Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

مسیحیت کے عالمی عزائم

  1. دنیاے اسلام میں عیسائی مشنریوں کی سرگرمیاں نئی نہیں ہیں۔ پچھلے کئی سوسال سے ان کی سرگرمیاں جاری ہیں۔ جب دنیاے اسلام میں نوآبادکاری ، یعنی کلونائزیشن کا سلسلہ شروع ہوا تو اس سے پہلے مسیحی سرگرمیاں شروع ہوچکی تھیں۔ جہانگیر کے زمانے میں ہندستان میں بڑی تعداد میں مشنری آچکے تھے ۔ کسی وجہ سے اکبر اور جہانگیر جیسے حکمرانوں نے عیسائی مشنری کو اجازت دے دی کہ وہ ہندستان میں اپنی سرگرمیاں منظم کریں۔ اس زمانے میں تاجر اور مسیحی مشنریوں دونوں اس طرح مل جل کر کام کررہے تھے کہ دونوں ایک دوسرے کے مقاصدکو آگے بڑھا رہے تھے۔ تاجرجب پیش رفت کرتے تھے تو عیسائی مشنریوں کے کام میں مدد ملتی تھی۔ عیسائی مشنری اپنے کام کو جتنا منظم کرتے تھے، اس سے تاجروں کے کام میں مدد ملتی تھی۔ اس طرح ہوتے ہوتے تقریباً دو سو ڈھائی سو سال کا زمانہ ایسا گزرا کہ تجارت اور مشنری سرگرمیاں دونوں ایک ساتھ چلیں اور جہاں جہاں انگریزوں کی تجارت منظم ہوتی گئی وہاں وہاں عیسائی مشنریاں بھی بہت زیادہ فعال اور مضبوط ہوگئیں۔
    اس دور میں عیسائی مشنریوں اور کمپنیوں کی تجارتی سرگرمیوں کی تاریخ دیکھی جائے تو اندازہ ہوگا کہ انھوں نے اپنی سرگرمیوں کا دائرہ ساحلی علاقوں میں پھیلایا۔ ساحلی علاقوں میں ان کے پاس بڑی مضبوط بحری طاقت تھی۔ پوری دنیا پر ان کا کنٹرول اسی بحری طاقت کے ذریعے تھا۔ اسی کے بل پر ان کے لیے یہ بات بڑی آسان تھی کہ وہ ساحلی علاقوں میں جاسکیں، اور اگر انھیں وہاں کوئی خطرہ درپیش ہوتووہاں سے فرار بھی ہوسکیں۔ چنانچہ انھوں نے ممبئی میں، سورت میں، مدراس ، کلکتے، کراچی، سنگاپور، ملایشیا اور گانامیں اپنی سرگرمیاں منظم کیں۔ آپ پوری دنیاے اسلام کا نقشہ سامنے رکھیں تو سب سے زیادہ مسیحی سرگرمیوں کی تنظیم آپ کو اُن ساحلی علاقوں میں ملے گی جو بڑے تجارتی مراکز تھے ،یا بعد میں بڑے تجارتی مراکز بن گئے۔ مسلمان حکمرانوں نے اپنی سادہ لوحی، عاقبت نااندیشی ،بے وقوفی، مفادات یا کسی اور سبب سے عیسائی مشنری سرگرمیوں سے غفلت برتی، جیسے آج بہت سی چیزوں سے وقتی مفاد کی خاطر ہمارے ہاں غفلت برتی جارہی ہے ۔ فوری، چند ٹکے کے مفاد کی خاطر وہ مراعات عیسائی مشنریوں کو دی گئیں جن کے نتائج آج ہم سب بھگت رہے ہیں۔
    ہندستان میں سب سے پہلے اورنگ زیب عالم گیر کو اس کا احساس ہوا کہ یہ سلسلہ بڑا غلط ہے۔ اس نے ان کی تجارتی کوٹھیاں چھین لیں۔ فرنگی محل لکھنؤمیں ایک بہت بڑی حویلی تھی، جوانگریزوں کو جہانگیر نے دی تھی، اور اسی لیے فرنگی محل کہلاتی تھی۔ اورنگزیب نے وہ حویلی ان سے چھین لی اور بعض علما کو دے دی کہ آپ یہاں دینی مدرسہ قائم کرلیں۔ چنانچہ فرنگی محل کے نام سے علما کا جوطویل سلسلہ ہے یہ اسی تجارتی کوٹھی میں قائم ہواتھا۔ اس میں سو ، سوا سوسال تک ایک بڑا دارالعلوم قائم رہا۔ مولانا عبدالحلیم فرنگی محلی، عبدالحئی فرنگی محلی سمیت علما کا طویل سلسلہ اس سے پیدا ہوا۔

    عالم اسلام میں مسیحی سرگرمیاں
    صرف ہندستان میں نہیں بلکہ دنیاے اسلام کے ہر گوشے میں ایساہی ہوا۔ یہاں تک کہ افریقہ میں ایک لطیفہ مشہورہے کہ جب انگریز یہاں آیا تو زمین ہمارے ہاتھ میں تھی اور کتاب اس کے ہاتھ میں تھی، یعنی بائبل، اور جب انگریز یہاں سے گیا تو کتاب ہمارے ہاتھ میں تھی اور زمین انگریز کے ہاتھ میں تھی۔گویا انھوں نے ہمیں عیسائی بنادیا اور ہماری زمینوں پر اور جایداد وں اور مال ودولت پر قبضہ کرلیا۔ یہ پورے افریقہ میں ہوا۔ افریقہ کے بیش تر حصوں پر کئی کئی سو سال انگریز قابض رہے ،اور بعض علاقے تو ایسے تھے کہ انھوں نے اس کو تقریباًگوروں کا ملک تصور کرکے کالوں کو وہاں سے نکال دینے کی کوشش کی، یا کالوں کو انھوں نے اس طرح سے مٹا دینا چاہا کہ وہ کبھی بھی ان کے مقابلے میں کھڑے نہ ہوسکیں۔ چنانچہ جنوبی افریقہ، زمبابوے وغیرہ یہ سب علاقے وہ تھے جہاں پر انگریزوں یا گوروں کی لاکھوں کی آبادیاں ہیں اور ان کے ذہن میںیہ تھا کہ ہم یہاں مستقل حکمران رہیں گے۔ چنانچہ ۴۰۰سال وہ جنوبی افریقہ پرحکمران رہے۔ ساڑھے تین سو پونے چار سو سال روڈیشیا میں حکمران رہے جس کا نام اب بدل کر زمبابوے کردیا گیا ہے۔اس کا نتیجہ یہ ضرور نکلا کہ اس پورے علاقے میں اکثریت کو انھوں نے عیسائی بنالیا۔ جہاں جہاں عیسائی حکمران ہوئے وہاں افریقی اکثریت عیسائی ہوگئی، اس لیے کہ ان کا کوئی مذہب نہیں تھا۔ ان کے سابقہ مذاہب میں کوئی جان نہیں تھی، کوئی تہذیب نہیں تھی، تمد ن نہیں تھا، تعلیم نہیں تھی۔ اس لیے بہت جلد ہی عیسائی مشنریوں نے ان کو اپنے دام میں لے لیا اوروہ عیسائی ہوگئے۔
    مسلم ممالک میں انھیں کام یابی نہیں ہوئی۔ انڈونیشیا سے لے کر مراکش تک کوئی بھی مسلم ملک ایسا نہیں تھا، جہاں انھیں ایک فی صد یا ایک فی ہزار بھی کام یابی ہوئی ہو ۔ ان پورے ۳۰۰سال میں ایسا نہیں ہوا کہ مسلمانوں میں سے انھوں نے کسی کو عیسائی بنایا ہو۔ اس بارے میں جتنے دعوے ہیں وہ سب کے سب یاتو مبالغے پر مبنی ہیں یا جھوٹ پرمبنی ہیں یا مسلمانوں کے خوف کی پیداوار ہیں کہ سندھ میں انھوں نے ۱۰لاکھ مسلمانوں کو عیسائی کرلیا۔ وہ سب غلط ہے۔ اِکَّا دُکَّا واقعات کہیں ہوئے ہوں گے لیکن اکثر وبیش تر نہیں ہوئے، نہ ان کے ذہن میں مسلمانوں کو عیسائی بنانا ہے۔ یہ ان کے ذہن میں واضح ہے کہ مسلمانوں کو بڑی تعداد میں عیسائی نہیں بناسکتے ۔ کم از کم اب تک مسلمانوں کی تعلیم اور دینی حمیت کی وجہ سے صورت حال یہی ہے، آیندہ کیا ہوگا ،ہم کچھ نہیں کہہ سکتے۔
    مسیحیوں کی حکمت عملی اور ترجیحات
    عیسائی کیوں اتنے تسلسل اور ارتکاز کے ساتھ کام کررہے ہیں؟ اس پر غور کریں۔ ان کی تحریریں دیکھیں جووقتاً فوقتاً چھپتی رہی ہیں، تواس کے دو بڑے اسباب معلوم ہوتے ہیں۔ اس کا ایک بڑا سبب تو یہ ہے کہ دنیاے اسلام میں بسنے والے ان غیر مسلموں کو جو معاشی اور معاشرتی اعتبار سے زیادہ اُونچا مقام نہیں رکھتے عیسائی بنایا جائے، اور عیسائی بنانے کے لیے ان کو یہ تاثر دیا جائے کہ ان کا معاشرتی مقام عیسائی بن کر بلند ہوجائے گا، کم از کم وہ عیسائیوں کے ساتھ برابر کی سطح پر سمجھے جانے لگیں گے ۔ اس طرح سے ان کو عیسائیت کے دائرے میں داخل کیا جائے۔ یہ چیز بڑی کام یابی کے ساتھ ہندستان میں، پاکستان میں، بنگلہ دیش میں عیسائیوں نے کی ہے۔
    ہندوؤں میں طبقاتی نظام تھا اور چار بڑے طبقات تھے جن کو تمام حقوق حاصل تھے۔ ان چار طبقات سے نیچے جو لوگ تھے جنھیں اچھوت کہتے ہیں ان کا کوئی طبقہ نہیں تھا۔ افسوس یہ ہے کہ مسلمانوں نے ایک ہزار سالہ دور حکومت میں بھی اس طبقے کی طرف کوئی توجہ نہیں دی اور اس طبقے میں قبولِ اسلام کے لیے کوئی کام نہیں کیا،اوراگر کیا تو وہ قابل ذکر نہیں تھا۔اس لیے نتیجہ خیز نہیں ہوااوروہ طبقہ اسی طرح ایک ہزار سال تک پستا رہا۔مسلمانوں نے بھی اسے پیسنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔اس لیے اس طبقے میں اسلام اور مسلمانوں کے لیے کوئی ہم درد ی کا جذبہ نہیں پایا جاتا تھا، لیکن جب عیسائی مشنری آئے تو انھوں نے سب سے زیادہ اس طبقے پر کام کیا۔ آپ دیکھیے پاکستان میں آج جتنا بھی خاک روبوں کا طبقہ کہلاتا ہے، یہ سارے کا سارا وہی ہے جو اچھوت ہے اورجسے ہندوؤں نے دباکر رکھا تھا۔ عیسائیوں نے ان کو عیسائیت میں داخل کرلیا ۔
    دنیاے اسلام کے بیش تر علاقوں میں یہی حکمت عملی نظر آئے گی کہ غیر مسلموں کا وہ طبقہ جو معاشرتی اعتبار سے کم زور تھا اس کو انگریزوں نے سر پرستی فراہم کی اور اس سرپرستی کے نتیجے میں ایک قابل ذکر تعداد عیسائیوں کی پیداہوگئی۔ یہ کام بڑی آسانی سے خاموشی کے ساتھ کئی سو سال میں ہواہے۔ آج عیسائیت کی آبادی پاکستان میں تین چار فی صد سے زیادہ نہیں ہے، لیکن بہ تدریج ان کا اجتماعی اور سیاسی کردار تیزی کے ساتھ بڑھایا جارہاہے۔ صرف پاکستان میں نہیں بلکہ پاکستان، سوڈان، لبنان ، عراق ،وسط ایشیا، بنگلہ دیش، انڈونیشیا، ان علاقوں میں عیسائی اقلیت کو بڑی تیزی کے ساتھ ترقی دی جارہی ہے، اور بڑی تعداد میں اس پر وسائل صرف کیے جارہے ہیں۔

    لبنان: ایک مثال
    تاریخ عبرت کے لیے ہے۔ لو گ تاریخ پڑھتے ہیں لیکن سبق نہیں لیتے۔ قرآن مجیدمیں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَعِبْرَۃً لِّاُ ولِی الْاَبْصَارِ (اٰل عمرٰن ۳:۱۳) ،’’دیدۂ بینا رکھنے والوں کے لیے اس میں بڑا سبق پوشیدہ ہے‘‘۔ فِیْ قَصَصِھِمْ عِبْرَۃٌ لِّاُولِی الْاَلْبَابِ (یوسف ۱۲:۱۱۱)، ’’اگلے لوگوں کے ان قصوں میں عقل و ہوش رکھنے والوں کے لیے عبرت ہے‘‘۔ اس کی ایک مثال لبنان ہے۔
    لبنان ایک چھوٹا سا ملک ہے اور اتنا چھوٹا کہ اگر چھوٹا نقشہ ہوتو روے زمین پرنظر بھی نہ آئے لیکن دنیا کے خوب صورت ترین مقامات میں سے ایک ہے۔ یہ روایتی طور پر شام کا ایک حصہ تھا، اور کبھی بھی الگ ملک نہیں تھا۔ شام میں ایک پہاڑ کانام لبنان تھا،لیکن عیسائی مشنریوں نے وہاں تقریباً ڈھائی سوسال پہلے سے کام کرنا شروع کیا۔ اس وقت یہ مسلم اکثریت کا علاقہ تھا۔ شام میں ہمیشہ مسلمانوں کی اکثریت رہی ہے۔ شامی مسلمانوں کی دینی حمیت اور دینی روایات پر پختگی ہمیشہ سے مشہور ہے۔ بڑے بڑے اہل علم، علماو صلحا اور بڑے بڑے محدثین سب شام میں پیدا ہوئے۔ ڈھائی تین سو سال پہلے وہاں عیسائی مشنریوں نے کام کرنا شروع کیا اور آہستہ آہستہ ایسے طبقات جومسلمانوں میں برابر کی سطح پر نہیں مانے جاتے تھے، ان کو عیسائیت میں داخل کرنا شروع کیا۔ اس دوران باہر کے عیسائی بھی وہاں آکر بستے گئے۔ وہاں بسنا اس لیے آسان تھا کہ لبنانی باشندے بھی خوب صورت گورے ہوتے ہیں اور عیسائی یورپ سے آنے والے بھی گورے ہوتے ہیں، تو رنگ کی اس یکسانیت کی وجہ سے باہر سے آنے والوں کا پتا نہیں چل سکتا ۔ پاکستان میں، سندھ میں اگرباہر سے لاکر سو انگریزوں کو بسادیں تو سب کومعلوم ہو جائے گا کہ یہ انگریز ہیں۔ البتہ لبنان جیسے علاقے میں ۲۵، ۳۰سال کے بعد بھی پتا نہیں چلے گا کہ فلاں کون ہے اورکہاں سے آیا ہے۔
    اس طرح عیسائی مشنریوں نے عیسائیوں کو باہر سے آہستہ آہستہ لاکر یہاں بسانا شروع کیا۔ آس پاس کے قرب وجوار سے، مصر سے، شام سے، عراق سے، ترکی سے، جو عیسائی ہوتا گیا اسے لاکر بساتے گئے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ لبنان میں عیسائیوں کی آبادی وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ۲۵،۳۰فی صد ہوگئی۔ جب یہ ہوگیا تو انھوں نے لبنان کو ایک الگ ملک بنادیا اور اس ملک میں اختیارات کی تقسیم یہ کی کہ اس میں اتنے فی صد عیسائی ہوں گے، اتنے فی صد شیعہ ہوں گے، اوراتنے فی صد سنی مسلمان ہوں گے۔ ان کے درمیان تقسیم کار یہ ہوگی کہ صدرمملکت ہمیشہ عیسائی ہوگا، وزیر اعظم شیعہ ہوا کرے گا یاسنی مسلمان ، اور پارلیمنٹ کا اسپیکر فلاں مسلمان ہواکرے گا ۔ اس طرح عملاً انھوں نے لبنان کو ایک عیسائی مملکت بنادیا ۔
    اس کے بعد عیسائیوں کی جتنی بھی مشنری سرگرمیاں عرب دنیا میں ہیں، وہ ساری کی ساری لبنان سے منظم ہوتی ہیں۔امریکن یونی ورسٹی بیروت وہاں ہے، جتنے عیسائی یونی ورسٹی ،کالج اور اسکول لبنان میں بنے اتنے عرب دنیا میں نہیں بنے، اور وہاں سے بیٹھ کر انھوں نے پوری دنیا میں مسلم دنیا میں،عرب دنیا میں سیکولر ازم اورلامذہبیت اور عرب نیشنل ازم کو فروغ دیا۔ عرب نیشنل ازم پر اور مسلم امت کے تصور کے خلاف سب سے زیادہ جو لٹریچر چھپا ،وہ ۹۰فی صد لبنان سے چھپا، عربی ادب اور صحافت کے نام پر جتنے بڑے صحافی اور ادیب عرب دنیا میں سیکولر ازم کے علَم بردار پیدا ہوئے وہ لبنان سے پیدا ہوئے۔ اب اندازہ ہوتا ہے کہ لبنان کو کس کام کے لیے تیار کیا جارہاتھا، کیوں ایسا ہورہاتھا۔ اس سے پتا چلا کہ جو کام وہ کرنا چاہتے ہیں اس کی وہ کئی سو سال پہلے منصوبہ بندی کرتے ہیں، اور ان کے ذہن میں کام کا مکمل نقشہ کام شروع کرنے سے پہلے موجود ہوتا ہے۔

    کمزور طبقات: خصوصی ہدف
    گذشتہ دو ڈھائی سوسال ہندستان میں عیسائیت کی تبلیغ کے لیے اسی طرح منظم محنت کی گئی۔ کم زور طبقات کے بارے میں یہ کوشش ہوئی کہ انھیں عیسائیت کی طرف لایا جائے۔ ہندوؤں کے اچھوتوں اور کم زور طبقات کوعیسائیت میں داخل کیا گیا۔ وہ اسی طرح بھنگی اور خاک روبی کا کام کرتے رہے۔مسلمانوں نے کہا کہ پہلے ہندو تھے، اب عیسائی ہوگئے، ہمیں کیا فرق پڑتاہے۔ کسی مسلمان نے اس پر سنجیدگی سے توجہ نہیں دی کہ اس کے نتائج کیا ہوں گے۔ اس کے بعد جب ایک بڑاطبقہ بن گیا اور تین چار نسلیں اس پر گزر گئیں۔ دو تین نسلیں گزرنے کے بعد ان میں پختگی آتی ہے، ورنہ وقتی طور پر آدمی نہیں سوچ سکتا کہ ہمیں کوئی کسی اور مقصد کے لیے استعمال کررہاہے۔ دو تین نسلوں کے بعد پختگی آگئی تو انھوں نے اس طبقے میں سے افراد کو چھانٹنا شروع کیا اور آہستہ آہستہ انھیں انگلستان اور امریکامیں اعلیٰ تعلیم دینا شروع کی۔ اس کے بعد انھیں اہم مناصب پر عدلیہ میں، سول سروس میں ، پولیس میں لاکر بٹھا رہے ہیں۔ ہمارا مزاج یہ ہے کہ انگلستان کا پڑھاہوا تعلیم یافتہ اور انگریزوں کی طرح سے فرفر انگریزی بولتاہوا ہمارے ہاں ہاتھوں ہاتھ لیا جاتاہے۔

    عیسائیوں کے مسلمانوں جیسے نام رکہنا
    یہ کوشش جب کی گئی تو معلوم ہوا کہ مسلمان ممالک میں جن کے نام میں بھی بشیر مسیح، فلپ یاپیٹر ہو تو پتا چلتاہے کہ یہ عیسائی ہے۔ عرب دنیا میں انھوں نے بڑی کامیابی کے ساتھ اس کو آزمایا تھا ۔ اب یہاں بھی اس کو آزمارہے ہیں۔ عرب دنیا میں آج سے ۵۰، ۶۰سال پہلے یہ طے کیا کہ جو شخص عیسائی ہو وہ نام انگریزی یا یورپین زبان کا اختیار نہ کرے، بلکہ عربی نام ہی اپنائے۔ آپ کو وہاں الیاس، ابراہیم اور موسٰی عیسٰی بہت ملیں گے۔ دنیاے عرب میں، بے شمار عربی نام رکھنے والے ملیں گے۔ آپ کو کوئی اندازہ ان کے لب ولہجے سے نہیں ہوگاکہ یہ عیسائی ہے۔
    پاکستان میں آپ کو عبدالقیوم اور بشیر الدین کے نام سے بہت سے عیسائی ملیں گے۔ اگر آپ عیسائیوں کے جو رسالے نکلتے ہیں ان کو پڑھیں تو آپ کو عیسائیت کی تبلیغ کرنے والے مسلمان نام رکھنے والے سیکڑوں کی تعداد میں ملیں گے۔ کچھ اندازہ نہیں ہوسکتا۔ معاشرے میں رہتے ہوں گے، میڈیکل ڈاکٹر کے طور پر پریکٹس کرتے ہوں گے ،عبدالقیوم نام ہوگا، ڈاکٹر عبدالقیوم سیالکوٹی۔ آپ کو ساری عمر پتا نہیں چلے گا کہ یہ عیسائی ہے لیکن وہ ہوگا عیسائی اور عیسائیت کی تبلیغ کر رہاہوگا۔

    گرجے کی مسجد سے مشابہت
    عیسائیت کی تبلیغ کے حوالے سے ایک مسئلہ یہ پیش آیا کہ آدمی جب مسلمان سے عیسائی ہوتا ہے تو مسلم معاشرے سے کٹ جاتا ہے اور مسلم معاشرے سے کٹ جانے کے خوف سے عیسائیت قبول نہیں کرتا۔ اس کا حل انھوں نے یہ نکالا کہ وہ تمام تدابیر اختیار کی جائیں کہ ایک نیا عیسائی مسلم معاشرے سے کٹنے نہ پائے، بلکہ اسی معاشرے کا حصہ رہے، اور اس معاشرے کے نسبتاً جو زیادہ سیکولر لوگ ہیں ان میں گھل مل جائے اور اس سیکولر طبقے کو اپنے قریب لانے کی کوشش کرے۔
    مسلم معاشرے میں عیسائی جب ایک خاص تعداد میں ہوجاتے ہیں اور وہ اپنے مذہبی مراسم کے لیے کوئی گرجا گھر بناتے ہیں تو مسلم معاشرے میں بڑا ردعمل پیدا ہوتاہے۔ کسی مسلم شہر میں گرجا بنائیں تو ردعمل ہوتا ہے، لوگ نکیر کرتے ہیں اعتراض کرتے ہیں کہ گرجا بنایا جارہاہے۔ اب انھوں نے یہ طے کیا ہے کہ جو گرجا بنایا جائے گاوہ ایک خاص طرز کا ہوگا۔ بعض مسلم ممالک میں قوانین ایسے موجود ہیں، جیسے پاکستان میں ہیں کہ جو مسلم امتیازی شعائرہیں، ان کو غیر مسلم اختیار نہیں کرسکتا۔ اسی طرح اور ممالک میں بھی یہ قوانین ہیں۔ اس کا حل انھوں نے یہ نکالا ہے کہ ہم آپ کو اس طرح کا ڈیزائن بنا کر دیں گے کہ جو سو فی صد مسلمانوں کی مسجد کا نمونہ تو نہ ہو لیکن درمیانے طورپر بین بین اس طرح کی چیز ہو کہ انجان آدمی اس کو گرجا نہ سمجھے ۔مسجد تو شاید سمجھ لے لیکن گرجا پر کسی کا گمان نہ ہو۔ اسلام آباد میں لقمان حکیم روڈپر ایسا ہی ایک گرجا موجود ہے۔
    پھر ایک تجویز ان کو یہ دی گئی کہ گرجاکو گرجا یا چرچ نہ کہا جائے بلکہ اس کو مسیحی مسجد کہا جائے۔ اور یہ کہا گیا کہ دیہاتیوں کو، جاہلوں کواس طرح کا تاثر دیا جائے کہ جیسے مسلمانوں میں وہابیوں کی مسجد اور غیرمقلدوں کی مسجد اور سنیوں کی مسجد اور بریلویوں کی مسجد اور فلاں فلاں مسجد کے نام ہیں، اسی طرح سے مسیحیوں کی مسجد کے نام سے اسے مشہورکردیا جائے اور عیسائی وہاں آنے جانے میں کوئی جھجک اور تامل محسوس نہ کریں۔ پاکستان میں یہ سلسلہ شروع ہوا ہے۔
    یہ چند مثالیں تو میں نے آپ کو دی ہیں کہ کس طرح سے نئے انداز سے عیسائیت کی تبلیغ کا کام ہورہاہے۔یہ تفصیلات ایک رپورٹ سے ماخوذ ہیں۔ جب ہم نے دعوہ اکیڈمی، اسلام آباد میں عیسائیت کے بارے میں یہ کورس شروع کیا تو اس رپورٹ کا ترجمہ کروایا تھا، جو مطبوعہ بھی تھا۔ ممکن ہے کہ اس کی ایک کاپی دعوۃ اکیڈمی، اسلام آباد کی لائبریری میں محفوظ ہو۔ یہ سیمی نار غالباً ۱۹۷۸ء یا ۸۰ء میں امریکا میں ہوا تھا، اور بڑاقابلِ ذکر سیمی نار تھا جو چھے مہینے جاری رہا تھا۔ اس میں دنیاے اسلام کے ہر بڑے ملک کے ایک ایک یادو دو ایسے پادریوں کو بلایا گیا تھا جنھوں نے ۴۰،۵۰سال عیسائیت کی تبلیغ کی تھی۔ ان کے تجربات کی روشنی میں مسیحیت کے فروغ کے لیے تجاویز دی گئی تھیں۔ اس سیمی نار کے مقالہ جات خفیہ طورپر شائع کیے گئے، لیکن کسی مسلمان کے ہاتھ لگ گئے، اس نے بڑی تعدادمیں شائع کرکے اہل علم کو فراہم کردیے۔ اس میں مختلف مضامین غور وفکر کے لائق ہیں، خاص طور پر پاکستان کے بارے میں جو مضمون ہے وہ واقعی ایسا ہے کہ اگر کوئی پڑھے تو اس کو کئی دن تک نیند نہ آئے اور پریشان رہے۔ اس رپورٹ کو پڑھ کر ہماری کیفیت ایسی معلوم ہوتی ہے کہ جیسے بالکل آپ دشمن کے سامنے کھلی پلیٹ کے طور پر رکھے ہوں اور آپ کی طرف سے کوئی مدافعانہ کارروائی نہ ہورہی ہو، اور دشمن ہماری ایک ایک چیز سے باخبر ہو۔

    عالمی غلبے کی حکمت عملی
    یہ تو وہ چیزیں ہیں جس میں عیسائیت کی تبلیغ کی رکاوٹیں اور مشکلات پرغور کیا گیاکہ انھیں کس طرح دور کیاجائے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ ایک طویل منصوبہ بندی اور حکمت عملی بھی بنائی گئی کہ پوری دنیا میں عیسائیت کی تبلیغ کے لیے کیا کرنا چاہیے اور کیسے اس کام کو آگے بڑھایا جائے۔ آج سے کچھ عرصے پہلے ۱۹۷۵ء میں ایک اجلاس غالباً ویٹی کن میں ہواتھا ۔ یہ ورلڈکونسل آف چرچز کا اجلاس تھا، یعنی آپ اسے مجلس کلیساے عالم کہہ سکتے ہیں یا مجلس کنیساے عالم۔ اس میں اسی طرح سے کئی مہینے کے غور وفکر کے بعد دنیاے اسلام میں عیسائیت کی تبلیغ کا ایک نقشہ بنایا گیا تھا کہ کس طرح کام کیا جائے۔ گویا آیندہ ۲۵سالہ کام کا وہ نقشہ تھا جو آخر بیسویں صدی کے ۲۵سال ہیں۔ خاص طور پر تین ممالک اس کا بڑا ہدف تھے: سوڈان، بنگلہ دیش اور انڈونیشیا ۔
    ان تین ممالک کو کیوں منتخب کیا گیا؟ ان تین ممالک میں جو چیز قدر مشترک تھی وہ یہ تھی کہ یہاں غیر مسلموں کی ایک بڑی قابل ذکر آبادی موجود تھی۔ بنگلہ دیش میں تو ۲۵فی صد ہندو ہیں، جنوبی سوڈان میں اکثریت غیرمسلموں کی ہے، اور انڈونیشیا میں ۲۰،۲۲فی صد کے قریب غیر مسلم ہیں۔ دوسری قدر مشترک یہ تھی کہ ان ممالک میں مسلمانوں کی بڑی تعداد دین سے ناواقف اور دینی تعلیم سے عاری تھی۔ تیسری بڑی قدر مشترک ان سب میں یہ تھی کہ یہ تینوں علاقے دنیاے اسلام کے تین کونوں پر واقع تھے۔ سوڈان ایک ایسے محل وقوع پرواقع ہے کہ اس کے ایک طرف ساری غیرمسلم آبادیاں ہیں اور ایک طرف سے مسلم آبادیوں سے ملا ہوا ہے۔ مسلم آبادیوں کو ہدف بنانے کے لیے اس راستے کو اختیار کیا جاسکتاہے، اور ان کا جو حصہ غیر مسلموں سے ملاہوا ہے، وہاں سے غیرمسلموں کو مدد فراہم کی جاسکتی ہے۔ ایسا ہی محل وقوع انڈونیشیا اور بنگلہ دیش کا ہے۔ جغرافیائی اعتبار سے ان تینوں ممالک کاتقریباً ایک جیسا محل وقوع ہے۔
    ایک قدر مشترک یہ تھی کہ یہاں جو مسلمان ہیں وہ اپنی تعلیم کی کمی کے باوجود بڑے پُرجوش اور جذباتی مسلمان ہیں، اور ان کے جوش و جذبے کو اسلام کے بجاے عیسائیت کے مفاد میں استعمال کیا جاسکتاہے۔ اس اجلاس میں یہ طے کیا گیا تھا کہ آیندہ ۲۵سال میں یہاں عیسائیت کاارتکاز اتنا کیا جائے کہ ان علاقوں کی ۲۰،۲۵فی صد آبادی کو عیسائی بنالیا جائے، اور وہ۲۵فی صد آبادی تعلیم میں ، تمدن میں، ملازمت میں، تجارت میں، مال ودولت میں اتنی مضبوط ہوکہ بقیہ ۷۰فی صد سے آگے ہو۔ اس ہدف کے حصول کے لیے انھوں نے انڈونیشیا، بنگلہ دیش اور سوڈان میں کام کا آغاز کیا۔

    انڈونیشیا، سوڈان اور بنگلہ دیش خصوصی ہدف
    عیسائیت کے عالمی غلبے کی حکمت عملی کے تحت انڈونیشیا، سوڈان اور بنگلہ دیش خصوصی ہدف کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس ہدف کے حصول کے لیے کیا حکمت عملی بنائی گئی ہے، اس کا اندازہ انڈونیشیا میں عیسائیت کے فروغ کے لیے کوششوں سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔
    انڈونیشیا دنیاے اسلام کا سب سے بڑا ملک ہے اور ساڑھے سات ہزار جزائر پر مشتمل ہے ،اور آبادی کے اعتبار سے سب سے بڑا مسلم ملک ہے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ۲۰کروڑ کے لگ بھگ اس کی آبادی ہوگئی ہے۔ موجودہ دنیا کے تین چار بڑے بڑے خطوں تک اس کی رسائی ہے۔ اگر دنیا کا نقشہ آپ کے سامنے ہوتو دنیا کا سب سے بڑا سمندر بحرالکاہل ہے۔ اس کے ایک طرف چین ہے اور ایک طرف امریکا ۔ گویا بحرالکاہل ایک ایسا سمندر ہے جس میں دو بڑی طاقتوں کاارتکاز ہے اور دنیا کی دو بڑی نیویاں بحرالکاہل میں ہیں ۔ اس سے آگے منجمدشمالی ہے جو کہ منجمد ہے۔ جنوب کی طرف آسٹریلیا ہے جہاں کئی سوسال پہلے مقامی آبادی کو مارپیٹ کے ختم کردیا گیا تھا اور اب وہ گوروں کا ملک ہے۔ گویا ایک طرف وہاں آسٹریلیا بیٹھا ہے، ایک طرف امریکااور ایک طرف چین ہے اور یہ پورا علاقہ ان کے کنٹرول میں ہے ۔
    اس کا مقابلہ کرنے کے لیے ڈاکٹر سکار نو نے یہ محسوس کیا کہ جب تک انڈونیشیا کی بحریہ بہت مضبوط نہ ہو، اس وقت تک انڈونیشیاکواوراس کے پیچھے جو مسلم ممالک ہیں انھیں خطرہ رہے گا۔ چنانچہ سکارنو نے چین کے تعاون سے بہت بڑی بحریہ بنائی۔ سوئیکارنو نے اس بحریہ کو بہت مضبوطی سے تیار کیا کہ اس علاقے میں اگر انڈونیشیا کے مفاد کے خلاف خطرہ ہوتو بحریہ وہاں کام دے۔ لیکن عیسائیوں نے بھی یہ محسوس کیا ہوا تھاکہ جب تک جزیروں کا یہ سلسلہ ان کے کنٹرول میں نہ آئے اس وقت تک انڈونیشیا سے ان کو خطرہ رہے گا اور پورے بحرالکاہل پر ان کا مکمل کنٹرول نہیں ہوسکے گا۔ اس لیے کہ چین تو بالآخر ان کے ہاتھ سے نکل جائے گا، جیسے اب نکل گیا ہے۔ اگر چین اور انڈونیشیا کی بحریہ کے درمیان اتحاد ہوجائے تو یہ اس پورے علاقے پر عیسائیت کی بالادستی کے لیے بڑاخطرہ ہے ۔ اس لیے انھوں نے انڈونیشیا کی قوت کو توڑنا چاہا، اور انڈونیشیا کی بحریہ کو ختم کرنا چاہا اور انڈونیشیا میں عیسائیوں کی ایک بڑی طاقت پیدا کرنی چاہی۔ انڈونیشیا کی بحریہ کو کمزور کرنے کے لیے انھوں نے بڑی تعداد میں عیسائیوں کی فوج میں بھرتی کروایا۔ ایک سازش کے تحت ۱۹۸۰ء میں پنگابیان نامی عیسائی کو مسلح افواج کا سپریم کمانڈر تک بنا دیا گیا۔ اس طرح اس نے بحریہ کو کمزور کرنا چاہا۔یہ کچھ اختصار کے ساتھ اس معاملے کاپس منظر ہے کہ انڈونیشیا کو اتنی اہمیت انھوں نے کیوں دی۔
    انڈونیشیا کے ان ساڑھے سات ہزار جزائر میں تین ساڑھے تین ہزار جزائر غیرآباد ہیں۔ وہاں کوئی رہتا ہی نہیں۔ اس لیے نہیں رہتا کہ تھوڑا دُور ہیں اور عام آدمی کے پاس کشتی رانی کے وسائل اتنے نہیں کہ وہاں آجاسکے، یا وہاں اس جگہ کو آباد کرنے کے لیے وسائل کی ضرورت ہے اور وسائل موجود نہیں ہیں، ٹریکٹر نہیں ہے۔ اب ایک آدمی ایک ٹریکٹر چھوٹی سی کشتی میں رکھ کر کیسے لے جائے۔ وہ جزائرعیسائی پادریوں نے خریدے کہ ہم ان جزائر کو آباد کریں گے، ان کو قابل کاشت بنائیں گے اور غریب کسانوں کو دیں گے۔ گورنمنٹ نے اجازت دے دی۔ انھوں نے اس طرح کئی سو جزیرے آباد کیے اور عیسائیوں کو لابسایا۔ ان میں ہیلی پیڈ بنائے، ان کو کشتیوں کے ایک نظام سے منسلک کیا اور انڈونیشیا کے بڑے جزائر تھے، جیسے جاوا، سماٹرا وہاں عیسائیت کی تبلیغ شروع کی۔ دوسری طرف یہ طے کیا کہ جو آدمی عیسائیت قبول کرے گا اس کو اتنی زمین قابل کاشت مفت ملے گی، اور اس کو وہاں مفت لے جائیں گے ، اور زمین اس کے حوالے کریں گے، مکان بنا ہوگا، سب کچھ بنا ہوگا۔ انڈونیشیا میں مکان بنانا مشکل نہیں۔لکڑی اور بانس سے بآسانی مکان بن جاتا ہے۔ وہاں کی قیادت نے نہیں سوچا کہ یہ ایک خاص سمت میں جزائر میں عیسائی آبادیاں کیوں بن رہی ہیں؟
    ہمارے ہاں بھی کسی نے نہیں سوچا کہ سیالکوٹ ، گوجرانوالہ اور تھرپار کرجیسے سرحدی علاقوں میں عیسائیوں کی مشنریاں کیوں پھیل رہی ہیں؟ یہاں عیسائیت کیوں پنپ رہی ہے؟ پاکستان میں کسی نے نہیں سوچا کہ یہ ملک مذہب کے نام پر بنا تھا۔ یہ طے ہواتھا کہ مسلم اکثریت پاکستان میں اور غیرمسلم اکثریت ہندستان میں جائے گی۔یہاں ایک غیر مسلم اقلیت ملک کے خاص حصے میں اپنی آبادی جمع کر رہی ہے۔ اگر کل وہ مطالبہ کریں کہ جس بنیاد پر کل آپ الگ ہوئے تھے اس بنیاد پر آج ہم الگ ہونا چاہتے ہیں اور دنیا ان کا ساتھ دے تو آپ کیا کریں گے؟ آج اس پہلو پر غور کرنے والا کوئی نہیں ہے، اور جب مسئلہ اُٹھ جائے گا تو سوچیں گے کہ کیا کریں؟ یہی انڈونیشیا میں ہورہاہے کہ جزائر انھوں نے بنادیے ہیں اور لگتاہے کہ کسی موقع پر انڈونیشیا کو وہ دوحصوں میں تقسیم کریں گے: ایک عیسائی اکثریت والا انڈونیشیا، اور دوسرا مسلم اکثریت والا انڈونیشیا۔(* مقالہ نگار نے یہ بات آج سے ۱۴برس قبل کہی تھی۔ آج یہ پیشین گوئی مشرقی تیمور کی شکل میں حقیقت کا روپ دھار چکی ہے۔ سوڈان کو بھی تقسیم کر کے جنوبی سوڈان کو عیسائی ریاست بنایا جاچکا ہے)۔
    مسلم حکمرانوں کی غفلت اور لمحۂ فکریہ
    آج کل دنیا میں بہ ظاہرسیکولرازم کا بڑا چرچا ہے اور ہمارے نااہل حکمران اور بااثر لوگوں
    کاطبقہ جنھیں حالات کا کچھ پتا نہیں ،جنھوں نے کبھی دنیا کے معاملات کو آنکھیں کھول کر نہیں دیکھا ،وہ یہ سمجھتے ہیں کہ دنیا میں واقعی سیکولرازم کا بڑا چرچاہے اور واقعتامغربی دنیا سیکولرازم کی علَم بردار ہے، اور مذہبی معاملات میں وہ غیر جانب دار ہے۔ لہٰذا ایک جدید انسان کو مذہبی طور پر غیرجانب دار ہونا چاہیے، حال آں کہ اس کا یہ مفہوم کبھی تھا، لیکن اگر آج یہ مفہوم مان لیا جائے تومغرب ایک منٹ کے لیے بھی غیر جانب دار نہیں ہے۔ وہ انتہائی تعصب کے ساتھ عیسائیت کے معاملے میں جانب دار ہے، اور انتہائی متعصبانہ انداز سے اسلام سے دشمنی کے وہ تمام مظاہر اور شرائط وعناصر اس میں موجود ہیں جو ایک انتہائی متعصب انسان میں ہوسکتے ہیں۔
    اس کا اگر آپ تجربہ کرنا چاہیں تو کسی عیسائی کے خلاف پولیس میں رپورٹ درج کروائیں کہ اس نے توہین رسالتؐ کا ارتکاب کیا ہے۔ صرف آپ سادہ سی شکایت درج کروائیں، آپ کواندازہ ہوجائے گا کہ یہاں کے بااثر طبقوں کا رویہ آپ کے بارے میں کیا ہے۔ پوری حکومت، آپ کی پولیس، آپ کی عدالت، آپ کے جتنے بھی ادارے ہیں وہ اُس کا ساتھ دیں گے اور آپ کو مجرم سمجھیں گے۔ آپ کو جان بچانا، عزت بچانا مشکل ہوجائے گی۔ اگلے دن پوری دنیا اس طرح ہلتی ہوئے نظر آئے گی کہ جیسے پتا نہیں کیا ہوگیا۔ لیکن عیسائی، مسلمانوں کا قتل عام بھی کردیں تو کسی کے کان پر جوں نہیں رینگتی، کسی اخبارمیں، کسی معروف چینل پر پوری طرح خبر بھی نہیں دی جاتی۔
    حقیقت یہ ہے کہ سیکولرازم اور مذہبی غیر جانب داری اور سب کو برابر کے مواقع ملنے کی باتیں عالمِ اسلام کے لیے ہیں، مگر برابری کا سوال امریکا میں پیدا نہیں ہوتا۔ امریکا میں کبھی مسلمان فوج کا جنرل نہیں ہوتا ،حال آں کہ وہاں بھی ۶۰لاکھ مسلمان ہیں۔ فرانس میں ۶۰لاکھ مسلمان ہیں، مگر وہاں کسی مسلمان کو اس بنا پر وزیر نہیں بنایا گیا کہ سب برابرہیں۔ ان کے ہاں اس قسم کی برابری نہیں چلتی۔ لیکن ہمارے ہاں پتا نہیں کس نے حکمرانوں کے دماغ میں بٹھادیا ہے کہ ہر وہ چیز جس کا ان کی طرف سے مطالبہ بھی نہیں ہوتا وہ از خود دینے کو تیار ہوتے ہیں اور جب بات کی جائے تو سننے کو بھی تیار نہیں ہوتے۔ جیساکہ پاکستان میں وزارت مذہبی امور کو دوحصوں میں تقسیم کردیاگیا ہے: وزارتِ مذہبی امور اور وزارتِ اقلیتی امور ۔ گویا ہمیشہ کے لیے اس بات کا بندوبست کردیاگیا ہے کہ کابینہ میں ایک غیرمسلم ضرور بیٹھا ہو۔ لہٰذا اقلیت کی وزارت موجود ہے، اور اس میں ہمارے مختلف عیسائی وزیر بھی ہوتے رہے ہیں اور وہ وقتاً فوقتاً طرح طرح کے مطالبات کرتے رہتے ہیں۔ چناں چہ انھوں نے یہ کہا کہ مذہب کا خانہ شناختی کارڈ میں نہیں آنے دیں گے۔ قادیانیوں کے خلاف آرڈی ننس پر، حالانکہ وہ صرف قادیانیوں کے بارے میں ہے، عیسائی سب سے زیادہ معترض ہیں۔ حدود قوانین میں جو مسلم اور غیرمسلم کی تخصیص ہے، اس پر معترض ہیں۔ عیسائیوں کے جورسالے پاکستان میں چھپتے ہیں ان میں اس طرح کے مطالبے بڑی جارحانہ اور فاش زبان میں ہوتے ہیں جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ایک بہت بڑی طاقت ہے جس کے پیچھے ایک بہت بڑی قوت ہے جو اپنے اندر بڑا اعتماد رکھتی ہے اور اس اعتماد کی بنیاد پر پوری مسلم امت سے ٹکرانے کے لیے تیار ہے۔ اس لیے کہ اسے معلوم ہے کہ حکومتوں میں جان نہیں ہے، حکمران کم زور ہیں یا مغرب کی طاقت سے خائف ہیں، اس لیے ہرمعاملے میں غیر مسلموں کا ساتھ دیں گے۔
    اس بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ عیسائی مشنریاں جو بڑی خدمت کرتے ہوئے نظر آتی ہیں، ہسپتال کھولتے ہیں، لوگوں کا علاج کرتے ہیں، اس کے پیچھے بہت بڑے عزائم ہیں اور ان عزائم کا مقابلہ آپ محض انھیں برا کہہ کر نہیں کرسکتے۔ لوگ اس طرح آپ کی بات نہیں مانیں گے۔ اس طرح کی کوئی چیز آپ اس وقت کرسکتے ہیں جب دینی شعور پیدا ہو۔ اس کے بعد دینی شعور کے ساتھ خدمت خلق کا وہ رویہ بھی موجود ہو، جو اس طرح کے لوگوں کو متاثر کرسکے۔ اس کے بغیر محض یہ کہنے سے کہ ہمارے دین اورعقیدے کے خلاف ایک سازش ہے، یہ چیز کام یاب نہیں ہوسکتی۔ اس صورت حال میں علماے کرام کی ذمے داری سب سے نمایاں ہے۔ اس لیے کہ ان کامعاشرے سے ہروقت رابطہ رہتاہے۔ ان کو جو مقام حاصل ہے وہ کسی اور کو حاصل نہیں ہے۔ اگر علما مسئلے کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے خلوصِ دل سے عوام کو توجہ دلائیں اور ان کا کوئی ذاتی مفاد بھی نہ ہو، تودینی شعور بھی بیدار ہوگا اور مسیحیت کے عزائم کو بھی ناکام بنایا جاسکے گا۔(کیسٹ سے تدوین: سیّد عزیز الرحمٰن)
     

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں









سوشل میڈیا لنکس