Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

سالارِ کارواں،میرِحجاز

  1. نبی اکرمﷺ کو اپنی زندگی میں چو مکھی لڑائی لڑنا پڑی۔ایک جانب آپ کے اپنے قبیلے والے اور دیگر سب قبائل کی مشرکانہ اور جنگی مہمات تھیں تو دوسرے جانب یہودو نصاریٰ کی سازشیوں اور دشمنی کاسامنا تھا ۔پھر ان سب سے زیادہ خطر ناک دشمنِ مدینہ کے منافقین تھے جو مارِ آستین بنے ہر وقت زہر اگلتے رہتے تھے ۔نبی پاک ہمیشہ دشمنوں کی نقل و حرکت اور ریشہ دوانیوں سے باخبر رہا کرتے تھے ۔مناسب وقت پر مناسب فیصلہ اور تحرک دشمن کے مقابلے کے لیے از حد ضروری تھا ۔آپ اس میدان میں نہایت جز رسی کا مظاہرہ فرمایا کرتے تھے ۔قریشِ مکہ اپنے تجارتی مال اور منافع کے ذریعے اسلام کے خلاف جنگیں منظم کرتے رہتے تھے ۔خندق کی خطر ناک جنگ کے بعد بھی قریش کی آتشِ عناد ٹھنڈی نہ ہوئی تھی انہی دنوں میں نبی اکرم کو اطلاع ملی تھی کہ قریش کا ایک تجارتی قافلہ شام سے مکہ واپس جارہا ہے۔ چونکہ آنحضور اور قریش برسرپیکار تھے اور کچھ ہی عرصہ قبل قریش نے مدینہ کی اینٹ سے اینٹ بجانے کے لیے سارے عرب کو جمع کرکے مدینہ پر چڑھائی کی تھی، اس لیے آنحضور نے ان لوگوں کی تادیب اور سرزنش کا فیصلہ فرمالیا۔ آپ نے حضرت زید بن حارثہؓ کو حکم دیا کہ وہ مکہ اور شام کی تجارتی شاہراہ کی طرف جائیںاور عِیص کے مقام پر اس قافلے کو روکیں۔ عِیص بحر احمر کے ساحل پر واقع ایک مقام ہے جو تجارتی قافلوں کا معروف پڑاﺅ تھا۔ اس کا محل وقوع مدینہ سے شمال مغرب کی طرف ہے اور قافلوں کے لیے مدینہ سے یہاں تک چار دن کی مسافت کا فاصلہ تھا۔ صحابہ کے دستے میں ایک سو ستر گھوڑ سوار شریک تھے۔ میرِ قافلہ ابو العاص حضرت زید بن حارثہؓ عِیص کے علاقے میں پہنچے تو قافلے کو وہاں پایا۔ صحابہ کو دیکھتے ہی اہلِ قافلہ کے ہاتھ پاﺅں پھول گئے۔ کسی لڑائی اور مزاحمت کے بغیر انھوں نے خود کو مسلمانوں کے حوالے کر دیا۔ اس قافلے کے پاس بہت سا مالِ تجارت تھا۔ سب سے زیادہ تجارتی سامان قریش کے سردار صفوان بن امیّہ کا تھا جو آنحضور کا شدید مخالف تھا۔ اس کا باپ امیّہ بن خلف بھی ہجرت سے قبل آنحضور اور آپ کے صحابہ کو ایذائیں پہنچانے میں بہت بدنام تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ تجارتی قافلے کا سربراہ ابو العاص بن ربیع تھا جو نبی اکرم کا داماد اور بنو امیہ کا ایک فرد تھا۔ حضرت زینبؓ بنت محمد تو مسلمان ہو کر مدینے آچکی تھیں مگر ابو العاص ابھی تک حالتِ کفر میں تھا۔ اس وقت تک سورة الممتحنہ نازل نہیں ہوئی تھی جس میں مسلمان عورتوں کو کافر شوہروں کے لیے حرام قرار دے دیا گیا۔ ابو العاص کا نام لقیط بن ربیع تھا۔
    حضرت زینب بنتِ محمد کا اعلانِ معافی
    جب حضرت زید بن حارثہؓ مالِ غنیمت اور قیدیوں کے ساتھ مدینہ پہنچے تو آنحضور مسجد میں نماز پڑھا رہے تھے۔ حضرت زینبؓ کو بھی واقعہ کی اطلاع ملی اور ابو العاص کو بھی معلوم تھا کہ زینبؓ مدینہ میں موجود ہیں تو اس نے حضرت زینبؓ سے درخواست کی کہ انھیں اور ان کے ساتھیوں کو چھڑانے کی کوئی سبیل نکالی جائے۔ حضرت زینبؓ نے اس سے تو کچھ نہیں کہا البتہ مسجد میں آکر بلند آواز سے کہا کہ میں نے ابو العاص کو امان دے دی ہے۔ جب نبی اکرم نے سلام پھیرا تو آپ نے صحابہ سے پوچھا زینب کی جو آواز میں نے سنی تھی کیا تم لوگوں نے بھی سنی؟ صحابہ نے عرض کیا جی ہاں۔ آپ نے صحابہ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ جان لو اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے مجھے اس بارے میں قطعاً کوئی پیشگی علم نہیں تھا۔ یہ زینب نے اپنی طرف سے اعلان کیا ہے۔ پھر آپ نے صحابہ سے پوچھا: جسے زینب نے امان دے دی ہے کیا ہم بھی اسے امان دے دیں تو صحابہ نے اثبات میں جواب دیا۔
    اہل سریہ کی رائے
    نبی اکرم نے صحابہ سے مشورے اور ابو العاص کو معاف کرنے کے بعد صحابہ کے سامنے اس پورے معاملے کو یوں رکھا۔ آپ نے فرمایا کہ ہم نے جو کچھ کہا وہ اپنی جگہ مگر زید بن حارثہ اور اس کے ساتھیوں کی رائے اس بارے میں حتمی ہوگی۔ آپ نے سریہ میں شامل تمام صحابہ کو بلایا اور ان کے سامنے فرمایا: یہ شخص یعنی ابو العاص ہمارے ساتھ جو تعلق رکھتا ہے وہ تم سب کو معلوم ہے۔ تم لوگوں نے مہم کے دوران اسے اور اس کے ساتھیوں کو گرفتار کیا ہے اور ان کا مال بطور غنیمت لے آئے ہو۔ اگر تم احسان کرو تو یہ تمھارا اختیار ہے اور ہم پسند کرتے ہیں کہ احسان کیا جائے اور اگر تم انکار کر دو تو تمھارے اوپر کوئی مواخذہ نہیں اور یہ تمھارا حق ہے جسے استعمال کرنے کی تمہیں آزادی ہے۔ اس صورت میں یہ مال اللہ نے آپ کو بطور غنیمت عطا کیا ہے۔ مہم میں شریک تمام صحابہ نے یک زبان کہا کہ یا رسول اللہ ہم بخوشی قیدیوں کو چھوڑنے اور ان کا مال انھیں واپس کرنے کا اعلان کرتے ہیں۔ جب سب نے متفقہ طور پر یہ بات کہی تو آنحضور نے پورا مال اہلِ قافلہ کو لوٹا دیا اور تمام قیدیوں کو چھوڑ دیا۔
    مال و دولتِ دنیا، متاعِ غرور
    جب رہائی عمل میں آئی تو بعض اہل مدینہ نے ابو العاص سے کہا کہ اے ابوالعاص آپ قریش کے معزز ترین لوگوں میں سے ہیں۔ آپ کو آنحضور کے ساتھ قریبی تعلق کا شرف بھی حاصل ہے۔ کیا یہ ممکن نہیں کہ آپ اسلام قبول کرلیں جبکہ آپ اسلام کے لیے نرم گوشہ بھی رکھتے ہیں۔ اس صورت میں یہ مال جو کفار و مشرکین کی ملکیت ہے( قبولِ اسلام کے بعد) آپ اپنے پاس رکھ لیں۔ ابو العاص بہت عظیم انسان تھے۔ انھوں نے فرمایا اے اہل مدینہ تم نے مجھے بہت برا مشورہ دیا ہے۔ کیا میں دینِ حق میں داخل ہونے کے لیے آغاز ہی غدر اور بد دیانتی سے کروں۔ خدا کی قسم ایسا کبھی نہیں ہوسکتا۔ اس کے بعد ابو العاص اپنے قافلے اور مال و متاع کے ساتھ مکہ چلے گئے۔ وہاں پہنچ کر تمام لوگوں کا مال پائی پائی کے حساب کے ساتھ انہیں ادا کیا۔ سب لوگ منافع کی خوشی کے ساتھ اس بات پر بھی فرحاں تھے کہ ان کی گم گشتہ متاع انھیں صحیح سالم واپس مل گئی ہے حالانکہ یہ ان کے دشمنوں کے قبضے میں جاچکی تھی۔
    مکہ میں کلمہ حق کا اعلان ابو العاص پہلے بھی اہلِ مکہ کے درمیان بہت معزز اور قابلِ اعتماد شخص تھے۔ اب ان کی شان مزید دوبالا ہوگئی۔ انھوں نے خانہ کعبہ میں آکرتمام قبائلِ قریش کو جمع ہونے کے لیے منادی کرائی۔ جب سب لوگ آگئے تو انھوں نے پوچھا اے اہل مکہ تمھارا جو مال میری امانت میں تھا کیا تمھیں پورے کا پورا مل چکا ہے۔سب نے ہاں میں جواب دیا ۔انہوں نے مزید سوالات کیے ۔اگر کسی کا کچھ بقایا ہو تو مجھے بتائیے۔ کیا میں نے اپنی ذمہ داری کو بطریق احسن ادا کیا ہے یا مجھ سے کوئی کوتاہی ہوئی ہے۔ سب لوگوں نے یک زبان کہا بخدا تم نے حق ادا کر دیا ہے، اللہ تمہیں بہترین اجر عطا فرمائے۔ ہم نے ہمیشہ تمھیں دیانت دار، امین اور کریم پایا ہے۔ یہ گواہی ہوجانے کے بعد انھوں نے کہا اے اہلِ مکہ تم گواہ رہو کہ میں مدینہ میں دل سے مسلمان ہو چکا تھا مگر میں نے وہاں اعلان کی بجائے اپنے اسلام کو چھپائے رکھاتاکہ تم یہ نہ سمجھوکہ میں نے کسی بزدلی یا مفاد کی خاطر ایسا کیا ہے۔ اب میں تمھارے سامنے اعلان کرتا ہوںاشھد ان لا الہ الا اللہ واشھد ان محمداً عبدہ ورسولہ۔ سب سرداروں نے یہ باتیں سنیں اور بعض نے سرگوشیاں بھی کیں مگر کسی کو مخالفت کی جرات نہ ہوسکی۔ اس کے بعد ابوالعاص مکہ سے مدینہ ہجرت کرگئے۔ آنحضور کو ان کے قبولِ اسلام سے فطری طور پر بے پناہ مسرت ہوئی۔ آپ نے حالتِ کفر میں بھی ان کی وفا شعاری اور ادب و احترام کی وجہ سے یہ فرمایا تھا کہ ابو العاص بہترین انسان ہے۔ اب قبولِ اسلام کے،بعض مورخین کے مطابق نبی پاک نے سابقہ نکاح ہی کی بنیاد پر میاں بیوی کو اکٹھارہنے کی اجازت دے دی جبکہ بعد مورخ طبری کے مطابق آپ نے حضرت زینبؓ کو تجدیدِ نکاح کے بعد ابو العاص کے ساتھ بھیج دیا۔
     

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں









سوشل میڈیا لنکس