Jamaat-e-Islami Pakistan |

زراعت اور غر بت


  1. حکومت نے زراعت میں یہ کارکردگی دکھائی ہے کہ رواں سال ضرورت کے مطابق پانی فراہم نہیں ہو سکا،کھاد کی قیمت میں اضافہ ہوا، کپاس کی پیداوار9.178ملین گانٹھیں ہیں، جو گزشتہ سال سے کم ہیں،گنا کی فصل66.880 ملین ٹن ہوئی جو پہلے سے کم ہے،دال ماش ،آلو اور پیاز کی پیداوار پہلے سے کم ہوئی، کسان رواں سال میں اپنی حکومت کے ہاتھوں ایک ہزار ارب روپے کے مقروض ہوئے، یہ اعداد و شمار کسی اخبار کی رپورٹنگ نہیں،وزارت خزانہ کی شائع کردہ رپورٹ اقتصادی جائزہ 2019-20کے اقتباسات ہیں۔منفی شرح نمو سے حکومت معاشی زوال کی نئی تاریخ رقم کرنے کے بعد،عوام کو نئے قرض ملنے کی امید اور پرانے قرضوں کی ادائیگی میں مہلت کی "خوشخبری" سنا رہی ہے لیکن حقیقی خوش خبری ہمارے غریب کسانوں نے سنائی ہے کہ اس سال ہر سرکاری شعبہ میں معاشی زوال کے باوجود زراعت واحد شعبہ ہے، جس میں چھوٹی فصلوں پر کسانوں کی ذاتی محنت سے پونے تین فی صد مثبت شرح نمو آئی ہے،ہمارے حکمران یہ سمجھنے کے لئے تیار ہی نہیں ہیں کہ پاکستان پر مسلط غربت دور کرنا عالمی اداروں ،امریکہ یا چین کی ذمہ داری نہیں ہے، اللہ تعالیٰ نے ہمارے نصیب میں جو رزق لکھ دیا ہے، اسے حاصل کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ قدرت نے ہمیں رزق کے لئے زرخیز زمین ،مون سون کی بارشیں،پانچ دریا،نہری نظام اور چار موسم دیے ہیں لیکن ہم اپنا رزق حاصل کرنے کے لئے زراعت کی پلاننگ اور کسانوں کی محنت پر بھروسہ کرنے کی بجائے ایاک نعبدو ایاک نستعین کہتے ہوئے غیروں سے قرض کی بھیک مانگنے کے لئے بھنک رہے ہیں،اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ ولقدمکنکم فی الارض وجعلنا لکم فیھامعاشoقلیلا ماتشکرون ، ہم نے تمہیں زمین میں اختیارات کے ساتھ بسایا اور تمارے لئے یہاں سامان زیست فراہم کیا، مگر تم لوگ کم ہی شکر گزار ہوتے ہو۔(الاعراف 10) اللہ تعالیٰ نے زراعت سے ہمارے رزق کا بہترین انتظام کیا ہے،پاکستان فطری طور پر زرعی ملک ہے ہماری معیشت میں ہماری پہلی ترجیح زراعت ہی بنتی ہے لیکن ہم نے زراعت کو غربت کے حوالے کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں پورے ملک میں غربت ہے، زراعت نہیں چلتی تو صنعت بھی نہیں چلتی،ایکسپورٹ سے آمدنی بھی نہیں ہوتی، فصل کم ہوتی ہے تو مہنگائی زیادہ ہوتی ہے،زرعی شعبے کے زوال کے وجہ حکومتی سرپرستی کا نہ ہونا ہے،ہم ایسی قوم بن گئے ہیں، جو رزق کے خزانے پر بیٹھے دو وقت کی روٹی کے لئے ترس رہی ہے۔ ہم غربت سے نجات چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی قومی ترجیحات کی فہرست میں زراعت پہلے نمبر پر رکھنا ہوگی۔پاکستان تاریخی طور پر زرعی ملک ہے۔ پاکستان کا علاقہ صدیوں سے اناج گھر اور دنیا کا بہترین زرعی خطہ ہے۔ اس علاقے میں زراعت ایک بزنس ہی نہیں ایک مکمل سوشل کلچر ہے۔ جس میں پورا معاشرہ حصہ لیتا ہے۔پاکستان کی زراعت میں کروڑوں دیہی خواتین کی بابرکت افرادی قوت بھی شامل ہوتی ہے۔ اس علاقے میں نو ہزار سال پرانے مہر گڑھ کے کھنڈرات میں گندم، چاول اور دالوں کی سٹوریج کے کھنڈرات موجود ہیں۔ موہنجوداڑو کی باقیات میں بھی زراعت کے آثار اور اناج کی سٹوریج نظر آتی ہے۔ ہمارے کسان صدیو ں سے نسل درنسل زراعت کے تربیت یافتہ ماہر ہیں لیکن ہم اپنے کسان کی صلاحیت سے فائدہ نہیں اٹھا رہے،زراعت کی پہلی ضرورت پانی ہے۔ہماری قومی واٹر منیجمنٹ پالیسی کی عملی تصویر یہ ہے کہ ایک طرف فصلیں پانی نا ملنے سے سوکھ رہی ہیں اور دوسری طرف سیلاب کا پانی ہری بھری فصلوں کا نشان مٹا دیتا ہے۔حکومت نا بڑے ڈیم بناتی ہے نہ چھوٹے۔اسی ماہ"ارسا" نے افسوس ناک خبر دی ہے کہ پانی سٹاک کرنے کی صلاحیت کم ہونے کے باعث منگلا اور تربیلہ سے اربوں روپے مالیت کا پانی مجبوری کی حالت میں خارج کرکے دریائے سندھ کے ذریعے سمندر میں پھینک دیا گیا،زراعت کے ان پٹ مہنگے ہونے اور فصل کی قیمت مقرر نہ ہونے کی وجہ سے کسان خسارے میں رہتا ہے۔پہلی ضرورت زراعت کی لاگت کم کرنا ہے تاکہ پیداوار کی قیمت مناسب رہے، اس کے لئے ہر فصل کی سرکاری سپورٹ پرائس مقرر ہو۔ کسان پہلے سے جانتا ہو کہ فصل ،مارکیٹ میں کس قیمت پر فروخت ہوگی یا حکومت کس قیمت پر خریدنے کی پابند ہے،یہاں حکومت گندم کی قیمت مقرر کرتی ہے لیکن اس پر عمل نہیں ہوتا۔ فصل اٹھانے کےبار دانہ ہی نہیں ملتا ابھی تک حکو مت کے پاس غذائی اشیاءزخیرہ کر نے کے لیے مناسب انتطامات نہیں ہیں کسانوںکو مجموعی طور پر ار بوں روپے کا نقصان ہوتا ہے لیکن یہ نقصان کسی گنتی شمار میں نظر نہیں آتا۔ ابھی ٹڈی دل فصلیں اجاڑ رہا ہے لیکن حکومتی اقدامات صرف، آنیاں جانیاں ہیں،کسی کو احساس نہیں کہ زراعت کا نقصان اربوں روپے میں ہو رہا ہے،جب فصل تباہ ہو جاتی ہے اور کسان کی جیب خالی رہ جاتی ہے تو وہ ایک فصل کے بعد دوسری فصل کاشت نہیں کرسکتاکسان کی آمدنی سیزنل ہے، اسے ہر ماہ تنخواہ نہیں ملتی مختلف فصلیں چار سے دس ماہ میں تیار ہوتی ہیںایک فصل سے دوسری فصل کی درمیانی عرصہ میں کسان کو پانی ،بیچ،کھاد جیسی لازمی ضروریات کے لئے زرعی ترقیاتی بنک بغیر سود قرض دے تو کسان کی کھیتی باڑی میں رکاوٹ نہیں آئے گی۔زراعت لگا تار چلتی رہے گی تو پروڈکشن میں اضافہ ہوگا۔ اضافی فصل پیدا ہوگی تو ہم ایکسپورٹ بڑھا سکتے ہیں۔ کسانوں کے لئے بلاسود قرض کی فراہمی ایک قومی ضرورت ہے۔ کئی کسان سود کی وجہ سے زرعی قرض نہیں لیتے۔ پانی ،ٹیوب ویل ،ٹریکٹر،کھاد،معیاری بیچ کاشتکاری کے اہم اور لازمی اجزاءہیں، حکومت کا فرض ہے کہ زراعت کی بنیادی ضروریات آسان شرائط پر فراہم کرنے کا نظام بنائے اور فصل آنے پر کسان سے قیمت وصول کرے،پاکستان میں زرعی بیج آٹھ دس ارب روپے سالانہ کا بزنس ہے، حکومت کے پاس چار ہزار سیڈ کمپنیاں رجسٹر ہیں۔ کسانوں کی شکایت ہے کہ بیچ غیر معیاری اور زرعی ادویات جعلی ملتی ہیں ،جس سے فی ایکڑ پیداوار کم ہو رہی ہے، حکومت زیادہ پیداواری صلاحیت کے لئے ان پٹ کی فراہمی اور معیار کو یقینی کیوں نہیں بناتی؟ پاکستان کپاس پیدا کرنے والے ممالک میں چوتھے نمبر پر آتا ہے۔لیکن ابھی تک پاکستان میں سو فیصد وائرس فری کاٹن سیڈ تیار نہیں کیا جا سکا۔ہر سال کپاس کا بیچ درآمد کرنا پڑتا ہے۔ اس سال کاٹن کی فصل کم ہونے کی ایک وجہ یہ تھی کہ سپرے تاخیر سے فراہم ہوا۔جب فصل میں کیڑے پڑ جائیں تو اس کے بعد سپرے دستیات ہونے سے کیا فائدہ؟دنیا میں بھارت گندم اور چاول پیدا کرنے والا سب سے بڑا ملک کیسے بن گیا ہے۔ اس کی آبادی پاکستان سے چھ گنا ہے لیکن خوراک میں خود کفیل ہے اور فی ایکڑ پیداوار ہم سے زیادہ ہے۔ کسانوں کے لے کھاد،بیچ،زرعی ادویات کی قیمت بہت کم ہے۔ سبسڈی کی وجہ سے کاشت کا خرچ اور فصل کی قیمت کم ہوتی ہے۔اس لئے وہ عالمی منڈی میں پاکستان کو پیچھے چھوڑ کر اپنی فصلیں کم قیمت پر فروخت کرکے ایکسپورٹ بڑھاتا ہوا،زرمبادلہ میں اضافہ کر رہا ہے۔ پاکستان دنیا کے دو سو پنتالیس ممالک میں کاٹن ،چاول،گندم،آم،امرود اور پیاز کے علاوہ دودھ کی پیداوار کے دس بڑے ممالک کی مہرست میں شامل ہے۔آج بھی ہماری کل ایکسپورٹ کی آمدنی میں زراعت کا حصہ اسی فیصد ہے۔لیکن ہماری اپنی خامیوں کی وجہ سے عالمی مارکیٹ میں ہمارے قدم آگے بڑھنے کے بجائے پیچھے جا رہے ہیں،جدید زراعت سے کم مشینری ،کم وقت اور کم لاگت میں زیادہ پروڈکشن حاصل ہو رہی ہے۔ پلانٹ کھیت میں ہی لگائے جاتے ہیں۔ جس سے فصل کی کوالٹی محفوظ رہتی ہے۔ اب زراعت انفرادی یا خاندانی روزگار کی بجائے ایک قومی صنعت بن گئی ہے۔ وقت کے ساتھ زراعت کی پیداوار میں جدت ،مشقت اور پانی میں بچت اور بدلتے موسم سے فصلیں متاثر ہونے سے بچانا،اب زرعی ملک میں کسان سے زیادہ حکومت کی ذمہ داری ہے۔ لیکن ہماری حکومت جدید ٹیکنالوجی کسان تک پہنچانے میں ناکام رہی ہے،کبھی یہ محسوس ہوتاہے کہ شاید ہمارے بااختیار لوگوں کے علم میں نہیں کہ زراعت کس چیز کا نام ہے۔ زراعت میں اناج کی فصلیں،سبزیاں،پھلوں کے باغات،پھولوں کی کاشت، جنگلات، گوشت اور دودھ دینے والے جانور،پولٹری،فشریز اور زرعی آلات کی ٹیکنالوجی شامل ہے،پاکستان کی زراعت میں پولٹری واحد شعبہ ہے جس میں ملک کے پاس دنیا کی جدید ترین مشینری ہے۔یہ کم لوگ جانتے ہیں کہ پاکستان پولٹری ایکسپورٹ کرکے زرمبادلہ کماتا رہا ہے۔افغانستان،سعودی عرب،یمن اور امارات پاکستانی پولٹری کے خریدار رہے ہیں۔ اب پاکستان میں پولٹری ایکسپورٹ کرنے کی یہ صلاحیت فصلیں مہنگی ہونے کی وجہ سے ختم ہو رہی ہے۔پولٹری میں سب سے مہنگی چیز فیڈ ہے فیڈ کے بنیادی اجزاءمیں گندم ،مکئی اور چاول ہیں۔اب فصلوں کی قیمت زیادہ ہونے سے پولٹری کی لاگت بڑھ گئی۔ عالمی مارکیٹ میں ہمارے مدمقابل ممالک نے فصلوں کی قیمت کم رکھنے کی صلاحیت کے باعث کم قیمت پر پولٹری ایکسپورٹ کرکے پاکستان سے یہ مارکیٹ چھین رہی ہے۔ آج بھی یہ موقع موجود ہے کہ پاکستان میں فصلوں کی پیداواری لاگت کم ہو تو پولٹری کی قیمت خود بخود کم ہو جائے گی۔ عوام کو مرغی کا گوشت اور انڈے کم قیمت پر دستیاب ہونگے اور پاکستان عالمی مارکیٹ میں دوسرے ممالک کا مقابلہ کرتے ہوئے پولٹری کیاایکسپورٹ کے مزید قابل ہو جائے گا۔
    اسی طرح بہت سے لوگ یہ جان کر حیران ہوتے ہیں کہ دنیا میں پاکستان دودھ کی پیداوار کا پانچواں بڑا ملک ہے۔ یہ ہماری زراعت کے لئے بہت بڑا سوال ہے کہ پاکستان بیرون ملک سے خشک دودھ کیوں خرید رہا ہے۔اور ملک کی ہر گلی میں کیملز سے بنا دودھ کیوں فروخت ہو رہا ہے۔حکومت مویشیوں کی افزائش اور خالص اجزاءسے خشک دودھ کی تیاری کے پلانٹ کیوں نہیں لگا سکتی۔ پاکستان میں دودھ وافر اور مناسب قیمت پر موجود ہوگا تو دودھ کی تمام مصنوعات بھی اتنی ہی سستی اورمعیاری ہو سکتی ہیں کہ پاکستان ان ممالک میں جگہ بنا سکتا ہے ، جو دودھ کی مصنوعات ایکسپورٹ کرکے زرمبادلہ بنا رہے ہیں،ہمارے ملک کی آدھی سے زیادہ آبادی کی رہائش اور روزگار دیہات میں ہے۔ شہروں میں رہنے والی اکثریت کے آبائی گھر بھی گاو ¿ں میں ہیں۔ پھر ہمارا دیہی علاقہ اتنا غریب کیوں ہے؟ حکومت نے گاو ¿ں ،کسان اور زراعت پر وہ رقم خرچ نہیں کی جو دوسرے ملکوں میں کی جارہی ہے۔ ابھی اٹلی میں کرونا سے شہروں میں بے روزگاری آئی تو لوگوں نے قریبی دیہات کا رخ کر لیاہے کہ زراعت ایسا شعبہ ہے جس میں ہر وقت روزگار موجود ہوتا ہے۔پاکستان میں نوے فیصد صنعتی کارخانے بھی زراعت سے پیداوار ملنے پر چلتے ہیں۔ ہم گاو ¿ں اور زراعت کی ترقی کو ترجیح بنا لیں تو ملک سے بے روزگاری ،غربت اور بھوک ختم ہو جائے گی،پاکستان میں زراعت حکومتی بدانتظامی کے باعث منافع کی بجائے گھاٹے کا سودا بن گئی ہے۔کسان کو براہ راست مارکیٹ تک رسائی نہیں ،درمیان میں سرکاری ادارے اور مڈل مین حائل ہیں۔جب کسان لاگت اور محنت کا معاوضہ حاصل نہیں کر سکتا تو وہ زراعت کیو ں کرے گا ؟ یوں بھی عام انسان کے لئے سماجی تحفظ مفقود ہے۔ یہ وڈیروں اور پولیس کا آسان شکار ہے،کسان صبح نو بجے سے شام پانچ بجے تک کام نہیں کرتا۔ وہ چوبیس گھنٹے کام میں لگا رہتا ہے۔ دن رات محنت کے باوجود کسان زندگی کی بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔تعلیم اور ہسپتال کے لئے کسان شہر آنے پر مجبور ہیں۔موجودہ حالات میں کسان کھیتی باڑی کے بجائے اپنی زرعی زمینیں فروخت کرکے شہروں میں منتقل ہو رہے ہیں۔ اگر گاو ¿ں سے شہر منتقل ہونے کی یہی رجحان رہا تو زراعت ٹھپ ہو کر برائے نام رہ جائے گی۔ جس کھیت سے کسان کو روزی میسر نہیں ہو رہی۔ اقبال کے بقول اس کھیت میں خوشہ گندم کی جگہ دھول اڑتی ہوئی نظر آئے گی،ہمارا ملک اسلام کے نام پر بنا ہے اور مسلمان کبھی اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہوتا۔پاکستان میں زمین ،افرادی قوت اور زرعی مہارت سب موجود ہے۔زراعت میں کمی صر ف لیڈر شپ اور منیجمنٹ کی ہے۔ آج پاکستان میں عوام اپنے لئے وہ حکمران منتخب کرلیں ، جن کے دن مخلص ہوں ،عوام کی خدمت کا جذبہ اور ملک کا انتظام چلانے کی صلاحیت رکھتے ہوں تو پاکستان خوشحال عوام کا ملک اور رزق سے بھری ہوئی زمین بن سکتا ہے۔ہر الیکشن عوام کے لئے اپنا ملک خوشحال بنانے کا موقع ہوتا ہے۔ لیکن ہمارے ملک میں الیکشن چوری ہو جاتے ہیں اور جمہوریت کے نام پر کسانوں کے ووٹ حاصل کرکے وڈیرے انہیں کیسے کولہو کابیل بنائے رکھتے ہیں۔اس موضوع پر انشاءاللہ تعالیٰ پھر بات ہوگی۔ یہ اصول کی بات ہے کہ ایک زرعی ملک قدرتی وسائل کی بھرمار کے باوجود غربت سے سسک رہا ہے تو کوئی تو اس سانحہ کا ذمہ دار ہے۔


     

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں




سوشل میڈیا لنکس