Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

عرب انقلابات

  1. جہانِ نو ہورہا ہے پیدا

    ۶۲ سال پہلے، ۱۲ فروری ۱۹۴۹ء کا سورج غروب ہورہا تھا تو کرایے کے غنڈوں نے قاہرہ میں اللہ کے ایک ولی حسن البنّا کو گولیاں مارکر شہید کردیا۔ اس جرم کا ارتکاب کرنے والوں کا خیال تھا کہ الاخوان المسلمون کے بانی اور قائد کو راستے سے ہٹا دیں گے تو پوری تحریک خود بخود ختم ہوجائے گی۔ ٹھیک ۶۲ سال بعد ۱۲ فروری ۲۰۱۱ء کا سورج طلوع ہورہا تھا تو کئی عشروں سے مصری قوم کی گردنوں پر سوار ڈکٹیٹر اپنی آمریت کی لاش اُٹھا رہا تھا، اور دوست دشمن سب کہہ رہے تھے کہ: ’’الاخوان المسلمون آج مصر کی سب سے بڑی قوت ہے۔ مصر کا مستقبل اب اخوان کے ہاتھ میں ہے‘‘۔
    برطانوی اشاروں پر حسن البنا کو شہید کرنے والا شاہ فاروق، ۱۹۵۲ء میں چلا گیا۔ اس کے بعد بریگیڈیئر نجیب نے اقتدار سنبھالا۔ ۱۹۵۴ء میں اس کا تختہ اُلٹ کر کرنل جمال ناصر برسرِاقتدار آگیا۔ ۱۹۷۰ء میں اس کی موت کے بعد جنرل انور السادات نے حکومت سنبھالی اور ۱۹۷۹ء میں اس کے قتل کے وقت ساتھ والی کرسی پر براجمان مصری فضائیہ کا افسر اعلیٰ حسنی مبارک آگیا، اب وہ سب چلے گئے۔ فَمَا بَـکَتْ عَلَیْہِمُ السَّمَآئُ وَالْاَرْضُ وَمَا کَانُوْا مُنْظَرِیْنَo )الدخان ۴۴:۲۹) ’’نہ زمین ان پرروئی اور نہ آسمان اور نہ انھیں باقی چھوڑا گیا‘‘۔ اگر باقی رہے تو کمزور سمجھے جانے والے اس کے مخلص بندے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ایک بار پھر مجسم حقیقت کی صورت میں سامنے آگیا: کَذٰلِکَ یَضْرِبُ اللّٰہُ الْحَقَّ وَ الْبَاطِلَ ط فَاَمَّا الزَّبَدُ فَیَذْھَبُ جُفَآئً وَ اَمَّا مَا یَنْفَعُ النَّاسَ فَیَمْکُثُ فِی الْاَرْضِط کَذٰلِکَ یَضْرِبُ اللّٰہُ الْاَمْثَالَ)الرعد ۱۳:۱۷) (’’اللہ حق اور باطل کے معاملے کو اسی طرح واضح کرتا ہے۔ جو جھاگ ہے وہ اڑجایا کرتا ہے اور جو چیز انسانوں کے لیے نافع ہے وہ زمین میں ٹھیر جاتی ہے۔ اس طرح اللہ مثالوں سے اپنی بات سمجھاتا ہے‘‘۔
    تین ہفتے پہلے تک کسی کے سان گمان میں بھی نہ تھا کہ ۳۰ سال سے سیاہ و سفید کامالک بنا بیٹھا، فرعونِ مصر، نیل کی عوامی موجوں میں غرقاب ہونے والا ہے۔ اپنے فرار سے تقریباً ۱۹ گھنٹے پہلے، رات گئے قوم سے خطاب کرتے ہوئے وہ خود بھی یہی کہہ رہا تھا ’’مصری قوم جانتی ہے کہ محمدحسنی مبارک کون ہے، مجھے کہیں نہیں جانا، مجھے یہیں (اقتدار ہی میں) جینا مرنا ہے‘‘۔ لیکن پھر شہرشہر اور قصبے قصبے میں سڑکوں پر جمع یہ کروڑوں افراد غصے سے پھٹ پڑے۔ پورا ملک چلّا چلّا کر ایک ہی لفظ دہرانے لگا: اِرحَل ۔۔اِرحَل ۔۔اِرحَل ۔۔ ’’چلے جاؤ --- چلے جاؤ --- چلے جاؤ‘‘۔ پھر صرف ۱۹گھنٹے بعد ہی اس کا نائب صدر اور انٹیلی جنس کا سربراہ عمر سلیمان پردۂ سکرین پر نمودار ہوا اور مختصر ترین خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا: ’’جناب صدر نے منصب صدارت سے سبکدوش ہونے کا فیصلہ کیا ہے‘‘۔ سب نے سُکھ اور آزادی کا سانس لیا۔ بندوق اور بندوق بردار شکست کھا گئے، مقہور و مظلوم عوام فتح یاب قرار پائے!
    تیونس کی تحریک کے نتیجہ خیز ہونے میں تقریباً ایک ماہ لگا تھا اور اس دوران ۷۸ افراد نے جام شہادت نوش کیا۔ مصر کا جابر حکمران سفاک بھی زیادہ تھا، اقتدار میں بھی زیادہ عرصے سے تھا، مشرق وسطیٰ میں اس کا کردار اہم ترین تھا۔ دنیا کے اکثر شیطان، بالخصوص اسرائیل اسے بچانے کے لیے بے تاب و متحرک بھی تھا۔ اس کے خلاف تحریک کو کامیابی حاصل کرنے میں ۱۸ روز لگے، اس دوران سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ۳۶۷ افراد شہید، ۵ہزار سے زائد زخمی ہوئے، لیکن عوام کو فتح حاصل ہوئی تو قوم نے یہ سارے دکھ مسکراتے ہوئے جھیل لیے۔ تیونس کے دُور دراز قصبے سیدی بوزید، میں ایک بے نوا ٹھیلہ بردار کا ٹھیلہ کیا الٹایا گیا کہ پورے عالم عرب میں تخت اُلٹنے کا آغاز ہوگیا۔ تاریخ کے اس اہم ترین موڑ اور اہم ترین تبدیلیوں کے اثرات و نتائج بہت دور رس ہوں گے۔ آئیے اس عوامی تحریک کے کچھ حقائق اور اس کے نتائج کا مختصر جائزہ لیتے ہیں۔
    پس منظر اور محرکات
    l یہ عوامی تحریکیں ان ممالک میں حکمرانوں کے ظلم و جبر اور استبداد کا منطقی نتیجہ ہیں۔ گذشتہ صدی میں استعمار سے آزادی کے بعد یہ سورما، خطے میں استعماری مفادات کے سب سے بڑے محافظ تھے لیکن اپنے عوام کو بھیڑ بکریوں سے زیادہ اہمیت نہ دیتے تھے۔ اپنے عوام کو اونچی آواز میں سانس تک لینے کی اجازت نہیں تھی۔ فی ظلال القرآن جیسی عظیم تفسیر لکھنے والے سید قطب جیسے قدسی نفوس کو اسی جرم کی پاداش میں پھانسی چڑھا دیا۔ اللہ کی طرف بلانے والوں کو دہشت گرد قرار دیتے ہوئے ہزاروں لوگوں کو بدترین تعذیب و عقوبت کی نذر کردیا۔ مختلف اوقات میں الاخوان المسلمون کے درجنوں افراد کو شہید اور ۳۰ ہزار سے زائد کارکنان کو جیلوں میں بند کردیا گیا۔ لیکن دوسری طرف یہی حکمران مکمل امریکی غلامی اور تابع داری کو دوام اقتدار کی ضمانت سمجھتے تھے۔ لاکھوں فلسطینیوں کی ہڈیوں پر کھڑی کی جانے والی صہیونی ریاست کی خدمت و حفاظت کو فرضِ منصبی اور تمغۂ اعزاز و افتخار گردانتے تھے۔ اب ان حکمرانوں کا روز حساب آیا ہے تو سب سے زیادہ تشویش کا شکار بھی اسرائیل ہی ہے کہ اس کا اصل خطِ دفاع شکست سے دوچار ہورہا ہے۔
    l استعمار کی غلامی کے بعد ان حکمرانوں کی دوسری سب سے بڑی صفت، ان کی کرپشن، لوٹ مار اور بے حساب قومی سرمایے کو شیرِ مادر سمجھ کر ہڑپ کرنا تھی۔ تیونسی جلاد کی لوٹ مار کے قصے ابھی ختم نہیں ہوئے تھے کہ اب فرعونِ مصر کی دولت و ثروت کے انبار ایک ایک کرکے ظاہر ہونے لگے ہیں۔ عوامی انقلابی تحریک کے دوران خود مغربی ذرائع نے تصدیق کی کہ ۸۲سالہ حسنی مبارک کی دولت ۷۰ ارب ڈالر سے متجاوز ہے۔ دو بیٹوں جمال اور علاء اور بیگم سوزان مبارک کی دولت کتنی ہے، ابھی کسی کو معلوم نہیں۔ ایک سابق وزیر ہاؤسنگ حسب اللہ کفراوی اس کی ایک جھلک دکھاتے ہوئے کہتے ہیں کہ: ایک روز علاء مبارک میرے پاس آیا اور کہنے لگا مجھے قاہرہ سے ۳۸کلومیٹر دُور، نئے تعمیر کیے جانے والے جدید ترین شہر ’’۶اکتوبر‘‘ میں ایک ہزار ایکڑ جگہ چاہیے۔ میں نے حیران ہوکر کہا: بیٹے آپ شاید ہزار میٹر (ایک کنال) کی بات کررہے ہیں؟ کہنے لگا: نہیں ، ایک ہزار ایکڑ۔ میں نے اسے کہا کہ اچھا اپنے بابا (صدر جمہوریہ) سے کہیں کہ مجھ سے اس بارے میں بات کرلیں۔ کچھ ہی عرصے بعد حسنی مبارک سے کچھ اختلاف ہونے پر میں نے وزارت سے استعفا دے دیا اور اس سے اگلے روز ہزار ایکڑ زمین علاء حسنی مبارک کے نام لگ گئی۔
    مصری ’مرکز براے اقتصادی و معاشرتی حقوق‘ نے محتسب اعلیٰ عبد المجید محمود کو ایک خط ارسال کیا ہے جس کے ساتھ ٹھوس دستاویزی ثبوت بھی لگائے گئے ہیں۔ ریفرنس نمبر ۱۶۲۲ کے ساتھ اس خط میں بتایا گیا ہے کہ ۱۱ فروری ۱۹۸۲ء کو محمد حسنی مبارک کے ذاتی نام پر ۱۹ ہزار ۴سوکلو قیمتی پلاٹینیم سوئٹزر لینڈ کے سوئز یونین بنک کے پاس رکھا گیا ہے تب اس کی مالیت ۱۴؍ارب ڈالر لگائی گئی تھی۔ خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ان دستاویزات کے مطابق حکومت مصر سوئس بنک سے یہ ثروت واپس لے۔ یہ سب اربوں ڈالر تو ابھی دیگ کے چند چاول ہیں، ابھی قوم کے غم میں گھلنے والے ان حکمرانوں کے مکروہ چہروں سے ایک ایک کرکے کئی نقاب اترنا ہیں۔ لیکن یہ معلوم نہیں ہے کہ ان کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے پہلے کھلتا ہے یا کفن کے پردے میں پہلے لپیٹ دیا جاتا ہے۔ اقتدار سے جاتے ہی خبریں آنا شروع ہوگئی ہیں کہ حسنی مبارک کومے میں چلا گیا۔
    غربت کے مارے مسلم ممالک کے عوام میں اگر صرف حکمران طبقے کی یہی لوٹی ہوئی دولت ہی تقسیم کردی جائے تو وہ خوش حال ہوجائیں۔ لیکن دولت کا سارا ارتکاز چند لٹیرے لیڈروں اور ان کے حواریوں میں ہوکر رہ گیا ہے۔ اکثر مسلم ممالک کی ۸۰ فی صد سے زائد آبادی کو غربت کے کانٹوں میں رگیدا جارہا ہے۔ یہ طبقاتی تفاوت تیسرا بنیادی سبب ہے کہ جس نے بالآخر پوری قوم کو سڑکوں پر لا کھڑا کیا۔
    l اس تحریک کا ایک اور اہم پہلو یہ تھا کہ یہ پوری قوم کی تحریک تھی۔ اگر یہ کسی ایک گروہ، جماعت یا مخصوص طبقے کی تحریک ہوتی تو شاید ان تمام مظالم کے سامنے ڈٹے رہنا بہت مشکل ہوتا۔ تحریک میں شامل تمام عناصر بھی اس حقیقت سے آشنا تھے۔ اس لیے کسی نے بھی اس تحریک کو اپنے نام لگانے کی کوشش نہیں کی۔ ۱۹ روز کی عوامی تحریک میں کروڑوں افراد سڑکوں پر آئے لیکن سب شرکا صرف قومی پرچم لے کر آئے، سب نے اصل قومی مطالبات پر مشتمل نعرے ہی لگائے۔ سب کی زبان پر ایک ہی نعرہ تھا: الشَّعبُ یُرید اِسقاطَ النِّظام، ’’قوم نظام (Regime) سے نجات چاہتی ہے‘‘۔ یہی نعرہ مختلف اوقات میں مختلف تبدیلیاں بھی دیکھتا رہا۔ جب صدر نے اپنے دوسرے خطاب میں بھی کرسی نہ چھوڑنے پر اصرار کیا تو نعرہ ہوگیا: الشَّعبُ یُرید اعدامَ الرَّئیس،’’ قوم صدر کو پھانسی دینا چاہتی ہے‘‘۔ عوام کامیاب ہوگئے اور ۱۸ فروری کو جمعۃ النصر منایا گیا تو لوگ نعرے لگا رہے تھے: الشَّعبُ یُرید تطہیر البِلَاد، ’’قوم (تمام فاسد عناصر کی) تطہیر چاہتی ہے‘‘۔ عالم عرب کے اہم ثقافتی و علمی مرکز مصر نے اس تحریک کے دوران عوامی نعروں کے سلسلے میں اتنی زرخیز ذہنی کا ثبوت دیا کہ اب وہاں صرف ان نعروں، دل چسپ و جان دار بینروں اور اشتہارات و تصاویر پر مشتمل ایک پورا یادگاری میوزیم تشکیل دیا جارہا ہے۔ الشَّعبُ یُرید …کا نعرہ تو اب تمام عوامی تحریکوں کا شعار بن گیا ہے۔ بحرین، یمن، لیبیا، مراکش… ہرجگہ گونج رہا ہے۔
    l تیونس اور مصر میں تحریک کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ ان کے حکمرانوں نے ہمیشہ کی طرح اس موقع پر بھی دنیا کو یہ دھمکی دی کہ ہم نہ رہے تو یہاں شدت پسند اسلامی تحریکیں قابض ہوجائیں گی۔ کوئی اخوان سے ڈرا رہا تھا، کوئی القاعدہ سے اور کوئی امارت اسلامی سے۔ مصر میں آنے والی کوئی بھی تبدیلی براہِ راست اسرائیل سلامتی پر اثر انداز ہوتی ہے۔ حسنی مبارک نے دورانِ تحریک بار بار واویلا مچایا کہ مصر میں یہ ساری احتجاجی تحریک الاخوان المسلمون چلا رہی ہے، مجھے نہ رکھا گیا تو یہاں ان ہی کی حکومت بنے گی، جس کا مطلب ہے کہ یہاں حماس کی حکومت ہوگی۔ اسرائیلی ذمہ داران نے بھی حسنی مبارک کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے بار بار یہی دُہائیاں دیں کہ اس کا رہنا ناگزیر ہے، لیکن الحمد للہ مصری عوام نے اتحاد کو اپنی کامیابی کا مضبوط زینہ بنائے رکھا، اور بالآخر پوری دنیا کو ان کا ساتھ دینا پڑا۔
    جمعہ ۱۱ فروری کی شام مصر کو حسنی مبارک سے نجات ملی، لیکن ایک شخص کے چلے جانے سے قوم واپس گھروں میں جا کر نہیں بیٹھ گئی۔ مزید دو روز ایام تشکر منانے کے بعد اعلان کیا گیا کہ جمعہ ۱۸ فروری کو میدان آزادی میں دوبارہ ملین مارچ ہوگا۔ اسے جمعۃ النصرکا نام دیا گیا۔ سید ابوالاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ کی نماز جنازہ کی امامت کرنے والے علامہ یوسف القرضاوی کو جمعۃ النصر کا خطبہ دینے کے لیے خصوصی طور پر قطر سے مصر آنے کی دعوت دی گئی۔ اس روز مصر کی تاریخ کا سب سے بڑا اجتماع دیکھنے میں آیا۔ ۳۰ لاکھ مردو خواتین تاحد نگاہ صف آرا تھے۔ علامہ قرضاوی نے قُلِ اللّٰھُمَّ مٰلِکَ الْمُلْکِ تُؤْتِی الْمُلْکَ مَنْ تَشَآئُ وَ تَنْزِعُ الْمُلْکَ مِمَّنْ تَشَآئُ کی تلاوت کرتے ہوئے خطبے کا آغاز کیا اور جامع خطبے میں مصری عوام اور اُمت مسلمہ کے جذبات کی ترجمانی کی۔ سبحان اللہ! ایک وقت تھا کہ یوسف القرضاوی صاحب پر سرزمینِ مصر اپنی تمام تر وسعتوں کے باوجود تنگ کردی گئی تھی۔ وہ پہلے مصری جیلوں میں قید رہے اور پھر مصر سے ہجرت کرجانے پر مجبور ہوئے، آج کروڑوں مسلمانوں کی ترجمانی کرتے ہوئے فوج، حکومت اور پوری قوم سے مخاطب ہورہے تھے۔ فوج نے بھی عوامی اکثریت کا فیصلہ دیکھتے ہوئے جمعۃ النصر کے اجتماع میں لوگوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے قومی پرچم تقسیم کیے۔
    اس یومِ نصر کی ایک اور اہم بات یہ تھی کہ خطبہء جمعہ سے قبل اسی سٹیج سے مصری مسیحیوں نے بھی اپنی عبادت کی۔ واضح رہے کہ اسکندریہ شہر میں واقع ایک عیسائی چرچ کے باہر ایک دھماکہ کرواتے ہوئے مسیحی مسلم فسادات کروانے کی کوشش کی گئی تھی۔ اپنے مسیحی ہم وطنوں کو عبادت کا پورا موقع دے کر ملّی یک جہتی کا مظاہرہ کیا گیا۔ خطبۂ جمعہ کے بعد اعلان کیا گیا کہ ہماری تحریک صرف ایک شخص نہیں، بلکہ پورے نظام کی تبدیلی کے لیے ہے۔ جب تک ہمارے بنیادی مطالبات تسلیم نہیں ہوتے ہم میدان عمل میں رہیں گے اور یہ حالیہ عوامی تحریک کا ایک اور اہم پہلو ہے۔
    اگلے ہی روز اعلان ہوا کہ آیندہ مظاہرہ پیر ۲۱ فروری کو مصر کے دوسرے بڑے شہر اسکندریہ میں ہوگا۔ اس مظاہرے کی خاص بات یہ تھی کہ اس کا اعلان جامع مسجد القائد ابراہیم کے ۸۶ سالہ امام احمد المحلاوی نے کیا تھا۔ جناب محلاوی کو ۱۵سال قبل حسنی انتظامیہ نے إخوان سے تعلق کی وجہ سے خطبۂ جمعہ دینے سے منع کردیا تھا۔ تحریک کے دوران پورا شہر مل کر انھیں واپس مسجد ابراہیم کی خطابت کے لیے لے آیا۔ ۸۶ سالہ بزرگ عالم دین نے پوری تحریک کے دوران میں لاکھوں لوگوں کی قیادت کی اور ۱۸ فروری کے جمعۃ النصر میں اعلان کیا کہ اسکندریہ شہر میں بھی ۲۱فروری بروز پیر یوم تشکر منایا جائے گا۔ تمام حضرات و خواتین اس میں بھی اسی جوش و خروش سے شریک ہوں اور چوں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پیر اور جمعرات کو عموماً روزہ رکھا کرتے تھے اس لیے ریلی کے شرکا بھی پیر کا نفلی روزہ رکھ کر آئیں۔ پیر کے مسنون روزے کا اعلان کوئی وقتی یا سطحی اقدام نہیں تھا۔ نفلی روزوں اور مسلسل تلاوت قرآن کا اہتمام، اخوان کے تربیتی نظام کا ایک مستقل حصہ ہے۔ ملک میں تبدیلی کے لیے قومی تحریک کے دوران بھی اس روحانی تربیت کا اہتمام کرنا، اس تحریک کا ایک اور انتہائی روشن اور سب کے لیے قابل تقلید گوشہ ہے۔ میدان التحریر میں اکثر ایسے مناظر دکھائی دیے کہ دو ہفتے سے زائد عرصے سے لوگ میدان میں دھرنا دیے ہوئے تھے۔ آغاز میں پولیس اور کرایے کے غنڈوں کے ساتھ مڈبھیڑ کے نتیجے میں زخمی ہونے والوں کی ایک بڑی تعداد بھی ان میں شامل تھی۔ سخت سردی، زخموں کی تکلیف اور طویل کش مکش کے دوران بھی، جس کو جب موقع ملا، اس نے جیب سے اپنا قرآن نکالا اور اپنے رب سے گفتگو شروع کردی۔
    میدان التحریر سے آنے والے ایک معروف نوجوان اسکالر ڈاکٹر وصفی عاشور سے ۹فروری کو ملاقات کا موقع ملا۔ وہ بتارہے تھے کہ دن گزرنے کے ساتھ ساتھ شہدا کی تعداد میں بھی اضافہ ہوتا جارہا ہے، لیکن لوگوں میں کوئی مایوسی، اضمحلال یا جھنجھلاہٹ نہیں ہے۔ وہاں مسلم مسیحی، بچے بوڑھے، مرد عورتیں، امیر غریب، سب شریک ہیں اور سب ایک کنبے کی طرح ہیں۔ ضرورت پڑے تو پی ایچ ڈی ڈاکٹر بھی جھاڑو اٹھا کر اپنے حصے کی صفائی میں حصہ لیتا ہے۔ لوگوں نے ڈیوٹیاں اور باریاں بانٹی ہوئی ہیں۔ خواتین گھروں سے کھانا تیار کرکے لاتی اور شرکا میں تقسیم کرتی ہیں۔ ہمیں تو بعض اوقات یقین نہیں آتا کہ یہ وہی مصری قوم اور یہ وہی مصر ہے جہاں ہم ۲۵ جنوری سے پہلے بھی رہتے تھے۔ پوری قوم محبت و اخوت کے گہرے رشتے میں پروئی گئی ہے۔ نوجوانوں کا کردار سب سے نمایاں ہے۔ پوری تحریک کو بجاطور پر نوجوانوں ہی کی تحریک قرار دیا جارہا ہے۔ مجھے یاد آیا کہ گذشتہ سال انھی مصری نوجوانوں میں اخلاقی انحطاط کا بدترین واقعہ بھی اسی میدان التحریر کے ایک گوشے میں وقوع پذیر ہوا تھا۔ جب حکومتی سرپرستی میں نئے سال کا جشن مناتے ہوئے نوجوانوں کے ایک گروہ نے آدھی رات کی تقریبات کے بعد سرراہ، ایک مسلمان خاتون کی آبروریزی کرڈالی تھی۔ آج وہی نوجوان یہاں اپنی ماؤں بہنوں کی عزت کے رکھوالے کے طور پر موجود تھے۔ حسنی مبارک کے رخصت ہوجانے کے بعد اب یہی نوجوان مختلف شہروں کے گلی محلوں میں جاکر گھروں میں اشتہارات اور اسٹکر تقسیم کررہے ہیں کہ ’’بنیادی اہداف حاصل ہونے تک تحریک جاری رہے گی‘‘۔ گویا تحریک انقلاب پیغام دے رہی ہے کہ امت خیر سے معمور ہے، اسے روشن خیالی کے نام پر تباہ کرنے والی قیادت کی بجاے روزہ و قرآن سے محبت رکھنے والی قیادت مل جائے تو دنیا کی کایا بدل دے۔
    خدشات و خطرات
    تحریک انقلاب کے ان تمام روشن پہلوؤں اور کامیابیوں کے ساتھ ساتھ بہت سے گمبھیر اور سنگین چیلنج درپیش ہیں۔ ابھی کامیابی کا صرف پہلا ہدف حاصل ہوا ہے۔ فتنے کا سرکچلا جا چکا ہے لیکن باقی پورے کا پورا نظام جوں کا توں موجود ہے۔ عوامی تحریک کے دباؤ کے پیش نظر حکومت نے بعض وزرا کو جیلوں میں بند کردیا ہے۔ وزیر داخلہ کی حیثیت سے ہزاروں بے گناہ افراد کو موت و ہلاکت سے دوچار کرنے والے وزیر داخلہ سمیت، تین وفاقی وزرا کو مکافات عمل نے اخوان کے قیدیوں کے لیے معروف ’طرہ‘ جیل کی سلاخوں کے پیچھے پہنچا دیا ہے، لیکن سابق نظام کے تقریباً تمام کل پرزے جوں کے توں اپنی اپنی جگہ برقرار ہیں۔ فوج نے عارضی طور پر اقتدار سنبھالتے ہوئے دستور اور پارلیمنٹ کو تو معطل کردیا، لیکن گذشتہ ۳۰ برس سے مسلط ایمرجنسی کو اب بھی نہیں ہٹایا گیا۔ سیکڑوں سیاسی قیدی اب بھی جیلوں میں بند ہیں۔ حسنی مبارک کا ذاتی دوست اور اسی کی طرف سے وزیراعظم مقرر کیا جانے والا فضائیہ کا سابق سربراہ احمد شفیق اب بھی حکومت چلا رہا ہے۔ سابق نظام ہی سے ۱۱افراد کو وزیر مقرر کر دیا گیا ہے جسے ظاہر ہے عوام نے مسترد کردیا۔ فوج نے اگرچہ اخوان کے سابق رکن اسمبلی، معروف قانون دان صبحی صالح سمیت، جید ماہرین قانون پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی ہے اور ایک معتدل، اسلام دوست اور معروف قانون دان ڈاکٹر طارق البِشری اس کے سربراہ ہیں۔ فوج کے سربراہ نے اس کمیٹی کی تجویز کردہ ترامیم پر دو ماہ کے اندر اندر ریفرنڈم کروانے اور چھے ماہ کے اندر قومی انتخابات کروانے کا وعدہ کیا ہے، لیکن یہ خدشہ بدستور موجود ہے کہ ۱۹۵۲ء سے اقتدار کے ایوانوں میں براجمان فوج اب بھی اقتدار کی راہ داریوں سے باہر آنے سے انکار کردے۔ ان کے پیش رو کرنل ناصر بھی انقلاب کے بعد بہت خوش نما دعوے اور وعدے کیا کرتے تھے۔ سادات نے آکر اخوان کے مرشدعام عمرتلمسانی اور ان کے بہت سے ساتھیوں کو جیلوں سے رہا کیا۔ دستور میں یہ ترمیم شامل کی کہ ’’قرآن و سنت تمام قوانین کا اصل مآخذ ہوں گے‘‘، اور بھی کئی اقدامات کیے لیکن پھر جو پینترا بدلا تو اپنے سارے پیش روؤں کو پیچھے چھوڑ گیا۔ حسنی مبارک نے بھی آکر اخوان سے مذاکرات کیے۔
    مصری قوم کو یہ سارے تلخ حقائق یاد ہیں۔ اگر فوج اور سابق نظام کے فساد زدہ کل پرزوں نے بیرونی آقاؤں کے اشاروں پر، پوری تحریک انقلاب کے ثمرات اکارت کرنے کی کوشش کی ،تو یہ ایک بڑی بدقسمتی ہوگی جو عوام کو کسی صورت قبول نہ ہوگی۔ انھی خدشات کے پیش نظر عوام نے اپنی تحریک کو مسلسل جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ ہرجمعے کو بڑے بڑے اجتماعات، ریلیاں اور ملین مارچ جاری رہیں گے۔ تمام تجزیہ نگار اور سیاسی وقومی رہنما اس پر متفق ہیں کہ انقلاب کو لٹیروں سے محفوظ رکھنا انقلاب کی بڑی آزمایش ہوتی ہے۔ سب بخوبی سمجھتے ہیں کہ اگرچہ کسی انقلاب کا آغاز کرنا بھی ایک مشکل کام ہوتا ہے لیکن اسے کامیابی کے ساتھ تکمیل تک پہنچانا اس سے بھی کہیں زیادہ مشکل ہوتا ہے۔ اگر خدانخواستہ انقلاب کو ادھورا یا بے نتیجہ چھوڑ دیا جائے تو نہ صرف یہ کہ دوبارہ کھڑے ہونا دشوار تر ہوتا ہے، بلکہ شہدا کے خون سے غداری آخرکار ہر طرف خون کی ندیاں بہا دیتی ہے۔
    شیطانی ترکش میں ایک خطرناک اور زہریلا تیر یہ بھی ہے کہ مختلف غلط فہمیاں پھیلاکر اور اپنے گماشتوں کو مختلف نام دے کر اس عدیم النظیر عوامی اتحاد میں رخنہ اندازی کی جائے۔ تحریک کے دوران بھی وہ یہ ہتھکنڈا آزما چکا ہے۔ پولیس اور دیگر سیکورٹی فورسز کی ناکامی کے بعد اس نے ان اداروں کے ملازمین کو سادہ کپڑوں میں ملبوس کرکے اور انھیں حسنی مبارک کے حامیوں کا نام دے کر مظاہرین پر حملہ کروادیا (ان میں سے اکثر پکڑے جانے والوں سے ملازمت کے کارڈ برآمد ہوئے)۔ حملہ آوروں کے پاس خنجر، بھالے، سریے اور ڈنڈے تھے۔ ان میں سے ایک بڑی تعداد گھوڑوں اور اونٹوں پر سوار تھی۔ انھوں نے آتے ہی بھگدڑ مچادی۔ بڑی تعداد میں مظاہرین کو زخمی کردیا۔ ان کا اور انھیں بھیجنے والوں کا خیال تھا کہ یوں سراسیمگی پھیلانے سے مظاہرین چھٹ جائیں گے، اور دنیا میں بھی یہ تاثر دیا جاسکے گا کہ پوری قوم حکومت کی مخالف نہیں، اس کے حامی بھی شدید جذبات رکھتے ہیں۔ یہ گھٹیا ڈراما سراسر ناکام رہا۔ ایک ڈیڑھ روز کی ماردھاڑ کے بعد ہی ان حملہ آوروں کی ایک تعداد فرار ہوگئی اور ایک تعداد مظاہرین سے جاملی۔ اقتدار جاتا دیکھ کر ملک میں خانہ جنگی پھیلانے کی یہ ایک رذیل کوشش تھی، جسے اللہ نے ناکام بنا دیا۔ اقتدار میں بیٹھے لالچی اب بھی قوم میں اختلاف و انتشار پھیلانے کی کوئی اور سعی کرسکتے ہیں، لیکن مقام شکر ہے کہ اب تک تمام افراد نے بہت ذمہ داری کا ثبوت دیا ہے۔
    کچھ لوگ ان خدشات کا بھی اظہار کر رہے ہیں کہ یہ ساری تحریک امریکا، اس کے حواریوں اور خفیہ طاقتوں کی برپا کردہ تو نہیں؟ کیوں کہ یہ سب کچھ اچانک اور غیرمتوقع طور پر ہوا۔ اس کا کوئی ایک لیڈر نہیں ہے اور عملاً ابھی بہت سے سابق حکمران ہی براجمان ہیں۔ لیکن بہت سے حقائق کی روشنی میں یہ امر ایک واضح حقیقت ہے کہ تمام مغربی طاقتوں کے لیے بھی یہ ساری تحریک بالخصوص تیونس کی تحریک اتنی ہی اچانک اور غیرمتوقع تھی کہ جتنی خود بن علی کے لیے۔ تیونس اور مصر میں امریکا اور مغربی ممالک کی پالیسی تحریک کے ساتھ ساتھ تبدیل ہوتی رہی ہے۔ آغاز میں سب نے یہی کہا کہ عوام پُرامن رہیں، حکمران ان سے گفت و شنید کریں۔ معاملات آگے بڑھے تو کہا کہ عوام اور حکمران تشدد سے گریز کریں اور جب واضح ہوگیا کہ اب ان کا رہنا ممکن نہیں تو مکمل طور پر آنکھیں پھیر لیں اور تبدیلی کی حمایت شروع کر دی۔ اب پھر مغرب آزمایش کی بھٹی پر ہے۔ اس کی خواہش اور کوشش ہوگی کہ نیا نظام بھی انھی کی مرضی کا ہو، تابع فرمان رہے اور اسرائیلی مفادات کا محافظ ہو۔ کسی حد تک وہ اپنے ان مقاصد کو حاصل بھی کرسکتے ہیں، لیکن اب عوام بھی اپنی قوت اور اپنی جدوجہد کی برکات سے آشنا ہوچکے ہیں۔ حکمت و تدبر، احتیاط لیکن سرگرمی اور جہدِمسلسل سے کام لیا گیا تو ان شاء اللہ ایک حقیقی تبدیلی کو کوئی نہیں روک سکتا۔
    الاخوان المسلمون
    رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مخلص اُمتیوں کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ یکثرون عند الفزع ویقلون عند الطمع، خوف و آزمایش کے لمحات ہوں تو وہ سب کثیر تعداد میں آن موجود ہوتے ہیں، لیکن جب غنائم اور فوائد تقسیم ہورہے ہوں تو بہت تھوڑے ہوتے ہیں۔ حالیہ تحریک نے اخوان کا یہ تعارف بھی بدرجۂ اتم کروادیا۔ پوری تحریک کے دوران صدر اوباما سے لے کر صہیونی ذمہ داران تک اور میدان آزادی میں جمع ایک ایک فرد سے لے کر دنیا کا ہر تجزیہ نگار کہہ رہا تھا کہ اخوان مصر کی سب سے بڑی اور سب سے منظم طاقت ہیں۔ اخوان ہی اس تحریک کی اصل طاقت اور ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ مصری حکومت جب بار بار مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل کی ضرورت پر زور دے رہی تھی تو ایک روز وزیر دفاع (حالیہ فوجی صدر) خود میدان آزادی میں جا پہنچا اور وہاں جمع لوگوں سے کہنے لگا: اپنے مرشد عام سے کہو کہ عمر سلیمان سے مذاکرات کرلے۔ خود عمر سلیمان نے بھی ٹی وی پر آکر کہا اخوان مذاکرات کرلے، یہ اس کے لیے سنہری موقع ہے۔ اخوان نے اس سے انکار کردیا۔ لیکن بعدازاں سیاسی جدوجہد کے ساتھ ساتھ سفارت کاری کے اصول پر عمل کرتے ہوئے، میدان التحریر میں جمع دیگر افراد کے ساتھ مل کر ۱۰ رکنی وفد میں اپنے بھی دو ذمہ داران کو شامل کیا اور میدانِ عمل کے علاوہ میز پر بیٹھ کر بھی اپنے اسی مضبوط موقف کا اعادہ کیا جو عوام کے جذبات کا صحیح عکاس تھا۔
    پوری تحریک کے دوران مرشد عام اور مرکزی ذمہ داران دن رات اخوان کے مرکز میں بیٹھ کر تحریک کی قیادت و رہنمائی کرتے رہے۔ لیکن چونکہ فیصلہ تھا کہ اخوان نے پوری تحریک کو خود سے موسوم نہیں کرنا ہے ان مرکزی ذمہ داران میں سے کوئی میدان التحریر میں نہیں آیا۔ وہاں ان میں سے کوئی ایک ذمہ دار بھی آجاتا تو پوری دنیا کے ذرائع ابلاغ اس پر ٹوٹ پڑتے، اور عوامی اور قومی تحریک کو ایک بنیاد پرست تحریک ثابت کرکے اس کے خلاف پروپیگنڈا شروع کردیا جاتا۔ تحریک کے بعد مغربی میڈیا نے پھبتی کستے ہوئے کہا: ’’اخوان نے بہت کامیابی سے سیاسی تقیہ کیا‘‘۔
    تحریک کے دوران اخوان کی طرف سے بہت نپے تلے الفاظ کے ساتھ گنتی کے چند بیانات جاری ہوئے۔ اس وقت تک کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ مصر میں آتش فشاں پھٹنے کی گھڑی آن پہنچی ہے۔ اس ضمن میں مزید احتیاط کرتے ہوئے تحریک کے دوران اور حسنی مبارک کے فرار ہوجانے کے بعد یہ واضح اعلان کیا گیا کہ اخوان کی طرف سے صرف مرشد عام، نائب مرشدین عام اور اخوان کے تین ترجمانوں کے علاوہ کسی کا بیان، اخوان کا باقاعدہ موقف نہ سمجھا جائے۔ کسی بھی سیاسی کارکن کے لیے بہت دشوار ہوتا ہے کہ وہ محنت بھی کرے اور اس کی پارٹی کا کوئی نام یا تعارف تک بھی نہ ہو، لیکن نظم کی پابندی اور اپنی ذات کی نفی کا یہ شان دار مظہر تھا۔ مرشد عام نے فتح و نصرت کے بعد اپنے ایک تفصیلی بیان سے ھذہ مصر ، ’’یہ ہے مصر‘‘ میں مصری عوام بالخصوص نوجوانوں اور اپنے کارکنان کی حوصلہ افزائی اور تحدیث نعمت کرتے ہوئے خاص طور پر ذکر کیا کہ ’’جب ساری سیکورٹی فورسز بھاگ گئیں اور کچھ عناصر نے ملک میں کئی جگہ لوٹ مار شروع کردی تو انھی نوجوانوں نے ملک بھر میں امن کمیٹیاں بناتے ہوئے ملک و قوم کی حفاظت کی‘‘۔
    میدان التحریر کے قریب ہی مصر کا قومی عجائب گھر واقع ہے۔ اس کا شمار دنیا کے انتہائی نادر عجائب گھروں میں ہوتا ہے۔ یہاں ہزاروں سال پرانے اصل اور نایاب نوادرات محفوظ ہیں۔ فرعون کی ممی بھی یہیں ہے۔ یہاں لوٹ مار مچتی تو یہ یقینا ایک بڑا قومی خسارہ ہوتا۔ اس نازک موقع پر یہ اخوان ہی تھے کہ جنھوں نے پورے ملک میں قومی اثاثوں، سرکاری دفاتر اور رہایشی علاقوں کی حفاظت کی۔ سڑکوں پر ٹریفک کنٹرول کی، کرفیو لگنے کے باعث گھروں میں مقید ہوکر رہ جانے والوں تک کھانا پانی پہنچایا۔ صحت وصفائی کی کمیٹیوں نے شہریوں کی خدمت کی۔ میدانِ آزادی سے آنے والا ایک دوست بتارہا تھا کہ رات کے وقت دھرنے دینے والوں کی ایک بڑی تعداد، بالخصوص خواتین گھروں کو چلی جاتی ہیں۔ مظاہرین پر حکومتی گماشتوں کے مسلح حملے کے بعد وہاں رات گزارنے والے، رات بھر پہرہ بھی دیتے ہیں۔ میدانِ آزادی بذاتِ خود ایک چھوٹے سے شہر کی حیثیت رکھتا ہے اور اتنے بڑے میدان کا مسلسل پہرہ معمولی بات نہیں ہے۔ وہاں رات گزارنے والوں اور حفاظتی انتظام کرنے والوں کی بڑی اکثریت اخوان ہی کے ساتھیوں کی ہے جن کے دن کا آغاز میدان التحریر میں نمازِتہجد سے ہوتا ہے۔
    ان تمام قربانیوں اور جدوجہد کے باوجود اس پوری قربانی کا سہرا اپنے سر نہ سجانا، مستقبل کے سیاسی نقشے میں بھی خود کو مبالغہ آمیز طریقے سے بڑھا چڑھا کر پیش نہ کرنا اخوان جیسی فنافی اللہ تحریک ہی کے لیے ممکن ہوسکتا تھا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ اخوان دنیا جہان سے بے خبر سادہ لوح درویشوں کا کوئی گروہ ہے۔ اخوان نے دورانِ تحریک ہی یہ اعلان کردیا کہ وہ آیندہ صدارتی انتخاب میں اپنا کوئی امیدوار نہیں لائیں گے، اس اعلان کے سیاسی فوائد اور دُوراندیشی کی داد ہر اپنے پرائے نے دی ہے۔ دوسری طرف اخوان کے مرشدعام نے اعلان کیا ہے کہ وہ الحریۃ والعدالۃ (آزادی و انصاف پارٹی - Freedom and Justice Party) کے نام سے ایک سیاسی جماعت تشکیل دے رہے ہیں، جو انتخابات میں مصری عوام کے حقیقی جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے ملک میں حقیقی انصاف و آزادی کا حصول یقینی بنائے گی۔ اخوان اپنی دعوتی،تربیتی اور تعلیمی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ اس سیاسی پارٹی کے پلیٹ فارم سے تعمیرواصلاحِ معاشرہ کا فریضہ سرانجام دیں گے۔ اس طرح اہم موڑ پر دو اہم سیاسی فیصلے کرتے ہوئے انھوں نے اپنی گہری سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کیا۔ صدارتی اُمیدوار نہ لانے کے اعلان سے اخوان کے نام سے ڈرنے اور ڈرانے والوں کواطمینان دلایا اور ایک عوامی پارٹی کی تشکیل کا اعلان کرکے ہرشہری کے لیے اپنے دروازے کھول دیے۔ اخوان کی سرگرمیوں کی ایک اور مختصر جھلک دیکھنا چاہیں تو یہی دیکھ لیں کہ اس وقت اخوان کی مرکزی ویب سائٹ کے علاوہ ۳۲ شہروں اور شعبوں کی الگ الگ فعال ویب سائٹس کام کر رہی ہیں جو ہردم اپنے لوگوں کی رہنمائی کررہی ہیں۔ تازہ ترین سروے کے مطابق اخوان کی ویب سائٹ پوری دنیا کی کروڑوں ویب سائٹس میں اُوپر کی چند ہزار سائٹس میں شمار ہونے لگی ہے۔
    حسنی مبارک کے رخصت ہوجانے کے بعدعالمی ذرائع ابلاغ میں اخوان کے بارے میں مختلف غلط فہمیاں پھیلائی جارہی ہیں۔ پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے کہ اخوان میں اختلافات پیدا ہوگئے، انقلابی تحریک میں اخوان کا کوئی کردار نہیں ہے وغیرہ وغیرہ۔ اخوان کے لوگ کسی بحث میں نہیں اُلجھ رہے۔ خاموشی اور صبر سے کام میں لگے ہیں اور حسنی مبارک کی رخصتی نے ثابت کر دیا کہ بالآخر صبر ہی ثمربار ہوتا ہے۔ اپنے اور ملک و قوم کے مخالفین کے لیے اخوان کے مرشدعام نے اپنے ایک پیغام میں اسی آیت کو موضوع گفتگو بنایا ہے کہ وَ لَا یَحِیْقُ الْمَکْرُالسَّیِّیُٔ اِلَّا بِاَھْلِہٖ (فاطر۳۵:۴۳) ’’بُری چالیں اپنے چلنے والوں ہی کو لے بیٹھتی ہیں‘‘۔ وہ اپنے ایک اور پیغام کا اختتام اس آیت سے کرتے ہیں: وَ یَوْمَئِذٍ یَّفْرَحُ الْمُؤْمِنُوْنَ o بِنَصْرِ اللّٰہِ ط یَنْصُرُ مَنْ یَّشَآئُ ط وَھُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ o وَعْدَ اللّٰہِ ط لَا یُخْلِفُ اللّٰہُ وَعْدَہٗ وَ لٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ )الروم۳۰:۴-۶) ’’اور وہ دن وہ ہوگا جب کہ اللہ کی بخشی ہوئی فتح پر مسلمان خوشیاں منائیں گے۔ اللہ نصرت عطا فرماتا ہے جسے چاہتا ہے اور وہ زبردست اور رحیم ہے۔ یہ وعدہ اللہ نے کیا ہے۔ اللہ کبھی اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں‘‘۔
    مصر اور تیونس میں کامیابی کی خوشیاں ابھی تکمیل کی منتظر ہیں کہ بحرین، یمن اور پھر لیبیا میں بھی بڑی عوامی تحریکوں کا آغاز ہوگیا۔ بحرین اور یمن میں برپا تحریکوں کے پس منظر میں کچھ اور عوامل بھی اہم ہیں۔ اس لیے ان کی حیثیت فی الحال وہ نہیں ہوسکی جو دیگر عرب ممالک میں ڈکٹیٹرشپ کے خلاف پوری قوم کو اُٹھ کھڑا ہونے سے بنی اور بن رہی ہے۔ بحرین کی ساری کش مکش میں مذہبی (شیعہ سُنّی) تقسیم کو بہت اہمیت حاصل ہے، جب کہ یمن میں حکومت مخالف مظاہرے زیادہ تر جنوبی یمن میں ہورہے ہیں جو کبھی الگ ملک ہوتا تھا۔ حالیہ مظاہروں میں بھی کبھی کبھار شمالی یمن سے علیحدگی کے نعرے شامل ہوجاتے ہیں، جو اس تحریک کے ایک قومی تحریک بننے کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ اگر اس علیحدگی پسندی کا خناس نکل گیا اور پوری قوم ڈکٹیٹرشپ کے خاتمے، ملک میں حقیقی جمہوری و شورائی نظام، امریکی غلامی سے نجات اور کرپشن سے نجات جیسے بنیادی اہداف پر متفق ہوگئی تو پھر یقینا وہاں بھی تبدیلی ضرور آئے گی۔ وہاں کی اسلامی تحریک التجمع الیمنی لاصلاح ملک کی دوسری بڑی سیاسی جماعت ہے۔
    لیبیا کی صورت حال انتہائی سنگین، افسوس ناک اور قیامت خیز ہے۔ وہاں کرنل معمرالقذافی ۱۹۶۹ئ، یعنی گذشتہ ۴۲سال سے برسرِاقتدار ہے اور اپنے بعد اپنے بیٹے کو اقتدارکے لیے تیار کررہاتھا۔ لیبیا کے دونوں پڑوسیوں، تیونس اور مصر میں عوام نے ظالم ڈکٹیٹروں سے نجات حاصل کی تو سب سے افسوس ناک موقف قذافی ہی کا سامنے آیا۔ اس نے زین العابدین بن علی کے فرار کے بعد اس فیصلے پر اس کا مذاق اڑایا۔ ٹی وی پر خطاب کرتے ہوئے تیونسی عوام کو بھی لعنت ملامت کی کہ اس نے ایک قانونی صدر کی مخالفت کی۔ حسبِ عادت طویل تقریر میں اس نے تیونسی عوام کو یہ مشورہ بھی دیا کہ معزول صدر کو عزت و تکریم سے واپس بلالو، وہ اب بھی تمھارا صدرہے۔ پھر جب مصر میں حسنی مبارک کا راج سنگھاسن ڈولنے لگا تو قذافی صاحب نے باربار حسنی مبارک کو فون کرکے اور ٹی وی پر تقاریر کرکر کے عوام کے مقابل جمے رہنے پر اس کی حوصلہ افزائی کی۔ ۱۰فروری کو رات گئے اپنے آخری خطاب میں حسنی مبارک نے ڈھٹائی سے ڈٹے رہنے کا اعلان کیا تو پورا مصر مشتعل تھا۔ لیکن قذافی صاحب نے فوراً فون کرکے حسنی مبارک کو شاباش دی۔ اس نے مصری عوام کو مخاطب کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ حسنی مبارک پر ۷۰ ارب ڈالر کے اثاثوں کا الزام نرا الزام ہے۔ اسے تو اپنے کپڑوں کے لیے بھی ہم پیسے دیتے ہیں۔ قذافی صاحب خود کو شہنشاہِ افریقہ، مَلِکُ مُلوکِ اِفریقیا کہا کرتے تھے۔ مصری دیوار بھی ڈھے گئی تو قذافی صاحب کواپنی فکر پڑگئی۔ اگلے ہی روز صحافیوں کو بلا کر ڈرایا، دھمکایا اور ساتھ ہی یہ بزرجمہرانہ راے دی کہ اب دنیا کے لیے کوئی بڑا مسئلہ پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ سب سے مناسب مسئلہ یہ ہوسکتا ہے کہ دنیا بھر میں بھٹکنے والے فلسطینیوںکو بحری جہازوں میں بھر کر اسرائیلی پانیوں میں پہنچا دیا جائے۔ اسرائیلی انھیں فلسطین نہیں جانے دیں گے اور تشدد بھی کریں گے لیکن وہ اگر ان پر ایٹم بم بھی گرا دیں تب بھی دنیا میں ایک انسانی بحران پیدا ہوجائے گا۔ گویا عرب عوام کو جذبۂ آزادی سے ہٹانے کے لیے پاگل پن کا کوئی ایسا مظاہرہ کیا جائے کہ لوگ اپنی آزادی و حقوق کی جنگ بھول جائیں۔
    اس کی نوبت نہیں آئی اور یہ جاننے کے باوجود کہ لیبیا میں کرنل قذافی کے خلاف صداے احتجاج بلند کرنے کا مطلب ہے ناقابلِ تصور جانی و مالی نقصانات، لیبیا کے عوام سڑکوںپر نکل آئے۔ ابھی تک تو نتیجہ وہی نکلا ہے کہ جس کا خدشہ تھا۔ پہلے ہی ہفتے میں ۹۹۵؍افراد شہید، ہزاروں زخمی اور ہزاروں لاپتا ہوگئے ہیں، لیکن ہمیشہ کی طرح اس ساری خون ریزی نے حکومت مخالف جذبات و تحریک میں کمی کے بجاے مزید تیزی پیدا کر دی ہے۔ قذافی صاحب اس کے نتیجے میں اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھے ہیں، انھوں نے ٹی وی پر لمبی تقریر میں اپنے عوام کو چوہے، لال بیگ، نشئی، القاعدہ، امارت اسلامی تشکیل دینے والے (طالبان) اور نہ جانے کیا کیا قرار دے کر ان کے خلاف باقاعدہ جنگ شروع کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ جنگی جہازوں، توپوں اور ٹینکوں سے رہایشی آبادیوں کو ملیامیٹ کرنا شروع کر دیا ہے اور یہی ان کے ۴۲سالہ اقتدار کا نقطۂ اختتام ہے۔ مظلوم عوام پر مزید آزمایش تو آسکتی ہے لیکن اب معمر قذافی کی رخصتی یقینی ہے۔ اب تک بیرونِ ملک درجنوں لیبین سفرا، ظلم کی چکّی کے اصل ذمہ دار وزیرداخلہ اور بہت سارے فوجی افسروں سمیت مملکت کے کئی اہم افراد نے قذافی کا ساتھ چھوڑ کر عوام کے شانہ بشانہ کھڑا ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔ ابھی مصر میں شہید ہونے والے ۳۶۷ شہدا کا خون تازہ تھا کہ اب ہزاروں لیبین شہدا کے مقدس خون نے پوری اُمت کے دل خون خون کردیے، لیکن عالمِ اسلام یہ نوشتۂ دیوار پڑھ چکا ہے کہ اب ہماری دنیا کبھی محمدالبوعزیزی کا ٹھیلا اُلٹائے جانے سے پہلے کی دنیا نہیں ہوسکتی۔
    پاکستان سمیت تمام مسلم ممالک کے حکمرانوں اور عوام کو بھی اس کا یہ پیغام بخوبی پہنچ چکا ہے کہ جو قوم اپنے لیے آزادی اور عزت و وقار کی زندگی کا انتخاب کرلے تو پھر خدا خود بندے کی رضا کے مطابق فیصلہ کردیتا ہے۔ ظلم و جبر، کرپشن اور امریکی غلامی کی تکون تیونس اور مصر میں بھی رزقِ خاک ہورہی ہے اور باقی مسلم دنیا میں بھی اس کے اثرات یقینا پہنچیں گے۔ اب اپنی قسمت کا فیصلہ عوام کو خود کرنا ہے۔ ظالم و جابر، امریکا کے غلام، کرپٹ اور فساد زدہ حکمران آج نہیں تو کل قصۂ پارینہ بن جائیں گے۔ باقی وہی بچے گا جو رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کے عطا کردہ نظام کے سایے تلے اور عوام کے شانہ بشانہ کھڑا ہوگا۔ عوام سے بھی انصاف کرے گا اور خود اپنی ذات سے بھی انصاف کرے گا۔ اب ایک نیا عالمی اسٹیج تیار ہورہا ہے جس کی حتمی صورت بہت جلد پوری دنیا دیکھ لے گی۔ روحِ اقبال پکار پکار کر کہہ رہی ہے ع جہانِ نو ہورہا ہے پیدا،وہ عالمِ پیر مر رہا ہے! رب کا فرمان کسی صورت غلط نہیں ہوسکتا: وَکَلِمَۃُ اللّٰہِ ھِیَ الْعُلْیَا ، ’’اللہ کا کلمہ ہی سربلند ہوکر رہنا ہے‘‘۔
     

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں









سوشل میڈیا لنکس