Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

وا معتصماہ

  1. عافیہ صدیقی اس قوم کی بیٹی ہے جس کے اسلاف اپنی ہی نہیں حوا کی تمام بیٹیوں کی عزت و ناموس کے محافظ تھے۔ آج بد قسمتی سے جس قوم سے عافیہ کا تعلق ہے، اس پر وہ لوگ مسلط ہیں جو انسانی لباس میں ہوتے ہوئے حیوانوں سے بھی بد تر سوچ رکھتے ہیں۔ عافیہ تم مظلوم ہو، بے گناہ ہو، تمھارا جرم صرف یہ ہے کہ ایک مردہ قوم اور پژمردہ ملت کی بیٹی ہو۔ تمھارے عزم و ہمت کا ریکارڈ تاریخ اپنے سینے میں محفوظ رکھے گی مگر تم بد قسمت ہو کہ مشرق سے مغرب تک پھیلی ہوئی اربوں کی آبادی پر مشتمل تمھاری اس قوم میں آج کوئی طارق بن زیاد ہے نہ محمد بن قاسم۔ تاریخ ترس رہی ہے اور دھرتی چشم براہ ہے، مگر کہیں سے کوئی صلاح الدین نمودار نہیں ہو پارہا، نہ کوئی محمود غزنوی ہے، نہ کسی ایوانِ اقتدار میں کوئی معتصم! ہرجانب راسپوٹین ہیں اور داہر۔
    تاریخ میں ایک دور وہ تھا جب حوا کی بیٹی کو عار سمجھا جاتا تھا، اسے پیدا ہوتے ہی زندہ درگور کر دیا جاتا تھا۔ وہ سنگ دل لوگ تھے، وحشی اور گنوار تھے۔ انسانیت کی اعلیٰ اقدار سے بے خبر اور نابلد۔ ان کابھیانک نقشہ تاریخ نے ہی نہیں اللہ کی کتابِ مقدس نے بھی کھینچا ہے۔ بلا شبہ ان کی تصویر بڑی بھدی اور ان کا ریکارڈ قابلِ نفرت ہے۔ان کی پستی پر رونا آتا ہے مگر وہ تو پھر بھی شاید بے غیرت لوگوں سے اچھے تھے کہ بیٹی کو ان کے نزدیک زندہ درگور کرنا اس لیے ضروری تھا کہ کل کلاں کسی جنگ کی صورت میں ان کی بیٹیاں کسی دشمن کے قبضے میں آکر رسوا نہ ہوجائیں۔ ذرا سوچیے جو اپنی بیٹیوں کو پال پوس کر اعلیٰ تعلیم سے آراستہ ہونے کے بعد خود دشموں کے ہاتھ بیچ ڈالیں ،ان کے متعلق وحی نازل کرنے والا خالقِ ارضِ وسماءکیا فرماتا ہوگا !”خسرالد نیاوالاخرة ذلک ھوالخسران المبین۔“
    عافیہ تجھے جس قوم نے اپنی آغوش میں پالا ہے وہ تو آج اس مقام پر آگری ہے کہ اس کے کار پردازوں نے خود اپنے ہاتھوں سے تجھے درندوں کے ہاتھ بیچا۔ دنیا تماشا دیکھتی رہی اور ہنوز دیکھ رہی ہے۔لوگ کہتے تھے کہ غدار ملک و قوم ،قاتل دستورو اخلاق ،ہادمِ لال مسجد سے جان چھوٹے گی تودن بدلیں گے ۔چہرے بدلے مگر نہ نظام بدلا نہ سوچ بدلی اور یہ چہرے تو کب سے بدل رہے ہیں مگر تم جیسی کتنی ہی معصوم بیٹیاں درندوں کی بھینٹ چڑھیں اور نامعلوم کتنی مزید چڑھیں گی۔ہنوز وہی شب وروز ہیں اور وہی پتلی تماشا! تمھارے کیس کو میڈیا نے پوری دنیا میں گھر گھر پہنچا دیا مگر باوسائل اور طاقت ور مسلمان ممالک میں کہیں سے کوئی تیری پکار پر لبیک کہنے والا نہ اٹھا۔خود تیرا پاکستان ٹِک ٹِک دیدم دم نہ کشیدن کی تصویر بنا رہا ۔صدیوں قبل سندھ کے ساحل پر دیبل کی بندرگارہ کے قریب، امت مسلمہ کی ایک بیٹی نے دہائی دی تھی۔ نہ اس دور میں یہ میڈیا تھا نہ ذرائع رسل و رسائل مگر دل زندہ تھے، سماعت و بصارت کام کر رہی تھی، غیرت و حمیت موجود تھی۔
    عافیہ تجھے خوب معلوم ہے کہ تیری اس بہن کی آواز فضاﺅں کا سینہ چیرتی ہوئی، جنگلوں، پہاڑوں ، دریاﺅں اور سمندروں کو عبور کرکے تیری امت کے اہلِ حل و عقد تک پہنچ گئی تھی ۔ اگرچہ وہ اہلِ اقتدار بہت مثالی اور اعلیٰ مقام پر نہ تھے مگر ابھی غیرت و حمیت موجود تھی ،زندگی کی رمق باقی تھی، وہ زندہ تھے، مرے نہیں تھے۔ حجاج بن یوسف اگر تاریخ میںاپنے ظلم و ستم کے لیے بدنام ہے تو اس سے زیادہ ظلم و ستم تیری قوم پر مسلط آج کے سفاک حکمران کر رہے ہیں۔ وہ اگر کوفہ و بصرہ اور حجاز میں اپنے لوگوں پر ظلم ڈھاتا تھا تو بلاشبہ یہ بہت بری بات تھی لیکن اس کی یہ خوبی تو تسلیم کی جانی چاہیے کہ وہ کافروں اور دشمنوں کے سامنے بھی بھیگی بلی بننے کا روادار نہ ہوا۔ وہ ڈٹ گیا کہ مظلوم بیٹی نے پکارا تھا۔
    ”لبیک یا بنتی“ میں حاضر ہوں میری بیٹی ، کی پکار درودیوار نے سنی اور پھر حجاج کی نگاہِ انتخاب اٹھی تو اس پاکیزہ صفت نوجوان پر پڑی جس کے دامن پر کوئی دھبہ نہ تھا۔ وہ ہماری تاریخ کا اجلا اور زریں کردار تھا، اس کی جوانی بے داغ اور ضرب کاری تھی۔ یہ وہی ابنِ قاسم ہے جس کا نام سنتے ہی آج بھی مظلوم بیٹیوں کی آنکھوں میں چمک پیدا ہوجاتی ہے۔ وہ عرب کے ریگزاروں سے اٹھا اور ہزاروں میل کی مسافت طے کرتا ہوا سندھ کے ساحل پر آن اترا۔ اس دھرتی نے پہلی بار اللہ کی ازلی و ابدی کبریائی اور محمد کی عالمگیر راہ نمائی کی صدائیں سنیں۔ تاریخ نے دیکھا کہ محمد عربی کی بیٹی کو نظرِ بد سے دیکھنے والوں کا پر غرورسر پھوڑدیا گیا اور محمد بن قاسم اس بات کی علامت بن گیا کہ غیرت مند بھائی، بہنوں کی عزت پر ہاتھ اٹھانے والوں کا خاتمہ کیے بغیر چین سے نہیں بیٹھ سکتے!
    اور ہاں! یاد آیا، مزید دورِ انحطاط کے باوجود جب بغداد میں خاندانِ عباسیہ کا پہلا ان پڑھ حکمران تخت نشین تھا تو تاریخ نے پھر دردناک آواز میں پکارا۔ بغداد کا تخت نشین معتصم باللہ نہ صرف ان پڑھ تھا بلکہ فال گیری اور توہمات کا شکار بھی تھا۔ ہزاروں میل دور روم کے بازار میں جب اس کی ایک بیٹی نے اس کا نام لے کر اپنی عزت کی دہائی دی تھی اور اس کے الفاظ وامعتصماہ! اس کے دربار میں پہنچے تو اس کا چہرہ متغیر ہوگیاتھا۔ وہ جوشِ انتقام سے لرزنے لگاتھا۔ اس نے اسی وقت سپہ سالار کو حکم دیا کہ وہ اپنی فوجوں کو تیار کرے۔ درباری فال گیر اور جوتشی اپنے زائچے سجا کر کہنے لگے کہ امیر المومنین یہ گھڑی منحوس ہے ،اقدام کے لیے مناسب نہیں ہے۔
    آج تک بغداد کا تخت نشین فال گیروں کی باتوں پر کان دھرتا رہا تھا مگر آج اس کاپیمانہ صبر لبریز ہوگیا۔ آج اس ان پڑھ اور توہم پرست حکمران کی غیرت نے اس کی جہالت اور توہم پرستی کو بھی ملیا میٹ کر دیا اور اس نے گرج کر کہا کہ ان بدبختوں کو میرے دربار سے نکال دو اور ان کے منحوس چہرے آیندہ کبھی میرے سامنے نہ آنے دینا۔اس نے شیر کی طرح دھاڑتے ہوئے کہا کہ جس کی بہن اور بیٹی کی عزت لٹ جائے اسے یہ مشورہ دیا جائے کہ وہ ابھی چین سے بیٹھے، یہ کہاں کی انسانیت ہے اور یہ کون سا علم ہے ۔ پھر تاریخ نے دیکھا کہ معتصم اپنی سپاہ کے ساتھ روم گیا اور اس نے اپنی ملت کی بیٹی کا انتقام لیا۔ معتصم کا یہی کارنامہ اسے زندہ رکھے ہوئے ہے ۔
    عافیہ تمھیں اپنی تاریخ کا یقینا علم ہوگا لیکن تم اس بات سے بھی باخبر ہو کہ آج کے حکمرانوں کو ”آبا سے اپنے کوئی نسبت نہیں“۔ عافیہ تم نے ٹھیک کہا تھا کہ امریکی عدالتوں اور جیوریوں سے انصاف کی کوئی توقع نہیں۔ ہمیں بھی اس بات کا یقین تھا لیکن اس عدالت اور جیوری سے، اس عالمی دہشت گرد ملک کے درندہ صفت حکمرانوں اور بدکردار فوجیوں سے ہمیں کیا گلہ۔ وہ تو دشمن ہیں اور ان سے دشمنی کے سوا کیا مل سکتا تھا۔ رونا تو یہ ہے کہ آج ہم اس صورتِ حال سے دوچار ہیں، جس کا نقشہ اس قوم کے دکھوں پر کڑھنے والا ان الفاظ میں نقشِ حجر کر گیا تھا ”حمیت نام تھا جس کا گئی تیمور کے گھر سے“۔
    عافیہ تیرے خلاف لگنے والے تمام الزام جھوٹے ثابت ہوئے۔ خود امریکہ کے اپنے ماہرین کی رپورٹیں چیخ چیخ کر کہہ رہی ہیں کہ جس بندوق کو پیش کیا گیا کہ تو نے اس سے گولی چلائی تھی، اس کی لبلبی پر تیری انگلیوں کے کوئی نشان نہیں۔ ماہرینِ اسلحہ نے یہ رپورٹ بھی دی کہ اس بندوق سے کوئی گولی چلائی ہی نہیں گئی اور پھر یہ بات بھی ریکارڈ پر ہے کہ مبینہ وقوعہ کے وقت تو اس پوزیشن میں نہ تھی کہ وہ بھاری بھر کم گن اٹھا سکتی کجا یہ کہ اس سے فائر کر دیتی۔ اس عدالت کو کیسے عدالت کہا جائے اور اس جیوری کے ارکان کو کیسے انسان تسلیم کیا جائے جس نے ان سارے شواہد کے باوجود تمھیں مجرم قرار دیا۔ کیا اس جج کو کسی بھی پیمانے سے منصف قرار دیا جاسکتا ہے جو تجھے مجرم قرار دینے کا ذمہ دار ہے؟ عافیہ تم اخلاقی طور پر جیت گئی ہو۔رہاقانونی معاملہ تو آج دنیا میں جنگل کا قانون ہے ۔ عدالت کہیں اور لگے گی اور وہاں حق و انصاف کے فیصلے ہوں گے ”ولایظلم عندہ‘ احدا۔“
    عافیہ تم یقینا یہ سوچنے میں حق بجانب ہو کہ تمھیں لا وارث اور بے یارومددگار چھوڑ دیا گیا ہے۔ تم یہ بھی سوچ سکتی ہو کہ پوری ملت راکھ کا ڈھیر ہوچکی ہے، تمھیں سب کچھ سوچنے کا حق ہے مگر ایک بات پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ اس مردہ قوم کے درمیان اب بھی کچھ زندہ نفوس اور پاکیزہ ارواح موجود ہیں۔ راکھ کے ڈھیر میں کچھ چنگاریاں اب بھی پنہاں ہےں۔ لاکھوں ہاتھ رات کی تنہائیوں میں تمھارے لیے بارگاہِ ربانی میں اٹھ جاتے اور لاکھوں دامن پھیل جاتے ہیں۔ آہیں اور سسکیاں بھی ہوتی ہیں، آنسو اور آرزوئیں بھی۔ یہ وہ لوگ ہیں، جن کے اختیار میں اتنا ہی کچھ ہے کہ وہ دن کو اپنا احتجاج ریکارڈ کرادیں اور پھر رات کی تنہائیوں میں اپنے رب سے تیرے لیے دعائیں کریں۔
    ہاںعافیہ! یہ بات بھی یاد رہے کہ جس سرزمین سے کچھ منافقوں نے تیرے وطن کے منافقوں کی ملی بھگت سے تجھے راسپوٹینوں کے سپرد کیا، اس کے سنگلاخ پہاڑوں میں تیرے وہ بھائی بند آج بھی سینہ سپر ہیںاور تیری عزت سے کھیلنے والوں، تیری آزادی چھیننے والوں اور تیری قیمت وصول کرنے والوں، اندر اور باہر کے سب درندوں سے برسرِ پیکار ہیں۔ وہ غیرت مند تو یہ بھی گوارا نہیں کرتے کہ ان کے ہاں آیا ہوا کوئی مہمان کسی دشمن کے سپرد کر دیا جائے خواہ اس کے بدلے انھیں کتنا ہی مالی نفع مل رہا ہو۔ وہ تو یہ بھی پسند نہیں کرتے کہ ان پر بے وفائی کا دھبہ لگ جائے اگرچہ اس کی پاداش میں ان کی بستیوں کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا جائے اور ان کو بارود کا ایندھن۔ وہ اپنی بہن اور بیٹی کی عزت کو کیسے بیچ سکتے ہیں؟ انھوں نے تو یہ بھی اعلان کر دیا ہے کہ تو ان کی بیٹی اور بہن ہے اور تجھے سزا سنانے والوں کو پیغام دے دیا ہے کہ ان کے پاس اس طائفہ درندگان کے جو افراد قید ہیں انھیں تیرے انتقام میں تہہ تیغ کر دیا جائے گا۔
    اے مضبوط ایمان کی مالک عافیہ! تیری جسمانی و ذہنی حالت ابتر ہے مگر تیری عزیمت کو سلام کہ تو اب بھی ظلم کو ظلم کہتی ہے ۔سید قطب شہید کے الفاظ میں تو نے ان لوگوں کو جو ظلم کے ساتھی بنے بیٹھے ہیں یہ پیغام دے دیا ہے: ”افسوس ہے ان لوگوں کی عقل پر جو ظالم کو ظلم سے روکنے کے بجائے مظلوم کو درس دیتے ہیں کہ وہ ظالم کے قدموں میں گر جائے“۔ بددلی اور مایوسی گناہ ہے۔ ظلم کی اندھیری رات آخر کٹ جائے گی۔ اندھیروں کا سینہ چیرنے کے لیے بڑی قربانی دینا پڑتی ہے کہ ”خونِ صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا “۔ عافیہ تیرا ایک ایک لمحہ ابتلا نویدِ انقلاب بنے گا۔ ظلم کا سفینہ ڈوب کر رہے گا اور اہلِ دل کا سینہ ضرور ٹھنڈا ہوگا۔ بس ذرا صبر کہ ظلم کے دن تھوڑے ہیں۔
     

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں

سوشل میڈیا لنکس