Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

ایک حکایت ایک درس

  1. حکمرانوں کو اللہ سخت آزمائش میں ڈالتا ہے۔ حکمران اگر نیک و عادل، دیانت دار و غم گسار، نرم خو و ملنسار، خدا خوف و خوش گفتار، بااخلاق و صاحب کردار ہو تو رعایا رحمت ربانی کے سائے میں ہوتی ہے۔ ایسے حکمران کے متعلق آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ سات قسم کے خوش قسمت انسان، روزِ حشر، جب کوئی سایہ سوائے عرش الٰہی کے سائے کے دستیاب ہی نہ ہوگا، اس سایہ عرش میں جگہ پائیں گے۔ ان میں پہلے نمبر پر عادل حکمران ہوگا۔ عدل و انصاف کا معیار خلافتِ راشدہ نے قائم کیا کیوں کہ انسانوں میں سے سب سے زیادہ عادل حکمران خود نبی رحمت تھے۔ آپ کی مکمل پیروی ان عظیم ہستیوں کا طرہ امتیاز تھا۔
    تاریخ کے ہر دور میں کہیں نہ کہیں خیر کا کوئی نخلستان شر کے وسیع و عریض ریگزاروں کے درمیان نظر آ جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ قدیم ایران (فارس) کا ایک حکمران نوشیرواں بڑا منصف مزاج تھا۔ وہ اپنے عدل کے لیے بطور ضرب المثل پیش کیا جاتا ہے۔ اسے مورخ لکھتے ہی نوشیروانِ عادل ہیں۔ فارسی ادب کی حکایات عبرت و موعظت میں ایک واقعہ ملتا ہے جو بڑا سبق آموز ہے۔ ہوا یوں کہ نوشیرواں اپنے درباریوں اور حواریوں کے ساتھ جنگل میں شکار کو نکلا۔ سوئے اتفاق کہ بادشاہ کے تمام ساتھی اس سے بچھڑ گئے اور وہ تنہا رہ گیا۔ آخر اپنے گھوڑے پہ سوار وہ کسی منزل کی تلاش میں جنگل سے باہر نکلا۔ اسے ریگستان میں دور درختوں کا ایک جھنڈ نظر آیا۔ جب وہاں پہنچا تو دیکھا کہ ایک بوڑھا صحرائی درخت تلے بیٹھا ہے۔ علیک سلیک ہوئی تو بوڑھے نے اجنبی کو خوش آمدید کہا اور اس کی تواضع میں لگ گیا۔ مسافر سخت پیاسا تھا۔ بوڑھے نے انار کے ایک درخت سے ایک تر و تازہ انار اتارا، اسے نچوڑا، مشروب تازہ کا ایک گلاس (پیالہ) بھر گیا۔
    مہمان نے بصد تشکر مشروب پیا، لطف آگیا۔ اس نے سوچا کہ یہ کسان و باغبان تو بڑے صاحبِ ثروت لوگ ہوں گے، ایک دانہ انار سے اتنا رس نکل آیا۔ ان پر تو ٹیکس عاید کرنا چاہیے۔ ساتھ ہی اس نے خواہش ظاہر کی کہ شدید پیاس کی وجہ سے اسے ایک اور جامِ مشروب درکار ہے۔ یہ دہقانی و دیہاتی لوگ بڑے مہمان نواز ہوتے ہیں۔ بوڑھا کسان خوش دلی سے باغ کی طرف بڑھا، اس مرتبہ اس نے ایک نہیں دو نہیں، تین چار انار نچوڑے مگر پیالہ پوری طرح نہ بھر سکا۔ مہمان نے حیرت سے پوچھا کیا ہوا، پہلے انار میں اتنا بھرپور رس اور اس مرتبہ چار دانوں سے اتنا قلیل رس؟ کسان نے فوراً کہا ”معلوم ہوتا ہے ہمارے حکمران کی نیت میں کوئی فتور آگیا ہے۔“ یہ سن کر نوشیرواں نے اپنے ارادے سے رجوع کیا اور اللہ سے معافی مانگی۔
    حکمرانوں کی نیک نیتی سے اللہ خوش ہوتا ہے اور اس کے نتیجے میں رعایا پر رحمتوں کی بارش نازل ہوتی ہے۔ برے حکمرانوں کو اللہ روزِ حشر سب سے زیادہ دردناک اور عبرت انگیز عذاب دے گا۔ دنیا میں حکومت دے کر انھیں آزمایا گیا تھا کہ وہ کیسے حکمران ثابت ہوتے ہیں۔ ظالم و سفاک اور بدعنوان و بددیانت شخص اللہ کو سخت ناپسند ہوتا ہے اور اگر حکمران ان بیماریوں میں مبتلا ہوں تو اللہ کا غضب ان کے لیے کئی گنا بڑھ جائے گا۔ اسی طرح رعایا کا بھی معاملہ ہے۔ رعایا اخلاقی برائیوں میں مبتلا ہو جائے تو اسے قسم قسم کے عذابوں میں مبتلا کر دیا جاتا ہے۔ رہے برے حکمران تو وہ بھی رعایا کی بدعملیوں کے نتیجے میں ان پر بطور عذاب مسلط کیے جاتے ہیں۔ سوچیے ہم کہاں کھڑے ہیں؟ اگر حکمران بدنیت و بدعمل ہیں تو ہم عوام کو اپنا جائزہ لینا چاہیے، یہ ہمارے ہی اعمال کا منطقی نتیجہ ہیں۔ ”اعمالکم عمالکم“ یعنی تمہارے اعمال کے مطابق ہی تم پر حکمران مسلط کیے جاتے ہیں۔
    وطن عزیز میں زمینیں سونا اگل رہی ہیں، باغات پھلوں سے لدے ہوئے ہیں، ملک کے طول و عرض میں ہر جانب بہار ہی بہار نظر آتی ہے مگر کہیں برکت ہے نہ سکون، ہر جانب محتاجی و غربت، بدامنی و لاقانونیت، اندھیرے اور مایوسیاں! بھولے بھالے اہل وطن! آنکھیں کھولو، ہوش میں آﺅ، بہت اندھیرا ہے، دیپ جلاﺅ! غفلت کی مزید کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔ اس سب کچھ کا حقیقی سبب حکمرانوں کی بدنیتی و بد عملی ہے۔ اگر اس طبقے کو تبدیل نہ کیا گیا تو پھر خدا نخواستہ ہمارا حال یہ ہوگا کہ ”داستان تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں۔“
     

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں

سوشل میڈیا لنکس