Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

عدالت عظمیٰ کا حالیہ فیصلہ اور جماعت اسلامی

  1. عدالت عظمیٰ نے اصغر خان کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے حکومت کو حکم دیا ہے کہ جنرل اسلم بیگ اور جنرل اسد اللہ درانی کے خلاف قانونی کاروائی کرے۔ فیصلے کی بنیاد جنرل اسداللہ درانی کا وہ بیان ہے جس میں انہوں نے 1990ء کے انتخابات پر اثرانداز ہونے کے لیے بعض سیاسی رہنمائوں کو رقوم بانٹنے کا اعتراف کیا ہے۔ جن لوگوں میں رقم تقسیم کی گئی ہے چونکہ ان کے خلاف کوئی ثبوت عدالت عظمیٰ میں پیش نہیں کیا جاسکا ا س لیے عدالت نے ایف آئی اے کو ان کے بارے میں تحقیقات کر نے کی ذمہ داری سونپی ہے۔ الزام لگانے والے بیان میں جہاں دوسری جماعتوں سے متعلق افراد کے نام دیے گئے ہیں جن پر رقوم وصول کرنے کا الزام ہے وہاں جماعت اسلامی کے کسی فرد کا نام لینے کی بجائے جماعت اسلامی کانام لیا گیا ہے۔
    1990ء کے انتخابات کے وقت میں جماعت اسلامی کا امیر تھااور موجودہ امیر جماعت اسلامی اس وقت جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل تھے۔ اس رقم کے بارے میں نہ ہمیں کوئی علم ہے اور نہ جماعت کے کسی دوسرے رہنماء کو کوئی خبر،نہ یہ رقم جماعت اسلامی کے بیت المال میں کسی وقت جمع ہوئی ہے۔ اس لیے جب ہمیں 16 سال قبل اخبارات کے ذریعے الزام کا علم ہوا تو ہم نے مقدمہ میں فریق بننے کی درخواست دی او رہماری طرف سے ریٹائرڈ جسٹس خضر حیات صاحب عدالت عظمیٰ میں پیش ہوتے رہے۔ عدالت عظمیٰ نے اپنے ریمارکس میں ایک بار ذکر بھی کیا ہے کہ جماعت اسلامی کے سوا کوئی بھی الزام کی تردید کرنے کے لیے عدالت میں نہیں آیا۔ سپریم کورٹ نے کہا بھی کہ کسی کے خلاف الزام کے ثبوت میں کوئی شہادت پیش نہیں کی گئی۔ ہم اپنی برأت کا اعلان اسی وقت سے کر رہے ہیں جب نصیراللہ بابر نے پہلے پہل وزیر داخلہ کے طور پر الزام لگایا تھا۔
    عدالت عظمیٰ کے فیصلے پر ہمیں اطمینان ہے۔ کیا ہی اچھا ہوتا اگر سیاستدانوں کے بارے میں الزامات کی تحقیق بھی سپریم کورٹ FIAکے سپرد کرنے کے بجائے خود ہی کرتی لیکن جو بھی فیصلہ ہے اگر اس پر دیانتداری سے عمل درآمد ہو تو ملک و قوم کے فائدے میں ہے اور اگر اس طرح سیاست سے فوج اور انتظامیہ کا عمل دخل ختم ہو سکے یا کم ہوجائے تو اس میں ملک وقوم کی بھلائی ہے۔
    جس وقت جنرل ضیاء الحق کے طیارے کو حادثہ پیش آیا تھا اس وقت ملک میں مکمل سیاسی خلا تھا۔ دستوری اداروں میں سینٹ کے سوا دوسرے ادارے ضیاء الحق صاحب کے احکام کے تحت ختم کر دیے گئے تھے۔ ملک جنرل اسلم بیگ اور فوج کے رحم و کرم پر تھا۔ جنرل اسلم بیگ نے کور کمانڈروں اور فضائیہ اور بحریہ کے سربراہوں سے مشورہ کرنے کے بعد چیئر مین سینیٹ غلام اسحاق خان کو دستور کے مطابق صدر کے طور پر اختیارات سنبھالنے کا موقع دیا۔ اس کی وجہ جنرل اسلم بیگ کی اپنی جمہوریت پسندی تھی یاان کے کور کمانڈروں کا مشورہ تھا بہرحال ملک کو جمہوری راستے پر لگانے کا فیصلہ کیا گیا اور ملک میں عام انتخابات کرانے کا اعلان ہوا۔ اس اہم فیصلہ میں غلام اسحاق خان کا کردار بھی اہمیت رکھتا ہے۔ یہ 1988کی بات ہے۔ اس وقت میڈیا پر ملک کے اندر اور ملک کے باہر اس طرح کی فضا بنادی گئی جیسے جنرل ضیاء الحق کا سورج غروب ہونے کے ساتھ ہی محترمہ بے نظیر بھٹو صاحبہ کا سور ج طلوع ہورہا ہے۔ اس سے پیپلز پارٹی کے روایتی اینٹی پیپلز پارٹی کیمپ میں تشویش پیدا ہوئی۔اور بدلے ہوئے حالات میں جماعت اسلامی کی شوریٰ اور اس کے ارباب حل و عقد نے ملک کے اندر اور باہر جماعت اسلامی کے کارکنوں کی رائے کا احترام کرتے ہوئے IJIمیں شرکت کا فیصلہ کیا۔ آئی جے آئی جماعت اسلامی کی شمولیت سے قبل بن چکی تھی اور جماعت اسلامی خالصتاً اپنی شورٰی اور کارکنوں کے مشورے سے اس میں شامل ہوئی۔جماعت اسلامی نے ہمیشہ اپنی پالیسیاں اپنی شورٰی اور ارکان کے مشورے سے بنائی ہیں اور الحمداللہ جماعت اسلامی کی پالیسیوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش آج تک نہ کسی نے کی نہ جماعت اسلامی نے کسی خارجی دباؤ یا ترغیب کو کبھی قبول کیا ہے۔ نومبر 1987میں میں میرے اوپر جماعت کی امارت کی ذمہ داری عائد ہوئی تھی۔ذمہ داری سنبھالتے ہی ہم نے کاروان دعوت و محبت کے نام سے پورے ملک کا دورہ کرنے کے لیے ایک کاروان منظم کیا اور ہزاروں کارکنوں کو لے کر پشاور سے کراچی اور پھر کراچی سے بلوچستان کے اضلاع لسبیلہ، خضدار ، کوئٹہ اور ڑوب سے ہوتے ہوئے ڈیرہ اسماعیل خان اور پھر پشاور تک کا دورہ ایک ماہ میں مکمل کیا۔ ہرجگہ ہم نے قوم کو پیغام دیاکہ پرانی ڈگر پر چلنے کی بجائے جماعت اسلامی کا ساتھ دے کر ایک انقلابی سفر کا آغاز کریں۔ اس کاروائی میں ہم نے جنرل ضیاء الحق او ر ان کے ساتھ شامل گروہ کو ملک کے دگر گوں حالات میں برابرکا ذمہ دار ٹھہرایا۔
    اس سے کئی سال قبل پیپلز پارٹی نے نصر ت بھٹو صاحبہ کی صدارت میں اپنے ایک اجلاس میں جماعت اسلامی کے ساتھ رابطہ قائم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب محترمہ نصرت بھٹو صاحبہ پیپلز پارٹی کی چیئر پرسن تھیں اور میں جماعت اسلامی کا سیکرٹری جنرل تھا اور سابق صدر فاروق لغاری صاحب پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل تھے پیپلز پارٹی کی مجلس عاملہ کے اجلاس میں مرحومہ نصرت بھٹو صاحبہ نے پوچھا کہ جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل سے کس کی شناسائی ہے جو رابطہ قائم کرے تو موجودہ گورنر خیبر پختونخوا سید مسعود کوثر نے کہاکہ میرے دوست اور کلاس فیلو ہیں میں رابطہ کر لونگا چنانچہ سید مسعود کوثر نے فون کیا اور لغاری صاحب مرحوم کو میں نے جماعت اسلامی کے اس وقت کے امیر میاں طفیل محمد سے اجازت لینے کے بعد منصورہ بلا لیا۔
    اس طرح ہم نے کوشش کی کہ پیپلز پارٹی سے سیاسی روابط قائم کیے جائیں اور ان کے ساتھ سیاسی اختلافات کی شدت کو کم کردیں۔ جب امارت کی ذمہ داری میرے کندھوں پر آئی تو جماعت نے روایتی سیاستدانوں اور روایتی سیاست کے مقابلے میں ایک انقلابی روش اختیار کی اور کاروان دعوت و محبت کے ذریعے اپناپیغام ملک کے کونے کونے تک پہنچانے کی مہم کا آغاز کیا اس پر جناب ضیاء الحق صاحب کو تشویش ہوئی۔ انہوں نے یکے بعد دیگرے مجیب الرحمان شامی صاحب ، الطاف حسن قریشی صاحب اور کچھ دوسرے دوستوں کے ذریعے بات چیت کی دعوت دی۔ ان دنوں جنرل حمید گل صاحب جنرل ضیاء الحق صاحب کے دست راست تھے اور آئی ایس آئی کے سربراہ تھے جنرل حمید گل صاحب میری تلاش میں کراچی پہنچے اور کراچی کے سابق امیر جناب نعمت اللہ خان صاحب کے گھر پر ملاقات کے لیے تشریف لائے انہوں نے پیشکش کی کہ جنرل ضیاء الحق صاحب کے ساتھ تمہاری ایک خاموش (Quite) ملاقات کا اہتمام کرلیتاہوں لیکن میں نے ان سے کہا کہ خاموش ملاقات کی کوئی ضرورت نہیں ہے میں سینیٹ کا ممبر ہوں اور کسی بھی وقت ضرورت محسوس کروں گا تو سینیٹ کے اجلاس سے اٹھ کر ان کے دفتر میں آجاؤں گا۔ قبل اس کے کہ ہماری ملاقات ہو جنرل ضیاء الحق صاحب کے طیارے کو حادثہ پیش آیا اور ملک میں ایک خوفناک خلا پیدا ہوا۔
    ان دنوں ملک کی تمام سیاسی قوتوں کی توجہ کا مرکز آرمی کے چیف آف اسٹاف جنرل مرزا اسلم بیگ تھے۔ یہ 1988ء کی بات ہے 1990ء کے انتخابات سے دوسال قبل جب انتخابات کے نتیجے میں پیپلز پارٹی ملک بھر میں اور IJIپنجاب میں برسراقتدار آئی تھی۔ اگر انتخابات کے نتائج جرنیلوں کے ہاتھ میں ہوتے تو وہ 1990ء کی نسبت 1988ء میں زیادہ بااختیار تھے۔ جب خود بے نظیر بھٹو صاحبہ وطن واپسی پرجنرل اسلم بیگ کے گھر تشریف لے گئیں اور پریس رپورٹ کے مطابق انہوں نے جنرل اسلم بیگ کے کچن میں دوستی پکی کرنے کے لیے پکوڑے بنانے میں اپنی مہارت دکھائی۔
    الحمد للہ جماعت اسلامی کا دامن صاف ہے اس کے لیڈروں کے بارے میں تو یہ بھی ہر خاص وعام کو معلوم ہے کہ جب اسمبلیوں کے ارکان میں اسلام آباد کے پلاٹ اور گاڑیوں کے پرمٹ تقسیم ہورہے تھے تو صرف جماعت اسلامی کے ارکان نے اپنا دامن صاف رکھا ہے۔ میں نے جب سینیٹ کے ممبر کے طور پر پلاٹ وصول کرنے والوں کے ناموں کی فہرست طلب کی تو کئی بزرگ اور پارسا لوگوں کے بارے میں معلوم ہوا کہ انہوں نے بھی پلاٹ حاصل کر کے بیچے ہیں اور کروڑوں روپے کمائے ہیں۔ صرف جماعت اسلامی کے ارکان نے ہر دور میں اپنا دامن ہر آلودگی سے بچایاہے۔
    سیاسی حکمت عملی کے تحت ہم نے اپنے جماعتی تشخص ، اپنی دعوت اور اپنی تنظیم کو برقرار رکھتے ہوئے مختلف اوقات میں سیاسی اتحادوں میں شرکت کی ہے۔ ایوب خان فوجی آمریت کے مقابلے میں ہم PDM (تحریک جمہوریت) اور DACکا حصہ رہے ہیں اور جناب ذوالفقار علی بھٹو صاحب کے آمرانہ طرز حکومت کے مقابلے میں ہم قومی اتحاد کا حصہ رہے ہیں اس وقت بھی کسی خارجی دباؤ کی بجائے جماعت اسلامی کی مرکزی شورٰی نے مولانا مودودی ؒ کی قیادت میں یہ فیصلے کیے تھے اور آئی جے آئی میں شمولیت بھی جماعت اسلامی کی شورٰی نے اپنے ارکان اور کارکنوں کی مرضی کے مطابق کی۔ ان فیصلوں کے حسن و قبح پر بحث ہو سکتی ہے اور ان سے اختلاف بھی کیا جاسکتا ہے لیکن ان فیصلوں میں دینی اور قومی مصلحت کے سوا جماعت اسلامی کے سامنے دوسرا کوئی مقصد نہیں تھا۔
     

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں

سوشل میڈیا لنکس