Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

تحریکِ آزادیِ جموں و کشمیر___ اورافضل گورو کی شہادت

  1. بات بہت واضح ہے۔ تاریخ کا لمحہ لمحہ گواہ ہے کہ مسئلہ آزادی، ایمان اور عزت کی حفاظت کا ہو یا ظلم و استبداد کے نظام سے نجات اور اعلیٰ مقاصد حیات کے حصول کا___ یہ بازی صرف ایک ہی طریقے سے سر کی جاسکتی ہے اور وہ عبارت ہے مسلسل اور پیہم جدوجہد، ایثار اور قربانی سے۔ اس حیات آفریں عمل ہی کو شریعت نے جہاد کا نام دیا ہے اور اس کے مقاصد و اہداف، اصول و آداب اور قواعد و ضوابط کار کا بھی پوری وضاحت سے تعین کردیا ہے۔ یہ جدوجہد نیت اور سمت کی درستی کے ساتھ وقت، جان اور مال، غرض ہر چیز کی قربانی کا تقاضا کرتی ہے اور اگر اس جدوجہد میں نوبت جان کو جانِ آفریں کے سپرد کرنے کی آجائے تو اسے کامیابی کی معراج قرار دیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس طرح جان دینے والے کی موت کو عرفِ عام کی موت سے یہ کہہ کر ممیز کردیا گیا ہے کہ یہی اصل حیات ہے:
    وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ یُّقْتَلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اَمْوَاتٌ بَلْ اَحْیَآءٌ وَّ لٰکِنْ لَّا تَشْعُرُوْنَ o(البقرہ ۲:۱۵۴) اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں انھیں مُردہ نہ کہو، ایسے لوگ تو حقیقت میں زندہ ہیں، مگر تمھیں ان کی زندگی کا شعور نہیں ہوتا۔
    ایک اور پہلو اس مقام کو حاصل کرنے والوں کی زندگی کا یہ بھی ہے کہ وہ دوسروں کے لیے روشن مثال قائم کرتے ہیں، انسان کو موت کے خوف سے بے نیاز کرتے ہیں، زندگی کو ان مقاصد کے لیے قربان کرنے کا داعیہ پیدا کرتے ہیں جو محض ایک فرد نہیں بلکہ پوری اُمت اور تمام انسانوں کو زندگی کے اس مفہوم سے آشنا کرتے ہیں جس سے زندگی زندہ رہنے کے لائق بنتی ہے (what makes life worth living)۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کا اظہار اس طرح کیا گیا ہے کہ ع
    شہید کی جو موت ہے ، وہ قوم کی حیات ہے
    آج ایک خاص طبقہ کچھ مخصوص بلکہ مذموم مقاصد کے لیے ’جہاد‘ اور ’شہادت‘ کو ناپسندیدہ الفاظ بنانے کی کوشش کر رہا ہے لیکن چاند پر تھوکنے سے چاند کی روشنی اور پُرکیف ٹھنڈک میں کوئی کمی واقع نہیں ہوتی۔ ہر دور میں شہادت کا ہر واقعہ ایمان کی تازگی اور حق اور صداقت کی جدوجہد کرنے والوں کے لیے مہمیز دینے کا ذریعہ رہا ہے۔ یہی وہ عمل ہے جس کے نتیجے میں بالآخر ظلم و استبداد کا ہرنظام سرنگوں ہوتا ہے اور آزادی، عزت، غلبۂ حق اور عدل و انصاف کی صبح طلوع ہوتی ہے۔ تاریخ کے در ودیوار سے یہ گونج مسلسل سنائی دیتی ہے کہ ؂
    یہ خون جو ہے مظلوموں کا، ضائع تو نہ جائے گا لیکن
    کتنے وہ مبارک قطرے ہیں، جو صرف بہاراں ہوتے ہیں
    بھارتی غلبے اور استبداد کے خلاف جموں و کشمیر کے مسلمانوں کی جدوجہد ہمارے دور کی تاریخ کا ایک روشن باب ہے۔ اس جدوجہد میں جو سعید روحیں جان کا نذرانہ پیش کرتی ہیں، وہ دراصل اُمید کا ایک چراغ روشن کرتی ہیں۔ بھارتی ظلم و استبداد کا نشانہ بننے والی ہر روح تاریکیوں کو چیلنج کرنے والے ایک چراغ کی مانند ہے۔ اس سلسلے کی تازہ ترین مثال ۹فروری ۲۰۱۳ء کو دہلی کی تہاڑ جیل میں ایک بے گناہ مجاہد محمد افضل گورو کو تختۂ دار پر چڑھانے کے ظالمانہ اقدام کی شکل میں دیکھی جاسکتی ہے جس نے بھارت کی نام نہاد جمہوریت اور اس کے عدالتی نظام کا اصل چہرہ ہی بے نقاب نہیں کیا، بلکہ عالمی قیادت کے اس مدعی ملک کی ریاستی دہشت گردی کی بدترین مثال بھی پوری دنیا کے سامنے پیش کردی ہے۔ یہ اس کے سیاسی اور اخلاقی دیوالیہ پن کا ثبوت اور اس کی کشمیر پالیسی کی ناکامی کی علامت ہے۔
    شہادت کا پس منظر
    اس امر میں ذرا بھی شبہہ نہیں کہ یہ اقدام ایک مکروہ سیاسی چال ہے اور تحریکِ آزادیِ کشمیر کو نہ صرف یہ کہ اس سے ان شاء اللہ کوئی نقصان نہیں ہوگا بلکہ اس کے نتیجے میں اس جدوجہد کو نئی جِلا ملے گی اور نئی قوت میسر آئے گی۔ ذرا تصور کیجیے کہ ایک مظلوم انسان جسے ایک سازش کے تحت دہشت گردی کے ایک واقعے میں ملوث کیا گیا، اسے تین بار عمرقید اور دو بار پھانسی کی سزا دی گئی، جس کی (افسوس ہے کہ ) ملک کی اعلیٰ ترین عدالت نے کھلے بندوں، قانون اور عدل کی بنیاد پر نہیں، علانیہ طور پر سیاسی وجوہ سے توثیق بھی فرما دی۔ وہ ۱۳سال سے قید تنہائی میں تھا اور سات سال سے پھانسی کے تختے کا انتظارکررہا تھا۔ اسے اور اس کی اہلیہ کو قانون کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے اطلاع دیے بغیر اور آخری وقت میں بیوی اور بچے سے بھی ملنے سے محروم رکھ کر تختۂ دار پر چڑھا دیا جاتا ہے۔ جموں و کشمیر میں کرفیو لگا دیا جاتا ہے اور اخبارات، میڈیا، اور سیل فون تک کو خاموش کردیا جاتا ہے، اس کے باوجود مظلوم مجاہد کی جبیں پر کوئی شکن نہیں آتی۔ وہ فجر کی نماز پڑھ کر پورے اعتماد کے ساتھ تختۂ دار کی طرف شانِ استغنا کے ساتھ بڑھ جاتا ہے۔ اپنے خاندان اور تمام مسلمانوں کو پیغام دیتا ہے کہ ’’اللہ پاک کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس نے مجھے اس مقام کے لیے چنا۔ باقی میری طرف سے آپ اہلِ ایمان کو مبارک ہو کہ ہم سب سچائی اور حق کے ساتھ رہے اور حق و سچائی کی خاطر آخرت میں ہمارا اختتام ہو۔ اہلِ خانہ کو میری طرف سے گزارش ہے کہ میرے مرنے پر افسوس کے بجاے اس مقام کا احترام کریں۔ اللہ تعالیٰ آپ سب کا حامی و ناصر ہو، اللہ حافظ!‘‘۔
    یہ الفاظ کسی مجرم یا باطل سے دب جانے والے انسان کے نہیں ہوسکتے۔ یہ خطاب صرف اہلِ خانہ سے نہیں، تمام اہلِ ایمان سے ہے جو دلوں میں نیا ولولہ پیدا کریں گے اور اس جدوجہد کو نئی زندگی دیں گے۔ اس کا ایک ہلکا سا نظارہ ان واقعات میں بھی دیکھا جاسکتا ہے جو اس شہادت کے بعد رُونما ہوئے۔ ایک طرف خائف سوپر پاور ہے اور دوسری طرف بے سروسامان عوام___ لیکن وہ ہررکاوٹ کے باوجود احتجاج کر رہے ہیں۔ کرفیو ان کا راستہ نہیں روک سکتا اور گولی اور لاٹھی کی بوچھاڑ انھیں گھروں میں قید نہیں رکھ سکتی۔ بوڑھا سید علی شاہ گیلانی زیرحراست ہے لیکن اس کی آواز پر کشمیر کے مظلوم شہری ظالموں کے خلاف کمربستہ ہیں۔ دہلی تک میں مظاہرے ہوتے ہیں جن کی قیادت دہلی کالج کا وہی پروفیسر ڈاکٹر عبدالرحمن گیلانی کر رہا ہے جس پر اس مقدمے میں شریکِ جرم ہونے کا الزام تھا، اسے بھی افضل گورو کے ساتھ سزاے موت ملی تھی جو بعد میں سپریم کورٹ نے کالعدم قرار دے دی اور اسے بے گناہ قرار دیا۔ وہ نہ صر ف ا س احتجاج کی قیادت کر رہا ہے بلکہ برملا شہادت دے رہا ہے کہ محمد افضل گورو بے گناہ تھا اور اسے صرف اس لیے پھانسی کے تختے پر چڑھایا گیا ہے کہ وہ تحریکِ آزادیِ کشمیر کا ایک مجاہد تھا اور اسے اس کے سیاسی خیالات کی وجہ سے موت کے گھاٹ اُتارا گیا ہے۔ مظاہرے میں شریک ہر نوجوان یہ عہد کر رہا ہے کہ تحریکِ آزادیِ کشمیر کو جاری رکھے گا۔ بلاشبہہ افضل گورو کی شہادت سے اس تحریک کو ان شاء اللہ نیا ولولہ ملے گا۔
    جہاں تک کشمیر کا تعلق ہے، ۹فروری کی شہادت کی خبر سارے کرفیو اور تمام پابندیوں کے باوجود جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی ۔ کرفیو کے علی الرغم عوامی احتجاج ہرسُو رُونما ہوا اور قربانیوں اور شہادتوں کی نئی تاریخ رقم ہونے لگی۔ ہڑتالوں کا سلسلہ ان سطور کے لکھنے تک جاری ہے اور کشمیر ہی نہیں، دنیا بھر میں کشمیری نوجوان، وہ بھی جو پہلے اس جدوجہد میں شریک نہیں تھے، اب نئے جذبے کے ساتھ مزاحمت کی تحریک میں شرکت کے لیے بے تاب ہیں۔ نیویارک ٹائمز کی نامہ نگار برمنگھم یونی ورسٹی کی ایم فل کی ایک طالبہ عارفہ غنی کے اس عزم کا اظہار کچھ ان الفاظ میں کرتی ہے:
    جب مقبول بٹ کو پھانسی دی گئی تو میں پیدا نہیں ہوئی تھی۔ جب میں نے اس کے بارے میں کچھ پڑھا تو پھر وہ ہمارا ہیرو ہوگیا۔ گورو کی پھانسی کے بعد میں جس طرح محسوس کررہی ہوں اس طرح کبھی بھی محسوس نہیں کیا۔ مگر ہم اپنے بڑوں کی طرح ہتھیار نہیں اُٹھائیں گے۔ ہم زیادہ ذہانت سے ردعمل دیں گے۔
    (نیویارک ٹائمز کے نمایندے کی رپورٹ جو دی نیشن کی ۱۸فروری ۲۰۱۳ء کی اشاعت میں شائع کی گئی ہے)۔
    یہ کیسی جمہوریت ہے اور یہ کیسی اُبھرتی ہوئی عالمی طاقت ہے جو مجاہدین کی لاشوں سے بھی خائف ہے اور جس نے نہ مقبول بٹ شہید کی لاش اس کے لواحقین کو دی اور نہ اب افضل گورو کی لاش دینے کے لیے تیار ہے؟ لندن کے اخبار دی گارڈین کے کالم نگار نے کس طنز سے لکھا ہے کہ:
    یہ بات ضرور پوچھی جانی چاہیے کہ بھارتی ریاست کیا کہنے کی کوشش کر رہی تھی؟ یقیناًاس کی وضاحت سادگی سے اس طرح نہیں کی جاسکتی تھی جیساکہ بعض تجزیہ نگاروں نے کی ہے کہ یہ محض انتخابی سیاست کی مجبوریوں کا ایک مکروہ اظہار ہے۔ بلاشبہہ یہ وہ عمل ہے جس میں بھارت کی سیاسی پارٹیاں اپنے حریفوں سے آگے بڑھنے کے لیے نئی اخلاقی پستیوں میں ڈوبنے کے لیے بے چین ہیں لیکن یہ اقدام دراصل کشمیری عوام کے لیے ایک پیغام ہے کہ ایک قابض طاقت بے اختیار عوام کو پوری گھن گرج کے ساتھ کہہ رہی ہے کہ تمھیں لازماً تعظیماً جھکنا پڑے گا۔ اس مقدمے کے اثرات پھانسی کے تختے سے بہت آگے بھی جاسکتے ہیں۔ اس کا تاریک سایہ ان کے بچوں کے لیے دودھ اور بزرگوں کے لیے دواؤں تک بھی پہنچ سکتا ہے۔دو لمحات تاریخ کا حصہ بنتے نظر آرہے ہیں۔ کشمیری، بھارت کی مزاحمت کی یاد میں گہری قبر کھود کر مقبرہ تعمیر کر رہے ہیں، اور بھارت بزدلانہ اعتراف کر رہا ہے کہ ایک کشمیری لاش بھی باغی ہوسکتی ہے، لہٰذا اسے جیل ہی میں ہمیشہ کے لیے مقید رہنا چاہیے۔
    بھارتی قیادت کے عزائم اور اہلِ کشمیر کے لیے اس کا پیغام تو بہت واضح ہے۔ شہیدوں کی لاشوں تک سے ان کا خوف بھی الم نشرح ہے لیکن دی گارڈین کے مضمون نگار کا یہ خیال کہ جو قبریں سری نگر کے شہدا کے تاریخی قبرستان میں ان دو شہدا کے لیے بنائی گئی ہیں، وہ اپنے مکینوں کا انتظار کر رہی ہیں اور بس یادوں اور مزاحمتوں کا مقبرہ ہوں گی، شدید غلط فہمی پر مبنی ہیں۔ یہ قبریں تحریکِ مزاحمت کی علامت اور آزادی کی ناتمام جدوجہد کا عنوان ہیں۔ یہ آزادی کے کارواں اور اس راہ میں مزید قربانیوں کے لیے ایک تکبیرمسلسل کی حیثیت رکھتی ہیں اور اس آرزو اور عزم کا اظہار بھی ہیں کہ ایک دن ان شاء اللہ جموں و کشمیر کے مسلمان بھارت کے قبضے اور استبدادی نظام سے نجات پائیں گے، اپنی آزاد مرضی سے اپنا مستقبل طے کریں گے اور پھر شہدا کی وہ لاشیں، جن سے آج وہ محروم کر دیے گئے ہیں، وہ انھیں حاصل کرسکیں گے اور وہ وقت دُور نہیں جب یہ خالی قبریں اپنے اصل مکینوں کو خوش آمدید کہہ سکیں گی۔
    بلاشبہہ محمد افضل گورو کی شہادت کا واقعہ اس جدوجہد میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے لیکن اس پہلو کے ساتھ یہ واقعہ کئی اور حیثیتوں سے بھی بڑے غوروفکر کا مواد فراہم کر رہا ہے۔ ہم ان میں سے چند پہلوؤں پر گفتگو کرنا چاہتے ہیں تاکہ حالات کو ان کے صحیح تناظر میں دیکھا جاسکے اور ان کا مقابلہ کرنے کے لیے صحیح پالیسیاں اور مناسب حکمت عملیاں تیار کی جاسکیں۔
    ریاستی دہشت گردی کی بدترین مثال
    بھارت نے پہلے دن سے کشمیر کو صرف قوت کے ذریعے اور بدترین سامراجی حربوں کے بے محابا استعمال کے بل بوتے پر اپنی گرفت میں رکھا ہوا ہے اور وہ ظلم و استبداد کے مکروہ سے مکروہ تر اقدام کا ارتکاب کررہا ہے۔ ۱۹۴۷ء سے ۱۹۵۱ء کی جنگ بندی تک اپنے قدم جمانے اور جنگِ آزادی کو کچلنے کے لیے بھارتی اور ڈوگرہ افواج نے چار لاکھ افراد کا خون بہایا اور ۱۹۸۹ء سے رُونما ہونے والے تحریکِ آزادی کے دوسرے دور میں اب تک ایک لاکھ سے زیادہ افراد کو شہید کیا جاچکا ہے۔ لاکھوں زخمی ہوئے ہیں، ہزاروں لاپتا ہیں، ہزاروں جیلوں میں سڑرہے ہیں اور خاص و عام آبادی کے انسانی حقوق کو پوری بے دردی کے ساتھ پامال کیا جا رہا ہے۔ پاک باز خواتین کی آبروریزی بڑے پیمانے پر کی جارہی ہے اور جنسی زیادتی کو ایک جنگی حربے (military strategy) کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ جموں و کشمیر میں ۷لاکھ سے زیادہ بھارتی فوجی ظلم کی یہ داستان رقم کررہے ہیں اور ان کو ایک مہذب معاشرے کے ہر قانون سے، حتیٰ کہ جنگی قانون تک سے مستثنیٰ کردیا گیا ہے۔ Armed Forces Special Powers Actایک ایسا جنگل کا قانون ہے جس نے بھارتی فوج اور سیکورٹی ایجنسیوں کو دستور، قانون، جنگی قواعد و ضوابط اور سماجی روایات، ہرضابطے اور قاعدے سے آزاد کردیا ہے۔
    جموں و کشمیر میں جو خونی کھیل کھیلا جارہا ہے اسے تمام دنیا کے میڈیا اور عالمی مبصرین کے لیے ’نوگو ایریا‘ بنادیا گیا ہے تاکہ دنیا اس سے بے خبر رہے جو کچھ مجبوروں کی اس بستی میں کیا جا رہا ہے۔ اس پس منظر میں محمدافضل گورو کی گرفتاری کا مقدمہ، اس کی قیدتنہائی، اس پر تعذیب کی دل خراش داستان، اس کی سزا، اس کی رحم کی درخواستوں پر کیا جانے والا معاملہ، اس کی پھانسی، پھانسی کی اطلاع سے خود اس کو اور اس کے اہلِ خانہ تک کو بے خبر رکھنا، اس کی میت سے بھی اس کے خاندان کو محروم رکھنا، اس کی پھانسی کی خبر تک کا گلا گھونٹنے کی کوشش___ یہ سب کشمیر کی حقیقی صورت حال کا ایک آئینہ ہے جس میں بھارت کے سیاسی اور عدالتی نظام کا اصل چہرہ بھی دیکھا جاسکتا ہے اور جسے اب دنیا سے چھپانے کی کوئی تدبیر کامیاب نہیں ہوسکتی۔ بھارت کے جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کے تمام دعووں کی قلعی صرف اس ایک واقعے کے ذریعے کھل جاتی ہے۔ کس طرح ہرسطح پر اور ہرہرقدم پر دستور، قانون، سیاسی آداب اور مسلّمہ اخلاقی اصول و ضوابط کو پامال کیا جاتا ہے اور کس ڈھٹائی سے انصاف کا خون کرکے ریاستی دہشت گردی کی بدترین مثال قائم کی گئی ہے۔ اس کیس کے حقائق کو ان کی اصل ترتیب میں دیکھنے سے بھارت کی سیاست اور عدل و انصاف کی زبوں حالی کی مکمل تصویر سامنے آجاتی ہے۔
    *۔۔۔ بدنامِ زمانہ نائن الیون کے دو ہی مہینے کے بعددسمبر ۲۰۰۱ء دہلی میں پارلیمنٹ پر حملے کا واقعہ رُونما ہوتا ہے جس کے پانچوں کردار کچھ دوسرے افراد کے ساتھ موت کے گھاٹ اُتار دیے جاتے ہیں اور کسی کو بھی کوئی ثبوت اس کا نہیں مل سکا کہ حملہ کرنے والے کون تھے اور ان کے پیچھے کس کا ہاتھ تھا۔ اس وقت کے وزیرداخلہ کے ایل ایڈوانی کا یہ ارشاد سارے ڈرامے کا عنوان بنا کہ ’’شکل و صورت سے حملہ آور پاکستانی معلوم ہوتے ہیں‘‘۔
    *۔۔۔دو دن کے اندر دہلی کے تین افراد، جن میں پروفیسر عبدالرحمن گیلانی کو مرکزی شخصیت (master mind) قرار دیا جاتا ہے، گرفتار کرلیے جاتے ہیں اور بظاہر ان کی دی ہوئی معلومات کی بنیاد پر محمد افضل گورو اور ان کی اہلیہ کو شاملِ تفتیش کیا جاتا ہے اور افضل گورو کے ایک ایسے بیان کی بنیاد پر جو تشدد اور تعذیب کے ذریعے لیا گیا تھا اور جس سے افضل گورو نے عدالت میں صاف انکار کیا ، ان کا پاکستان سے رشتہ جوڑا گیا اور ایک لیپ ٹاپ اور سیل فون کا ڈراما رچایا گیا جن کا ڈھونگ ہونا مقدمے کے دوران ہی ثابت ہوگیا۔
    *۔۔۔محمد افضل گورو کی ابتدائی تعلیم کشمیر میں اسلامی ٹرسٹ کے ایک اسکول میں ہوئی۔ پھر اس نے میڈیکل کالج میں داخلہ لیا جسے جاری نہ رکھ سکا۔ بھارتی افواج کے مظالم اور خصوصیت سے مسلمان خواتین سے زیادتی نے اسے کشمیر کی آزادی کی تحریک میں شرکت پر مجبور کیا۔ جے کے ایل ایف سے اس نے وابستگی اختیار کی، پاکستان بھی آیا مگر یہاں سے مایوس ہوکر واپس چلا گیا اور بھارتی افواج اور ایجنسیوں کے آگے سرنڈر کا مرتکب ہوا اور پھر ان کے ہتھے چڑھ گیا۔ انھوں نے بار بار اسے ذلیل و خوار کیا، تشدد کا نشانہ بنایا، اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی اور عدم تعاون پر بدترین تعذیب سے نوازا۔ اس اثنا میں اس نے ایم بی اے کیا، شادی کی، غیرسیاسی زندگی اختیار کرنے کی کوشش کی مگر جو ایک بار بھارتی ایجنسیوں کے ہتھے چڑھ گیا وہ ان کی گرفت سے کیسے نکل سکتا ہے۔ دسمبر۲۰۰۱ء کے واقعے میں بھی اسے انھی ایجنسیوں نے ملوث کرنے کی کوشش کی اور اس کی پوری تفصیل افضل گورو نے عدالت کے سامنے حلفیہ پیش کی مگر بے سود۔ آخر انھیں کسی نہ کسی کو تو قربانی کا بکرا بنانا تھا اور انھوں نے پوری بے دردی اور بے شرمی سے محمد افضل گورو کو اس کی بھینٹ چڑھا دیا۔
    *۔۔۔مقدمے کے دوران اسے قیدتنہائی میں رکھا گیا، تفتیش کے دور میں اسے بدترین تعذیب کا نشانہ بنایا گیا۔ مقدمے میں اسے اپنا وکیل تک نہیں کرنے دیا گیا۔ ایک دوسرے درجے کے وکیل کو سرکار نے مقرر کیا جس نے افضل گورو سے کبھی ملاقات نہ کی اور دفاع کے بجاے عملاً سرکار کے وکیل کا کردار ادا کیا۔ جن دوسرے افراد کو اس جھوٹے مقدمے میں ملوث کیا گیا تھا اعلیٰ عدالت کی سطح پر کوئی شہادت اور ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے ان کی سزاؤں کو ختم کردیا گیا لیکن افضل گوروکو سزا دینا ان کی سیاسی ضرورت بن گئی اور اس طرح وہ سیاسی انتقام دراصل سیاسی دہشت گردی کا ہدف بن گیا۔
    انصاف کا خون
    یہ ستم ظریفی بھی قابلِ غور ہے کہ جس اصل نام نہاد ماسٹر مائنڈ، یعنی پروفیسر عبدالرحمن گیلانی کو محمد افضل تک رسائی کا ذریعہ ظاہر کیا گیا تھا، وہ تو اعلیٰ عدالت کے حکم سے بے گناہ ثابت ہوئے اور جو ان کے لیے بھی ایک بالواسطہ ذریعہ قرار دیا گیا تھا وہ اصل مجرم بن گیا اور سولی پر چڑھا دیا گیا۔
    *۔۔۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں تین باتوں کا صاف الفاظ میں اعتراف کیا ہے:
    ۱۔ اس کیس میں محمد افضل گورو کے ملوث ہونے کا کوئی واقعاتی یا شہادت پر مبنی ثبوت موجود نہیں۔
    ۲۔ کسی دہشت گرد تنظیم سے کسی سطح پر بھی محمد افضل گورو کا کوئی باقاعدہ تعلق ثابت نہیں۔
    ۳۔ جو بالواسطہ موادپولیس/تفتیشی عملے نے دیا ہے اس میں شفافیت نہیں بلکہ وہ تہ در تہ تضادات سے بھرا پڑا ہے، مثلاً پروفیسر عبدالرحمن گیلانی کے بارے میں کہا گیا کہ ان کے ذریعے محمدافضل گورو کا نام ملا، مگر محمد افضل گورو کو عبدالرحمن گیلانی کی گرفتاری سے پہلے ہی سری نگر میں گرفتار کرلیا گیا تھا۔ جس لیپ ٹاپ کا ذکر ہے وہ محفوظ (protected) نہیں تھا اور ایسی شہادت جو محفوظ نہ ہو قابلِ قبول نہیں ہوتی۔ نیز جو معلومات اس پر تھیں وہ خود یہ ظاہر کرتی تھیں کہ کمپیوٹر سے بہت سی معلومات نکال دی گئی ہیں اور جو معلومات باقی ہیں، ان میں ہیرپھیر کردیا گیا ہے۔ سیل فون کے بارے میں سم کے حاصل کرنے کی جو تاریخ دی گئی ہے، وہ بے معنی ہے اس لیے کہ وہ سم اس تاریخ سے کم از کم تین ہفتے پہلے سے کسی کے زیراستعمال تھی اور بدیہی طور پر محمد افضل گورو نہیں تھا۔ یہ صرف چند مثالیں ہیں، ورنہ کیس میں کسی سطح پر بھی کوئی جان نہیں تھی۔
    ان تمام حقائق کو تسلیم کرنے کے بعد عدالت عالیہ نے جس بنیاد پر موت کی سزا کی توثیق کی ہے وہ عدل کی تاریخ میں ایک عجوبہ اور بھارت کے عدالتی نظام کے چہرے پر کلنک کا ٹیکا ہے۔ سپریم کورٹ ہی کے الفاظ میں عدل کے قتل اور قانونی دہشت گردی پر مبنی اس فیصلے کو ملاحظہ فرمائیں:
    افضل گورو ان دہشت گردوں میں سے نہیں تھا جنھوں نے ۱۳دسمبر۲۰۰۱ء کو پارلیمنٹ ہاؤس پر حملہ کیا۔ وہ ان لوگوں میں سے بھی نہ تھا جنھوں نے سیکورٹی اہل کاروں پر گولی چلائی اور چھے میں سے تین کو گولی مار کر ہلاک کردیا۔جیساکہ بیش تر سازشوں کے ساتھ ہوتا ہے، یہاں بھی کوئی ایسی براہِ راست شہادت نہ ملی ہے اور نہ مل سکتی ہے جسے مجرمانہ سازش قرار دیا جاسکے۔اس واقعے نے جس میں ایک تعداد میں لوگ ہلاک ہوئے پوری قوم کو ہلا دیا ہے اور معاشرے کا اجتماعی ضمیر اسی صورت میں مطمئن ہوسکتا ہے کہ مجرم کو سزاے موت دی جائے۔
    یعنی ایک شخص کو صرف اس لیے سولی پر چڑھا دو تاکہ اس سے جس شے کو سوسائٹی کا ’اجتماعی ضمیر ‘کہا جا رہا ہے اس کی تسکین ہوسکے۔ عدل و انصاف کے قتل کی اس سے زیادہ قبیح اور اندوہناک صورت کیا ہوسکتی ہے؟
    پھر یہی نہیں، قانونی اور دستوری نقطۂ نظر سے دستور اور قانون کے مسلّمہ اصولوں اور خود بھارت کی عدالتِ عالیہ کے ایک درجن سے زیادہ فیصلوں کی بھی اس مقدمے اور سزا میں کھلی خلاف ورزی کی گئی ہے۔
    *۔۔۔صدرمملکت کو اگست ۲۰۰۵ء کے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد خاندان کی طرف سے دستور کی دفعہ ۷۲ کے تحت رحم کی اپیل کی گئی جسے بھارت کے دو صدور نے مسترد کرنا صحیح نہ سمجھا اور حکومت کو غور کے لیے بھیجا۔ حکومت نے خاموشی اختیار کی۔ ۲۰۱۳ء میں تیسری بار ایوانِ صدر سے درخواست کو وزارتِ داخلہ کو بھیجا گیا اور موجودہ وزیرداخلہ نے اسے رد کرنے کی سفارش کی جس پر صدر نے صاد کردیااور اس طرح رحم کی اپیل رد ہوگئی اور پھانسی کے لیے زمین ہموار کی گئی، حالانکہ دسیوں قتل کے مقدمات میں رحم کی اپیلیں مدت دراز سے زیرغور ہیں اور اس طرح پھانسی کی سزا عملاً ایک طرح کی عمرقید میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ راجیو گاندھی کے تینوں قاتل بھی آج تک رحم کی اپیل کے التوا ہی کی بنیاد پر زندہ ہیں اور اس کو ۲۱سال گزر چکے ہیں۔
    *۔۔۔سپریم کورٹ کا فیصلہ اور رحم کی اپیل کے سلسلے میں طے شدہ ضابطہ یہ ہے کہ دستور کی دفعہ۷۲ کے تحت رحم کی اپیل کے منظور کیے جانے یا رد کیے جانے کی سفارش مرکزی کابینہ کرتی ہے، مگر افضل گورو کے معاملے میں وزارتِ داخلہ نے کابینہ سے رجوع کیے بغیر اپیل رد کرنے کی سفارش کی جسے صدر نے قبول کرلیا جو خود قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
    *۔۔۔پھر سب سے زیادہ نقصان دہ الزام (damaging indictment) وہ ہے جو بھارت کی سپریم کورٹ کے سینیر ایڈووکیٹ اور ایک سابق سالیسٹر جنرل ٹی آر اندودھیارو جنا نے اپنے مضمون An Execution Most Foul (بہت غلط پھانسی) میں کیا ہے جو بھارت کے روزنامہ دی ہندو میں ۱۹فروری ۲۰۱۳ء کی اشاعت میں شائع ہوا ہے۔ اس میں اس نے بڑے اہم قانونی نکات اُٹھائے ہیں جن کی روشنی میں افضل گورو کی پھانسی ایک مجرمانہ فعل (criminal offence) بن گیا ہے۔ بھارت کی حکومت نہ صرف سیاسی شعبدے بازی کی مرتکب قرار پاتی ہے بلکہ اس نے عدالت عالیہ کے فیصلوں کی بھی خلاف ورزی کی ہے اور سب سے بڑھ کر توہین عدالت تک کی مرتکب ہوئی ہے کہ افضل گورو کا معاملہ ایک دوسرے مقدمے میں عدالت عالیہ کے سامنے زیرغور تھا اور اس معاملے کے فیصلے کے اعلان کیے جانے سے پہلے ہی افضل گورو کو پھانسی دے دی گئی:
    ۹فروری کو افضل گورو کی پھانسی بھارتی حکومت کا ایک غیرانسانی فعل تھا۔ افضل گورو کو ۴؍اگست ۲۰۰۵ء کو سپریم کورٹ کی طرف سے سزاے موت کے فیصلے کے سات سال بعد اور صدرِ بھارت کو ۸نومبر ۲۰۰۶ء کو دی گئی رحم کی اپیل کے چھے سے زیادہ سال بعد پھانسی دی گئی۔ اس عرصے میں اُس نے اور اس کے اہلِ خانہ نے اس کی قسمت کے بارے میں ہردن تکلیف و پریشانی میں گزارا۔ یہ ایک ایسی صورت حال ہے جس کی تمام مہذب ممالک اور ہماری سپریم کورٹ بھی مذمت کرتی ہے۔ صدرِ بھارت کی طرف سے اس کی رحم کی درخواست کو چھے سال کے بعد ۳فروری ۲۰۱۳ء کو مسترد کیا گیا ہے جسے ارادتاً خفیہ رکھا گیا اور اس کے اہلِ خانہ کو بھی اطلاع نہیں دی گئی کہ کہیں یہ عدالتی درخواست کی بنیاد نہ بن جائے۔ ۹فروری ۲۰۱۳ء کو اس کے اہلِ خانہ کو بتائے بغیر خفیہ طور پر اسے پھانسی دی گئی اور اتنی ہی خفیہ طور پر تہاڑجیل نئی دہلی میں ایک قبر میں اسے دفن کردیا گیا۔
    ۱۹۸۳ء میں شیرسنگھ بمقابلہ ریاست پنجاب کے مقدمے میں عدالت نے انھی باتوں کو دہرایا جو ایک اور مقدمہ تری وینی بن بمقابلہ ریاست گجرات میں وسیع تر دستوری بنچ نے طے کرنا چاہا، اور سپریم کورٹ نے دوبارہ انھیں دہرایا کہ پھانسی دینے میں تاخیر غیرمنصفانہ اور غیرمعقول ہوگی۔ عدالت نے یہ فیصلہ دیا کہ رحم کی اپیلوں کے فیصلوں میں پوری دنیا میں یہ بات تسلیم کی جاتی ہے کہ متعلقہ شخص ایک ذہنی ٹارچر میں مبتلا رہتا ہے بلالحاظ اس کے کہ اس کے ساتھ کوئی جسمانی بدسلوکی نہیں کی جاتی۔ اس لیے رحم کی اپیل کے استرداد کی اطلاع دینا لازمی تھا۔ جگدیش بمقابلہ ریاست مدھیہ پردیش مقدمہ ۲۰۱۲ء سپریم کورٹ نے نہ صرف ملزم کی اس اذیت کو نمایاں کیا جو اسے سزا ملنے میں تاخیر سے ہوتی ہے بلکہ اس تکلیف اور اذیت کو بھی جو اس کے قریبی رشتے داروں کو ہوتی ہے۔ ۱۹۹۴ء میں پرائیوی کونسل نے بھارتی سپریم کورٹ کی راے کو درست قراردیا اور اپنے فیصلے کے ایک پُرتاثیر حصے میں لکھا کہ پھانسی پانے کے احکامات کے خلاف ایک جبلی کراہت ہوتی ہے۔ یہ جبلی کراہت کس وجہ سے ہوتی ہے؟ جواب یہ ہے کہ ہم اس کو غیرانسانی فعل قرار دیتے ہیں کہ ایک آدمی کو پھانسی کی اذیت میں طویل عرصے تک رکھا جائے۔ کئی برس تک اپنی تحویل میں رکھنے کے بعد ان لوگوں کو پھانسی دینا ایک غیرانسانی سزا ہوگی۔ یورپی یونین کی انسانی حقوق کی عدالت نے ۱۹۸۹ء میں اور کینیڈا کی سپریم کورٹ نے بھی یہی موقف اختیار کیا۔ افضل گورو کو پھانسی دینے میں حکومت نے جان بوجھ کر سپریم کورٹ کے موقف کو نظرانداز کیا اور دوسری عدالتوں کے موقف کو بھی۔
    ایک زیرالتوا مقدمہ خود افضل گورو کا تھا۔ عدالت نے مجھے اپنا مشیر مقرر کیا تاکہ غیرمعمولی تاخیر کے بعد سزا دینے کے مسئلے کو صحیح پس منظر میں دیکھا جائے۔ عدالت کے سامنے مَیں نے اپنے دلائل دیتے ہوئے خاص طور پر افضل گورو مقدمے کے حقائق کا حوالہ دیا۔ سماعت ۱۹؍اپریل ۲۰۱۲ء کو ختم ہوگئی۔ عدالت نے فیصلہ محفوظ رکھا (جس کا ابھی تک اعلان نہیں ہوا ہے)۔ حکومت اس بات سے پوری طرح آگاہ تھی کہ مجرموں کی پھانسی کی سزا میں طویل تاخیر کا مسئلہ قانونی طور پر سپریم کورٹ میں زیرسماعت ہے۔ حکومت کے لیے لازم تھا کہ زیرالتوا فیصلوں پر سپریم کورٹ کے مستند فیصلے کا انتظار کرتی۔ لیکن حکومت نے ۹؍فروری کو افضل گورو کو پھانسی کی سزا دے دی۔ افضل گورو کی پھانسی بھارتی حکومت کے سزاے موت کے کیے ہوئے فیصلوں میں سب سے زیادہ بے رحمانہ فیصلہ سمجھا جائے گا۔
    اس مضمون میں اُٹھائے گئے سوالات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ایک طرف عدالت عالیہ کا موت کا فیصلہ ہی کسی قانونی جواز کے بغیر تھا۔ یہ فیصلہ محض سیاسی وجوہ سے سوسائٹی کے اجتماعی ضمیر کا سہارا لے کر دیا گیا تھا لیکن اس کے علاوہ بھی کم از کم مندرجہ ذیل شکلوں میں دستور اور قانون کی دھجیاں بکھیردی گئیں:
    ۱۔ چھے سال تک رحم کی اپیل کو لٹکانا انسانی حقوق اور انصاف کے تقاضوں سے متصادم تھا اور ایسی صورت میں موت کی سزا کا ساقط کیا جانا قانون اور انصاف سے اقرب ہے جس پر بھارتی سپریم کورٹ تک کی متعدد آبزرویشن موجود ہیں۔
    ۲۔ رحم کی اپیل کے فیصلے میں تاخیر کے خلافِ انصاف ہونے کا مسئلہ بھارتی سپریم کورٹ میں زیرسماعت تھا۔ مقدمے کی سماعت مکمل ہوگئی تھی اور اس مقدمے میں افضل گورو کا کیس بھی شامل تھا۔ مقدمے کا فیصلہ ابھی آنا تھا جس میں اس کا امکان بھی تھا کہ کیس کے تمام متعلقہ افراد کی موت کی سزا کو ختم کیا جاسکتا تھا۔ فیصلہ آنے سے پہلے افضل گورو کو پھانسی دینا غیرقانونی فعل تھا اور اس طرح کا ایک اقدام قتل بن جاتا ہے۔
    ۳۔اگر رحم کی اپیل رد کردی گئی تھی جب بھی یہ سزا پانے والے کا حق تھا کہ اسے اپیل کے رد کیے جانے کی اطلاع بروقت دی جاتی۔ اس لیے کہ سپریم کورٹ کے باربار کے فیصلے موجود ہیں کہ دستور کی دفعہ ۷۲ کے تحت موت کی سزا کے بارے میں رحم کی اپیل رد کرنے کے صدارتی فیصلے پر عدالتی محاکمہ (Judicial Review) ممکن ہے اور اس طرح رحم کی اپیل رد ہونے کے بعد بھی افضل گورو کی اہلیہ کو یہ حق تھا کہ عدالت سے ایک بار پھر رجوع کرے اور اپیل کے روکے جانے کے مبنی برحق و قانون ہونے کے بارے میں عدالت کی راے حاصل کرے، لیکن اپیل رد کیے جانے کے بعد افضل گورو اور اس کے اہلِ خانہ کو بروقت اطلاع تک نہ دی گئی اور انھیں اپنے اس حق سے محروم کر دیا گیا کہ وہ عدالتی اپیل کرسکیں۔ یہ ملک کے دستور اور قانون کی صریح خلاف ورزی تھی۔
    اس طرح افضل گورو کو پھانسی کی شکل ہی میں ایک بار نہیں، چار بار عدل و انصاف کا خون ہوا اور بھارت کے جمہوری نظام ہی نہیں، پورے عدالتی نظام کے کھوکھلے ہونے اور سیاسی مصلحتوں کا اسیر ہونے کا تماشا تمام دنیا نے دیکھ لیا۔ نیز یہ بھی ثابت ہوگیا کہ اس ملک میں انصاف خاص لوگوں کے لیے (selective) اور امتیازی (discriminatory) ہے اور انصاف اور قانون کو سیاست اور مصلحت کے تابع کردیا گیا ہے۔ کیا ایسے نظام کو دستوری اور جمہوری نظام کہا جاسکتا ہے؟ دیکھیے بھارت اور عالمی سطح پر انصاف کے اس اسقاط (miscarriage of justice) کا کیسے اعتراف کیا جارہا ہے۔

    عالمی ضمیر کے چبھتے سوال
    بھارت کی مشہور ادیبہ اور سماجی کارکن ارون دھتی راے اپنے دو مضامین میں جو لندن کے اخبار دی گارڈین میں شائع ہوئے ہیں، افضل گورو کی پھانسی کے آئینے میں بھارت کا اصل چہرہ کس طرح پیش کرتی ہے۔ پہلا مضمون ۱۰فروری کو شائع ہوا ہے اور دوسرا ۱۸فروری کو۔ اپنے پہلے مضمون میں وہ لکھتی ہیں:
    ۲۰۰۱ء کے پارلیمنٹ کے حملے کے ملزم افضل گورو کو صبح خفیہ طور پر پھانسی دی گئی اور اس کے جسم کو تہاڑجیل میں دفن کر دیاگیا۔ کیا اسے مقبول بٹ کے ساتھ ہی دفن کیا گیا؟ (وہ دوسرا کشمیری جس کو تہاڑجیل میں ۱۹۸۴ء میں پھانسی دی گئی)۔ افضل گورو کی اہلیہ اور بیٹے کو اطلاع نہ دی گئی(کیا ستم ظریفی ہے کہ اس الم ناک واقعے نے پوری سیاسی قیادت کو متحد کردیا ہے)۔ اتحاد کے ایک شاذ لمحے میں قوم اور کم از کم اس کی بڑی سیاسی جماعتیں کانگریس، بی جے پی اور سی پی ایم، سواے ان چند کمزور آوازوں کے جو اس پھانسی میں تاخیر کے خلاف اُٹھیں، قانون کی بالادستی کا جشن منانے کے لیے متحد ہوگئیں۔ رہا معاملہ قوم کے ضمیر کا___ وہ تو وہی ہے جو ٹی وی سے براہِ راست ہرپروگرام میں نشر ہوتا ہے اور جس کی اجتماعی ذہانت نے سیاسیات کے جذبوں پر اپنی گرفت قائم کی ہوئی ہے اور حقائق تک کی صورت گری کرتی ہے۔ ان دنوں سیاسیات کے جذبے اور حقائق پر گرفت اور اپنی اجتماعی ذہانت کو چھوڑ دیا۔ حیف کہ ایک آدمی جو مرچکا تھا اور جابھی چکا تھا لیکن پھر بھی اس پر طاری تھا۔ یہی وجہ ہے کہ بزدلوں کی طرح انھیں اپنے حوصلے کو قائم رکھنے کے لیے ایک دوسرے کی مدد کی ضرورت تھی۔ کیا یہ سب اس کا غماز نہیں کہ وہ بخوبی اپنے دل میں اس بات کو جانتے تھے کہ وہ لوگ ایک انتہائی غلط کام میں تعاون کر رہے تھے۔
    گورو کی پھانسی کے مسئلے کو اگرایک طرف رکھ بھی دیا جائے تب بھی کیسے نظرانداز کیا جاسکتا ہے کہ حکومت نے وادیِ کشمیر کی پوری آبادی کو اجتماعی سزا کا نشانہ بنایا اور اس کی پھانسی کے نتیجے میں لگنے والے کرفیو کی وجہ سے عوام ضروری اشیا، دواؤں اور خبروں سے بھی محروم ہوگئے جو شہریوں کے ان حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے جن کی ضمانت دستور نے شہریوں کو دی ہے۔ حد یہ ہے کہ خود دارالحکومت (یعنی دہلی) میں بھی پولیس نے غیرقانونی طور پر اس (یعنی افضل گورو) کے بہت سے حمایتیوں اور ان کے بچوں تک کو کسی متعین الزام کے بغیر گرفتار کیا۔ گویا حکومت نے نمایشی طور پر قانون کے پردے (fig leaf) کو نظرانداز کردیا اور عوام سے بالکل اس طرح معاملہ کیا جس طرح کوئی غنڈا کرتا ہے۔
    ایسے اقدام کا لازمی نتیجہ ہے کہ لوگ دُور سے دُور ہوتے جائیں اور ان کے اور حکومت کے درمیان مغائرت ہی میں اضافہ ہو، اور یہ دُوری صرف کشمیر کے لوگوں تک ہی محدود نہیں بلکہ وہ لوگ بھی اس کا شکار ہوں گے جن کو اس حکومت سے یہ توقع تھی کہ وہ روشن خیالی پر کاربند ہے خواہ یہ روشن خیالی کتنی ہی جزوی اور کچی پکّی ہی کیوں نہ ہو۔
    امریکی روزنامہ انٹرنیشنل ہیرالڈ ٹربیون میں بھارت کے ایک صحافی مانو جوزیف نے پورے مسئلے پر بڑا بھرپور تبصرہ کیا ہے اور افضل گورو کے مقدمے اور حکومت کی کارکردگی اور اس کے تضادات پر جچی تلی تنقید کی ہے لیکن سب سے اہم سوال جو اس نے اُٹھایا ہے وہ بھارت کے نظامِ عدالت کے قابلِ بھروسا ہونے سے متعلق ہے'
    افضل گورو کی پھانسی جس نے اس کے خاندان کو صدمے سے دوچار کیا ہے اس نے پوری قوم کو بھی حیرت میں مبتلا کردیا ہے۔ ہاں، اس پر مختلف پارٹیوں کے سیاست دانوں نے خوشی کا اظہار کیا ہے اور عام شہریوں نے بھی۔ یہ کیسی دنیا ہے جو ایک طرف افضل کے بارے میں فتویٰ دیتی ہے کہ وہ اس زمین پر زندہ رہنے کے لیے موزوں نہیں، وہیں یہ ایک انسان کی موت پر جشن تک منانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ البتہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ایسے لوگ بھی بہت بڑی تعداد میں تھے جو اس پر نالاں اور متنفر تھے اور انھوں نے احتجاج بھی کیا۔ اور ان لوگوں کا تعلق محض وادیِ کشمیر سے نہ تھا جو افضل کی جاے پیدایش ہے اور جہاں کرفیو لگا ہوا تھا۔ اس پھانسی نے بڑے بنیادی سوالات اُٹھا دیے ہیں جو ایک بڑی تعداد کے لیے وجہِ تشویش بن گئے ہیں۔ اگر ان تمام سوالات کو ایک جملے میں سمو دیا جائے تو ان کا حاصل یہ تشویش ناک صورت ہے کہ:
    کیا بھارت کا نظامِ انصاف معیاری ہے، اور یہ کہ کیا اس کی اخلاقی سند (moral authority) اس امر کے لیے تسلیم کی جاسکتی ہے کہ اس کے حکم پر ایک انسانی جان کو ختم کیا جاسکے؟
    محمد افضل گورو کی شہادت نے بھارت کے جمہوریت اور انصاف اور قانون کی بالادستی کے دعووں کی قلعی کھول دی ہے اور اس پالیسی کو بے نقاب کردیا ہے جسے ریاستی دہشت گردی کے علاوہ کوئی اور نام نہیں دیا جاسکتا۔بظاہر اس پھانسی پر بھارت کے سیاسی حلقوں میں خوشی کے شادیانے بجائے جارہے ہیں لیکن فی الحقیقت یہ اس کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکا ہے اور ان لوگوں کی آنکھیں کھولنے کا ذریعہ بن سکتا ہے جو بھارت سے خیر کی توقع رکھتے ہیں۔
    جس طرح افضل گورو کو پھانسی دی گئی ہے اس پر دنیا میں بھارت کے عالمی شہرت کے ایک ماہرقانون فالی ایس نریمان نے برملا کہا ہے: ہمارا بدترین دشمن بھی اس سے بہتر نہیں کرسکتا تھا جس طرح یہ کیا گیا۔ یہ بعض کے لیے ایک بدقسمتی تھا اور اس کے نتیجے میں بھارتی ریاست نے اپنے کو چھوٹا کرلیا ہے اور اُمیدوں کے کم ترین معیار کو اختیار کرنے میں بھی ناکام رہی ہے۔

    کشمیر: خارجہ پالیسی پر نظرثانی کی ضرورت
    جہاں تک کشمیر کی تحریکِ آزادی کا تعلق ہے ہمیں یقین ہے کہ اس قسم کے ہتھکنڈوں سے نہ ماضی میں اسے دبا یا جاسکا ہے اور نہ مستقبل میں اسے کوئی نقصان پہنچانا ممکن ہوگا۔ اس لیے کہ ظلم اور استبداد کی چیرہ دستیاں حق پرستوں کا راستہ کبھی نہیں روک سکی ہیں اور آزادی کی تحریکیں خون کے ایسے ہی سمندروں کو عبور کر کے اپنی منزل کا سراغ پاتی رہی ہیں۔ ان شاء اللہ یہ خونیں واقعہ کشمیر کے مسئلے کو عالمی سطح پر ایک بار پھر توجہ کا مرکز بنانے کا ذریعہ بن سکتا ہے بشرط کہ پاکستان کی حکومت اور اُمت مسلمہ کی قیادتیں اپنے کشمیر ی بھائیوں کی اس مبنی برحق جدوجہد میں اپنا کردار ادا کریں۔
    سوال پیدا ہوتا ہے کہ بھارت نے اس خاص موقعے پر یہ اقدام کیوں کیا؟ ہماری نگاہ میں اس کی وجہ بھارت کی وہ بوکھلاہٹ ہے اور آنے والے حالات کے باب میں اس کا وہ اِدراک ہے جو پاکستان اور علاقے کی سطح پر ہونے والی تبدیلیوں کی بنا پر وہ محسوس کر رہا ہے۔ پاکستان میں جنرل پرویز مشرف کے دور میں کشمیر کے سلسلے میں جو قلابازیاں کھائی گئیں اور بھارت کے سلسلے میں جس پسپائی کا رویہ اختیار کیا گیا اور جسے زرداری دور میں زیادہ بھونڈے انداز میں جاری رکھا گیا ہے، صاف نظرآرہا ہے کہ اب اس سلسلے کا جاری رہنا محال ہے۔
    چند مہینوں میں نئے انتخابات کے نتیجے میں نئی سیاسی قیادت برسرِکار آئے گی اور وہ امریکا اور بھارت دونوں کے بارے میں موجودہ پالیسیوں پر بنیادی نظرثانی کرے گی۔ افغانستان سے امریکا اور ناٹو کی افواج کی واپسی کی وجہ سے بھی علاقے کے حالات میں بڑی تبدیلیاں آنے والی ہیں۔ عالمِ اسلام کے حالات بھی بدل رہے ہیں۔ ترکی، مصر، تیونس اور دوسرے ممالک میں ہونے والی تبدیلیوں نے پورے علاقے کے زمینی حکمت عملی (geo-strategic) کے نقشے کو بدل ڈالا ہے۔ مصر میں فروری ۲۰۱۳ء میں منعقد ہونے والی اوآئی سی کانفرنس میں عالمِ اسلام کے مسائل کے ساتھ کشمیر کو نمایاں حیثیت دی گئی ہے۔ خود پاکستان میں اس سال ۵فروری کو جس جوش اور ولولے سے ’کشمیر سے یک جہتی کے دن‘ کے طور پر منایا گیا ہے وہ آنے والے دور کی ایک جھلک پیش کرتا ہے۔ افغانستان میں امریکا نے بھارت کو جو رول دیا تھا، وہ بھی اب معرضِ خطر میں ہے اور پاکستان کی موجودہ ناکام کشمیر پالیسی میں بھی تبدیلی ناگزیر ہے۔ نیز بھارت کے اپنے اندرونی سیاسی حالات جن میں اگلے سال ہونے والے انتخابات اور بی جے پی کی نئی سیاست اہم ہیں، کانگریس حکومت کی بوکھلاہٹ کا سبب بنے ہوئے ہیں۔
    ان حالات میں بھارت نے ایک بار پھر قوت سے آزادیِ کشمیر کی تحریک کو دبانے کا اشارہ دیا ہے، لیکن اس کی حیثیت ایک ناکام پالیسی کو ایک بار پھر آزمانے کی حماقت سے زیادہ نہیں ہے ۔ تاریخ کا ایک تلخ سبق یہ ہے جن کو طاقت کا گھمنڈ ہوجاتا ہے وہ تاریخ سے کم ہی سبق سیکھتے ہیں اور وہی غلطیاں بار بار کرتے ہیں جو ماضی میں اقوام کی تباہی کا سبب بنی ہیں۔ ہم پاکستان اور مسلم اُمت کی قیادت کو دعوت دیتے ہیں کہ بھارت کے اس اقدام کے پس منظر میں غور کریں اور مقابلے کی حکمت عملی بنانے پر توجہ دیں۔
    یہ بہت ہی افسوس ناک ہے کہ افضل گورو کی شہادت پر جو ردعمل پاکستان کی قیادت کی طرف سے آنا چاہیے تھا وہ نہیں آیا۔ بلاشبہہ عوام اور اسلامی قوتوں نے اس کی بھرپور مذمت کی ہے لیکن افسوس کا مقام ہے کہ صدر، وزیراعظم اور وزیرخارجہ کو یہ توفیق بھی نصیب نہ ہوئی کہ واضح الفاظ میں اور پوری شدت کے ساتھ اس کی مذمت کرتے اور کشمیر ی عوام سے یک جہتی کا اظہار کرتے۔ وزارتِ خارجہ کا بھی ایک کمزور ردعمل واقعہ سے ۴۸گھنٹے کے بعد آیا ہے جو لمحۂ فکریہ ہے۔
    پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس کشمیر پالیسی پر فوری نظرثانی کرے جس پر حکومت گذشتہ ۱۲سال سے عمل پیرا ہے۔ ۲۰۰۳ء میں سیزفائر کے نام پر جو قلابازی کھائی گئی تھی اس نے تحریکِ آزادیِ کشمیر کو بے پناہ نقصان پہنچایا ہے۔ بھارت نے اسرائیل کی مدد سے بارڈر کو سیل کردیا ہے اور ایسی الیکٹرانک دیوار بنا دی ہے جس نے کشمیری عوام کی مشکلات میں اضافہ اور پاکستان کی حکمت کاری کے وزن (strategic leverage) کو بُری طرح متاثر کیا ہے۔ پھر جنگِ آزادی اور دہشت گردی کے جوہری فرق کو نظرانداز کرکے پاکستان نے اس کشمیر پالیسی کا شیرازہ منتشر کردیا ہے جس پر قائداعظم کے وقت سے لے کر آج تک قومی اتفاق راے تھا۔ جنوری ۲۰۰۴ء کا مشرف واجپائی معاہدہ ہماری قومی کشمیر پالیسی کو صحیح رُخ سے ہٹانے (derail) کا ذریعہ بنا اور پھر اقوام متحدہ کی قراردادوں کو نظرانداز (by-pass) کرنے اور روایت سے ہٹ کر حل ( out of box solution) کی تلاش میں ہماری سیاسی قیادت نے وہ بھیانک غلطیاں کی ہیں جس نے پاکستان کی سلامتی خطرے میں ڈال دی ہے اور ہمارے اسٹرے ٹیجک مفادات بُری طرح متاثر ہورہے ہیں ۔
    ان حالات میں وقت کی اہم ترین ضرورت ہے کہ مشرف اور زرداری دور کی خارجہ پالیسی کو ترک کر کے پاکستان کے مقاصد اور مفادات کی روشنی میں حقیقی طور پر آزاد خارجہ پالیسی تشکیل دی جائے جس میں ملک کے نظریاتی، سیاسی، معاشی، تہذیبی اور سیکورٹی کے حساس پہلوؤں کا ٹھیک ٹھیک احاطہ کیا جاسکے۔ یہ پالیسی پاکستان کی خارجہ پالیسی ہو، پاکستان کے لیے ایسی خارجہ پالیسی نہ ہو جس کی تشکیل پر واشنگٹن، لندن اور دبئی کا سایہ ہو۔ ہماری پالیسی پاکستان میں اور وہ بھی اسلام آباد میں عوام کی مرضی اور خواہشات کے مطابق پارلیمنٹ کے ذریعے بنائی جائے۔ ملک عزیز کو دوسروں پر محتاجی کی دلدل سے نکلا جائے اور خودانحصاری کا راستہ اختیار کیا جائے۔ اس کا مقصد پاکستان کو حقیقی معنوں میں ایک اسلامی، جمہوری، فلاحی اور وفاقی ریاست بنانا ہو۔ فطری طور پر اس میں کشمیر کی بھارت کے قبضے سے آزادی اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیر کے مستقبل کے حل کو ایک مرکزی مقام حاصل ہوگا۔ نائن الیون کے بعد اختیار کی جانے والی کشمیر پالیسی جنرل پرویز مشرف کی اُلٹی زقند اور ژولیدہ فکری کانتیجہ ہے جس کی وجہ سے ہم اپنی منزل سے کوسوں دُور جاپڑے ہیں۔
     

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں

سوشل میڈیا لنکس