Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

نشا پرداز مشرق سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ

  1. مردِ خدا کا عمل، عشق سے صاحبِ فروغ
    عشق ہے اصلِ حیات، موت ہے اِس پر حرام

    مفکرِ اسلام مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کے نام اور کام سے میں اُس زمانے میں واقف ہوچکا تھا، جب میری عمر بہت سے بہت پندرہ یا سولہ سال کی ہوگی۔ مگر مولانا موصوف کو میں نے پہلی بار پروفیسر خورشید احمد کے ساتھ دیکھا اور دوبارہ دیکھنے اور ملنے کی تمنا ہی رہی! مجھے یاد ہے ایک دفعہ جمعیت طلبہ کا تاریخی اجلاس تھا اور اس میں مولانا مودودیؒ کو مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے مدعو کیا گیا تھا۔ مولانا کا طلبہ سے خطاب بھی تھا۔ یہ بات جون 1963ء کی ہے اور حافظے میں بالکل تازہ ہے۔ بہرحال مولانا نے اپنے خطاب میں تعلیم سے زیادہ تربیت کی ضرورت اور اہمیت پر زور دیا تھا اور ذہن و کردار سازی کی تلقین بھی کی تھی۔ دورانِ تقریر مولانا کے چہرے پر ایک دلکش مسکراہٹ تھی اور گفتگو میں حسن و حکمت، عظمت و وقار۔ ان کی تقریر کا لب لباب یہ تھا کہ تعلیم کا اصل نصب العین فرد کی ابتدائے عمر سے بہترین خطوط پر تربیت اور کردار سازی کرنا ہے۔ چنانچہ یہی چیز ان کی فکر کا اصل محور ہے اور ان کا تمام تر لٹریچر انسانی قلب و ذہن کی تربیت، تہذیبِ نفس، اخلاقی بیداری، نظم و ضبط اور کردار اور شخصیت کی تشکیل و تعمیر کی دعوتِ فکر دیتا ہے اور اس میں جہدِ مسلسل کے ذریعے قوم میں ایک فکری و ذہنی انقلاب لانے کا عزم اور پیغام نمایاں ہے۔ وہ فرد کی قوتِ فکر و عمل اور مسلسل جدوجہد کے قائل ہیں اور مایوسی ان کے نزدیک کفر ہے۔ مولانا اپنی تحریروں کے ذریعے بتاتے ہیں کہ تعلیم و تربیت کی بدولت کس طرح ذہنی و اخلاقی تبدیلی آسکتی ہے اور ایک معلّم کی ہستی کو کس قسم کے علم، اخلاق و کردار کا مثالی نمونہ ہونا چاہیے۔ وہ چاہتے ہیں کہ نظامِ تعلیم کا بنیادی پتھر معلّم ہر اعتبار سے معیاری اور مثالی ہو، کیونکہ معلّم کی شخصیت کا اثر براہِ راست شاگردوں کے دل و دماغ کو متاثر کرتا ہے۔ چونکہ انسان کا معلّم انسان ہوتا ہے اور تعلیم و تعلّم قانون کائنات ہے، اس لیے معلّم کا ہر حیثیت سے اخلاق کا پیکر اور حکمت و دانش کا مثالی نمونہ ہونا ضروری ہے ورنہ محض نصابِ تعلیم کوئی مؤثر شے نہیں ثابت ہوسکتا!
    بہرحال اس تاریخی اجلاس میں پہلی بار مولانا مودودیؒ صاحب کو قریب سے دیکھنے اور باتیں کرنے کا موقع ملا تھا اور ملاقات کی مسرت حاصل ہوئی تھی۔ دوپہر سے شام تک مولانا مودودیؒ ہمارے ساتھ رہے۔ چنانچہ اب اُس دن کے کچھ تاثرات پیش کرتا ہوں جس کے بیان سے مولانا کی پہلودار اور بلند کردار ہستی نمایاں ہوسکے۔
    کوئی تین بجے کا وقت تھا اور مولانا مودودیؒ غور وفکر میں مشغول تھے۔ جس کمرے میں تشریف فرما تھے، وہاں سے تھوڑی دیر بعد میز کرسی کو چھوڑ کر کھڑے ہوگئے اور آہستہ آہستہ چل کر خود صراحی کے پاس پہنچے، خود پانی نکال کر پیا، کسی کو زحمت نہ دی، اور پھر جہاں سے اٹھے تھے وہاں آکر بیٹھ گئے۔ یہاں یہ بات غور طلب ہے کہ مولانا نے کسی سے پانی نہیں مانگا بلکہ خود اٹھ کر پانی پینا ان کی طبیعت کے عاجزانہ پہلو کو نمایاں اور ثابت کرتا ہے۔ میں مولانا مودودیؒ کی اس قسم کی معمولی معمولی باتوں کو بہت قریب سے ٹکٹکی باندھے دیکھتا رہا اور دیکھتا چلا گیا۔ اصل میں میری یہ عادت ہے کہ آدمی کی بڑی حرکات کا کم اور چھوٹی حرکات و سکنات اور معمولی معمولی باتوں کا گہری نظر سے زیادہ مشاہدہ کیا کرتا ہوں اور ان سے انسانی فطرت و کردار اور عظمت کا معیار قائم کرتا ہوں۔ میرے نزدیک معمولی اور عام باتیں ہی آدمی کی اچھائی برائی، کم ظرف اور بلند ظرف ہونے کا اصل پیمانہ ہے۔ ویسے حسن وکمال اور بزرگی کسی کی میراث نہیں ہے۔ دراصل بڑا آدمی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی سے بنا جاتا ہے۔ جذبۂ خدمت، نیکی، شرافت اور اخلاق کی بدولت انسان عظیم کہلاتا ہے اور مرنے کے بعد ’’ناقابلِ فراموش نقوش‘‘ چھوڑ جاتا ہے۔ یقین مانیے مولانا مودودی کی شخصیت اس معیار پر پوری اترتی ہے۔ مولانا کا اصل مقصدِ حیات اسلام کی سربلندی اور پاکستان میں اسلامی نظام زندگی کا قیام تھا۔ اس کی خاطر انہوں نے تن، من، دھن سے مسلسل جدوجہد کی۔ درحقیقت وہ اپنی ذات میں ایک انجمن، ایک تحریک اور اسلام کے بہترین سپاہی تھے جس کا واحد نصب العین اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی رضا و خوشنودی کا حصول ہوتا ہے۔ بلاشبہ مولانا مودودیؒ کے قلب و جگر میں عشقِ الٰہی اور محبت ِرسول صلی اللہ علیہ وسلم کی جو آگ لگی ہوئی تھی، کاش کہ اس ’’آتشِ عشق‘‘ کو دل کی گہرائیوں سے محسوس کیا جاتا تو کیا ہی اچھا ہوتا۔ کیونکہ یہ وہ آگ تھی جو پاکستان کو گلستان میں بدل کر لوگوں کے دل کی کلیاں کھلانا چاہتی تھی۔ حقیقت تو یہ ہے کہ مولانا مودودیؒ امامِ زمانہ تھے۔ ان کے علم و فضل سے کوئی انکار نہیں کرسکتا، مگر ان کی سب سے نمایاں خوبی ان کا اخلاص و اخلاق و ایثار تھا۔ یقینا وہ بحیثیت انسان بہت اچھے تھے۔
    جیسا کہ میں بتا چکا ہوں کہ آدمی کی عام اور بالکل معمولی نوعیت کی باتوں سے چھوٹا یا بڑا اور اچھا یا برا ہونے کا بخوبی پتا چلتا ہے۔ اس لیے موقع محل کی مناسبت سے مولانا مودودیؒ کے کردار و مزاج کو ظاہر کرنے کے نقطہ نظر سے ایک اور واقعہ بیان کررہا ہوں۔ جس دن کا میں ذکر کررہا تھا، اُس روز ہی کی بات ہے، جب مغرب کا وقت ہوا، اذان کی آواز سنی تو تھوڑی دیر بعد ہم لوگ مسجد کی طرف چلے۔ مولانا مودودیؒ ہمرکاب تھے۔ مسجد عزیزیہ ناظم آباد جلسہ گاہ سے دور نہ تھی۔ اس لیے سب جلد پہنچ گئے۔ نمازی مشغولِ عبادت تھے۔ امام مسجد قرأتِ قرآن کررہے تھے۔ مولانا شریکِ نماز ہوئے اور امام مسجد مولانا صغیر احمد (مرحوم) کے پیچھے نمازِ مغرب ادا کی۔ جب امام صاحب نے سلام پھیرا تب معلوم ہوا کہ سید مودودیؒ تشریف رکھتے ہیں۔ امام صاحب مولانا سے ملنے آئے اور انہوں نے شکوہ کیا کہ ’’ہم آپ کے پیچھے نماز ادا کرنے کے شرف سے محروم رہے۔‘‘ مولانا نے فرمایا: ’’کوئی بات نہیں۔ آپ کے پیچھے نماز پڑھ کر مجھے آج بڑی خوشی ہوئی ہے۔‘‘
    قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ جو لوگ اس موقع پر موجود تھے، انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ سید مودودیؒ کی ذات و صفات ظاہری نمودونمائش اور ریاکاری سے قطعی پاک ہے۔ اور طلبہ نے بھی غور کیا کہ مولانا کے مسجد میں ذرا دیر سے چلنے میں کیا مصلحت و حکمت تھی۔ بعد نماز مغرب مولانا تشریف لے گئے۔ مولانا کی شخصیت و کردار کا یہ حسین رخ طلبہ کے دلوں پر نقش ہوچکا تھا کہ سید مودودیؒ کی ہستی واقعی پاکیزگی اور عظمت کی علامت ہے۔ ان کی لطافت و شرافت، فکر و نظر، ان کی مقدس پاکیزہ صورت یعنی چہرے پر نور آج تک میرے ذہن میں محفوظ ہے۔
    میری طالب علمی کا یہی وہ زمانہ تھا جب میں نے سید مودودیؒ کی متعدد انمول کتب کو پڑھا۔ خصوصیت کے ساتھ ان کی قابل قدر کتاب ’’پردہ‘‘ کے اندازِ تحریر نے مجھے بہت متاثر کیا۔ میں نے اس کتاب میں بڑی ادبیت پائی۔ اس سے مجھے اندازہ ہوگیا کہ سید مودودیؒ محض ایک مفکر اور عالم ہی نہیں ہیں بلکہ بلند پایہ ادیب بھی ہیں اور واقعی ایک مخصوص طرزِ انشاء کے مالک ہیں اور ان کا اندازِ بیان بہت اچھا ہے۔ اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ایک طالب علم ان کی تحریریں پڑھ کر کس قدر کشش محسوس کرتا ہے۔ بہرحال اس کے بعد اور کتابیں پڑھنے کا شوق پیدا ہوا اور ان کی انشاء پردازی کے بے مثل نمونے میری نظر سے گزرتے رہے۔ دوسری طرف میرے محسن مولانا ماہرؔالقادریؒ میری رہنمائی فرماتے اور اس معاملے میں علامہ شبلی نعمانیؒ اور مولانا مودودیؒ کی دینی کتب پڑھنے کی ترغیب کچھ اس طرح دلاتے تھے: ’’عزیز مکرم! دینی کتابوں میں مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی تصانیف پڑھنے کے لائق ہیں۔ مولانا موصوف کی انشاء پردازی بھی معیاری ہے۔‘‘ غرض یہ کہ شوق ہی شوق میں بہت سی دینی کتب کا مطالعہ کرنے کے بعد میں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ سید مودودیؒ عظیم ادیب، اہلِ فکر و نظر، باکمال اور یادگارِِ زمانہ بزرگ ہیں۔ ’’انشاء پردازِ مشرق‘‘ ہیں اور ایک سادہ و دلکش طرز تحریر کے مالک ہیں۔ ان کے ہاں خیال اور الفاظ کا بڑا حسین امتزاج ملتا ہے۔ ایک نقش سے دوسرا نقش ابھرتا چلا جاتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ ان کی تحریروں میں بڑی سادگی، شگفتگی، روانی، بے تکلفی اور توانائی کے ساتھ ساتھ کوئی نہ کوئی پیغامِ حیات بھی ملتا ہے۔ دراصل ان کی تحریروں میں اثرآفرینی اخلاص و اخلاق کی بدولت پیدا ہوئی ہے۔
    اس سلسلے میں سید مودودیؒ کی ’’تفہیم القرآن‘‘ اسلامی ادب کی دنیا میں ایک شاہکار ہے کیونکہ اس میں بڑا علمی و فکری اور انشائی کمال ہے۔ درحقیقت انہوں نے اسلامی ادب کا دامن دین و دانش، علم و حکمت، تدبر و تفکر، فلسفہ و اخلاق کے پاکیزہ ترین موتیوں سے بھر دیا ہے۔ مولانا کی نظر اسلام پر بہت گہری تھی اور فلسفۂ حیات کو بخوبی سمجھتے تھے۔ درحقیقت وہ متکلمِ اسلام تھے۔ انہوں نے اسلام پر اتنا کچھ لکھا ہے کہ اس صدی کے کم علمائے دین اور مفکرینِ اسلام نے اس کثرت اور عمدگی کے ساتھ شاید ہی لکھا ہوگا۔ دوسری طرف سیرت و اخلاق کے اعتبار سے حق گو اور قابلِ قدر آدمی تھے۔ ان کا ذہن و کردار آئینے کی طرح صاف اور شخصیت روشن کتاب کی طرح حسین و جمیل تھی۔ انہیں کوئی کسی قیمت پر خرید نہیں سکتا تھا۔ بڑے ظرف کے انسان تھے۔ ان کا قول و فعل ایک تھا۔ وہ واقعی مردِ آہن اور سچے مسلمان تھے۔ یہی وصف ان کی تحریروں میں نظر آتا ہے۔ ان کا اسلوبِ بیان جاندار اور پاکیزہ انشاء پردازی سے بخوبی آشنا ہے۔ لیکن افسوس صد افسوس! ہماری قوم نے سید مودودیؒ کی ایسی قدر و منزلت نہیں کی جس کے وہ مستحق تھے۔ مولانا مودودیؒ کو کیا کچھ نہیں کہا گیا۔ مگر مولانا کی قوتِ برداشت بے مثال تھی۔ ان کا دل ایک ایسے بہادر انسان کا دل تھا جو اپنے دشمن کو قابو میں کرکے بھی معاف کرسکتا ہے اور اپنے مشنِ حیات کو عزم و شجاعت کے ساتھ جاری و ساری رکھتا ہے۔ یہی سبب تھا کہ پاکستان میں اسلامی نظام زندگی کے قیام کی مہم کو اپنا نصب العین بناکر دامے، درمے، سخنے کام کیا تھا، اور انہیں ملت اسلامیہ کی بہتری کا بڑا احساس تھا۔ دراصل سید مودودیؒ کی اصل قدردانی موجودہ نسل سے زیادہ آئندہ نسلوں کا مقدر ہے۔ لیکن مبارک ہیں وہ لوگ جنہیں ان کی صحبت نصیب تھی اور جنہوں نے زندگی میں سید مودودیؒ کی خوب قدرومنزلت کی۔ اللہ تعالیٰ اب ان پر اپنی رحمت کے مینہ برسائے اور جنت الفردوس میں مقامِ عالی عطا فرمائے۔ افسوس! آج وہ ہم میں موجود نہیں ہیں، لیکن ان کی باتیں باقی اور خوبیاں زندہ رہیں گی اور ان کی یاد کو تازہ رکھیں گی۔
    صحبتیں اگلی مصور ہمیں یاد آئیں گی
    کوئی دلچسپ مرقع نہ دکھانا ہرگز
    ٭٭٭
    ملّت ِاسلامیہ میں بے شمار علماء و حکما ایسے گزرے ہیں جنہوں نے تقدیرِ ملت کو بدل دیا۔ اس سلسلے میں جو شخص مجددِ اسلام ہو، اس کی ہستی اور کردار میں مندرجہ ذیل تین محاسن کا پایا جانا لازمی ہے:
    (ا) جو شخص مذہب وسیاست اور دنیائے علم و دانش میں مفید انقلاب پیدا کردے۔
    (ب) کسی کا مقلد نہ ہو، اس کے اپنے خاص افکار و خیالات ہوں۔ یعنی کسی اور کا نقّال نہ ہو۔ خود اس کے دل و دماغ کی خوبی سے افکار جنم لیں۔
    (ج) راہِ حق میں جسمانی، روحانی مصائب خندہ پیشانی سے برداشت کرلے۔ اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشنودی اور اسلام کی سربلندی کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کردے۔
    مجددیت کی یہ شان جس قدر سید مودودیؒ میں بدرجہ اتم موجود تھی اس کی مثال علامہ ابن تیمیہؒ حرانی کے یہاں ہی مل سکتی ہے، یا پھر مجدد الف ثانیؒ کی عظیم اور مقدس شخصیت میں۔ اس میں شک نہیں کہ سید مودودیؒ کی کتابوں سے اگلی نسلیں بلاشبہ مجدد الف ثانیؒ کے مکتوبات کی طرح مستفید ہوں گی۔
    بہرحال اس مرتبے کا انسان اپنی عمر کے بجائے علم و عقل کے اعتبار سے اپنے عہد کے ممتاز آدمیوں پر فائق ہوتا ہے۔ اس سلسلے میں اپنے لڑکپن کا ایک چشم دید واقعہ لکھ رہا ہوں جس کو ’’مشاہداتی تاثر‘‘ سمجھ لیجیے یا نقوش یادِ رفتہ۔
    مولانا ناصر جلالیؒ کا اسم گرامی آپ نے ضرور سنا ہوگا۔ مولانا موصوف اپنے عہد کے نامور واعظ اور پیر ہونے کے علاوہ اردو کے اچھے شاعر، ادیب و خطیب سبھی کچھ تھے۔ مولانا مرحوم کے والد بزرگوار مولانا شاہ امیر حمزہؒ بھی اپنے وقت کے ولی کامل، درویش اور باکمال بزرگ تھے۔ مولانا کے والدِ ماجد میرے نانا محترم حضرت ملاواحدی کے حقیقی پھوپھی زاد بھائی تھے اور ان سے بڑی محبت کیا کرتے تھے۔ اس رشتے سے مولانا میرے ماموں ہوتے تھے اور مجھ پر بزرگانہ شفقت فرماتے تھے، ہرچند کہ میں بہت نوعمر تھا، مگر مولانا کا اخلاق، اخلاص اور کششِ محبت ایسی تھی کہ اکثر حاضر خدمت ہوا کرتا تھا۔ جس زمانے کا میں ذکر کررہا ہوں، مولانا موصوف پاک بنگلا کراچی سے ایک رسالہ ’’اذان‘‘ نکالا کرتے تھے جس میں ان کی نثر و نظم ( بصورت حمد و نعت، ذکرِ رسولؐ شاعرانہ عبارت میں) اکثر نظر سے گزرتی تھی۔ ان کی نثر اور شاعری دونوں میں ان کی صاحبِ جلال و جمال شخصیت کا پرتو نمایاں طور پر جھلکتا تھا۔ وہ بڑے حسین و جمیل انسان اور پاکیزہ اطوار کے پیر تھے۔ ان کے حسنِ سیرت و صورت سے دل بہت متاثر تھا۔
    میں اکثر ماموں ناصر جلالیؒ کی خدمت میں حاضر ہوا کرتا تھا۔ وہ مجھے چائے ضرور پلاتے تھے اور بڑے اہتمام سے پی کر وہ لطف آتا تھا کہ کیا بتائوں۔ آج تک یاد ہے۔ ممکن ہے اتنا لطف و سرور ان کی نفاست پسندی اور اخلاص کی بنا پر آتا ہو۔ چائے کے علاوہ اپنا رسالہ ’’اذان‘‘ بھی ضرور مرحمت فرماتے تھے اور تاکید کرتے کہ شروع سے آخر تک مطالعہ کرنا۔ چنانچہ ان کی صحبت میں مطالعہ کا شوق پیدا ہوا تھا۔ اور میرے لکھنے کے شوق کا ظاہری محرک بھی یہی رسالہ ’’اذان‘‘ بنا تھا، کہ فکر و قلم پاکیزہ راستوں پر گامزن ہے۔ اس معاملے میں میرے بزرگ نانا حضرت ملا واحدیؒ، مولانا ماہرؔالقادریؒ اور مولانا رازق الخیریؒ کے فیض بصیرت نے میرے علمی و ادبی ذوق کو پختہ کردیا۔ یہ سب بزرگ میرے محسن ہیں۔ آج میں ان کی حسین یادوں کو اپنے دامن میں سمیٹے بیٹھا ہوں اور دل چاہتا ہے:
    زمانہ اور دکھلائے گا کیا اس کے سوا دل کو
    کہ مٹ کر رہ گئے وہ نقش جن پر ناز تھا دل کو
    بہرحال ایک دفعہ کا ذکر ہے، شام کا وقت تھا، 1963ء کی بات ہے، مولانا ناصر جلالیؒ اپنی قیام گاہ ’’پاک بنگلا‘‘ کے پہلے کمرے میں تخت پر عالم غور و فکر میں ہمہ تن گوشِ سراپا جمال و جلال بنے بیٹھے تھے۔ ان کے کردار و مزاج میں شعلہ و شبنم کا بڑا حسین امتزاج تھا۔ لیکن اس وقت شعلہ کم شبنم زیادہ نظر آئے۔ میں نے کمرے میں داخل ہوتے ہی سلام کیا اور تخت کے سامنے والی کرسی پر بیٹھ گیا۔ میرے ہاتھ میں مولانا مودودیؒ کی ایک علمی و دینی کتاب ’’اسلامی تہذیب اور اس کے اصول و مبادی‘‘ تھی۔ مولانا موصوف کے چہرے پر بڑی دلکش اور نورانی مسکراہٹ تھی۔ پہلے تو خیر و عافیت دریافت کی، پھر پوچھا ’’تمہارے پاس یہ کس کی کتاب ہے؟‘‘ میں نے بتایا: ’’یہ کتاب مودودیؒ صاحب کی ہے‘‘۔ فرمایا ’’ذرا مجھے ایک نظر دکھانا۔‘‘ میں نے فوراً کتاب پیش کی۔ جذبے کے ساتھ کتاب کو تھام لیا۔ میں نے دیکھا کہ پہلے تو کتاب کے سرورق کو بغور دیکھا، پھر کچھ دیر تک کتاب کی ورق گردانی فرماتے رہے، پھر اچانک مخاطب ہوئے اور فرمایا ’’تم یہ کتاب مجھے دے دو، اس کا اندازِ تحریر بہت دلکش ہے، میں اپنے پاس رکھنا چاہتا ہوں۔‘‘
    میں نے عرض کیا ’’آپ کی نذر کرتا ہوں، لے لیجیے۔‘‘ فرمایا: ’’لیکن میں تو اس کی قیمت دوں گا۔‘‘ میں نے بہتیرا صرار کیا مگر مولانا نہ مانے اور قیمت دے دی۔ اس کے بعد میرے دل میں خیال آیا کہ مولانا موصوف سے کتاب اور صاحبِ کتاب کی بابت رائے پوچھوں۔ لیکن میں نے توقف کیا۔ ادھر مولانا دل کی بات پا گئے۔ صاحبِ دل بزرگ تھے نا… فرمایا: ’’پہلی بات تو یہ ہے کہ اس کتاب میں مصنف کا طرزِ تحریر بہت اچھا اور جاذبِ نظر ہے۔ مودودیؒ صاحب اپنے عہد کے بہت بڑے ادیب ہیں۔
    اصل میں آج کل میں ایک کتاب لکھ رہا ہوں ’’مرنے کے بعد کیا ہوگا؟‘‘ کتاب لکھنی شروع کردی ہے، لیکن میں چاہتا ہوں اپنی کتاب میں طرزِ تحریر ایسا ہی اختیار کروں جیسا کہ سید مودودیؒ صاحب نے اختیار کیا ہے۔‘‘ پھر فرمایا:
    ’’میں مولانا مودودیؒ کو اُس وقت سے جانتا ہوں جب کہ وہ سترہ سال کے جوانِ رعنا، مگر جوانِ صالح تھے۔ وہ شروع سے بہت ذہین بلکہ فطین انسان ہیں۔ دین و سیاست پر ان کی نظر بہت گہری ہے۔ اور کوئی شک نہیں اردو کے بلند پایہ صاحبِ طرز ادیب اور اہلِ فکر و نظر بھی ہیں۔ ان جیسے انسان دنیا میں کبھی کبھی پیدا ہوا کرتے ہیں۔‘‘
    اس واقعہ سے اندازہ لگا لیجیے کہ سید مودودیؒ کا اسلوب ِبیان کس قدر حسین اور مؤثر ہے کہ جس کو اپنے عہد کے اچھے اور بڑے ادیبوں نے بھی شوق سے اپنایا اور ان کے کمالِ فن کو تسلیم کیا ہے۔ سید مودودی صاحبِ علم و عرفان بزرگ تھے اور بڑے مضبوط کردار کے انسان۔ اس کے ساتھ ساتھ زبان و ادب پر جو قابو تھا اس کی اہلِ نظر داد دیتے ہیں۔ مخالف بھی مانتے ہیں۔ اللہ نے انہیں بصارت کے ساتھ بصیرت بھی عطا کی تھی اور عقلِ سلیم سے نوازا تھا۔ قلبِ سلیم بخشا تھا جو بہرحال اللہ کی دین اور ایک ایسی نعمت ہے جس کو چاہے اللہ عطا فرما دے۔ انہوں نے پوری زندگی عقلِ سلیم کے صحیح استعمال میں بسر کردی اور زبان و قلم سے اس نعمتِ الٰہی کی قدر کرتے کرتے جان جانِ آفریں کے سپرد کردی۔ حق تو یہ ہے کہ ان کی موت ’’حیاتِ جاوداں‘‘ میں بدل گئی۔
    دنیا میں عظیم لوگ ہیں، جنہیں دیدہ ور بھی کہا جاتا ہے، جو صدیوں میں جاکر کسی قوم میں پیدا ہوتے ہیں اور مرنے کے بعد ان کی جگہ خالی ہی رہتی ہے۔ ان کی موت ایک غیر معمولی قومی و ملکی نقصان ہوا کرتی ہے۔ ان کے اٹھ جانے سے شمع علم و دانش ماند پڑجاتی ہے۔ فکر و فن، تنقید و ادب اور تہذیب و معاشرت کو زبردست دھچکا لگتا ہے، اور استفادۂ علم و ادب کرنے والوں کو ’’حیاتِ رفتہ‘‘ کی حسین و پاکیزہ مجلسیں یاد آیا کرتی ہیں۔ اور دل کو بڑا ملال سا ہوتا ہے، اور پھر بے اختیار آنکھوں میں آنسو آہی جاتے ہیں۔
    آج بھی سید مودودیؒ کے ہمیشہ کے لیے بچھڑ جانے کے بعد ان کے چاہنے والوں کے دلوں میں ان کی محبت، ان کا احترام اسی طرح موجود ہے۔
    حقیقت بھی یہی ہے کہ سید مودودیؒ کی ہستی اعلیٰ سیرت و کردار کی بہترین مثال اور ایسا روشن مینار ہے جہاں سے حیاتِ انسانی کو ’’نورِ بصیرت‘‘، عظمت اور راہِ فکر و عمل ملتی رہے گی۔
    ہے مگر اس نقش میں رنگِ ثبات و دوام
    جس کو کیا ہو کسی مردِ خدا نے تمام
     

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں

سوشل میڈیا لنکس