Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

عالم مغرب کا دوغلاپن

  1. علامہ اقبال کی مشہور ِزمانہ نظم ”اِبلیس کی مجلس ِشوریٰ “کا ایک شعر شیطان کی جدید چالوں کو خود شیطان کی زبانی یوں پیش کرتا ہے۔
    ہم نے خود شاہی کو پہنایا ہے جمہوری لباس
    جب ذرا آدم ہوا ہے خود شناس و خود نگر
    سوئزر لینڈ یورپ کا وہ ملک ہے جس کے بارے میں پوری دنیا میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ وہاں کی آبادی بالغ نظر، وسیع المشرب، خود شناس و خود نگر ہے۔ باور کیا جاتا ہے کہ سوئزر لینڈ بنیادی انسانی حقوق اور شخصی و شہری آزادیوں کے تناظر میں ایک مثالی ریاست ہے۔ اس میں شک نہیں کہ ساڑھے 73 لاکھ آبادی پر مشتمل یہ ملک خوب صورت مناظر سے مالا مال اور ظاہری نظافت و صفائی کے لحاظ سے قابلِ رشک ہے۔ سیاحت یہاں کا خاص شعبہ ہے جس سے ملک کو خاصی آمدنی ہوتی ہے، دیگر ممالک حتیٰ کہ یورپ کے لوگ بھی سوئٹزر لینڈ میں رہایش اختیار کرنے کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔ سوئٹزر لینڈ کے بینکوں کو کسی زمانے میں محفوظ ترین مالیاتی ادارے سمجھا جاتا تھا۔ حالیہ سالوں میں سب سے زیادہ مالیاتی سیکنڈ لز بھی اس ملک کے بینکوں سے منسوب ہوئے، ہمارے صدر صاحب بھی اس فہرست میں شامل بلکہ سرِ فہرست ہیں۔ سوئٹزر لینڈ میں غیر ملکی باشندوں کا تناسب اس صدی کے آغاز میں تقریبا ً بیس فیصد تک پہنچ گیا تھا۔ اس پر نیشنلسٹ اور انتہا پسند دائیں بازو کی پارٹیوں نے بڑے زور شور سے یہ تحریک چلائی کہ غیر ملکیوں کی آمد کو روکا جائے۔ اس پر 2000 ءمیں ایک ریفرنڈم ہوا مگر عام آبادی کی اکثریت نے اسے مسترد کردیا۔ عام سوس لوگوں کے نزدیک باہر سے آنے والے باشندے ملک کی ضروریات اور ترقی کے لیے نقصان دہ نہیں، مفید شمار کیے گئے۔ سوئٹزر لینڈ میں وقتا فوقتا عوامی ریفرنڈم ہوتے رہتے ہیں، اگرملک میں ایک لاکھ آدمی ریفرنڈم کا مطالبہ پیش کردیں تو حکومت پابند ہوتی ہوتی ہے کہ وہ زیر بحث موضوع پر ریفرنڈم کرائے۔ سوئٹزرلینڈ کا حالیہ ریفرنڈم اس ایشو پر تھا کہ مسلمانوں کو مساجد کے مینار تعمیر کرنے سے روک دیا جائے، بدقسمتی سے اسے عوامی تائید حاصل ہوگئی۔ مغرب کی فراخ دلی اور مذہبی آزادیوں کا بھانڈا پھوٹ گیا ہے۔ علامہ یوسف قرضاوی نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ آج مساجد کے میناروں پر پابندی کا فیصلہ ہوا ہے، اگر مسلمان سوتے رہے تو کل مساجد کی تعمیر پر بھی پابندی لگ سکتی ہے۔
    انتہا پسند عناصر پورے یورپ میںدن بدن زور پکڑ رہے ہیں۔ مشترکہ یورپی پارلیمنٹ میں بھی گزشتہ انتخابات میں ان عناصرکو نمایندگی مل گئی ہے۔ سوئزر لینڈ کے حالیہ ریفرنڈم میں لوگوں کی اکثریت نے مساجد کے میناروں پر پابندی کے حق میں جورائے دی ہے موجودہ حکمران اتحادنے بھی اس پر تشویش کا اظہار کیاہے۔ یہ بنیادی انسانی حقوق پر قدغن لگانے کی ایک واضح کوشش ہے۔ سوئٹزر لینڈ میں مسلمانوں کی آبادی اگرچہ کم ہے مگر اعداد و شمار کے مطابق یہ مسلسل بڑھ رہی ہے۔ مغربی دنیا کے تھینک ٹینکس بہت پریشان ہیں کہ مسلمان آبادی اگر یونہی بڑھتی چلی گئی تو مستقبل قریب میں یورپ کے کئی ملکوں میں وہ اکثریت حاصل کرلیں گے۔ یہ خطرے کی گھنٹی امریکہ سے لے کر یورپ تک ہرجگہ بجائی جارہی ہے۔ اس پراپیگنڈے اور واویلے کی حقیقت کیا ہے؟ سردست اس سے صَرف نظر کرتے ہیں لیکن یہ امر قابلِ توجہ ہے کہ یورپ اور امریکہ کی ساری آزادانہ اور لبرل سوچ مسلمانوں کے بار ے میں ہمیشہ دوہرے معیار کا شکار ہوجاتی ہے۔ اس دوغلے پن پرخود مغرب کے اپنے کئی اہل فکر و نظر کی طرف سے خاصی تلخ اور تندو تیز تنقید بھی ہورہی ہے۔
    رابرٹ فسک برطانوی صحافی ہے جو انتہا پسند رائٹسٹ ( دائیں بازو کے مہم جو) سیاست دانوں اور صلیبی سوچ رکھنے والے مسیحیوں کے نزدیک بھی قابل نفرت ہے جبکہ صہیونیوں اور یہودیوں کو تو وہ ایک آنکھ نہیں بھاتا۔ اس نے ایک مرتبہ اپنے ایک کالم مطبوعہ انڈیپینڈنٹ اخبار میں یہ لکھا تھا کہ صہیونیوں کو میرے خلاف اگر کچھ اور نہ ملے تو مجھے بذریعہ ای میل گالیوں پر مشتمل خطوط بھیج کر دل کی بھڑاس نکال لیتے ہیں۔ ایک شخص کا حوالہ دیتے ہوئے اس نے کہا کہ اس نے اپنے خط میں میری ناک کو نشانہ تنقید بنایا اور کہا جب تمھاری تصویر سامنے آتی ہے تو تمھاری بھدی ناک دیکھ مجھے بڑی کراہت محسوس ہوتی ہے۔ رابرٹ فسک نے بڑے مزے سے یہ باتیں لکھ کر مغرب کے روشن خیال مافیا کی جو تصویر پیش کی ہے وہ بالکل حقیقی ہے۔ ایک جگہ وہ لکھتا ہے کہ مسلما ن پوری دنیا میں اس وقت دفاعی پوزیشن پر کھڑے کردیے گئے ہیں۔ اس کے بقول سیکڑوں سالوں سے مسلمانوں کی یہی کیفیت ہے۔ بظاہر سیاسی آزادی مل جانے کے باوجود عالم اسلام مغرب کی غلامی میں ہے۔ عرب خطے میں آج جتنی امریکی فوج موجود ہے، وہ صلیبی جنگوں کے دوران یورپ کی مجموعی فوجی تعداد سے بائیس گنا زیادہ ہے۔
    کئی تجزیہ نگار سوئزر لینڈ کے حالیہ استصواب کے تناظر میں بجا طور پر یہ سوال پوچھتے ہیں کہ برلن کی دیوار جو مسلمانوں کی افغانستان میں روس کے خلاف جدوجہد کے نتیجے میں 1989 ءمیں گرادی گئی تھی، اس کے اٹھائیس سال گزر جانے کے بعد بھی پورے یورپ میں نفرت کی دیوار یں آج تک کیو ںنہیں گرائی جاسکیں۔ مغربی ممالک کی سیاست میں نفرتوں کی دیوار یں دن بدن اونچی ہورہی ہیں، اقتصادی، ثقافتی اور سماجی اُمور میں امتیازی سلوک روز افزوں ہے، ذرائع ابلاغ کا زہریلا پراپیگنڈہ نفرتوں کے بیج مسلسل بورہا ہے۔ سوئٹزر لینڈ کی طرح بیلجیم بھی اپنی آزاد روی کے لیے مشہور ہے مگر یہاں بھی انتہا پسندیورپی عناصر عصبیتوں کے نعرے بلند کررہے ہیں۔ دائیں بازو کے ایک لیڈر فلپ ڈی فنڈ نے یہاں پبلک جلسوں میں مطالبہ شروع کیا ہوا ہے کہ دینا بھر کے تمام مسلمانوں پر پورے یورپ کے دروازے بند کردینے چاہئیں۔ اس نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ یورپ کو اسلام کی دعوت دینے والی تمام کتابیں ضبط کرلینی چاہئیں۔ اس کے بقول اسلام تشدد اور دشمنی پھیلانے والا مذہب ہے اور مسلمان اکثریت میں آگئے تو وہ یورپ کا حلیہ بگاڑ دیں گے اور اس کا نام بھی تبدیل کردیں گے۔ یہ لہر کسی ایک ملک تک محدود نہیں بلکہ ہر جانب اٹھتی نظر آرہی ہے۔ انتہا پسندا ور دہشت گردگروپوں نے چند ماہ قبل یونان کے دارالحکومت ایتھنزمیں ایک مسجد کو جلا دیاتھا اور قرآنی اوراق کی بے حرمتی کی تھی۔ ڈنمارک میں بنی مہربانﷺ کے جو توہین آمیز خاکے بنائے گئے تھے اس پر اس جرم کا ارتکاب کرنے والوں کو کسی قسم کی ندامت نہیں۔ یہاں رائٹ ونگ کی ڈینش پیپلز پارٹی مسجد وں کی تعمیر کےخلاف پارلیمنٹ میں بھی آواز اٹھا رہی ہے۔ ڈنمارک کا وزیر اعظم ان خاکوں کا حامی رہا ہے اور اس وقت وہی نیٹو کا سیکرٹر ی جنرل ہے۔ نائن الیون کے بعد سے امریکہ اور یورپ کے تمام ملکوں میں مسلمانوں کومشکوک قرار د ے کران کی پکڑ دھکڑ ہورہی ہے۔ ابھی حال ہی میں سپین میں بہت سے لوگوں کو القاعدہ کا نام دے کر لمبی سزائیں سنائی گئی ہیں۔
    مغرب کا ایک اور تضاد دیکھیے۔ کمال یہ ہے کہ یورپی ممالک نے اپنے درمیان تو ویزے کی پابندیاں ختم کردیںاور سرحدیں ایک دوسرے کے لیے کھول دیں مگر مسلمان ملکوں کے لیے ان کی پالیسی یہ ہے کہ نہ صرف ان کی سرحدیںایک دوسرے پر بند رہیں۔ بلکہ ان کے اتحاد کو پارہ پارہ کرکے تقسیم در تقسیم کا عمل جاری رکھا جائے تاکہ ان کی قوت مکمل طور پر تحلیل ہوجائے۔ اگر ہم ایک صدی قبل کے یورپ اور اس زمانے کی خلافت عثمانیہ کے نقشے پر نظر ڈالیں اور آج اس کے حصے بخرے اور چھوٹی چھوٹی امارات اور راجدھانیاں دیکھیں تو اندزاہ ہوتا ہے کہ آج کا یورپ اتحاد کی طرف کتنی پیش قدمی کرچکا ہے اور ہم کس قدر انتشار و اختلاف میں مبتلا ہیں۔ برطانیہ کے سابق وزیراعظم ٹونی بلیئر کے خیالات معروف امریکی جریدے ٹائمز کی ایک تازہ اشاعت میں سامنے آئے ہیں، ان کے مطابق موصوف نے کہا کہ اسلامی شریعت کی عالم عرب میں تنفیذ اور مسلمانوں کی کسی متحدہ خلافت کا قیام بالکل خارج از بحث ہے۔ ایسے میں مسلمانوں کو کسی صورت بھی اجازت نہیں دی جاسکتی کہ وہ عالم مغرب میں اپنے نظریات کا پرچار کریں اور ان کے استحکام کی کوشش جاری رکھیں۔ یہ صرف ٹونی بلیئر کے خیالات نہں، اٹلی میں آرک بشپ پانیاسکو نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ اسلامی مدارس اور ان کاتعلیمی نظام ہماری ثقافت سے بالکل متحارب ہے، ہم اپنے ممالک میں کسی صور ت اس کی اجازت نہیں دے سکتے۔ ایک امریکی مجلہ ”دی بلیٹن“ مغربی دنیاکو انتباہ کرتے ہوئے اسلام کا ہوا یوں پیش کرتا ہے ” اسلامی قوتیں زور پکٹر رہی ہیں اور یورپ ہی نہیں امریکہ سے بھی عن قریب یہ لوگ دوبدو جنگ لڑیں گے“۔ امریکہ میں ایسی فلمیں بھی بنی ہیں جن کے مطابق کہاجارہا ہے کہ 2016 ءمیں مسلمان دنیا میں سب سے بڑی مذہبی اکثریت ہوجائیں گے۔ کویت کے مجلہ المجتمع نے اپنی 11 دسمبر2009ءکی اشاعت میں ایسی ڈاکو منڑی فلموں کا حوالہ دیا ہے، جن میں بڑے تواتر کے ساتھ یہ گھنٹی بجائی جارہی ہے کہ اگرمسلمانوں کی حد بندی نہ کی گئی تو ان کی اکثریت مغربی تہذیب کے لیے بہت بڑا خطرہ بن جائےگی۔
    اٹلی پورے یورپ میں کیتھولک عیسائیت کا مرکز ہے۔ یہاں کی آبادی میں صدیوں سے یہ رجحان پایا جاتاہے کہ وہ اپنی آخری وصیت میں اپنی جایداد و اموال کا بڑاحصہ گرجا گھروں کی تعمیر اور عیسائیت کے پرچار کے لیے وقف کردیتے ہیں۔ ان کی وقف شدہ دولت کا عیسائیت کے فروغ کے لیے استعمال ہونا تو قابل فہم ہے۔ المیہ یہ ہے، جس سے پورا عالم اسلام بے خبر ہے، کہ اقو ام متحدہ کے مختلف اداروں کے لیے مختص فنڈ جس میں مالدار مسلمان ممالک دل کھول کر معاونت فراہم کرتے ہیں، بھی مختلف بھیس بدل کر این جی اوز کے ذریعے عیسائیت کے فروغ یا کم از کم اسلام کی مخالفت میں صر ف کیے جاتے ہیں۔ اٹلی کے پادریوں کی متحدہ تنظیم کے سیکرٹری جنرل بشپ مریانو کروٹشاتانے ایک مہم چلائی ہوئی ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ مسلمانوں کو مسیحی خواتین سے شادی کرنے سے روک دیاجائے۔ موصوف کے بقول اس کے نتیجے میں عیسائیت کمزور ہوتی ہے اور اسلامی ملکوں سے ہجرت کرکے آنے والے مسلمان ان شادیوں کے ذریعے خود کو یورپ کا حصہ بنا لیتے ہیں۔ پھر جب کچھ کمانے لگتے ہیں تواس میں سے مسجدوں اور مدارس کوبھی چندہ دیتے ہیں۔ یوںیورپ کی آبادی میں ان کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے اور یورپ کے وسائل پر بھی ان کا قبضہ ہوتا چلا جارہا ہے۔ اندازہ کیجیے یورپ میں جہاں ہم جنس پرستوںکو آپس میں شادیاں کرنے کی سیاسی لحاظ سے کھلی آزادی اور چرچ کی طرف سے بھی اجازت ہے وہاں کا ایک مذہبی راہ نما یہ تحریک چلائے ہوئے ہے۔ اسی کو رابرٹ فسک یورپی معاشرے کا المیہ قرار دیتاہے اور اس پر اظہار افسوس کرتا ہے کہ یورپ ساری ترقی کے باوجود نفرت کی دیواریں ڈھانے کے بجائے انہیں مضبوط بنارہا ہے۔
    برلن کی دیوار ڈھانے کا سہرا عملاً تو افغان مجاہدین کے سر ہے جنھوں نے روس کی قوت کو پاش پاش کر دیا اور کمیونزم اور اس کے جملہ آثار و شواہد مٹنے لگے مگر اس دیوار کے گرنے پر جشن منانے والے مغربی دنیا کے لوگ تھے۔ مسلمانوں کی بدولت نفرت کی یہ دیوار گرنے پر چراغاں کرنے والوں نے فلسطین میں ایک ایسی صہیونی دیوار تعمیر کروادی ہے جس نے شہر وں ہی کو نہیں گھر وںتک کو دو حصوں میں تقسیم کردیا ہے۔ سیکڑوں میل لمبی یہ دیوار عالم اسلام کی بے حسی کا ماتم کرنے کے علاوہ عالم مغرب کی منافقت پر بھی مہر تصدیق ثبت کرتی ہے جو وحدت انسانی کا پرچار بھی کرتے ہیں اور نفرت کی دیواروں کے محافظ بھی ہیں۔ جس جرمنی میں دیوار برلن گرائی گئی، اس کے ایک سابق چانسلر ہیلمٹ کوہل نے کئی سال پہلے اپنی جرمن تاریخ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم اپنی تاریخ پر کوئی فخر نہیں کرسکتے، ہمارے پاس جو تاریخی ورثہ ہے وہ خاصاعبرت انگیز ہے۔ ہیلمٹ کوہل کے اس جملے کوسامنے رکھتے ہوئے آپ یہ خبر بھی پڑھ لیجئے کہ یورپی اتحاد کے ممالک میں یورپ کے ان ملکوں کو بھی بغیر ویزے کے سفر کی سہولیات حاصل ہوگئی ہیں جوابھی تک باقاعدہ اتحاد کے ممبر نہیں بنے ان میں مقدونیہ اور سربیا شامل ہیں لیکن بوسنیا، کوسوااورالبانیہ اس سے مستفیدنہیں ہوسکتے۔ ان پر حسب سابق پابندی رہے گی کیونکہ یہاں کی آبادی میں اکثریت مسلمانوں کی ہے۔ گویا ہیلمٹ کوہل کا تبصرہ محض جرمنی پر ہی نہیں پوری مغربی دنیا پر منطبق ہوتا ہے۔ کوہل کے اس تبصرے سے سال ہا سال قبل حکیم الامت علامہ اقبال نے کیا خوب کہا تھا
    تو نے کیا دیکھا نہیں مغرب کا جمہوری نظام
    چہرہ روشن، اندروں چنگیزسے تاریک تر
     

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں









سوشل میڈیا لنکس