Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

آئین و دستور سازی کی جدوجہد میں جماعت کا کردار

  1. الذین ان مکنھم فی الارض اقاموالصلوٰة واتوالزکوٰة وامروابالمعروف ونھو عن المنکرط وللہ عاقبة الامور(الج)
    ترجمہ :یہ وہ لوگ ہیں جنہیں اگر ہم زمین میں اقتدار بخشیں تو وہ نماز قائم کریں گے ، زکوٰة دیں گے ،نیکی کا حکم دیں گے اور برائی سے منع کریں گے اور معاملات کا انجام کار اللہ کے ہاتھ میں ہے ۔
    وطن عزیز پاکستان کی سیاسی تاریخ میں جماعت اسلامی کا اہم کردار رہاہے۔ اس حوالے سے ملک کے اندرواور بیرون ملک کئی کتابیں لکھی جاچکی ہیںاور آئندہ لکھی جاتی رہیں گی۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ جماعت اسلامی کی بااصول نظریاتی اور صاف ستھری سیاست کو کوئی انصاف پسند مورخ نظر انداز نہیں کرسکتا۔
    ملک میں دستور سازی اور اسلامی قانون کے نفاذ کے لیے جماعت اسلامی نے اہم اور فیصلہ کن کردار ادا کیاہے۔ یہ کوئی آسان یا سہل کردار نہ تھا ۔ جماعت اور اس کے رہنماﺅں کو اس راستے میں کئی مشکلات سے گزرنا پڑا ۔ اس میں دار و رسن اور قید و بند کے مراحل بھی آئے۔ اس راستے میں قربانیوں اور شہادتوں کی سعادتیں بھی نصیب ہوئیں، لیکن اللہ تعالیٰ کی توفیق اور اس کے فضل و کرم سے جماعت ،اسلامی قانون کے نفاذ کے لیے کوشاں رہی اور اپنی منزل کی طرف گامز ن ہے۔
    بہار ہو کہ خزاں لا الہ الا اللہ
    جماعت اسلامی کی دستوری جدوجہد کی تاریخ اولوالعزمی اور استقامت سے عبارت ہے۔ پاکستان کو اسلامی جمہوریہ اور ایک فلاحی مملکت بنانے کے لیے جماعت نے توفیق ایزدی کے ساتھ جس استقامت کا مظاہرہ کیا ہے، اس سے ملک و قوم کی حقیقی شناخت کو برقرار رکھنے میں مدد ملی ہے۔ میرے خیال میں جماعت کی دستوری جدوجہد کو دو۲ادوار میں تقسیم کیاجاسکتاہے۔ پہلادور قیام پاکستان سے لے کر اپریل 1962ءتک کا دورہ ہے،جس میں جماعت پارلیمنٹ کے اندرموجود نہ تھی ۔ اس دور میں رابطہ عوام کے ذریعے عوامی دباﺅ ڈالنے اور دستور ساز اسمبلی کے ارکان اور ذمہ داران حکومت سے ملاقاتوں کے ذریعے انہیں قائل کرنے کی جدوجہد کی گئی۔دوسرا دور 1962سے اب تک کا دور ہے۔ جس میں پارلیمنٹ کے اندر بھی اسلامی دستور اور اسلامی قوانین کے نفاذ کی جدوجہد کی گئی اوربعض اہم مسودات قانون تیار کرکے قومی اسمبلی میں پیش کئے گئے ۔ نیز اس رائے عامہ کو بھی اس مقصد کے لیے ہموارکیا جاتا رہا۔
    دستوری جدوجہد کے پہلے دورمیں مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒاور ان کے کئی مخلص اور مجاہدساتھی ہر آزمائش سے گزرے اور اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے کامیاب رہے۔ ریاستی جبر و تشدد ، قید و بند کی صعوبتیں اور پھانسی کی سزا کا اعلان بھی انہیں اعلائے کلمة اللہ سے باز نہ رکھ سکے ۔پاکستان میں اسلامی دستور کے نفاذ اور اسلامی نظام حیات کے قیام کی جدوجہد کا آغاز6جنوری 1948ءمیں ہوگیاتھا، جب ریڈیو پاکستان کے ڈائریکٹر نے مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کو ”اسلام کا نظام حیات “ کے موضوع پر پانچ تقاریر کا ایک سلسلہ شروع کرنے کی دعوت دی۔ یہ سلسلہ 6جنوری سے 16مارچ 1948ءتک جار ی رہا اور مولانا مودودیؒ نے اسلام کا اخلاقی نظام ، اسلام کا سیاسی نظام ، اسلام کا معاشرتی نظام، اسلام کا اقتصادی نظام اور اسلام کا روحانی نظام کے موضوعات پر پانچ تقاریر کیں۔ علاوہ ازیں مولانا مودودیؒ کو پنجاب یونیورسٹی لاءکالج لاہور میں اسلامی قانون کے نفاذ کے موضوع پر تقریر کرنے کی دعوت دی گئی جنوری 1948ءمیں مولانامودودیؒ نے لاءکالج میں اپنی پہلی تقریر میں اسلامی قانون کے نفاذ کی ضرورت بیان کی کہ یہ ملک اسلام کے نام پر اور اسلامی تہذیب کے احیاءکے لئے حاصل کیاگیاتھا۔ اس لئے اس میں انگریزی قوانین کی جگہ اب اسلامی قوانین جاری ہونے چاہئیں۔اس کے موجودہ دور میں قابل عمل اور ایک ترقی پذیر قانون ہونے کی تشریح کی اور ان تمام اعتراضات کے تسلی بخش جوابات دیئے جو اسلامی قانون سے نا واقف جدید تعلیم یافتہ لوگوں کے ذہنوں میں پیدا ہورہے تھے۔
    اس کے بعد6مارچ 1948ءکو لاءکالج لاہورمیں اپنی دوسری تقریر میں مولانامودودیؒ نے ان عملی تدابیر کو وضاحت کے ساتھ بیان کیا جو پاکستان میں اسلامی قانون کے نفاذ کے لیے اختیار کی جانی چاہئیں اور اس تدریج کی بھی وضاحت کی جس سے ان تدابیر پر عمل ہوناچاہیے۔ اپنی اس تقریر میں مولانا مودودیؒنے فرمایا کہ اس راہ میں پہلا قدم یہ ہونا چاہیے کہ ہماری دستورساز اسمبلی ایک باقاعدہ قرار داد کے ذریعے اس امر کا واضح اعلان کرے کہ :۔
    ”پاکستان میں حاکمیت اللہ تعالیٰ کی ہے اور ریاست اللہ کے نائب کی حیثیت سے ملک کا انتظام کرے گی ۔ ریاست کا اساسی قانون شریعت خدا وندی ہوگا۔ پچھلے رائج الوقت تمام وہ قوانین جو شریعت سے متصادم ہوں ، بتدریج تبدیل کئے جائیں گے اور آئندہ کوئی ایسا قانون نہ بنایا جائے گا جو شریعت سے متصادم ہوتاہو اور ریاست پاکستان اپنے اختیارات کے استعمال میں اسلامی حدود سے تجاوز کرنے کی مجاز نہ ہوگی۔“
    اپریل 1948ءمیں جماعت اسلامی کی مرکزی مجلس شوریٰ نے پاکستان میں دستور اسلامی کے نفاذ کے مطالبے کو ملک بھر میں گھر گھر تک پھیلا نے کا پروگرام بنایا اور اس پر فوراً عمل شروع ہوگیا۔ جماعت کے چار نکاتی مطالبہ نظام اسلامی کو لے کر مولانا مودودیؒ نے پشاور سے کراچی تک کامفصل دورہ کیا اور ہر بڑے شہر میں عوامی جلسہ ہائے عام میں خطاب کرتے ہوئے اس مطالبے کی وضاحت کی ۔ اس کے نتیجے میں یہ مطالبہ زبان زدعام ہوگیا کہ ”اللہ کی زمین پر اللہ کی مخلوق پر اللہ ہی کا قانون نافد ہوناچاہیے ۔“اور انگریزرخصت ہوگیا۔ انگریزی قوانین کب رخصت ہوں گے؟“ یہ جملے ہر شہر اور قصبے کی دیواروں پر بہت بڑے پیمانے پرلکھ دئیے گئے ۔ اس طرح مطالبہ نظام اسلامی ایک عوامی مطالبہ بن گیا۔
    اس عوامی مطالبے کی تائید میں قرار داد یں ملک بھر کے شہر وں اور قصبات اور دیہات سے منظور کرکے گورنرجنرل ، وزیر اعظم اور مجلس دستور ساز کے صدر کوبہت بڑی تعداد میں بھجوائی گئیں۔ اس ملک گیر مطالبے کے نتیجے میں 7مارچ 1949ءکو لیاقت علی خاں وزیراعظم پاکستان نے دستور ساز اسمبلی کے سامنے قرار داد مقاصد کا مسودہ پیش کیا۔ انہوں نے اپنی تقریر کاآغاز اس جملے سے کیا :۔
    ”اللہ تبارک وتعالیٰ ہی کل کائنات کا بلا شرکت غیرے حاکم ہے۔ اسی ذات نے جمہور کی وساطت سے مملکت پاکستان کو اپنی مقرر کردہ حدود کے اندر حکمرانی کا اختیار نیا بتاً عطا فرمایا ہے۔ اس لحاظ سے یہ اختیار حکمرانی ایک مقدس امانت ہے۔“
    انہوں نے یہ واضح کیا کہ ”پاکستان اس لئے قائم کیاگیا کہ اس برصغیر کے مسلمان اپنی زندگی کی تعمیر اسلامی تعلیمات و روایات کے مطابق کرنا چاہتے تھے۔ وہ دنیا پر عملاً واضح کردینا چاہتے تھے کہ آج حیات انسانی کو جو طرح طرح کی بیماریاں لگ گئی ہیں، ان سب کے لیے اسلام اکسیر اعظم کا حکم رکھتاہے۔ ہماری غالب اکثریت مسلمان ہے اور ہمارا اعتقاد ہے کہ اپنے ایمان اور نصب العین پر قائم رہ کر ہی دنیا کی فوز و فلاح میں حقیقی اضافہ کرسکتے ہیں۔ “
    اس تقریر کے آخر میں لیاقت علی خاں نے قرار داد مقاصد کا مسودہ دستور ساز اسمبلی میں پیش کردیا ۔ اس قرار داد مقاصد کا مسودہ مولانا شبیراحمد عثمانی مرحوم نے تیارکیاتھا۔ اس وقت مولانا مودودیؒکو پنجاب کی حکومت نے جیل میں ڈال رکھاتھا۔ چنانچہ قرار داد مقاصد کا مسودہ مولانا مودودی مرحوم کے پاس جیل میں بھیجا گیا۔ مولانا نے اس پر اطمینان کااظہار کردیا تھا۔اس کے بعد یہ قرار داد دستور ساز اسمبلی میں پیش کی گئی تھی۔ پانچ روز تک اس پر بحث جاری رہی بالآخر 12مارچ 1949ءکو یہ قرار داد منظور کرلی گئی۔
    اس قرار داد کی منظوری پر جماعت کی مرکزی مجلس شوریٰ نے اپنے کراچی کے اجلاس میں اللہ تعالیٰ کا شکر اداکیاکہ دستور ساز اسمبلی نے مسلمانان پاکستان کے مسلسل اور متفقہ مطالبے سے متاثر ہو کر بالآخر قرارداد مقاصد پاس کرکے اپنا فرض اداکردیاہے۔ مرکزی مجلس شوریٰ نے مطالبہ کیا کہ دستور ساز اسمبلی قرار داد مقاصد کی روح اور منشاءکے مطابق جلد ازجلد نیا دستور مرتب کرے جس میں اس بات کی صراحت کردی جائے کہ پاکستان کے قانون کا ماخذ قرآن و سنت ہوگا۔ مجلس شوریٰ نے عوام سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ اپنی زندگیوں میں اسلام کو عملاً نافد کریں تاکہ ایک صالح اور متوازن نظام حکومت کا عملی نمونہ دنیا کے سامنے پیش کیاجاسکے۔
    افسوس کے ساتھ کہنا پڑتاہے کہ حکومت میں شامل سیکولر ذہن کے بعض وزراءنے قرار داد مقاصد میں طے کردہ اصولوں سے انحراف کرتے ہوئے مسلمانوں میں بے شمار فرقوں پر طعنہ زنی کرتے ہوئے ایسے بیانات دیئے کہ مختلف فرقوں کے علماءکوئی ایک متفقہ دستوری مسودہ تیار نہیں کرسکتے۔ حکومتی وزراءکی یہ طعنہ زنی علمائے کرام کے لیے ایک بڑا چیلنج تھی۔ انہوں نے اس چیلنج کو قبول کرنے کا فیصلہ کیااور جنوری 1951ءمیں مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے اکتیس 31جید علمائے کرام کراچی میں جمع ہوئے اور انہوںنے متفقہ طور پر بائیس نکات طے کردیئے اور مطالبہ کیا کہ ان بنیادی اصولوں پر مبنی اسلامی دستور مرتب کردیا جائے تو وہ تمام فرقوں کے لیے قابل قبول ہوگا۔ ان 22نکات کے مرتب کرنے میں مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒنے کلیدی کردار ادا کیا تھا۔جولائی 1952ءمیں حکومت کی قائم کردہ دستور کے لئے بنیادی اصول طے کرنے والی کمیٹی نے کام شروع کیا۔ اس کی رپورٹ 22دسمبر1952ءکو شائع ہوئی تو معلوم ہوا کہ اس رپورٹ میں قادیانی مسئلہ کو بالکل نظر انداز کردیا گیاتھا۔
    16جنوری 1953ءکو وہ تمام علمائے کرام جنہوںنے بائیس نکاتی دستوری فارمولا مرتب کیاتھاکراچی میں پھر جمع ہوئے۔ ان سرکردہ علماءمیں مولانا مودودیؒ بھی شامل تھے ، ان حضرات نے حکومت کی دستور ی سفارشات میں ایک اہم ترمیم کا مطالبہ کیاتھا کہ قادیانیوں کو مسلمانوں سے الگ اقلیت قرار دیا جائے۔ حکومت میں شامل قادیانیوں کی ریشہ دوانیوں کے نتیجے میں علماءکا یہ مطالبہ تسلیم نہ کیاگیا جس پر قادیانیوں کے خلاف تحریک شروع ہوگئی ۔
    مولانا مودودیؒ کی گرفتاری اور سزائے موت کا حکم :
    27مارچ 1953ءکی شب مولانا مودودیؒ کو گرفتارکرلیاگیا۔ 28مارچ سے3مئی 1953ءتک لاہور کے بدنام قلعہ میں ان سے اذیت ناک پوچھ گچھ ہوتی رہی اور مارشل لاءکے ضابطہ نمبر8اور تعزیرات پاکستان کی دفعات 124اور 153کے تحت بغاوت کا جھوٹا مقدمہ فوجی عدالت میں چلایا گیا۔ 11مئی کو انہیں سزائے موت کا حکم سنادیاگیا۔ یہ حکم بظاہر ”قادیانی مسئلہ “ نامی پمفلٹ لکھنے پر سنایاگیا لیکن حکومت کے نزدیک مولانا مودودیؒ کا اصل جرم تو یہ تھاکہ وہ پاکستان میں اسلامی دستور کے لیے کیوں جدوجہد کرتے ہیں۔ مولانا نے کمال استقامت کا مظاہرہ کیا اور اپنے بچوں سے فرمایا کہ اس کے خلاف کوئی اپیل نہ کی جائے ۔ انہوں نے فرمایا کہ ”زندگی موت کے فیصلے زمین پر نہیں بلکہ آسمان پر ہوتے ہیں“۔ ملک بھر اور پورے عالم اسلام میں مولانا مودودیؒ کو فوجی عدالت کی طرف سے سزائے موت کا حکم سنانے پر بھرپور احتجاج کیاگیا۔ فوجی عدالت کے فیصلے کو بہیمانہ قرار دیا گیا اور مولانا کی رہائی کے مطالبات دنیا بھر سے کئے گئے۔ اس کے نتیجے میں 13مئی کو حکومت نے سزائے موت عمر قید میں تبدیل کردی۔
    جماعت اسلامی نے 12مئی 1953ءکو اسلامی دستور اور نظام اسلامی کی جدوجہد ملک بھر میں جاری رکھنے کا فیصلہ کیااور 31جولائی 1953کو پورے ملک میں ”یوم اسلامی دستور“ بھرپور طریقے سے منایا گیا۔
    حکومت کے اندر دینی ذہن اور سیکولر طبقے کی کشمکش
    16اکتوبر1951ءکو پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد ان کی جگہ خواجہ ناظم الدین کو وزیر اعظم منتخب کیاگیا وہ ایک دیندار انسان تھے۔ غلام محمد جو ایک سابق بیوروکریٹ تھے کو وزیرخزانہ سے اٹھا کر گورنر جنرل بنا دیا گیا۔ عہدہ سنبھالتے ہی گورنر جنرل نے وزیر اعظم سے اختیارات کے مسئلہ پر گتھم گتھا شروع کردی۔ وزیراعظم نے 22دسمبر1952ءکو بنیادی اصولو ں کی کمیٹی کی رپورٹ دستورساز اسمبلی میں پیش کردی ۔ گورنر جنرل کو یہ آئینی تجاویز ناپسند تھیں کیونکہ آئین کی منظوری کے بعد گورنر جنرل کے کئی اختیار ات ختم ہوجانے تھے۔ گورنر جنرل نے اپنے آمرانہ حکم سے17اپریل 1953ءکوخواجہ ناظم الدین کو پوری کابینہ سمیت رخصت کردیا اور امریکہ میں متعین سفیر محمد علی بوگرا کو وزیراعظم نامزد کردیا۔
    جماعت اسلامی نے گورنرجنرل کے اس آمرانہ اقدام کی شدید مذمت کی اورنئے وزیراعظم بوگراکے اس بیان کی سخت مخالفت کی جس میں انہوں نے کہاتھاکہ ”حکومت پاکستان ایک ایسے آئین کو پسند کرے گی جس کا مذہب سے کوئی تعلق نہ ہو کیونکہ مذہب ایک ذاتی معاملہ ہے۔“ جماعت اسلامی کی مرکزی مجلس شوریٰ نے جون1953ء میں اسلامی دستور کے بارے میں طے کیا کہ ملک بھر میں جلسے کرکے حکومت کے اسلامی دستور سے فرارکی سازش کو بے نقاب کیا جائے گا۔ اس فیصلے کے مطابق ملک بھر کے بڑے بڑے شہروںمیں عام جلسے منعقد کئے گئے جن میں حکومت کے دستور کے بارے میں عزائم کھل کر بیان کئے گئے اور اسلامی دستور سے فرار کی جو سازشیں ہو رہی تھیں۔ انہیں بے نقاب کیاگیا۔ عوام الناس نے ان جلسوں میں قرار دادیں منظور کرکے حکومت کے بھیجیں کہ وہ ملک میں جلدازجلد ایک مستقل اسلامی دستور مرتب کرکے نافذ کرے ۔ جماعت اسلامی کے رہنماﺅں کے کئی وفود تشکیل دیئے گئے جنہوں نے دستور ساز اسمبلی کے ارکان سے ملاقاتیں کیں اور ان پر زور دیا کہ وہ اسلامی دستور منظور کرانے میں اپنا مثبت کردار اداکریں۔ماہ اگست 1953ءمیں مرکز جماعت اسلامی سے ارکان دستور یہ کے نام خطوط بھی بھیجے گئے جن میں انہیں دستور ساز ی کے سلسلے میں اپنی ذمہ داری ادا کرنے کی اپیل کی گئی۔
    5ستمبر1953ءکو مسلم لیگ پارلیمانی پارٹی اور ارکان دستوریہ کا ایک اجلاس ڈھاکہ میں منعقد ہوا۔ جماعت اسلامی کے رہنماﺅں کے کئی وفود نے ارکان اسمبلی سے ملاقاتیں کیں اور انہیں قوم کے اسلامی دستور کے مطالبے سے آگاہ کیا۔ نومبر1953ءمیں جماعت کی مرکزی مجلس شوریٰ کا اجلاس کراچی میں ہوا۔ اس میں مجلس شوریٰ نے ملک کے دستور سازوں سے ایک مکمل اسلامی دستور جلد ازجلد مرتب کرکے منظور کرنے کا مطالبہ کیا تاکہ قیام پاکستان کے سات سال پورے ہونے پر 14اگست1954ءسے اسلامی دستور کانفاذ عمل میں آسکے۔ مجلس شوریٰ کی مقررکردہ ایک کمیٹی کے ارکان نے 19،20مارچ 1954ءکو ارکان دستور ساز اسمبلی سمیت متعد د وزراءسے ملاقاتیں کیں اور ان سے اسلامی دستور کی بلاتاخیرمنظوری کی اپیل کی۔
    2 اگست 1954ءکو جماعت اسلامی کے ترجمان اخبار روزنامہ ”تسنیم “ نے ”دستور“ نمبر شائع کیا۔ مولوی تمیزالدین خاں سپیکر دستور ساز اسمبلی نے اس موقع پر اپنے خاص پیغام میں بتایا کہ صوبائی اختیارات اور مالیات کی تخصیص کے سوا باقی تمام اہم دستور مسائل حل ہوچکے ہیں اور دستورکی منظوری عنقریب ہوجائے گی۔ مسلم لیگ کے رہنما سردار عبدالرب نشتر نے ”دستور نمبر“کے لیے اپنے پیغام میں کہاکہ بعض طاغوتی طاقتوں کی چالوں اور کچھ گروہوں کی مخالفت کے باوجود جو دستور بن رہاہے ، اس کے خدوخال بیشتر اسلامی ہیں ، لیکن جب تک دستور تیار ہو کر نافذ نہ ہوجائے ، اس وقت تک اسلامی دستور کے حامیوں کو جدوجہد کرناپڑے گی اور رائے عامہ کو بیدار رکھنا پڑے گا۔
    20ستمبر1954ءکو دستور ساز اسمبلی نے گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935ءکی وہ متعدد دفعات منسوخ کردیں جن کے تحت گورنرجنرل کو وفاقی کابینہ توڑنے کا اختیار حاصل تھا۔ اس پر گورنر جنرل غلام محمد بھڑک اٹھے اور ان کے ایماءپر مفادپرست عناصر نے دستور ساز اسمبلی کو توڑدینے کا مطالبہ کردیا حالانکہ یہ اسمبلی آئین سازی کا کام اس حد تک مکمل کرچکی تھی کہ وزیراعظم نے آئین کے نفاذ کے لیے 25دسمبر 1954ءکی تاریخ بھی طے کردی تھی۔8اکتوبر 1954ءکودستور ساز اسمبلی نے پاکستان کے آئین کا مسودہ تیار کرلیا اور اس کی آخری خواندگی اور منظوری کے لیے 27اکتوبر 1954ءکو اسمبلی کا اجلاس بلالیاگیاتھا۔
    دستور ساز اسمبلی کی برخاستگی:
    دستور کی منظوری کی تاریخ سے صرف تین دن پہلے گورنر جنرل غلام محمد نے فوج اور سول بیوروکریسی کی سازش سے اور امریکہ سے منظوری حاصل کرکے 24اکتوبر1954ءکو اپنے ایک خلاف آئین حکم کے ذریعے دستور ساز اسمبلی کو برخاست کردیا اور آٹھ رکنی نئی کابینہ میں اس وقت کے کمانڈر انچیف جنرل ایوب خاں اور میجرجنرل سکندر مرزا کو وزارت میں شامل کرلیا۔ جماعت اسلامی نے گورنر جنرل کے اس غیر قانونی اقدام کی شدید مذمت کی اور گورنر جنرل کے اس غیر قانونی اقدام کو چیلنج کرانے کا فیصلہ کیا۔
    11نومبر1954ءکو اس وقت جماعت کے قیم میاں طفیل محمدصاحب کراچی گئے اورچوہدری غلام محمد مرحوم امیرجماعت اسلامی کراچی کے ساتھ مولوی تمیزالدین خاں سپیکر اسمبلی سے ملاقات کی ۔ جماعت کے وفد نے سپیکر سے کہاکہ ان حالات میں ملک کو بچانے اور دستور ساز اسمبلی کو بحال کروانے کی سب سے زیادہ ذمہ داری ان پر عائد ہوتی ہے۔ اس لیے وہ گورنر جنرل کے غیر قانونی حکم کو سندھ چیف کورٹ میں چیلنج کریں۔ انہوں نے وسائل کی کمی کا شکوہ کیاتو قیم جماعت نے ایک خطیر رقم فوری طورپر ان کی خدمت میں پیش کردی۔ چنانچہ سپیکر مولوی تمیزالدین نے ہمت کی اور سندھ چیف کورٹ میں گورنر جنرل کے غیرآئینی ،غیر قانونی اقدام کو چیلنج کردیا۔
    6 دسمبر1954ءکو سندھ چیف کورٹ کے پانچ رکنی فل بنچ نے مولوی تمیزالدین خاں کی درخواست کی سماعت شروع کی اور 9فروری 1955ءکو فاضل عدالت نے اپنے تاریخی فیصلے میں یہ قرار دیاکہ گورنر جنرل کو دستور ساز اسمبلی کو توڑنے کا کوئی اختیار حاصل نہیں اس لئے اس کا 24اکتوبر کا حکم خلاف آئین و قانون ہے۔ نیز اس کے نئے مقرر کردہ وزراءایوب خاں اور سکندر مرزا وغیرہ جو دستور ساز اسمبلی کے منتخب رکن نہ تھے ،کا تقرر بھی خلاف قانون ہے۔افسوس ہے کہ فیڈرل کورٹ نے اکثریتی فیصلے کے ذریعے حکومت کی اپیل منظور کرتے ہوئے گورنر جنرل کے اقدام کی توثیق کردی۔چیف جسٹس منیر اور ان کے ساتھیوں کا یہ مصلحت آمیز فیصلہ بعد میں آنے والے کئی مہم جوفوجی آمروں کی حوصلہ افزائی کا موجب بنا۔
    1956ءکا آئین اور اس کی منسوخی :
    21جون1955ءکو صوبائی اسمبلیوں کے ذریعے اَسّی رکنی نئی دستوریہ کا انتخاب عمل میںآیا۔ جماعت اسلامی کی مرکزی مجلس شوریٰ نے اپنے اجلاس منعقدہ جون 1955ءمیں دستوری مہم کو جاری رکھنے کے لیے ایک نیا پروگرام بنایا۔ مجلس شوریٰ نے ایک قرار داد میں کہاکہ ”ملک کی عظیم اکثریت اسلامی دستور چاہتی ہے اور اس کے سوا کوئی دوسری چیز کو قبول کرنے پر تیار نہیں ۔ “مجلس شوریٰ نے واضح کیا کہ ”سابق دستور ساز اسمبلی نے اپنے دستوری مسودے میں جو اسلامی جمہوری دفعات شامل کرلی تھیں ،ا ن سے پیچھے ہٹنے کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا۔ نئی دستو رساز اسمبلی ان میں اضافہ تو کرسکتی ہے لیکن اگر اس نے ان کو خارج یا کم کرنے کی کوشش کی تو اس کوپوری قوم کی متفقہ مزاحمت کا سامنا کرناہوگا۔“
    7 اگست 1955ءکو مسٹر محمد علی بوگرا نے وزارت عظمیٰ سے استعفیٰ دے دیا۔ ان کی جگہ چوہدری محمد علی مسلم لیگ پارلیمانی پارٹی کے لیڈر منتخب کرلئے گئے اور11 اگست کو ان کی قیادت میں نئی کابینہ نے حلف اٹھایا۔
    دستور ساز ی کے مسئلے پر نئے وزیراعظم چوہدری محمد علی کو کئی مشکلات درپیش تھیں۔ تاہم انہوںنے بڑی محنت سے اور انتہائی کوشش کرکے 29فروری 1956ءکو مجلس دستور ساز سے اسلامی جمہوریہ پاکستان کا دستور منظور کروالیا۔ 2مارچ کو گورنر جنرل نے اس کی منظوری دے دی اور 23مارچ 1956ءسے یہ دستور نافذ ہوگیا۔
    جماعت اسلامی کی مرکزی مجلس شوریٰ نے اپنے اجلاس منعقدہ 15تا18مارچ 1956ءمیںنئے دستور کا جائزہ لینے کے بعد ایک قرار داد میں اس دستور کو اپنی تمام خامیوں کے باوجود متعدد وجوہ سے اطمینان بخش اور قابل قبول قرار دیا۔ یہ پارلیمانی طرز کا دستور تھا جس کے ذریعے یک ایوانی پارلیمنٹ منتخب ہوناتھی۔ لیکن دستور میں انتخابات کے بارے میں یہ فیصلہ نہ ہوسکا کہ آئندہ انتخابات جداگانہ ہوں گے یا مخلوط ۔۔۔اس مسئلے کو صوبائی اسمبلیوں پر چھوڑ دیاگیا۔
    بدقسمتی سے دستور ساز اسمبلی نے ایک طرف تو کسی حد تک اسلامی اور جمہوری پارلیمانی دستور منظور کرلیا اور دوسری طرف اسی اسمبلی نے6مارچ 1956ءکو اسکندر مرزا کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کاپہلا صدر منتخب کرلیااور انہوں نے ملک کے پہلے صدر کی حیثیت سے حلف اٹھاکر ایوان صدر کراچی کوسازشوں کا گڑھ بنادیا۔ ملک میں سیاسی خلفشار اٹھادیا گیا۔ پہلے مشرقی پاکستان میں حکومت تبدیل کردی گئی۔ پھر مرکزی حکومت خلفشار کی نذز ہوگئی ۔ تین وزرائے اعظم کو محلاتی سازشوں کے نتیجے میں یکے بعد دیگرے استعفیٰ دیناپڑا۔ مغربی پاکستان میں بھی ارکان اسمبلی کی وفاداریاں تبدیل کرانے کے نتیجہ میں حکومت تبدیل ہوتی رہی۔
    ملک میں نئے آئین کے تحت انتخابات کا اعلان توکردیاگیا مگر سیاسی خلفشار اور حکومتوں کی اکھاڑ پچھاڑ نے ملکی حالات اس حد تک خراب کردیئے تھے کہ 8-7اکتوبر1958ءکی درمیان رات موچی دروازہ لاہور میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے اپنی خداداد بصیرت کی بنیاد پر اس خدشے کا اظہار کیا کہ ”ملکی حالات اتنے خراب ہوچکے ہیں کہ کچھ نہیں کہاجاسکتا کہ صبح اٹھیں تو معلوم ہوکہ آئین کی بساط لپیٹی جا چکی ہے اور اقتدار پر ہر کوئی دوسرا فرد واحد مسلط ہوگیاہے۔“
    1958ءکا فوجی انقلاب :
    7 اکتوبرکی رات کو صدر سکندر مرزا نے ایک حکم جاری کرکے ملک میں مارشل لاءلگادیا۔ تمام سیاسی جماعتوں کو خلاف قانون قرار دے دیا۔ دستور1956ءکومنسوخ کردیا اور مرکزی اور صوبائی حکومتیں اور اسمبلیاں توڑ دی گئیں ۔ کمانڈر انچیف جنرل ایوب خاں کو چیف مارشل لاءایڈمنسٹریٹر مقرر کردیاگیا۔
    10 اکتوبر کو صدر سکندر مرزا نے بیان دیا کہ” ملکی مسائل کا مقابلہ جمہوریت کے ذریعے ناممکن تھا۔ آنے والے انتخابات کبھی بھی منصفانہ نہ ہوتے “۔ اس کے باوجود 27اکتوبر جنرل ایوب خاں نے سکندر مرزا کو برطرف کردیا اور ملک کی پوری زمام اختیار اپنے ہاتھ میں لے لی۔ سکندر مرزا، نے جو ایک سازشی دور کی پیدا وار تھے اور سازشوں کے ماہر تھے، وہ خود بھی ایک فوجی کے ہاتھوں رسوا ہو کر ملک سے نکال دیئے گئے۔27 اکتوبر کو چیف جسٹس منیر نے اپنے فیصلے کے ذریعے ایوب خاں کے مارشل لاءکونظریہ ضرورت کے تحت جائز قرار دے دیا اور مارشل لاءآرڈر ز کو قانونی تحفظ فراہم کردیا۔جسٹس منیر کا یہ فیصلہ بھی بعد میں آنے والے فوجی مہم جو آمروں کی حوصلہ افزائی کا موجب بنا۔
    1962ءکا آئین:
    یکم مارچ1962ءکو ایوب خاں نے صدارتی نظام پر مشتمل نیا آئین نافذ کردیا۔ اس آئین میں ملک کا نام جمہوریہ پاکستان رکھاگیا۔ اَسّی ہزار ارکان پر مشتمل ایک بنیادی جمہوریت کا نظام رائج کردیاگیااور غیر جماعتی بنیادوں پر قومی اورصوبائی اسمبلیوں کے انتخابات بالغ رائے دہی کے بجائے بنیادی جمہورتیوں کے اَسّی ہزار ارکان کے ذریعے کرانے کا اعلان کردیاگیا۔ 28اپریل1962ءکو قومی اسمبلی کے لیے غیر جماعتی بالواسطہ انتخابات کرائے گئے اور قومی اسمبلی معرض وجود میں آگئی۔جماعت سے تعلق رکھنے والے چار حضرات قومی اسمبلی کے ارکان منتخب ہوگئے تھے۔14جولائی کو قومی اسمبلی نے سیاسی جماعتوں کی تشکیل کا قانون منظور کرلیا۔ اس کے ساتھ ہی جماعت نے ملک بھر میں کام شروع کردیا۔
    دستوری جدوجہد کا دوسرا دور :
    اگست 1962ءمیں جماعت اسلامی کی مرکزی مجلس شوریٰ نے درج ذیل مطالبات کئے:۔
    1۔ مملکت کا نام حسب سابق اسلامی جمہوریہ پاکستان رکھاجائے۔
    2۔ 1962ءکے دستور میں ان تمام بنیادی حقوق کو شامل کیا جائے جو1956ءکے دستور میں درج تھے۔
    3۔ ملک میں بالغ رائے دہی کا حق بحال کیاجائے۔
    4۔ 1962ءکے دستور کی پوری سکیم ایک جمہوریت نما آمریت کی سکیم ہے۔ جس میں جملہ اختیارات صدر کو سونپ دیئے گئے ہیں۔ قومی اسمبلی کو بھی اس میں دخل دینے کا کوئی راستہ نہیں دیاگیاہے۔ مجلس شوریٰ نے یہ فیصلہ بھی کیا کہ اس دستور کویکسر منسوخ کرنے کے بجائے بتدریج تبدیل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
    بحالی جمہوریت مہم:
    نومبر1963ءمیں جماعت اسلامی نے ملک بھر میں بحالی جمہوریت مہم چلائی۔ اس کے دو بنیادی نکات تھے۔
    1۔ بنیادی حقوق کو عدالتوں کے ذریعے قابل حصول بنایا جائے ۔
    2۔ باشندگان پاکستان کو بالغ رائے دہی کے اصول پر اپنے نمائندے منتخب کرنے کا حق دیا جائے۔
    اس مہم کے دوران میں لاکھوں پاکستان شہریوں سے محضر ناموں پر دستخط کرائے گئے۔ جس سے نو میل لمبا محضرنامہ تیار ہوگیاجو 18 دسمبر1963ءکو ڈھاکہ میں پارلیمنٹ کے دروازے پر حزب اختلاف کے ارکان کے ذریعے پارلیمنٹ میں پیش کردیاگیا۔جماعت کے ارکان پارلیمنٹ نے آئین میں بنیادی حقوق کا باب شامل کرانے کے لیے ترمیمی بل پیش کیا۔ نیز عائلی قوانین کو شریعت کے مطابق بنانے کے لیے ترمیمی بل پیش کیا جو منظور نہ ہوسکا۔
    جماعت اسلامی پر پابندی اور اس کے خلاف عدالتی چارہ جوئی :
    مشرقی اور مغربی پاکستان کی حکومتوں نے 6جنوری 1964ءکو بے بنیاد الزامات لگا کر جماعت اسلامی پر پابندی عائد کردی اورامیر جماعت مولانا مودودیؒ، قیم جماعت میاں طفیل محمد صاحب اور مرکزی مجلس شوریٰ کے تمام ارکان سمیت 54رہنماﺅں کو گرفتار کرلیا۔ اس کے خلاف ملک گیر احتجاج کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ جماعت اسلامی کو بحال کرنے اور اس کے رہنماﺅں کو رہا کرنے کے مطالبات ملک بھر سے کئے گئے۔
    جماعت پر پابندی کے احکامات کو مشرقی اور مغربی پاکستان ہائی کورٹوں میں رٹ درخواستوں کے ذریعے چیلنج کردیاگیا۔ مغربی پاکستان ہائی کورٹ نے اکثریتی فیصلے کے ذریعے رٹ مسترد کردی ۔ مشرقی پاکستان ہائی کورٹ نے متفقہ فیصلے کے ذریعے جماعت کو بحال کرنے اور اس کے رہنماﺅں کو رہا کرنے کا حکم دیا۔
    سپریم کورٹ نے جولائی1964ءمیں مغربی پاکستان ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل سماعت کے لیے منظورکرلی ۔ 25ستمبر1964ءکو سپریم کورٹ نے اپیل منظور کرتے ہوئے جماعت پر پابندی کے حکم کو غیر قانونی قرار دیا۔ اس فیصلے کااعلان ہوتے ہی جماعت اسلامی کے مخلص مجاہد اور مستعد کارکنوں نے اپنی دعوتی اور سیاسی سرگرمیاں شروع کردیں۔ لاہور میں جماعت اسلامی کے کارکنوں نے بہت بڑی تعدا د میں جَاءَ الحَقُّ وَ زَھَقَ البَاطِل کے مصداق دیدہ زیب پلے کارڈ اٹھا کر موثر مظاہرے کئے اور اپنی زندگی کا ثبوت دیا۔
    بہار ہو کہ خزاں لاالہ لااللہ
    9 اکتوبر 1964 ءکو مغربی پاکستان ہائی کورٹ کے فل بنچ نے مولانا مودودیؒ سمت جماعت کے تمام رہنماﺅں کی نظربندی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے سب نظر بندوں کی رہائی کا حکم دے دیا۔
    ایوب خاں کو چارج شیٹ:
    جیل سے رہا ئی کے دو ہفتے بعد 25اکتوبر1964ءکو جماعت اسلامی لاہور کے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے ایوب خاں کے قومی جرائم پر مشتمل پانچ نکاتی چارج شیٹ عائد کردی۔ اس کے بعد مولانا مودودیؒ نے پورے ملک کا دورہ کیااوربڑے بڑے جلسوں میں اپنی اس چارج شیٹ کی کھل کر وضاحت کی۔
    اپوزیشن کی قومی کانفرنس:
    ایوب خاں نے 10جنوری 1966ءکو اعلان تاشقندپر دستخط کرکے پوری قوم کو مایوس کردیاتھا۔ اس مایوسی کو دور کرنے اور پوری قوم کو آمریت کے خلاف متحد کرنے کی غرض سے 16جنوری 1966ءکو مرکز جماعت اچھرہ میں اپوزیشن جماعتوں کے رہنماﺅں کی ایک میٹنگ منعقد ہوئی جس میں اعلان تاشقند پر عدم اطمینان کا اظہارکیاگیا۔ فروری کے پہلے ہفتے میں محترم میاں طفیل محمد صاحب امیرجماعت اسلامی مغربی پاکستان کی صدارت میں ایک دو روز ہ نمائندہ قومی کانفرنس منعقد کی گئی جس میں پورے پاکستان کی تمام حزب اختلاف کی جماعتوں کے دوہزار کے قریب مندوبین شریک ہوئے۔ کانفرنس میں ہنگامی حالات کے خاتمے اور 62کے دستور کو جمہوری بنانے کے حق میں قرار دادیں منظور کی گئیں اور اجلاس میں آمریت کے خلاف ایک مشترکہ لائحہ عمل تیار کرنے کے لیے پانچ ممتاز سیاسی رہنماﺅں پر مشتمل ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کردی گئی جس میں مولانا مودودیؒ شامل تھے۔
    مارچ 1966ءمیں جماعت اسلامی نے ملک بھر میں بحالی جمہوریت کی مہم چلائی۔
    مشرقی پاکستان کی سالمیت کے لیے جماعت اسلامی نے ایک چار نکاتی پروگرام اپریل 1966ءمیں طے کیا۔ جس میں مشرقی پاکستان میں مغربی پاکستان کے برابر ترقیاتی کام شروع کرنے ، مشرقی پاکستان کے دفاعی انتظامات مغربی پاکستان سے زیادہ کرنے ، مرکزی ملازمتوں میں مشرقی پاکستان کے لوگوں کو ان کا جائزحصہ دینے اور سیاسی اقتدار پر جلد ازجلد فرد واحد کے بجائے تمام باشندگان ملک کے براہ راست منتخب نمائندوں کی طرف منتقل کرنے کے مطالبات شامل تھے۔
    تحریک جمہوریت پاکستان:
    30 اپریل 1967ءکو کونسل مسلم لیگ ، جماعت اسلامی ، عوامی لیگ اور این ڈی ایف پر مشتمل جماعتوں کے رہنماﺅ ں نے ایک تحریری معاہدے پر دستخط کرکے ”تحریک جمہوریت پاکستان “ کے قیام کا اعلان کیا اور مطالبہ کیا کہ مرکزی حکومت صرف دفاع ،امور خارجہ اور کرنسی کے شعبے رکھے اور باقی شعبے دونوں صوبائی حکومتوں کے سپرد کردیئے جائیں اور مغربی اور مشرقی پاکستان کے درمیان ترقی کے فرق کو دس سال کے اندر دور کردیا جائے۔ تحریک جمہوریت کے رہنماﺅں نے پورے پاکستان کا بھرپور دورہ کیا اور کامیاب عوامی جلسوں سے خطاب کیا۔
    ایوب خاں کے خلاف مظاہرے:
    نومبر1968ءمیں پوری قوم ایوب خاں کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئی ، مشرقی اور مغربی پاکستان میں ایوب خاں کے خلاف بڑے بڑے مظاہرے ہوئے۔
    29دسمبر 1968ءکو مولانا مودودیؒ نے لندن سے واپسی پر لاہور میں جماعت کے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے یہ جرات مندانہ اعلان فرمایاکہ :
    ”جب تک ہم زندہ ہیں اور ہمارے سرہماری گردنوں پر قائم ہیں ، اس وقت تک کسی کی یہ ہمت نہیں ہے کہ وہ یہاں اسلام کے بجائے کسی اور نظام کو لائے۔ یہ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کا ملک ہے۔ یہاں کوئی دوسرا نظام ان شاءاللہ نہیں چل سکے گا۔ ہم ان شاءاللہ بیک وقت آمریت سے بھی لڑیں گے اور بے دینی سے بھی ۔“
    گول میز کانفرنس :
    19فروری 1969ءکو صدر ایوب خاں کے بلانے پر جمہوری مجلس عمل کے رہنماﺅں اور صدر کی ٹیم کے درمیان ایک گول میز کانفرنس ہوناتھی جو تعطل کا شکار ہوگئی۔اس کے بعد 10مارچ 1969ءکو گول میز کانفرنس ہوئی۔ اس میں صدارتی نظام کو ختم کرکے پارلیمانی نظام بحال کرنے اور آئندہ انتخابات بالغ رائے دہی کی بنیاد پر کرانے کے مطالبات تسلیم کرلیے گئے۔ 20مارچ کو اس وقت کے وزیر قانون مسٹر ایس ایم ظفر نے گول میز کانفرنس کے فیصلوں کے مطابق 1962ءکے آئین میں مجوزہ ترامیم کا اعلان کردیا۔
    یہ تحریک جمہوریت کی بڑی کامیابی تھی ۔ لیکن بعض سوشلسٹ لیڈروں نے گھیراﺅ جلاوءکی مہم شروع کردی اور گول میز کانفرنس کے فیصلوں کو بعض فوجی جرنیلوں کی سازش سے سبوتاژ کردیا۔ 25مارچ 1969ءکو ایوب خاں نے صدارت سے استعفیٰ دے دیا اور دستور کے مطابق سپیکر قومی اسمبلی کو عبوری صدربنانے کی بجائے ملک کی باگ ڈور کمانڈر انچیف یحییٰ خاں کے سپرد کردی۔ 1962ءکا دستور منسوخ کردیاگیا ۔ قومی اور صوبائی اسمبلیاں توڑ دی گئیں اور ایک بار پھر مارشل لاءلگادیا گیا۔
    1956ءکے آئین کو بحال کرنے کا مطالبہ:
    انہی دنوں میں مولانا مودودیؒ نے ایک اخبار ی انٹرویو میں 1956ءکے دستور کی بحالی کا مطالبہ کرتے ہوئے فرمایا کہ :۔
    ”اس دستور کو ایک ایسے شخص نے منسوخ کیاتھا جسے اس کو منسوخ کرنے کا کوئی آئینی اختیار حاصل نہ تھا،اس لئے وہ دستور فی الواقع منسوخ نہیں ہوا بلکہ آج بھی قائم ہے۔“
    افسوس ہے کہ صدر یحییٰ خاں نے جماعت کے اس معقول مطالبے کو تسلیم کرنے کے بجائے 28جولائی 1969ءکو چند آئینی مسائل کا تذکرہ کرتے ہوئے ایک نئے آئین کی تشکیل کا ارادہ ظاہر کردیا۔
    سوشلسٹوں اور علیحدگی پسندوں سے مارشل لاءحکومت کا گٹھ جوڑ :
    مشرقی اور مغربی پاکستان میں مارشل لاءحکومت نے علیحدگی پسندوں اور سوشلسٹ عناصر کے ساتھ گٹھ جوڑ کرکے 1956ءکے آئین کی بحالی کے معقول مطالبے کی مخالفت شروع کردی اور ان کو ہنگامے کرنے اور قتل وغارت گری کی کھلی چھٹی دے دی۔ جنرل یحییٰ خاں نے بعض سیاسی لیڈروں کے ساتھ ساز باز کرکے 1970ءکے انتخابات تو کرادیئے لیکن انتخابات کے نتائج کو تسلیم نہ کرکے مشرقی پاکستان میں قومی الیکشن کرکے ملک دو لخت کردیا۔ باقی ماندہ پاکستان میں مارشل لاءکے تحت اقتدار بھٹو کو منتقل کردیا۔
    دستوری جدوجہد کے دوسرے دورکا اہم حصہ1973ءکا آئین:
    مجلس شوریٰ جماعت اسلامی پاکستان نے اپنے اجلاس منعقدہ فروری 1972ءمیں ملک میں جمہوری نظام کے قیام کے لیے مطالبہ کیا کہ اسلامی دستور کی تشکیل کے لیے قومی اسمبلی کا اجلاس بلایا جائے۔
    14اپریل 1972ءکو قومی اسمبلی کا اجلاس بلالیا گیا اور اس میں ایک عبوری صدارتی آئین کا مسودہ پیش کردیاگیا۔ اس وقت قومی اسمبلی میں جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے ارکان کی تعددا چار تھی۔ ان حضرات نے عبوری آئین میں سے 25سے زیادہ ترمیمات پیش کیں لیکن یہ سب ترمیمات مسترد کردی گئیں۔ قومی اسمبلی نے 25ارکان پر مشتمل خصوصی مستقل آئین کی تیاری کے لیے مقرر کی جس میں جماعت کے پارلیمانی لیڈر پروفیسر عبدالغفوراحمد صاحب بھی شامل تھے۔ قومی اسمبلی کے اجلاس میں ڈاکٹر نذیر احمد شہید نے سوشلزم کے بجائے اسلامی نظام کے نفاذ کا پرزورمطالبہ کیا۔ اس پر بھٹو نے ڈاکٹر نذیر احمد کو راستے سے ہٹانے کا ناپاک منصوبہ بنایا اور 8جون 1972ءکو انہیں شہید کردیاگیا۔
    مسودہ دستور میں اصلاح کی جدوجہد:
    فروری 1973ءمیں جماعت اسلامی کی مرکزی مجلس عاملہ نے حکومت کو جلد ازجلد چند عملی اقدامات اٹھانے کا مشورہ دیا۔ اس سلسلہ میں اہم نکات یہ تھے۔
    i۔ قرار داد مقاصد کی پابندی کی جائے اور اس کی روشنی میں اسلامی دستور مرتب اور منظور کیاجائے۔
    ii۔ قرآن و سنت کو ملکی قوانین کا ماخذ اول تسلیم کیاجائے اور رائج الوقت تمام قوانین کو ایک معینہ مدت کے اندر قرآن و سنت کے مطابق تبدیل کردیا جائے۔
    iii۔ مرکزاور صوبوں میں معروف وفاقی پارلیمانی نظام حکومت قائم کیا جائے۔
    iv۔ نئے دستور میں جداگانہ طریق انتخاب رائج کیا جائے۔
    v۔ دستور میں اس امر کی وضاحت کردی جائے کہ یحییٰ خان اور اس کے ساتھیوں پر سقوط مشرقی پاکستان کے جرم کے ارتکاب پر مقدمہ چلایاجائے گا۔
    18 فروری1973 ءکو لاہور میں جماعت کے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے امیرجماعت میاں طفیل محمد صاحب نے مجلس عاملہ کے تجویز کردہ عملی اقدامات کی وضاحت کرنے کے ساتھ حکومت کو متنبہ کیا کہ صوبہ سرحد اور بلوچستان میں فوج کو ہرگز استعمال نہ کیا جائے کیونکہ فوج کو استعمال کرنے کا مطلب یہ ہے کہ موجودہ حکومت ناکام ہوگئی ہے۔
    امیرجماعت کی گرفتاری:
    19فروری کی رات کو امیرجماعت میاں طفیل محمد صاحب کو ڈیفنس آف پاکستان رولز کے تحت گرفتار کرلیا گیااور کوٹ لکھپت جیل میں ان سے بدسلوکی کی گئی۔
    21فروری کو سید اسعد گیلانی مرحوم امیرجماعت اسلامی پنجاب کوبھی گرفتارکرلیاگیا۔
    متحدہ جمہوری محاذ کا قیام :
    12مارچ 1973ءکو حزب اختلاف کی جماعتوں جماعت اسلامی ، جمہوری پارٹی، کونسل مسلم لیگ، جمعیة علمائے پاکستان ، نیشنل عوامی پارٹی اور جمعیة علمائے اسلام نے ایک مشترکہ پلیٹ فارم متحدہ جمہوری محاذ کے نام سے قائم کرلیا ۔ پیر صاحب پگارا اس کے صدر اور پروفیسر غفور احمد صاحب سیکرٹری جنرل منتخب ہوئے۔23مارچ کو راولپنڈی کے لیاقت باغ میں اس محاذ کا جلسہ عام منعقد کرنے کا فیصلہ کیاگیا۔ حکومت نے اس جلسہ پر بے تحاشافائرنگ کروادی ۔فیڈرل سیکورٹی فورس نے اسٹیج پر قبضہ کرکے اسے آگ لگادی۔ فائرنگ سے 9افراد ہلاک ہوگئے اور 75شدید زخمی ہوئے۔
    حکومت کے فسطائی ہتھکنڈے :
    مارچ 1973ءمیں ایڈیٹر روزنامہ جسارت کو پرنٹرپبلشر کے ساتھ گرفتار کرلیاگیا اور اخبار کی اشاعت پر دوماہ کے لیے پابندی عائد کردی۔ اسیران جسارت کے ساتھ جیل میں بہیمانہ سلوک کیاگیا۔ انہیں بیڑیاں پہنا کر شدید ذہنی و جسمانی اذیتیں دی گئیں۔
    حکومت کی طرف سے مذاکرات کی دعوت :
    صدر نے 12اپریل 1973ءکو متحدہ جمہوری محاذ کے رہنما پروفیسر غفور احمد صاحب اور محاذ میں شامل دوسری پارٹیوں کے سربراہوں کو آئین کے مسئلہ پر گفتگو کرنے کے لیے ایوان صدر بلالیا۔ مذاکرات میں محاذ کے رہنماﺅں نے دستور میں اسلامی دفعات ، بنیادی حقوق ، وزیراعظم کا اختیار ات اور ہنگامی حالات کے اعلان کے بارے میں اختیارات کے سلسلے میں ترمیمات پیش کیں ۔ لیکن صدر نے یہ تجاویز ماننے سے انکار کردیا۔ اس پر حزب اختلاف آئین ساز اسمبلی کا بائیکاٹ کردیا۔ صدر بھٹو آئین میں اسلامی سوشلزم کی اصطلاح شامل کرنے پر مصر تھے۔ لیکن حزب اختلاف کے مضبوط موقف اور موثر بائیکاٹ کا اثر یہ ہواکہ مسودہ آئین سے اسلامی سوشلزم خارج کردیاگیا۔
    9اپریل 1973ءکو پروفیسر غفور احمد صاحب نے آئینی مسائل پروزیرقانون سے مدلل بات چیت کی کہ آیا وہ متفقہ دستور منظور کرانا چاہتے ہیں یا محض اپنی پارٹی کا دستور بنانا چاہتے ہیں۔ چنانچہ وہ متحدہ محاذ کی کچھ ترمیمات منظور کرلینے پر آمادہ ہوگئے۔ اس پر 10اپریل کو اپوزیشن بائیکاٹ ختم کرکے اسمبلی کے اجلاسمیں شریک ہوئی اور اسی دن پاکستان کا دستور 1973ءاتفاق رائے سے منظور کرلیاگیا۔ متحدہ محاذ کی بعض ترمیمات آئین میں شامل کرلی گئیں جن میں قرار داد مقاصد میں دیئے گئے اصولوں اور شقوں کو دستور کا حصہ بنانے اور اسلامی دفعات کی منظوری بھی شامل تھی۔
    قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی مہم:
    29مئی 1974ءکو قادیانیوں نے نشتر میڈیکل کالج ملتان کے قریب ایک سو طلبہ جو ایک مطالعاتی دورے سے پشاور سے بذریعہ ریل گاڑی واپس آرہے تھے ،ربوہ ریلوے سٹیشن پر بلا اشتعال حملہ کردیا۔ اس حملے میں ڈیڑھ درجن کے قریب طلبہ شدید زخمی ہوگئے تھے۔
    31مئی کو پروفیسر غفور احمد صاحب نے قومی اسمبلی میں سانحہ ربوہ کے بارے میں ایک تحریک التواءپیش کردی۔ 3جون کو ملک کی ممتاز مذہبی و سیاسی جماعتوں کے ایک اجلاس میں مطالبہ کردیاگیا کہ مسلمانوں کے دیرینہ مطالبہ کے مطابق قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔ 9جون کو ملک کی 18دینی و سیاسی جماعتوں کے اکابرین نے آل پاکستان مجلس عمل تحفظ ختم نبوت قائم کرنے کا اعلان کردیا اور ملک بھر میں بھرپور مہم شروع کردی۔14جون کو مجلس عمل کی اپیل پر ملک گیر ہڑتال بہت کامیاب رہی۔
    یکم جولائی کو قومی اسمبلی میں قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کی تحریک پیش کردی گئی ۔پورے ملک میں ایک تحریک کی حمایت میں دو ماہ تک پر امن جلسے ہوئے اور جلوس نکالے گئے۔ یکم ستمبر کو مجلس عمل کے ایک جلسہ عام سے تقریر کرتے ہوئے مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒنے پاکستان کے دستور میں دوشقوں کے اضافے کا مطالبہ کیا۔ بالآخر 7ستمبر 1974ءکو قومی اسمبلی نے ایک قرار داد منظور کرکے دستوری ترمیم کے ذریعے قادیانی اورلاہوری گروپ کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیاگیا۔
    بھٹو عہد ستم کے آخری ایام :
    دسمبر1976ءمیں وزیراعظم بھٹو نے اپنے دورہ ملتان میں اچانک یہ اعلان کردیا کہ عام انتخابات جلد کرائے جائیں گے۔ حالانکہ ان کی حکومت کی معیاد ابھی باقی تھی۔ 7جنوری 1977ءکو قومی اسمبلی توڑ دی گئی اور دوماہ بعد 7مارچ کو انتخابات کرائے گئے جن میں بے انتہادھاندلیاں کی گئیں اور جعلی نتائج کااعلان کردیاگیا۔ جنوری 1977ءمیں اپوزیشن کی 9جماعتوں نے پاکستان قومی اتحاد قائم کرکے حکومت کا مقابلہ مشترکہ پلیٹ فارم سے کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ 7مارچ کے انتخابات پی این اے کے انتخابی نشان پر لڑے گئے۔ 9-8مارچ کو قومی اتحاد کے رہنماﺅں نے اپنے ہنگامی اجلاس میں 10مارچ کو ہونے والے صوبائی انتخابات کا بائیکاٹ کرنے، قومی اسمبلی کے انتخابات کے جعلی نتائج کو تسلیم نہ کرنے اور 11مارچ کو احتجاج کے طور پر ملک گیر ہڑتال کا فیصلہ کیا۔ 10مارچ کے صوبائی انتخابات کا مکمل طور پر بائیکاٹ کیاگیا اور 11مارچ کی ملک گیر ہڑتال کی کامیابی نے یہ ثابت کردیا کہ پاکستان کے عوام قومی اتحاد کے ساتھ نہیں۔
    تحریک نظام مصطفی:
    14مارچ 1977ءسے ملک گیر احتجاجی تحریک شروع ہوئی۔ ملک بھر میں عوام قومی اتحاد کی اپیل پر سڑکوں پر نکل آئے۔ حکومت نے پولیس اور فیڈرل سیکورٹی فورس کے ذریعے بے رحمانہ تشدد کرکے تحریک کو روکنے کی کوشش کی مگر وہ ناکام رہی ۔ تین ماہ تک یہ تحریک جاری رہی ۔ بالآخر 5جولائی 1977ءکو فوج نے ملک کا نظم ونسق سنبھال لیا اور مارشل لاءلگاکر بھٹو حکومت کو رخصت کردیا۔ قومی و صوبائی اسمبلیاں توڑدی گئیں۔
    جنرل ضیاءالحق کا دور اقتدار:
    جنرل ضیاءالحق نے نوے دنوں کے اندر انتخابات کرانے کا اعلان کیا تھا مگر یکم اکتوبر کو انہوںنے 8اکتوبر 1977ءکو ہونے والے انتخابات غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردیئے اور سابق کومت کا محاسبہ کرنے کا اعلان کردیا۔ بالآخر 25فروری 1985ءکو قومی اسمبلی اور 28فروری 1985ءکو صوبائی اسمبلیوں کے لئے انتخابات غیر جماعتی بنیادوں پر کرائے گئے۔ 14مارچ 1985ءکو سینیٹ کے لیے انتخاب ہوا۔
    آئین کی آٹھویں ترمیم :
    آئین میں آٹھویں ترمیم کا بل ایک مثالی بل نہ تھا۔ تحریک اسلامی سے تعلق رکھنے والے ارکان قومی اسمبلی اور سینیٹ نے آزاد گرو پ کے ساتھ مل کر اس بل کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ یہ بل چھ ماہ تک ریر غور رہا۔ سرکاری گروپ اور آزاد گروپ کی مفاہمت کے بعد یہ بل منظور ہوا اور ساتھ ہی قومی اسمبلی نے ایک قرار داد منظور کی کہ قرآن و سنت سرچشمہ قانون ہوں گے۔
    آٹھویں ترمیم کی منظوری کے بعد 30دسمبر 1985ءکو صدر ضیاءالحق نے قومی اسمبلی اور سینیٹ کے مشترکہ اجلاسوں میں ملک پر ساڑھے آٹھ سال سے مسلط مارشل لاءاٹھانے کا اعلان کردیا۔
    مشرف دور میں دستوری جدوجہد:
    1۔ جنرل مشرف کے صدارتی منصب پرناجائز قبضے کو جواز فراہم کرنے کے لیے ریفرنڈم کا ڈھونگ رچایا تو محترم امیرجماعت نے سپریم کورٹ میں چیلنج کردیاتھاکہ یہ سارا عمل خلاف دستور ہے۔ سپریم کورٹ نے اسے Prematureقرار دے دیا اور حکم دیا کہ چونکہ دستور ابھی تک معطل ہے۔ اس لئے اسے دستور کی خلاف ورزی قرار نہیں دیاجاسکتا۔
    2۔ دستور میں سترھویں ترمیم کے موقع پر ایم ایم اے کی قیادت نے حکومت کے تیار کردہ مسودہ میں کافی اصلاحات کرائیں اور پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک فوجی برسراقتدار آمرنے یہ تحریری Commitmentکرائی کہ وہ 31دسمبر 2004ءکو اپنا فوجی عہدہ چھوڑدے گا ۔ اس سلسلے میں برادرم لیاقت بلوچ صاحب نے جو ایم ایم اے کی مذاکراتی ٹیم میں شامل تھے ، سترھویں ترمیم کے مسودہ کی اصلاح کے لیے جو کوشش کی اس کااعتراف حکومتی مذاکراتی ٹیم میں شامل جناب ایس ایم ظفر نے بھی اپنی کتاب میں کیاہے۔
    3۔ جب آمر نے تحریری معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اور آئینی ترمیم کے علی الرغم اپنا فوجی عہدہ چھوڑنے سے انکار کردیا تو ایم ایم اے کے ایم این اے حضرات نے سترھویں ترمیم کی تنسیخ کا بل Moveکردیا مگر اس کو پیش کرنے کی اجازت نہ دی گئی۔
    4۔ جماعت اسلامی کی مرکزی مجلس شوریٰ کی مقرر کردہ قانونی معاونت کمیٹی نے آئین کے آرٹیکل 6میں درج سنگین بغاوت کے مرتکب افراد کو سزا دلانے کے قانون مجریہ 1973ءمیں ترمیم کا ایک بل 2004ءتیار کیا اور اسے ایم ایم اے کے 34ایم این ایز کے دستخطوں کے ساتھ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کرادیا مگر اسے اسمبلی میں پیش کرنے کی اجازت نہ دی گئی۔ اسی بل کو 2006ءاور 2007ءمیں بھی جمع کرایا گیا مگر اس کا بھی وہی حشر ہوا ۔ اگر یہ بل منظور کرلیا جاتاتو پاکستان کے ہر شہری کو آئین کو توڑنے یا منسوخ کرنے والے شخص یا اشخاص کے خلاف کسی ہائی کورٹ میں تحریری شکایت کا حق حاصل ہوجاتا اور آئندہ کسی مہم جو کوآئین کی مقدس دستاویز کو منسوخ کرنے کی جرات نہ ہوتی۔
    5۔ ایم ایم اے کے ایم این اے حضرات نے دستور (ترمیمی ) بل 2007ء(لاپتہ افراد کی بازیابی اور ایجنسیوں کے کردار کو محدود کرنے) کے لیے پیش کیا۔ مگر اس کے ساتھ بھی وہی سلوک کیاگیا۔
    6۔ صدر کے دوعہدہ رکھنے کی تنسیخ کا بل بھی 2007ءمیں پیش کیاگیا۔ مگر منظوری کی نوبت نہ آسکی۔
    7۔ خواتین ( حق وراثت ) بل 2007ءاور عائلی قوانین میں ترمیم کے دوبل بھی تیار کئے گئے اور جمع کرائے گئے مگر ان کے ساتھ بھی وہی سلوک کیاگیا۔
    8۔ اسلام آباد میں جامعہ حفصہ کی تباہی اور علماءاور بے گناہ طالبات کا قتل ، سوات کے ایک گاﺅں برطانہ ،کوزہ بانڈہ ۔۔۔۔تباہ کردیئے گئے ۔ باجوڑ اور سوات کے دس لاکھ افراد بے گھر ہوگئے ہیں،ان ظالمانہ اقدامات کے خلاف جماعت کے ذمہ داروں نے آواز اٹھائی ۔
    محترم حضرات !میں نے پاکستان کی 61سالہ تاریخ میں دستوری جدوجہد میں جماعت کے کردار کی داستان اس غرض سے بیان کردی ہے کہ یہ بات واضح ہوجائے کہ پاکستان جو اسلام کے نام پر اور پاکستان کا مطلب لاالہ الا اللہ کے نعرے کے نتیجے میں قائم ہواتھا، اس کے مختلف پارٹیوں سے تعلق رکھنے والے سول اور فوجی حکمران بھی اس کے مقصد قیام سے انحراف کرتے رہے۔ یہ جماعت اسلامی ہی تھی جو اسلامی نظام کے لیے مسلسل جدوجہد کرتی رہی اور ایک حد تک کامیابی بھی حاصل کی ۔
    پاکستان میں دستورسازی کے مراحل بہت کٹھن تھے۔ مختلف برسراقتدار حکومتیں تاخیر ی حربے استعمال کرتی رہیں۔ بعض لوگوں نے اسلامی نظام حیات اور اسلامی دستور کے بارے میں شکوک و شبہات بھی پیدا کئے ۔ مولانا مودودیؒنے اسلامی نظام زندگی اور اسلامی قانون و دستورکی اس طرح وضاحت کردی تھی کہ آئینی ماہرین کو بھی یہ حقیقت تسلیم کئے بغیر چارہ نہ رہا کہ اسلام جدید زمانے کی تمام ضروریات بطریق احسن پورا کرنے کی صلاحیت رکھتاہے اور ایک مثالی عادلانہ فلاحی معاشرہ قائم کرسکتاہے۔
    جماعت اسلامی نے ملکی سیاست میں ہمیشہ مثبت اور تعمیر کردار ادا کیا۔ اس نے دوسری سیاسی پارٹیوں کی طرح کسی بھی موقع پر تصادم یا ہنگامہ آرائی کا راستہ اختیار نہ کیا۔ وہ اس اصول کی اور اپنے دستور میں درج مستقل طریق کار کی ہمیشہ پابند رہی کہ ملکی نظام میں مثبت تبدیلی آئینی اور جمہوری راستے سے ہی آنی چاہئے۔
    جماعت کا بنیادی مقصد لوگوں کو اللہ رب العالمین کی توحید و بندگی اور رحمة اللعالمین کی مکمل اطاعت و پیروی کی طرف بلانا اور اللہ کے نیک، باکردار،جدت کردار اور عظمت کردار سے متصف اور صالح بندوں کے ہاتھ میں زمام کاردینے کی جدوجہد جاری رکھناہے۔ آپ سے درخواست ہے کہ آپ یہ پختہ عزم کرکے یہاں سے جائیں کہ ملک بھر کے شہروں اور دیہات میں گھر گھر تک جائیں گے ۔ اللہ کے بندوں تک جماعت کی دعوت پہنچائیں گے۔ ان کو اپنا ہمنوا بنائیں گے اور نیک و صالح افراد کو آئندہ انتخابات میں کامیاب کرائیں گے۔ جن کے قول و فعل میں تضاد نہ ہو۔ جو اپنے وعد وں کو پورا کرنے والے ہوں۔ وعدوں سے انحراف کرنے والے نہ ہوں۔ ایسے صالح افراد کی اکثریت قومی و صوبائی اسمبلیوں میں ہوگی تو پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ کا نعرہ حقیقت کا روپ دھار لے گا۔ پاکستان میں اسلامی نظام حیات زندگی کے ہر شعبہ میں قائم ہوگا۔ عدل و انصاف پر مبنی معاشرہ قائم ہوگا۔ پاکستان میں حقیقی امن قائم ہوگا۔ معاشی بدحالی جو اس وقت پورے ملک کو لپیٹ میں لئے ہوئے ہے، خوشحالی میں تبدیل ہوجائے گی۔ پاکستان امریکی غلامی کے چنگل سے نکل آئے گا اور اقوام عالم میں نمایاں مقام حاصل کرلے گا،ان شاءاللہ۔
    بہارہو کہ خزاں ۔۔۔لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ
     

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں









سوشل میڈیا لنکس