیے گئے ہیں۔ اس مقام تک جاتے جاتے دونوں طرف کے باشندوں کو انتہائی تکلیف دہ اور ناپسندیدہ کش مکش سے گزرنا پڑا۔ یہ ایسی جغرافیائی علیحدگی تھی جس میں دونوں بھائیوں کی غلطیاں اور خطاکاریاں اپنی جگہ، لیکن بالآخر ان کو ایک دوسرے سے کاٹ دینے میں بیرونی قوتوں کا کردار فیصلہ کن تھا۔ مغربی پاکستان کی فوجی قیادتوں کے کچھ عناصر کا کردار بلاشبہہ شرم ناک، ظالمانہ اور عاقبت نااندیشانہ تھا، لیکن بھارت کی سیاسی ریشہ دوانیوں اور جارحانہ فوج کشی سے کیسے صرفِ نظر کیا جاسکتا ہے؟ بالآخر جو ہونا تھا وہ ہوا، لیکن اس سانحے کے باوجود زندگی نے نئی کروٹ لی۔ جغرافیائی علیحدگی ضرور واقع ہوئی لیکن دو ملکوں کے اس طرح وجود میں آنے کے باوجود، ان کے مابین اسلام کا گہرا رشتہ موجود رہا ہے۔ یہ علیحدگی مشترکہ اقدار اور ایک دوسرے کے لیے تعلق خاطر کو ختم نہ کرسکی اور دونوں نے نئے سفر کے آغاز اور تعلقات کی بحالی کا عزم کیا۔ حالات و واقعات نے اگرچہ بہت گرد اُڑائی اور اپنے پرائے بھی ایسے انداز میں سامنے آئے جو تکلیف دہ اور نامطلوب تھا، لیکن اس زخم کے باوجود پاکستان اور بنگلہ دیش کے باشندوں میں ایک دوسرے کے لیے محبت موجود رہی اور اب بھی ہے۔
    یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہے کہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی اور بنگلہ دیش کے قیام میں پیش پیش رہنے والی سیاسی جماعت، یعنی عوامی لیگ کو مسلسل ایسی پذیرائی نہ مل سکی جو عموماً آزادی کی تحریکوں کے ہراول دستوں کو ملا کرتی ہے۔ یہ جماعت ابتدا میں بھی صاف شفاف انداز میں پولنگ بوتھ کے ذریعے اکثریت نہ پاسکی اور اب بھی بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی اور جماعت اسلامی کے اکٹھے ہوجانے سے اقتدار سے باہر ہوجاتی ہے۔ اس میں اس جماعت کی اپنی کوتاہیوں اور غلطیوں کا حصہ بہت بڑا ہے، نیز اس پر بھارت کا اثرورسوخ جس طرح سایہ فگن رہا اور ہے، وہ بھی بنگلہ دیش کے مسلمانوں کے لیے اضطراب کا باعث رہا ہے۔اس کے باوجود ہم بنگلہ دیش کی آزادی ، خودمختاری اور حاکمیت اعلیٰ کا احترام کرتے ہیں۔ وہاں کے سیاست دانوں، عوام اور دانش وروں کو پورا حق حاصل ہے کہ وہ اپنے دستور اور قانون کے مطابق اپنے معاملات طے کریں اور اپنے تنازعات کا حل انھی کے فریم ورک میں تلاش کریں۔ یہ حقیقت بھی کسی طرح سے نظرانداز نہیں کی جاسکتی کہ وہاں کی حکومت کو بھی مسلمہ بین الاقوامی اقدار، کنونشنز اور معاہدوں کے مطابق اپنے آئین و قانون کی تشریح کا حق اسی طرح سے حاصل ہے جس طرح کسی بھی ملک کی آزاد عدلیہ اس کی تعبیر و تشریح کا حق رکھتی ہے۔
    بنگلہ دیش جماعت اسلامی : تین اہم پہلو
    بنگلہ دیش جماعت اسلامی اپنے آزاد وجود اور خصوصی تشخص کے ساتھ، جنوبی ایشیا میں سرگرمِ عمل جماعت اسلامی کی ہمہ گیر نظریاتی تحریک کا ہی تسلسل ہے۔ پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، سری لنکا اور نیپال، ہر ملک میں جماعت اسلامی کے نام کی مستقل بالذات تحریکیں کام کر رہی ہیں۔ ان تمام ممالک میں جماعت اسلامی کے نظریے اور کام میں اصولی مشترکات کے باوجود، ہر ایک کی مخصوص جغرافیائی، قومی اور دستوری انفرادیت ایک ناقابلِ انکار حقیقت ہے۔ بنگلہ دیش جماعت اسلامی کا نصب العین اور اس کا نظریاتی کردار بلاشبہہ پاکستان یا جنوبی ایشیا میں کہیں بھی جماعت اسلامی کے کام اور نظریاتی پہچان سے مختلف نہیں ہے۔
    یہ تمام تحریکیں مولانا سیدابوالاعلیٰ مودودیؒ کے پیغام کی قاصد ہیں۔ ان کے لٹریچر میں بھی ایک گونہ اشتراک ہے اور ان کے درمیان بھائی چارہ بہت ہی قیمتی سرمایہ ہے، لیکن اس کے ساتھ ہرایک کا نظم، دستور اور قیادت مختلف اور مکمل طور پر آزاد ہے اور اپنے ملکی حالات، ضروریات اور اہداف کی روشنی میں ہر ایک اپنے پروگرام اور ترجیحات کے مطابق سرگرمِ عمل ہے۔ نظریاتی ہم آہنگی کے باوجود سیاسی آرا اور پالیسیوں میں ہر ایک آزاد اور اپنے معاملات میں مکمل طور پر خودمختار ہے۔ اس کی اہم ترین مثال مشرق وسطیٰ کی مشہورِ زمانہ خلیجی جنگ (گلف وار) ہے جس کے ہرمرحلے میں بنگلہ دیش کی جماعت اسلامی کا موقف پاکستان کی جماعت اسلامی سے مختلف رہا۔ صدام حسین کے ایران پر حملے اور بش اوّل کے عراق پر حملے پر دونوں کا ردعمل مختلف تھا مگر اس سب کے باوجود صرف برعظیم کی اسلامی جماعتوں ہی میں نہیں، دنیا کی تمام ہی اسلامی تحریکات میں نظریاتی اور روحانی طور پر ایک گونہ ہم آہنگی پائی جاتی ہے جو اسلام کے دامن رحمت سے وابستہ ہونے کا ثمرہ ہے۔
    جب ہم پاکستان میں بنگلہ دیش جماعت اسلامی کے بارے میں بات کرتے ہیں تو تین گہرے اور مضبوط حوالے ایسے ہیں جن کی بنیاد پر ہم یہ استحقاق رکھتے ہیں کہ وہاں رُونما ہونے والے ایسے واقعات پر محاکمہ کریں جو حق و انصاف کے خلاف ہوں، جو مہذب معاشرے کے مسلّمہ اصولوں کو پامال کرنے کا سبب ہوں، جس سے انسان اپنے جائز حقوق سے محروم ہورہے ہوں اور جو عالمی راے عامہ کو اضطراب اور بے چینی میں مبتلا کرنے کا باعث ہوں۔ بین الاقوامی اور عالمی سیاسی آداب کی رُو سے یہ صرف ایک استحقاق ہی نہیں، ایک فرض بھی ہے اور خود اپنے برادر ملک بنگلہ دیش سے خیرخواہی کا تقاضا بھی ہے۔ جہاں تک اہلِ پاکستان کا تعلق ہے، ہم تین وجوہ سے ضروری سمجھتے ہیں کہ اس پورے معاملے کے بارے میں اپنی بے لاگ راے کا دلیل اور حقائق کی روشنی میں اظہار کریں اور بنگلہ دیش اور تمام دنیا خصوصیت سے اسلامی دنیا کے ارباب حل و عقد کو اور عامۃ الناس کو حق اور انصاف کے مطابق اپنے اثرات کو استعمال کرنے کی دعوت دیں۔
    lان میں سے پہلا حوالہ انسانی حقوق کا ہے۔ انسانیت کی حیثیت پوری دنیا میں ایک ہی ہے۔ یہ مسلّمہ حقیقت ہے۔ اس حیثیت سے وابستہ حقوق ہوں یا فرائض ، ان کی پامالی یا ان سے پہلوتہی پر دوسرے انسان بات کرنے کا پورا حق رکھتے ہیں۔ ان کمزور اور بے بس انسانوں کے حقوق کے لیے پوری دنیا آواز اُٹھاتی رہتی ہے جن کو دبایا جاتا ہے، استحصال کیا جاتا ہے، انصاف سے بزورِ قوت و اقتدار محروم رکھا جاتا ہے۔ انسانی برادری آواز اُٹھاتی ہے، ہم بھی اس حوالے سے، اسی تناظر میں بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے رہنماؤں کے انسانی حقوق کی پامالی پر فکرمند ہیں، پریشانی کا اظہار کر رہے ہیں، اور انسانی حقوق کے حوالے سے اس خراب منظرنامے میں تبدیلی چاہتے ہیں۔
    ۞دوسرا حوالہ وہ نظریاتی کردار ہے، جس کا تذکرہ ہم نے بنگلہ دیش سمیت جنوبی ایشیا کے ممالک میں اسلامی تحریکات کے مشترکہ تصورِ دین اور تبدیلی کے نظریات کے حوالے سے کیا ہے۔ نظریے اور اقدار پر مشترکہ سوچ نے ہمیں ایک ایسی لڑی میں پرو دیا ہے کہ ہردانہ پہلے دانے سے اور ہرفرد دوسرے فرد سے تقویت اور حوصلہ پاتا ہے۔ بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے رہنماؤں کے خلاف روا رکھا جانے والا سلوک پاکستان میں بھی ہر اس فرد کو مضطرب اور بے چین کیے ہوئے ہے جو اس دین کا پیرو ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ اضطراب پاکستان ہی میں نہیں، پوری اُمت مسلمہ میں دیکھا جاسکتا ہے اور امامِ کعبہ ہوں یا شیخ الازہر، استاد یوسف القرضاوی ہوں یا ترکی کے صدر عبداللہ گل، ملایشیا کے سابق نائب وزیراعظم انور ابراہیم ہوں یا خود بھارت کی مسلم قیادت، سب مضطرب اور سراپا احتجاج ہیں اور کیوں نہ ہوں۔ کیا ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ ’’مسلمانوں کو باہمی ہمدردی، محبت اور باہمی شفقت میں تم اسی طرح دیکھو گے کہ وہ ایک جسم کی طرح ہیں کہ جس کے کسی ایک عضو کو تکلیف ہوتی ہے تو اس کا پورا جسم بے خوابی اور بخار میں مبتلا ہوجاتا ہے‘‘۔ (بخاری، کتاب الادب، حدیث ۶۰۱۱)
    ہماری تشویش اور پریشانی کا سبب بہت واضح اور کھلا ہے۔ بنگلہ دیش جماعت اسلامی سے وابستہ قیادت کو مخصوص سیاسی، علاقائی اور بین الاقوامی ایجنڈے پر قربان کرنے کی تیاریاں ہورہی ہیں۔ دنیا دیکھ رہی ہے کہ مخصوص قانون سازی اور مرضی کی عدالتیں بنا کر قائدینِ جماعت کو سزائیں سنائی جارہی ہیں۔ یہ آزاد ملک کے اندر قانون کو غلام بنا کر دستور کی سنگین پامالی کا بھی معاملہ ہے جس پر دنیا کے ہرباشعور اور غیرجانب دار فرد کو تشویش ہونی چاہیے اور اسے اپنی آواز حق و انصاف کے لیے بلند بھی کرنی چاہیے۔ ہم بھی اس حوالے سے نہ صرف اس سارے عمل کی شدید مذمت کررہے ہیں بلکہ اقوامِ عالم اور ان کے نمایندوں سے درخواست کر رہے ہیں کہ اس ظلم کا راستہ روکنے کے لیے ناانصافی پر آمادہ عوامی لیگ کی حکومت کو مجبور کیا جائے کہ وہ بین الاقوامی قانون کی پاس داری کرے اور جن معصوم انسانوں کو تعذیب و انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے ان کے حقوق انھیں واپس کرے تاکہ وہ غیر جانب دار عدلیہ کے سامنے پیش ہوکر اپنی بے گناہی ثابت کرسکیں۔
    ۞تیسرا اور مضبوط حوالہ پاکستان کا ہے___ ان مقدمات اور سنائی جانے والی سزاؤں کا پس منظر یہ ہے کہ ان رہنماؤں نے ایسے حالات میں متحدہ پاکستان کو بچانے کے لیے آواز اُٹھائی، اور جملہ اخلاقی تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے جدوجہد کی، جب خود شیخ مجیب الرحمن بھی اپنے خلاف مقدمے میں کہہ رہے تھے کہ میں پاکستان کے اندر خودمختاری کی بات کرتا ہوں اور متحدہ پاکستان چاہتا ہوں۔۲؂ مشرقی پاکستان کے بنگلہ دیش بننے اور اس کے بعد کے واقعات میں کسی بھی تاریخی، عدالتی، اخلاقی حوالے سے یا کسی بھی فورم پر کسی متاثرہ فرد نے نہیں کہا کہ اس کو جماعت اسلامی اور اس کے رہنماؤں کی وجہ سے جان یا مال کا کوئی نقصان اُٹھانا پڑا۔
    ہم اس بات کو بھی ریکارڈ پر لانا چاہتے ہیں کہ بنگلہ دیش کی آزادی، ترقی اور خوش حالی ہمارے لیے بہت اہم ہے۔ بنگلہ دیش نے گذشتہ برسوں میں نمایاں ترقی کی ہے۔ اس کی صنعتی پیش رفت سے ہمیں دو گونہ خوشی ہوتی ہے کیونکہ ہمارے نظریے اور ایمان کا رشتہ اب بھی تروتازہ ہے۔ بنگلہ دیش کے نوجوانوں کا کردار ہمارے لیے بھی حوصلے کا سبب ہے کیونکہ ان نوجوانوں نے ایک طرف اسلامی دنیا میں گراں قدر خدمات سرانجام دیں، دوسری طرف ملایشیا اور انڈونیشیا میں ان کا تعمیری کردار سب تسلیم کر رہے ہیں، بلکہ یورپ میں اور بالخصوص برطانیہ کی ترقی میں بھی پیش پیش رہے ہیں۔
    ہم سمجھتے ہیں کہ بنگلہ دیش کو اپنے قیام کے بعد سے مخصوص علاقائی اور جغرافیائی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے پڑوس سے اسے کبھی سکون نہیں مل سکا۔ یہ جغرافیائی یا محض علاقائی حالات کا ہی نتیجہ نہیں ہے بلکہ اس کے ڈانڈے امریکا کی ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ سے بھی جاملتے ہیں۔ اس لیے بھی ہم خصوصی طور پر مضطرب ہیں کہ وہاں جماعت اسلامی کی قیادت کے خلاف جو کچھ ہورہا ہے، اس پر آواز اُٹھانا چاہیے۔ بنگلہ دیش کی یہ صورتِ حال گذشتہ کچھ عرصے سے نہایت پریشان کن مرحلے میں داخل ہوگئی ہے۔ گذشتہ چند برسوں سے مسلسل ایسی کارروائیاں ہورہی ہیں جن کا نشانہ بنگلہ دیش جماعت اسلامی اور بی این پی کے رہنماؤں کو بنایا جا رہا ہے۔ ایک نام نہاد اور
    ۲۔ حال ہی میں جناب شیخ مجیب الرحمن کی نامکمل خودنوشت شائع ہوئی ہے جس میں انھوں نے اپنے دو قومی نظریے کے پُرجوش مبلغ ہونے کا فخر سے اعتراف کیا ہے۔ تحریکِ پاکستان میں شرکت کی داستان بیان کی ہے اور پاکستان کی وحدت اور یک جہتی کا دم بھرا ہے۔ ملاحظہ ہو: The Unfinished Memoirs of Sheikh Mujibur Rehman
    اگست ۱۹۷۱ء میں شیخ مجیب الرحمن کے وکیل صفائی جناب اے کے بروہی نے بھی اس بات کی گواہی دی تھی کہ اس مقدمے کے وقت تک شیخ مجیب نے پاکستان کے فریم ورک میں صوبائی خودمختاری کی بات کی تھی اور علیحدگی کا کوئی اعلان یا عندیہ نہیں دیا تھا۔
    خود ساختہ انٹرنیشنل ٹریبونل بنا کر جماعت اسلامی اور بی این پی کے رہنماؤں کو گرفتار کر کے ان کے خلاف جنگی جرائم کے مقدمات چلائے جارہے ہیں اور انصاف کے جملہ تقاضوں کو یکسر نظرانداز کرتے ہوئے ان رہنماؤں کے حق دفاع کو بھی پامال کیا جا رہا ہے۔ اس وقت تک جماعت کے رہنماؤں کو جو سزائیں سنائی گئی ہیں، انھوں نے پورے بنگلہ دیش میں ایک آگ سی لگا دی ہے کیوں کہ سب جانتے ہیں کہ پروفیسر غلام اعظم، مولانا ابوالکلام آزاد، مولانا دلاور حسین سعیدی اور مولانا عبدالقادر مُلّا۳؂ اصحابِ علم و تقویٰ کا دامن ان الزامات سے پاک ہے، جو ان پر لگائے جارہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ انھیں صرف اور صرف ظلم اور سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
    سب سے پہلی ضرورت یہ ہے کہ مسئلے کی اصل نوعیت کو متعین کرلیا جائے۔ جنگی جرائم کا تعلق ان جرائم سے ہے جو حالتِ جنگ میں بھی جنگ کے مسلّمہ آداب اور حدود کو پامال کر کے انجام دیے جائیں، اس لیے انھیں انسانیت کے خلاف جرائم (crimes against humanity) قرار دیا جاتا ہے اور ان کو لڑائی کے دوران معروف حدود میں ہونے والے قتل اور تباہی سے ممتاز کیا جاتا ہے۔ اسی طرح نسل کُشی (genocide) بھی ایک متعین جرم ہے جس میں ایک خاص نسل، مذہب، قومیت، قبیلے یا برادری کو محض اس خاص نسل، مذہب، قومیت، قبیلے یا برادری سے تعلق کی بناپر ظلم و ستم کا ہدف بنایا جائے، بلاجواز قتل کیا جائے یا تشدد کا نشانہ بنایا جائے۔
    ہم پوری ذمہ داری سے یہ بات کہتے ہیں اور کسی بھی آزاد اور غیر جانب دار عدالت میں اس الزام کا سامنا کرنے کو تیار ہیں۔ بنگلہ دیش جماعت اسلامی نے اس امر کا واضح اعلان کیا ہے
    ۳۔ ستم ظریفی ہے کہ مولانا عبدالقادر مُلّا نے بنگلہ دیش کی آزادی کے فوراً بعد ڈھاکہ یونی ورسٹی سے تعلیم مکمل کرکے بنگلہ دیش رائفلز میں، جو ایک غیر سرکاری نیم فوجی تنظیم ہے، شرکت کی۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان کے جرائم میں مبتلا ہونے کی کوئی خبر ۱۹۷۱ء کے معاً بعد کے زمانے میں کسی کو نہ تھی اور اب ۴۲سال کے بعد یہ الہام ہوا ہے۔ علامہ دلاور حسین سعیدی بنگلہ دیش کے ایک معتبر عالم دین اور شہرۂ آفاق مقرر اور مبلّغ ہیں۔ ۱۹۷۱ء میں ان کا جماعت اسلامی سے کوئی تعلق نہ تھا اور نہ وہ کبھی بھی کسی غیرقانونی یا غیراخلاقی کارروائی میں بلاواسطہ یا بالواسطہ ملوث رہے۔ جماعت اسلامی کی دعوت سے وہ نظریاتی طور پر ۱۹۷۵ء میں روشناس ہوئے اور جماعت کی بحالی کے بعد ۱۹۷۹ء سے اس کے سرگر م رکن رہے اور سیاسی سرگرمیوں میں شریک ہوئے، بعدازاں جماعت کے ٹکٹ پر پارلیمنٹ کے ممبر منتخب ہوئے۔
    کہ وہ بحیثیت جماعت یا اس کا کوئی ذمہ دار اس نوعیت کے کسی بھی جرم کا مرتکب نہیں ہوا۔ البتہ جس بات کا جماعت نے اعتراف کیا ہے، وہ یہ ہے کہ اس نے پاکستان پر بھارتی افواج کے حملے اور مشرقی پاکستان میں مکتی باہنی کی عسکری اور تخریبی کارروائیوں کے دوران پاکستان کا دفاع کیا اور اس زمانے میں بھی بار بار اس امر کا اعلان کیا کہ مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں۔ شیخ مجیب الرحمن نے بھی بنگلہ دیش کے قیام کے بعد جنگی جرائم کے مرتکبین کے حوالے سے جو قوانین بنائے، ان میں جنگی جرائم اور پاکستان حکومت کا ساتھ دینے والوں میں فرق کیا اور دونوں کے لیے ۱۹۷۲ء میں دو الگ الگ قانون نافذ کیے۔ ۱۶دسمبر ۱۹۷۱ء تک جو متحدہ پاکستان کے حامی تھے، ان کی سیاسی پوزیشن کے بارے میں پاکستان کی سیاسی جماعتیں اور عوامی لیگ الگ الگ راے رکھتے ہیں اور دنیا کی تاریخ میں ایسے واقعات اور حادثات کے موقع پر یہ بالکل فطری بات ہے، لیکن سیاسی موقف کے اس اختلاف کو جنگی جرائم سے خلط ملط کرنا قانونی ، سیاسی اور اخلاقی ہراعتبار سے ناقابلِ قبول ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ ایک نئی سیاسی حقیقت کے رُونما ہونے سے پہلے اور اس کے بعد کے معاملات کو سیاسی تناظر میں لیا جاتا ہے۔ اس کے سوا کوئی دوسرا رویہ صریح ناانصافی ہوگا۔
     

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں









سوشل میڈیا لنکس