Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

لیبیاکا انقلاب کیوں اورکیسے؟

  1. انقلابوں کی تاریخ ہولناک بھی ہے اور دلچسپ بھی۔ دنیا آج انقلابوں کی زد میں ہے۔ عرب دنیا کا نقشہ ایک سال کے اندر بالکل تبدیل ہو کر رہ گیا ہے۔ لیبیا کا انقلاب ایک عظیم واقعہ ہے جس کا مطالعہ نہایت چشم کشا ہے۔ انقلابی جدوجہد میں شامل ہر کارکن کے پاس بتانے کو بہت کچھ ہے۔ ہم اپنا یہ مضمون ایک نوجوان مہم جو کے الفاظ سے شروع کرتے ہیں۔ وہ کہتا ہے: ”میں ایک وکیل تھا۔ اپنے پیشے کی اخلاقیات کے مطابق مجھے لوگوں کے بنیادی حقوق کے لیے قانونی جنگ لڑنا پڑتی تھی۔ میں نے محسوس کیا کہ میرے وطن میں یہ کام ناممکنات میں سے تھا۔ ”جمہور یہ لیبیا الشعبیہ العربیہ“ میں نہ جمہوریت تھی، نہ عربیت اور نہ ہی عوام کا کوئی مقام و مرتبہ تھا۔ آخر مجھے خود گرفتاری و اسیری اور ظلم و ستم کے پھندوں سے گزرنا پڑا مگر میری آزمائش و ابتلا نے اللہ کے فضل سے ظلم کے خاتمے اور آمر کی موت کا راستہ ہموار کر دیا....“ یہ قذافی کے بعد کے لیبیا میں بننے والے عبوری حکومتی سیٹ اپ میں شامل نوجوان وزیر، ایڈووکیٹ فتحی تربل کے جذبات و خیالات ہیں جو ایک انٹرویو میں اس نے ذرائع و ابلاغ کے سامنے بیان کیے۔
    15 فروری 2011ءکو قذافی کے دستِ راست اور اس کے درباریوں کے درمیان ”مردِ آہن“ کے نام سے معروف خفیہ ایجنسی کے سربراہ عبداللہ السنوسی نے حکم جاری کیا کہ گستاخ وکیل فتحی تربل کو گرفتار کرکے اس کے حضور پیش کیا جائے۔ اس حکم کے جاری کرتے ہوئے نہ تو لیبیا کا ظالم جلاد جانتا تھا اور نہ ہی کسی اور شخص کے خواب و خیال میں تھا کہ یہ حکم قذافی آمریت کے لیے پروانہ موت ثابت ہوگا۔ قدرتِ الٰہی کےفیصلے بڑے عظیم و عجیب ہوتے ہیں۔“ تدبیر کند بندہ، تقدیر زند خندہ“ کے مصداق یہ بندہ خاکی سوچتا کچھ ہے، ہوتا کچھ ہے۔ اس فانی مخلوق کی سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ ہوتا وہی ہے جو منظورِ خدا ہوتا ہے۔ درندہ صفت امریکہ کے ہاتھوں عراق میں ابو غرائب جیل کے اندر مظالم کی طرح لیبیا میں ابو سلیم جیل میں ڈھائے گئے مظالم بھی اس قدر انسانیت سوز تھے کہ ان کی مثال ہلاکو و چنگیز اور ہٹلر و مسولینی کے ہاں بھی مشکل ہی سے ملے گی۔
    معمر قذافی نے برسر اقتدار آنے کے بعد ہر سال بلا مبالغہ ہزاروں بے گناہ افراد موت کے گھاٹ اتارے۔ ابو سلیم جیل میں سیاسی قیدیوں اور ”باغی طلبہ“ کو مقید کیا گیا تھا۔ معمر قذافی نے اچانک ایک روز حکم جاری کیا کہ ان لوگوں کو گولیاں مار کر ہلاک کر دیا جائے۔1992ءکا یہ واقعہ آج بھی لیبیا کے طول و عرض میں زبان زدِ عام ہے۔ ایک ہی روز جیل کے بے بس قیدیوں میں سے بارہ سو قیدی گولیوں سے بھون ڈالے گئے۔ ان مقتولین کے ورثا آج بھی اس واقعہ کو یاد کرتے ہیں تو اپنے آنسوﺅں پر قابو نہیں پاسکتے۔ فتحی تربل بھی سیاسی قیدی کے طور پر جیل میں رہا تھا۔ پھر اسے رہائی ملی تو اس نے تہیہ کر لیا کہ آزادی کی خاطر وہ اپنی جدوجہد جاری رکھے گا۔ لیبیا میں کوئی سیاسی جماعت بنانا ممنوع تھا۔ اس نے حقوق انسانی کی ایک مقامی تنظیم میں کام شروع کر دیا۔ حکمرانوں نے اس تنظیم کو غیر اہم سمجھ کر اس کی طرف زیادہ توجہ نہ دی۔ دراصل ابو سلیم جیل کے مقتولین کے ورثا نے یہ تنظیم قائم کی تھی۔ تنظیم نے کبھی کوئی بڑا مطالبہ یا انقلابی نعرہ نہیں لگایا تھا۔
    گذشتہ سال ۵۱ فروری کو اس نوجوان وکیل کو گرفتار کرکے سنوسی کے سامنے لایا گیا۔ دو درجن سے زاید سیکورٹی گارڈز اور افسران اسے ہتھکڑیاں پہنا کر اپنے افسر اعلیٰ کے حضور لے آئے۔ اس لمحے وکیل نے خود کو موت کے لیے ذہناً تیار کر لیا تھا مگر اس کے ذہن میں کسی وقت اچانک خیال آجاتا کہ جس طرح وہ پہلے موت سے بچ گیا تھا، شاید اب بھی اللہ اسے بچالے! اس کا جرم یہ تھا کہ اس نے اعلان کیا تھا ”۷۱ فروری کو شہدائے ناموسِ رسالت ۶۰۰۲ءکی یاد میں ملک گیر مظاہرے کیے جائیں گے“
    ۹۳ سالہ یہ وکیل جو آج کل لیبیا کی عبوری حکومت میں نوجوانوں کے امور اور کھیلوں کا وزیر ہے، اپنی گرفتاری کے اس پس منظر کا نقشہ پیش کرتے ہوئے کہتا ہے کہ جوں ہی سنوسی حوالات میں میرے سامنے ظاہر ہوا، میں نے خود کو ہر طرح کے عواقب کے لیے ذہناً تیار کرلیا۔ اس نے اپنا ہاتھ میری طرف لہراتے ہوئے درشت لہجے میں کہا ”تم چاہتے کیا ہو؟ کیا تمھیں معلوم نہیں کہ لیبیا میں سیاسی سرگرمیاں اور احتجاجی مطالبات مکمل طور پر ممنوع اور خلافِ قانون ہیں؟ تم ابو سلیم کے قصے میں کیوں دلچسپی لے رہے ہو؟ فی الفور یہ تخریبی سرگرمیاں ترک کرنے کا اعلان کرو....“ قبل اس کے کہ ”ملزم“ کوئی جواب دیتا، خفیہ ایجنسی کے غضبناک افسرِ اعلیٰ نے حکم صادر کیا کہ وکیل کو نظر بند کر کے اسے عبرت ناک سبق سکھایا جائے۔ چنانچہ احکام پر عمل ہوا اور فتحی تربل پابندِ سلاسل کر دیا گیا۔ دراصل اس گرفتاری کا پس منظر یہ ہے کہ ابو سلیم جیل کے مقتولین کی یاد میں بننے والی انسانی حقوق کی تنظیم اس تلاش میں رہتی تھی کہ کوئی موقع ملے تو وہ اپنے جذبات کا اظہار کرسکے۔ ۷۱ فروری ۶۰۰۲ءکو لیبیا کے مختلف شہروں میں اٹلی اور یورپ کے دیگر ممالک، ڈنمارک وغیرہ میں چھپنے والے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے خاکوں پر احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں۔ لیبیا کے دوسرے بڑے شہر بن غازی میں شرکائے ریلی پر لیبیا کی پولیس نے اندھا دھند گولیاں برسائیں۔ یہ مظاہرین اٹلی کے قونصل خانے کے باہر پرامن مظاہرہ کر رہے تھے۔ اس دن ۴۱ مظاہرین شہید ہوگئے جبکہ سیکڑوں زخمی ہوئے۔
    تیونس اور مصر کی تحریکوں نے لیبیا کے حریت پسندوں کو بڑا حوصلہ دیا اور انھوں نے انٹرنیٹ اور دیگر دستیاب محدود ذرائع سے اس دن یعنی ۷۱ فروری ۲۱۰۲ءکو بڑے شہروں میں مظاہروں کا پروگرام بنا کر عوام میں بیداری پیدا کرنے کی کوشش کی۔ مظاہروں سے دو روز قبل تربل کی گرفتاری نے جبرو آمریت کے ستائے ہوئے عوام کو واقعةً بیدار کر دیا۔ تربل کی گرفتاری کی خبر ایس ایم ایس اور نیٹ کے ذریعے پورے شہر میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ اس کی رہائی کے لیے بن غازی میں لوگ سڑکوں پر نکل آئے۔ اس سے قبل محض علامتی مظاہرے ہوتے تھے، یہ عوامی اور حقیقی مظاہرہ تھا۔ بن غازی کے درودیوار جرات مندانہ انقلابی نعروں سے گونج اٹھے۔ تربل کہتا ہے کہ میں حوالات کے اندر نعروں کا شور سن رہا تھا۔ لوگ چیخ چیخ کر کہہ رہے تھے ”جب لوگ سر اٹھا کر جینے کا ارادہ کرلیں تو مقدر جاگ اٹھتا ہے۔“ نیز ”جاگو جاگو بن غازی والو جاگو“ اور ”یہی وہ دن ہے جس کے خواب تم سالوں سے دیکھ رہے تھے۔“ وغیرہ وغیرہ۔محبوس وکیل کا دل گواہی دے رہا تھا کہ انقلاب کو اب کوئی نہ روک سکے گا۔ تیونس اور مصر کی مثالیں اسے حوصلہ دے رہی تھیں۔
    پولیس اور سیکورٹی فورسز نے مظاہرین پر بے تحاشا لاٹھیاں اور گولیاں برسائیں، سیکڑوں لوگ زخمی ہوئے۔ یہ عوامی مظاہروں کے لیے طے شدہ تاریخ یعنی ۷۱ فروری سے دو روز پہلے کی بات تھی۔ ۷۱ فروری تک پورا لیبیا، شہر ہی نہیں دیہات بھی، جاگ اٹھے اور ساری قوم نے سروں سے کفن باندھ لیے۔ پھر کیا ہوا؟ تقریباً آٹھ ماہ کی پر عزم و منظم جدوجہد کامیابی سے ہم کنار ہوئی ۔ بے پناہ خون ریزی، خانہ جنگی اور پھر نیٹو اور امریکہ کی مداخلت۔ تربل ان سارے واقعات کو یاد کرتے ہوئے کہتا ہے کہ یہ اللہ کی نصرت و تائید تھی کہ لوگ آگے بڑھتے رہے، لاشے اٹھاتے رہے مگر ہمت نہ ہاری۔ ہر شخص کی زبان پر لاشیں اٹھاتے ہوئے یہ نعرے ہوتے تھے ”قاتل قذافی، تمہاری لاش کندھوں پر نہیں اٹھائی جائے گی، ٹھوکروں کی زد میں ہوگی۔“
    اور آخر یہی کچھ ہوا۔ سچ ہے کہ
    ظلم آخر ظلم ہے ، بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے
    خون آخر خون ہے ٹپکے گا تو جم جائے گا
     

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں









سوشل میڈیا لنکس