Jamaat-e-Islami Pakistan |

سید منور حسن کی یاد میں منعقدہ تعزیتی سیمینار

  1. لہو میں بھیگے تمام موسم گواہی دیں گے کہ تم کھڑے تھے ۔
    وفا کے رستے کا ہر مسافر گواہی دے گا کہ تم کھڑے تھے۔
    جب اندھیر ے کی کوکھ میں سے نکلنے والے یہ کہہ رہے تھے
    کہ کوئی جگنو نہیں بچا ہے تو تم کھڑے تھے !
    جماعت اسلامی پاکستان کامرکز منصورہ میں جہاں سید منورحسنؒ ڈپٹی سیکرٹری جنرل ،سیکرٹری جنرل اور پھر امیر جماعت کی حیثیت سے قریبا بائیس سال ایک چھوٹے سے کمرے میں مقیم رہے ،ہر طرف ان کی یادیں بکھری ہوئی ہیں۔3جولائی کو منصورہ آڈیٹوریم میں ان کی یاد میں منعقدہ تعزیتی سیمینار قومی و عالمی رہنماﺅں کی کہکشاں کی صورت اختیار کرگیاجس میں سے رنگ رنگ کی شعائیں پھوٹتیںاور روشنی کا ایک ہالہ بنارہی تھیں ، جس میں سید منورحسنؒ کا مسکراتا چہرہ نظر آرہا تھا۔ اس کہکشاں میں صدر پاکستان عارف علوی سے لیکرفلسطین سے اسماعیل ہانیہ اور کشمیر سے سید علی گیلانی تک اور افغانستان سے گلبدین حکمت یار سبھی ان کے بارے میں اپنے خیالات اور محبتوں کا اظہار کررہے تھے ۔قومی و عالمی راہنماﺅںکا کہنا تھا کہ سید منور حسن ایک نظریہ ،روشنی اور جہد مسلسل کا نام ہے ۔وہ لوگوں کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے ۔نظریاتی لوگوں کو موت فنا نہیں کرسکتی ایسے لوگوں کے سامنے موت خود فنا ہوجاتی ہے ۔سید منورحسن اس نسل سے تعلق رکھتے تھے جس نے پاکستان کی خاطر ہجرت کی اور ایک نظریے اور مقصد کی آبیاری کیلئے پوری زندگی گزاردی۔سید منورحسن پاکستان کو ایک حقیقی اسلامی و فلاحی ریاست بنانے کیلئے زندگی بھر سرگرم رہے ۔ سید منورحسنؒ پر اسلامی تحریک کو ہمیشہ فخر رہے گا،ا ±ن کی رحلت امت مسلمہ کا مشترکہ غم اور صدمہ ہے۔
    سید منورحسن ؒ کی یاد میں تعزیتی سیمینار سے صدر مملکت ڈاکٹرعارف علوی ،سابق وزیر اعظم فلسطین اسماعیل ہانیہ ،سیکرٹری جنرل عالمی مجلس اتحاد العلماءڈاکٹر علی محی الدین قرداغی ،رکن پارلیمنٹ یوکے افضل خان جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن ،مسلم لیگ ن کے جنرل سیکرٹری احسن اقبال ،سجاد میر ،افغانستان سے گلبدین حکمتیار ،بزرگ حریت راہنما سید علی گیلانی،امیر جماعت اسلامی ہند سید سعادت اللہ حسینی ، بنگلا دیش جماعت اسلامی کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمن ،جامعہ اشرفیہ سے شیخ الحدیث مولانا فضل الرحیم ،پیر اعجاز ہاشمی، سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی امیرالعظیم نے خطاب کیا ۔تعزیتی سیمینار کیلئے قومی و عالمی شخصیات کے پیغامات بھی موصول ہوئے ۔ تعزیتی ریفرنس کی صدارت امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے کی۔اس موقع پر نائب امیر جماعت اسلامی ڈاکٹر معراج الھدیٰ صدیقی ،مولانا عبد المالک ،ڈپٹی سیکرٹری جنرل محمد اصغر ،اظہراقبال حسن ،عبد الرﺅف ملک اور سیکرٹری اطلاعات قیصر شریف بھی موجود تھے ۔تعزیتی سیمینار کا آغاز ملک کے معروف خوش الحان قار ی امام جامع مسجد منصورہ استاذ القراءوقار احمد چترالی نے تلاوت قرآن حکیم سے کیا۔جبکہ سید صاحب کیلئے منظوم گل ہائے عقیدت حافظ لئیق اور سید اسد قریشی نے پیش کئے ۔تعزیتی سیمینار کو فیس بک پر لائیو نشر کیا گیا جسے لاکھوں لوگوں نے براہ راست دیکھا۔
    سینیٹر سراج الحق نے اپنے صدارتی خطاب میں علامہ اقبال ؒ کی مشہور نظم ”ہے وہی تیرے زمانے کا امام برحق ،جو تجھے حاضر و موجود سے بیزار کرے“پڑھی اور کہا کہ سید منورحسن صاحب نے جماعت کے کارکن کو حاضر موجود سے بیزار کیا تھا۔وہ موت کے آئینے میں رخ دوست دکھانے والی شخصیت تھی ،یہ سبق ان کی صرف تقریروں میں نہیں بلکہ زندگی کے ایک ایک لمحے سے ملتا تھا۔اس چیز کی گواہی ان کے ساتھ زندگی گزارنے والوں نے دی۔ساٹھ سال مسلسل چلتے رہے ،لڑتے رہے ،بڑھتے رہے اور باطل کو للکارتے رہے ۔یہ استقامت سب سے بڑی کرامت ہے ۔ملا علی قاری نے فرمایا ہے کہ ”استقامت ہزار کرامت سے بہتر ہے “ حق پر چلنا ،حق پر ڈٹنا اور حق پر مرنا یہ ہزار ہاکرامات سے بہتر ہے ۔یہی صاحب کرامت تھے سید منورحسن صاحب ۔سید منورحسن محض ایک جسد خاکی نہیں اللہ سے محبت اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت و فرمانبرداری کا ایک مکمل نمونہ تھے ۔وہ موت کے آئینے میں رخ دوست دکھانے والے قائد تھے ۔انہوں نے جوانی سے اپنی زندگی کے آخری دن تک اللہ کی اطاعت کو اپنی زندگی کا مقصد اولین بنائے رکھا اور ساٹھ سال تک باطل قوتوں کے ساتھ پوری استقامت کے ساتھ نبرد آزما رہے ۔انہوں نے کہا کہ حکمران آج کہتے ہیں کہ امریکی جنگ ہماری جنگ نہیں تھی جبکہ سید منورحسن نے یہ جنگ شروع ہونے سے بھی پہلے سب کو خبر دار کردیا تھا کہ یہ امریکی جنگ ہے ۔انہوںنے کہا کہ آج ملک میں ظلم و جبر ہے ،مہنگائی اور بے روز گاری ہے ورلڈ بنک اور آئی ایم ایف کی غلامی ہے ۔شیطانی سیاست ،جاگیردارانہ ظالمانہ نظام مسلط ہے ۔اس نظام میں کرپٹ سرمایہ داروں اور ظالم جاگیرداروں نے عوام کا خون چوس لیا ہے ۔اس نظام کو چیلنج کرنا ہمیں ہماری قیادت سید مودودی ؒ ،میاں طفیل محمد ؒ ،قاضی حسین احمد ؒ اور سید منورحسن ؒ نے سکھا یا ہے۔سید منورحسن کی زندگی کے مختلف پہلوﺅں پر مزیدریسرچ اورکام کرنے کی ضرورت ہے ۔یہ ان کی ضرورت نہیں بلکہ ہماری اور ہماری آنے والی نسلوں کی ضرورت ہے ۔جب ہم ان کے روشن چہرے کو مٹی کے حوالے کررہے تھے تو میں سوچ رہا تھا کہ اس فقیر کے آنے سے اس قبرستان میں دفن ہونے والوں کو بھی راحت ملی ہوگی۔ہمارے کارکن کو ضرورت ہے ہمارے مستقبل کیلئے ضرورت ہے ۔ ہم سید مودودی ؒ ،میاں طفیل محمد ؒ ،قاضی حسین احمد ؒ اور سید منورحسن ؒ کی زندگیوں پر ریسرچ کریں ۔یہ محض ہمارا نہیں بلکہ عالمی اسلامی تحریکوں کااثاثہ ہے ۔جب سید مودودی ؒ 1946میں فرمارہے تھے کہ لوگو ایک وقت آنے والا ہے جب ماسکو اور واشنگٹن میں کیمونزم اور سرمایہ دارانہ نظام کو پناہ نہیں ملے گی۔کئی کالم نگاروں نے لکھا کہ سید مودودی ؒ کی یہ بات ایک دیوانے کی بات لگتی تھی۔اس لئے کہ روس تو چاروں طرف پھیل رہا تھا اور اپنے ارد گرد ممالک پر قبضہ کررہا تھا ۔سات اسلامی ریاستوں پر قبضہ ،ہر طرف اس کا طوطی بول رہا تھا۔سید مودودیؒ نے اس وقت فرمایا کہ بہت جلد اس کی موت واقع ہونے والی ہے ۔آج ورلڈ بنک اور آئی ایم ایف کے چاروں طرف دنیا بھر میں لوگ سرمایہ دارانہ نظام مردہ باد کے نعرے لگارہے ہیں ۔کیمو نزم تو آج آپ کو روس کے عجائب گھر میں بھی نہیں ملے گا۔یہی بات قاضی حسین احمد ؒ چوک یاد گار میں جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے فرمارہے تھے کہ ”لوگو ! افغانستان روس کیلئے قبرستان بنے گا“ ہمارے کچھ قوم پرست لوگ کہہ رہے تھے کہ روس کے ٹینکوں کا استقبال کریں۔ایک لیڈر کابل میں اعلان کررہا تھا کہ ہمارے ریڈ آرمی کے ٹینک تمھاری لاشوں پرسے گزریں گے۔آج افغانستان نہ صرف روس کا بلکہ امریکہ اور نیٹو کا بھی قبرستان بن گیا ہے ۔ان کے ٹینک ،توپیں اور جہاز افغانستان کے پہاڑوں میں دفن ہوگئے ہیں۔امریکہ بھیک مانگ رہا ہے کہ ہمیں واپس جانے کا راستہ دے دیں۔غریبوں ،فقیروں اور ان مجاہد ین سے بھیک مانگ رہے ہیں جن کو دووقت کا کھانا بھی نہیں ملتاتھا ۔یہی بات سید منورحسن کہہ رہے تھے کہ لوگو ! یہ ہماری جنگ نہیں ہے ،آج وہی بات سب مان رہے ہیں کہ واقعی یہ ہماری جنگ نہیں تھی ۔
    صدر مملکت عارف علوی نے ویڈیولنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سید منورحسن کی وفات کی خبر سن کر بہت دکھ ہوا۔میں ساٹھ کی دہائی سے ان کو جانتاتھا۔مختلف موقعوں پر ملاقات ہوتی تھی کبھی کبھی وہ ہمارے گھر بھی تشریف لاتے تھے ۔میرے والد صاحب سے بھی ان کا قریبی تعلق رہا ،مولانا سید مودودی ؒ جب کراچی آتے یا میرے والد صاحب سید منورحسن صاحب سے ملنے جاتے تھے تو ملاقات کا بڑا اہتمام ہوتا تھا۔ میں ذاتی طور پر ہمیشہ ان کا مشکور رہوں گاکہ میری کردار سازی کے حوالے سے ان کی نصیحتیںمیرے بڑے کام آئیں۔1977کے الیکشن میں ، ان کی الیکشن کمپین میں نے بڑے دور دار انداز میں حصہ لیا اوربڑی محنت کی۔جلسوںمیں تقریریں کرکر جب ان کا گلہ بیٹھ جاتا تو مجھے کہتے کہ اب مجھے تقریر کرنے کو نہ کہنا ۔لیکن جب ہم جلسے میں جاتے تو لوگوں کا اصرار ہوتا کہ سید صاحب سے تقریر کروائی جائے میں پھر ان کو دعوت خطاب دے دیتا (مسکراتے ہوئے)لیکن جب واپس آکر گاڑی میں بیٹھتے تو مجھے جھاڑ پلاتے کہ تم نے پھر مجھے ”خطاب “کی دعوت دیدی۔پھر وہ نارتھ ناظم آباد میں اسلامی ریسرچ اکیڈمی میں بیٹھا کرتے تھے،میں اکثر ان کے پاس چلاجاتا، ان کے پاس بیٹھ کر بین الاقوامی تعلقات ، عالم اسلام اور خصوصا امت کے حالات پر بات ہوتی ، جب بھی ملکی سیاسی حالات میں اونچ نیچ ہوتی تو میں اور میرا دوست ظہیر الاسلام اور سیف الدین جو کونسلر بھی رہے ان کے پاس چلے جاتے ۔سید صاحب کے حالات پر تجزیے بڑے جاندار ہوتے ،وہ بڑے باعلم شخصیت تھے ۔حالات پر ان کی بڑی گہری نظر ہوتی تھی ،مسلمانوں کے ارتقاءاور زوال کی تاریخ کے اعتبار سے،اور اسلامی ریاست کے قیام کیلئے کیا ہونا چاہئے ۔اتنے اچھے لکھنے والے مدبرکے ساتھ میرا دلی تعلق تھا۔ان کی وفات پر مجھے بڑا سخت افسوس ہوا،پچھلے دنوں میں کراچی گیاتو کسی شادی میں ان سے ملاقات ہوئی ،انہوں نے اپنی بیماری کا ذکر کیا تو مجھے بڑا دھچکا لگا کیونکہ انہوں نے جس بیماری کا ذکر کیا تھا اس کے اندر انسان آہستہ آہستہ کمزور ہی ہوتا چلاجاتا ہے ۔ اسلامی دنیا کے اتحاد اور اسلامی حکومت کے قیام کیلئے سید منورحسن کا وژن بڑا واضح تھا ۔سید منورحسن سے میرے ذاتی اور خاندانی تعلقات تھے اور ہم نے بچپن اور جوانی اکٹھے گزاری ۔سید منورحسن جس بات کو حق سمجھتے تھے اس پر ڈٹ جاتے تھے اور بڑی بے باکی سے اس کی ترجمانی کرتے تھے ۔انہوں نے کہا کہ میں دینی اور سیاسی معاملات میں اکثر سید منورحسن سے راہنمائی لیتا تھا ۔ دینی لٹریچر خاص طور پر سید مودودی ؒ کی کتابیں میںنے اپنی والدہ سے لیکر پڑھیں ۔مجھے اسلامی لٹریچر سے خاص لگاﺅ تھا اور اس کے اصل محرک میرے والدین اور میرے دوست سید منورحسن تھے ۔جب ان کی وفات ہوئی تو ان کے بیٹے طلحہ نے مجھے ان کی بیماری کے بارے میں بھی بتایا،میں یہ سمجھتا ہوں کی جماعت اسلامی اور اسلامی تحریک کے حوالے سے سید منور حسن ایک ہیرا تھے ،جن سے میں بھی واقف ہوں اور مجھ سے کہیں زیادہ اور بہت سے لوگ واقف ہیں۔کبھی کبھی وہ مجھ سے تلخ باتیں بھی کرلیتے تھے اور سختی سے مجھے کہتے تھے کہ ایسے نہیں ایسے ہونا چاہئے ،میرا اور ان کا محبت کا رشتہ کبھی کسی معاملے میں کمزور نہیں ہوا۔جب میں نے تحریک انصاف جوائن کی تو میں نے انہیں ایک خط بھی لکھا کہ کن وجوہات پر میں نے تحریک انصاف میں شرکت کی ۔میں کبھی جماعت اسلامی کا رکن نہیں رہا لیکن میری ہمدردیاں ہمیشہ جماعت اسلامی کے ساتھ رہیں ،جب میں تحریک انصاف میں نہیں تھا تو میری سوچ میں بڑی حد تک یگانگت تھی ۔ساٹھ کی دہائی میں دائیں بازو کی طرف ہی سارا رجحان تھا اور میں بھی سید مودودی ؒ کی تنقیہات اور تفہیمات وغیرہ پڑھیں۔اس زمانے میں لیفٹ اور رائٹ کے درمیان ایک نظریاتی جنگ تھی ۔اس زمانے میں بہت اچھے اچھے دوست ملے خاص طور پر سید منورحسن جیسے (میں انہیں دوست ہی کہوں گا)آج اخلاق کے اندر جو اچھی چیزیں ہیں وہ انہیں کی وجہ سے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کی مغفر ت کرے اور انہیں کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے ۔ان کے لواحقین جو خاندانی رشتہ دار ہیں اور تحریکی رشتہ سے ہیں ان کا دائرہ بہت وسیع ہے اللہ تعالیٰ سب کو صبر جمیل دے ۔
    مولانا فضل الرحمن نے ویڈیولنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جناب سید منور حسن کی وفا ت پر ہر مکتبہ فکر کے لوگوں نے اظہار افسو س کیا اور اسے ایک بڑا سانحہ قرار دیا ہے ۔ہم نے ہمیشہ انہیں اپنے مقاصد اور نظریات کیلئے متحرک پایا ہے ۔وہ تحریکی مزاج کے ساتھی تھے ۔۔ متحدہ مجلس عمل کے پلیٹ فارم سے ہمیں ان کی صلاحیتوں کا مشاہدہ کرنے کا براہ راست موقع ملا، ہمارا قریبی تعلق رہا ،ہم نے دیکھا کہ اپنے موقف کیلئے ان کی گفتگو کی روانی ،ان کے دلائل کا تسلسل ان کی شخصیت کو مزید خوبصورت بناتا اور اسے حسن بخشتاتھا۔۔ سید منورحسن کے اندر بے شمار قائدانہ خوبیاں تھیں وہ جو بات کرتے پوری دلیل کے ساتھ کرتے ۔ان کی گفتگو بڑی مدبرانہ، مدلل اور موثر ہوتی تھی ۔آج ہم ان کی جدائی کو بڑی شدت سے محسوس کررہے ہیں۔لیکن بہرحال اللہ کا اپنا ایک نظام ہے ۔ہر شخص نے دنیا سے ایک دن تو ضرور ہی چلے جانا ہے ۔سید منورحسن اللہ کے حضور پیش ہوچکے ہیں ۔ہماری دعا ہے کہ اللہ انہیں اپنی رحمتوں سے نوازے ،ان کی لغزشوں سے اللہ درگزر فرمائے اور جنت الفردوس میں انہیں اعلیٰ مقام عطافرمائے ،ہم ان کے خاندان ، ان کی جماعت سے اور ان کے حلقہ احباب سے دل کی گہرائیوں سے تعزیت کا اظہار کرتے ہیں۔ سید منورحسن کی وفات سے پاکستان ایک مخلص اورمدبر راہنما سے محروم ہوگیا ہے ۔
    تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ سید منورحسن عمر بھر پاکستان کو ایک حقیقی اسلامی و فلاحی مملکت بنانے کیلئے اس کی خواب کی تعبیر حاصل کرنے کیلئے کوشاں رہے جو تحریک پاکستان اور قیام پاکستان کے وقت ہمارے بزرگوں نے دیکھا تھا۔ان کی جدوجہد کا مقصد یہی تھا کہ پاکستان کو ایسی ڈگر پر ڈال کر جائیں جس پر چلتے ہوئے یہ ایک مثالی اسلامی مملکت بن سکے ۔انہوں نے کہا کہ ریاستی طاقت سے اداروں کو یرغما ل بنا کر ملک نہیں چلتے ۔جس ریاست میں انصاف کا قتل ہووہ ریاست کبھی کامیاب نہیں ہوتی۔اس ملک میں اداروں کو استعمال کرکے مرضی کے فیصلے ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آئین پاکستان واحد دستاویز ہے جس پر پوری قوم کو متحد کیا جاسکتا ہے ۔سید منورحسن اپنی پوری زندگی آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کیلئے سرگرم رہے ۔
    سیکریٹری جنرل جماعت اسلامی امیر العظیم نے کہا کہ سید منورحسن ہمارے مربی و مرشد تھے ۔انہوںنے ہمیں حق بات کہنا اور پھر اس پر پوری استقامت سے ڈٹ جانا سکھایا ۔سید منورحسن ظالم و جابر سلطان کے سامنے کلمہ حق کہنے والے مرد مجاد تھے ۔ان کی زندگی کا ایک ایک لمحہ ہمارے لئے مشعل راہ ہے اور ان کے نقش قدم پر چلنا ہم اپنی سعادت سمجھتے ہیں۔
    فلسطین کے سابق وزیر اعظم اور حماس کے راہنما اسماعیل ہانیہ نے ویڈیولنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج ہم سید منورحسن کی رحلت پر جماعت اسلامی اور پاکستانی قوم کے غم میں برابر کے شریک ہیں ۔میں خصوصا اپنی جماعت حماس اور عموما القدس اور فلسطین کی مجاہد قوم کی طرف سے اپنے دوست امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق سے اظہار تعزیت کرتا ہوں ،ان کے رفقاءبلکہ پورے پاکستان ،ریاست ،حکومت ،جماعتوں اور قوم سے سید منورحسن کی وفات پر تعزیت کا اظہار کرتا ہوں۔اللہ تعالیٰ سے دعا کہ وہ سید منورحسن کو اپنے جوار رحمت میں جگہ عطافرمائے ،انہیں وسیع جنتوں میں ٹھہرائے اور ان کے اہل خانہ اور خاندان کو صبر جمیل دے ۔اللہ تعالیٰ امت کو ان کا بہترین نعم البدل ایسے ہی افراد کی شکل میں عطافرمائے جو علم و عمل کے مجاہد ہوں ،جن کا ایمان راسخ ہواوروہ اس راہ حق میں استقامت کے ساتھ چلنے والے ہوں۔محترم بھائیو ! آج ہم امت اسلامیہ کی ایک عظیم شخصیت کو الوادع کررہے ہیں۔مرحوم ؒ نے تین شعبوں میں اپنی اعلیٰ خدمات سرانجام دیں۔ان کی خدمات کا پہلا شعبہ اسلام ہے ،انہوں نے اپنی زندگی اور جان اسلام کے لئے وقف کردی تھی۔یہ وہ دین عظیم ہے جس کیلئے زمین و آسمان کی تخلیق کی گئی۔سید منورحسن رحمہ اللہ کی شخصیت پاکستان اور عالم اسلام کیلئے ایک عالم ،مربی اور اسلام کے ایک فقیہہ کی تھی ۔مرحوم نے خدمات کی شکل میں بہت سی نشانیاںاور یادیں چھوڑی ہیںجن کو جماع اسلامی اور پاکستان کی تاریخ میں سنہری حروف میں لکھا جائے گا،بلکہ یہ کہنابجاہوگا کہ ان کی خدمات کو پوری امت اسلامیہ میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔انکی خدمات کا دوسرا شعبہ پاکستان ہے ،ہمارے لئے سگے بھائیوں جیسی پاکستانی قوم اورپاکستان میں جماعت اسلامی کی حیثیت ایک اہم سیاسی ،علمی ،فکری اور سماجی جماعت کی ہے ۔مرحوم خاص طور پر اپنے وطن اور سرزمین پاکستان سے بہت محبت کرتے تھے ۔وہ دیگر دینی و سیاسی جماعتوں اورمختلف طبقات کیلئے بڑا فراخ دل رکھتے تھے ۔انہوں نے جماعتی زندگی کی محدودیت سے باہر نکل کر خود کو ایک بڑے سیاسی رہنما اور عوامی قائد کی حیثیت سے پیش کیا۔اس لئے وہ سب کے قریب ہوگئے اور سب ان کے قریب ہوگئے ۔ان کی زندگی کا تیسرا شعبہ یہ ہے کہ وہ ہمیشہ اپنی جماعت اور اپنے وطن پاکستان کی طرف سے القدس کی آزادی کیلئے کوشاں رہے۔سید منورحسن القدس اور فلسطین کی آزادی کیلئے آخری دم تک ڈٹے رہے ۔سید منورحسن کی رحلت صرف پاکستانی قوم کیلئے دکھ اور صدمہ نہیں بلکہ پورے عالم اسلام اور امت مسلمہ کا مشترکہ دکھ او ر صدمہ ہے ۔سید منورحسن کی وفات سے ہم اپنے ایک قائد اور مربی سے محروم ہوگئے ہیں ۔ان کی وفات سے عالم اسلام بہت بڑے نقصان سے دوچار ہوگیا ہے ۔
    ڈاکٹر علی قرہ داغی سیکرٹری جنرل الاتحاد العالمی العلماءالمسلمین نے اپنے خطاب میں کہا کہ میں اپنی اور بین الاقوامی اتحاد برائے مسلم سکالرز کی طرف سے سابق امیر جماعت اسلامی سید منورحسن علیہ رحمہ کی وفات پر ان کے خاندان سے دلی تعزیت کرتا ہوںاور دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ انہیں اپنی وسیع رحمتوں اور جنتوں میں جگہ عطافرمائے اور روز محشر نہیں انبیاءصدیقین ،شہداءاور صالحین میں شامل فرمائے ۔اسی طرح جماعت اسلامی ،پاکستانی قوم اور دنیا بھر میں ان سے محبت اور عقیدت رکھنے والوں سے بھی اظہار تعزیت کرتا ہوں۔سید منورحسن مجاہدانہ صفات کے حامل تھے جو اپنے استاد سید مودودیؒ کے نقش قدم پر چلے ۔جو عقائد کے معاملے میں اور مسلمان ممالک میں بیرونی مداخلت کے حوالے سے سخت گیر تھے ،جبکہ فروعی اور فقہی مسائل میں انہوں نے آسانی اور تیسیر کے منہج کو اپنایا۔مرحوم بچپن سے ہی قائدانہ صلاحیتوں کے مالک تھے ۔جب وہ یونیورسٹی کے طالب علم تھے تو وہ طلباءمسائل کے حل میں پیش پیش تھے اور مفید سرگرمیاں منعقد کرتے رہے ۔انہوں نے دنیاوی علوم اور شریعت کے علوم میں تعلیم حاصل کی ،وہ ایک عظیم فکر کے حامل مفکر تھے ۔انہوں نے صحافت اور تحقیقی مراکز کی نگرانی میں بھی اپنا کردار ادا کیا۔اسی طرح مرحوم امت کے مسائل اور خاص طور پر فلسطین کے بارے میں بہت فکر مند تھے ۔اللہ تعالیٰ ان پر اپنی رحمت کی بارش برسائے۔ان کی رحلت سے عالم اسلام کے عظیم داعی و مفکر اور قائد سے محروم ہوگئی ہے ۔
    امیر جماعت اسلامی ہند سید سعادت اللہ حسینی نے اپنے خطاب میں کہا کہ سید منورحسن کی رحلت بلاشبہ تحریکات اسلامی کا عظیم نقصان ہے ۔بدقسمتی سے مجھے کبھی ان سے ملاقات کا شرف حاصل نہیں ہوسکالیکن برسوں سے بلکہ اپنے بچپن سے ان کی تقریروں اور تحریروں سے مستفید ہوتا رہا ہوںاور انہیں پڑھتا رہا ہوں۔کہا جاتا ہے کہ ہر آدمی مرتا ضرور ہے مگر ہر آدمی جیتا بھی نہیں۔جینا صرف کھانے پینے اور بچوں کو پالنے کا نام نہیں ہے ۔انسانی زندگی اس قدر بے قیمت نہیں ہے کہ اسے حشرات الارض کی طرح محض شکم پروری میں گزار دیا جائے۔زندگی یہ ہے کہ کسی عظیم مقصد کیلئے جیا جائے۔زندگی کا مصرف تلاش کیا جائے اور اس مصرف کے تحت اسے گزارا جائے ،یہی جینا ہے اور واقع یہ ہے کہ ایسے خوش نصیب بہت کم ہوتے ہیںجنہوں نے اپنی زندگی کا ہر لمحہ جیا ہو۔میری نظر میں سید منورحسن کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ انہوں نے 78برس تک صرف سانس نہیں لی ہے بلکہ زندگی گزاری ہے ۔زندگی کا ہر لمحہ جیا ہے اور زندگی کی آخری سانس بھی بھرپور انداز میں لی ہے ۔وہ اپنے مقصد و مشن کی خاطر جدوجہد کرتے ہوئے زندگی کی مہلت مکمل کرکے اپنے رب کے حضور پیش ہوئے ہیں۔جان ہی دیدی جگر نے آج پائے یار پر ۔۔عمر بھر کی بے قراری کو قرار آہی گیا۔عظیم شخصیتوں کی یاد میں منعقدہ تعزیت کے سیمیناروں کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ ہمارے نوجوان ان کی زندگیوں کو اپنے لئے نمونہ بنائیں۔ان کی خوبیاں اپنے اندر پیدا کریںاور جو خلاان کے جانے سے پیدا ہوا ہے اس خلاکو پرکرنے کی کوشش کریں۔تحریک اسلامی ایک فکری اور نظریاتی تحریک ہے ۔اس تحریک کے مثالی کارکن اور قائد وہی لوگ ہوسکتے ہیںجو اسلامی اخلاق و کردار کا اعلی نمونہ ہوں۔فکری اور نظریاتی استقامت جن کی شخصیت کا امتیاز ہو۔میں سید منورحسن ؒ کی اہلیہ محترمہ اور ان کے بچوں سے تعزیت کرتا ہوں۔اللہ تعالیٰ انہیں صبر جمیل عطا کرے ۔
    امیر جماعت اسلامی بنگلا دیش ڈاکٹر شفیق الرحمن نے کہا کہ میری یہ خوش قسمتی ہے کہ اپنے نہایت شفیق،محبوب اور محترم بھائی سید منورحسن کے بارے میں کچھ کہوں ۔اللہ تعالیٰ سورة الملک میں فرماتا ہے کہ میں زندگی اور موت اس لئے بنائی ہے کہ میں دیکھ سکوں کہ تم میں سے کون اچھے اعمال کرتا ہے ۔سید منورحسن عالم اسلام کی ایک عظیم شخصیت تھے ۔وہ جس طرح جماعت اسلامی اور پاکستان کا اثاثہ تھے اسی طرح پوری امت مسلمہ کا اثاثہ تھے ۔وہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ زندگی میں اپنے حصے کا کام مکمل کرکے دنیا سے رخصت ہوگئے ہیں۔ہم نے بھی ایک دن اس دنیا کو چھوڑ کر جانا ہے۔ہم جانتے ہیں کہ زمانہ طالب علمی میں انہوں نے بالکل ایک مختلف پلیٹ فارم کا انتخاب کیا۔پھر انہوں نے اسلامی جمعیت طلباءمیں شمولیت اختیار کی۔نہایت کم عرصے میں ناظم اعلیٰ اور کئی بار ناظم اعلیٰ منتخب ہوئے ۔پھر وہ جماعت اسلامی کے امیر بنے ۔سید منورحسن نہایت سادہ زندگی گزارتے تھے ۔وہ ساری زندگی اللہ کے کلمہ کی سربلندی کیلئے جدوجہد کرتے اور اپنی ذمہ داری نبھاتے رہے ۔اللہ تعالیٰ ان کو اپنی جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے ۔
    سینئر تجزیہ کارسجاد میر نے کہا کہ میرے لئے بڑا مشکل ہے کہ میں سید منورحسن صاحب پر بات کروں،میں ان سے ذاتی تعلق بھی تھا اور میں نے چند دن نہیں برسوں ان کے دفتر ادارہ معارف اسلامی کراچی کی لائبریری میں بیٹھ کرہی صحافت کی۔23سال تک ظہر کی نماز ہم نے اکٹھے ادا کی ۔موٹر سائیکل پر بیٹھ کر کراچی کی گلیوں میںتحریک کا کام کیا۔قدرت نے ان کی بہترین انداز میں تربیت کی تھی ۔سید مودودی ؒ کے چہیتے تھے ۔پروفیسر خورشید کی علمی تحقیق کے گویا وہاں وارث بن کے بیٹھے تھے ۔فطری طور پر ہونے والی ابتدائی تربیت میں پروفیسر خورشید صاحب کا ایک خاص حصہ تھا۔ اس سے بہترین تربیت گویا کسی کی ہونہیں سکتی۔ سید منورحسن نے پورے اخلاص کے ساتھ ملک و قوم کی خدمت کی ۔سید منورحسن کی فکری تربیت پروفیسر خورشید احمد اور سیاسی تربیت پروفیسر غفور احمد ؒ نے کی اور پروفیسر غفور احمد کے سیاست میں جونیئر پارٹنر تھے ۔سید منورحسن نے ہمیشہ درست بات صحیح وقت پر کی ۔ان کی زندگی درویشی ،فقیری اور پارسائی کا مرقع تھی ۔اللہ تعالیٰ نے انہیں ایک لمبے عرصے کیلئے منصورہ میں رکھا ۔اسلامی جمعیت طلباءبنی تو بہت پہلے تھی مگر سید منورحسن اس کے بانی ثانی تھے اس کی صحیح شکل و صورت انہوں نے ہی بنائی ۔جب ان کا بائی پاس ہوا تو شاید ان کے بیٹے نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب سے پوچھتے ہیںکہ روزے رکھنے چاہئیں یا نہیں تو انہوں نے کہا کہ یہ بات ڈاکٹر سے پوچھنی ہے کہ روزے رکھنے ہیں یا نہیں۔؟ یہ تو اللہ تعالیٰ نے بتا دیا ہے۔سید صاحب ہمیں بہت کچھ دے گئے اور سکھا گئے ہیں ،ہم نے ایک درویش صفت کھویا تو نہیں مگر جدا ضرور ہوئے ہیں۔کل مجھے ایک دوست کہہ رہے تھے کہ اللہ مجھے ایک نماز ہی ایسی دے دے جیسی منورحسن پڑھا کرتے تھے ۔
    شیخ الحدیث مولانا فضل الرحیم نے کہا کہ سید منورحسن کے انتقال کی خبر سن کا انتہائی دکھ او ر صدمہ ہوا۔میرا ان سے انتہائی پیار اور محبت کا تعلق تھا۔اناللہ و اناالیہ راجعون ۔اللہ تعالیٰ ہمارے اس مرحوم قائد کو اعلیٰ علیین میں جگہ عطا فرمائے ۔قحط الرجال کے اس دور میں پروفیسر سید منورحسن کا اس دنیا سے چلے جانا بہت بڑا نقصان ہے ۔علماءکرام دھڑا دھڑ اللہ کے حضور پیش ہورہے ہیں ۔ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ بیمار علماءکرام کوصحت و تندرستی عطا فرما اور ان کی حفاظت فرما۔پروفیسر سید منورحسن جامعہ اشرفیہ کے ساتھ دیرینہ محبت و عقیدت رکھتے تھے ۔جامعہ اشرفیہ میں آکر وہ بہت مسرت اور راحت محسوس کرتے تھے ۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند کرے اور ہم سب کو صبر جمیل عطا کرے ۔
    تعزیتی سیمینار کیلئے پیر اعجاز ہاشمی صاحب کا پیغام جناب امیر العظیم صاحب نے پڑھ کر سنایا
    حاضرین محترم !میں بیماری کی وجہ سے اس سیمینار میں حاضر نہیں ہوسکااور اپنی گزارشات لکھ کر بھجوارہا ہوں ۔جب کوئی بڑا
    آدمی دنیا سے چلاجاتا ہے تو بیانات اور مضامین میں یہ لکھا جاتا ہے کہ ان کی وفات سے ایک خلاپیدا ہوگیا ہے جو پر نہیں ہوسکتا۔حقیقت یہ ہے کہ کچھ لوگ واقعی اپنے کردارکی وجہ سے بھلائے نہیں جاسکتے ۔میری سید منورحسن شاہ صاحب سے نام آشنائی تھی ،شناسائی نہ تھی ۔مگر یہ کریڈٹ ملی یکجہتی کو جاتا ہے جس میں ان سے ملاقات ہوئی اور پھر سچ تو یہ ہے کہ اس خون خرابے کے دور میں قاضی حسین احمد رحمہ اللہ صاحب کے شانہ بشانہ اور پھر مولنا شاہ احمد نورانی ؒ کے ہمراہ جس انداز سے سید منورحسن ؒ نے امت مسلمہ کے اتحاد کیلئے شب وروز کام کیا اسی کے نتیجہ میں متحدہ کا قیام ان کی شخصیت ،کردار اور کارہائے نمایاںہیں ۔آپ نے ساری زندگی پاکستان میں نظام مصطفی ﷺکے نفاذ کیلئے شرافت ،مروت ،بردباری اور تحمل کو اپنا سیاسی شعار بنائے رکھا ۔آپ ؒ مولانا مودودی ؒ کے نظریہ پر ساری عمر قائم رہے ۔ہم ایک عہد ناخلف میں داخل ہوچکے ہیںجو پر آشوب بھی ہے اور بے تعبیر بھی !۔ملت اسلامیہ ایک ایسی آزمائش سے گزر رہی ہے جس کی ماضی میں کوئی نظیر نہیں ملتی ۔سید منورحسن صاحب کی ساری زندگی اسلامی نظام کی بالا دستی کیلئے جہاد کرتے ہوئے گزری ۔سید منورحسن بہت خلیق ،شریف اور وفادار ساتھی تھے ،جو بات کہتے ڈٹ کر کہتے اور جو بھی رائے ہوتی اس کا اظہار بے باکی سے کرتے ۔اس موقع پر ان کا دنیا سے چلے جانا دینی جماعتوں کیلئے ایک دھچکا ہے ۔سچی بات یہ ہے کہ میرے پاس وہ الفاظ نہیں جن سے ان کی شایان شان سپاس عقیدت پیش کرسکوں ۔!انا للہ و انا الیہ راجعون!!
    تعزیتی ریفرنس سے سید منورحسن کے بیٹے سید طلحہ حسن نے کہا کہ میرے والد نے ہمیشہ مجھے حق اور سچ کے ساتھ کھڑے ہونے کی تلقین کی۔انہوں نے ہمیں حقوق اللہ اور حقوق العباد کو پورا کرنے اور دوسروں کیلئے ایثار اور قربانی کا درس دیا ۔میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے والد
    نے اپنے لئے جس مشکل زندگی کا انتخاب کیا تھا کامیابی اسی میں ہے ،میری زندگی کا مقصد بھی وہی ہے جو انہوں نے اپنے لئے متعین کیا تھا۔
    تعزیتی ریفرنس میں سید منورحسن کے ساتھ بارہ سال تک بطور ڈائیور چلنے والے کارکن محمد شوکت نے اپنے کچھ ذاتی احساسات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سید صاحب ہمیشہ بروقت نماز کی ادائیگی پر زور دیتے ۔لاہور سے اسلام آباد یا پشاور کہیں بھی جانا ہوتا تو فرماتے کہ وہاں سے نماز کے وقت کا پوچھ لیں تاکہ ہم باجماعت نماز میں شامل ہوسکیں۔انہوں نے بتایا کہ سید صاحب کی طرف سے میں نے کارکنوںکوبہت سے جوتے تحفہ میں دیئے ،دراصل سید صاحب کو کہیں سے کپڑوں جوتوں یا ضرورت کی دوسری چیزوں کے تحائف ملتے تھے تو وہ کارکنوں میں بانٹ دیتے تھے اور خود ہمیشہ اپنے سادہ کپڑوں اور پرانے جوتوں میں ہی گزارہ کرتے ۔میں نے سید صاحب کے جوتوں کو بارہا مرمت کروایا،سید صاحب انتہائی نفیس اور شفیق انسان تھے ۔انہوں نے پوری زندگی سادگی اور وقار سے گزاری ۔

     

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں




سوشل میڈیا لنکس