Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

عرب بہار سے اسلامی بہار تک

  1. عالمِ عرب میں گذشتہ سال جو بیداری کی لہر اٹھی، اس نے پوری دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔ سویا ہو اشیر بیدار ہوا تو آمریت کے ایوانوں میں زلزلہ آگیا۔ بظاہر مضبوط قلعے ریت کے گھروندے ثابت ہوئے۔ ابھرتی ہوئی تحریکوں نے بے پناہ قربانیاں دیں مگر پیچھے ہٹنے کی بجائے اللہ کے شیر آگے ہی آگے بڑھتے چلے گئے یہاں تک کہ کامیابی و فتح ان کا مقدر ٹھہری۔ روباہ صفت حکمران بھاگ گئے، (جیسے تیونس کے علی بن زین العابدین اور یمن کے علی عبد اللہ صالح) ،یا پکڑ لیے گئے (جیسے مصر کے حسنی مبارک)، یا موت کے گھاٹ اتر گئے(جیسے لیبیا کے معمر القذافی)۔ تیونس اور مصر میں انتخابات ہوچکے ہیں۔ ان جمہوری انتخابی معرکوں میں اسلامی تحریکوں نے اللہ کی نصرت اور عوام کی تائید سے شاندار کامیابی حاصل کرکے عرب بہار کا رخ اسلامی بہار کی طرف موڑ دیا ہے۔ لیبیا اور یمن میں اسی سال انتخابات ہوں گے اور ان شاءاللہ ان دونوں ممالک کے عوام بھی اسلامی بیداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسلامی تحریکوں کو کامیابی سے ہم کنار کریں گے۔
    صدیوں تک عالمِ اسلام کی قیادت کرنے والا ملک، ترکی پہلے ہی کمال ازم، سیکولرزم اور عسکری تسلط کے خلاف مضبوط موقف اختیار کر چکا ہے۔ مغرب میں اسلام پسندوں کے خلاف بہت واویلا ہوا مگر وہاں جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی نے اپنی صلاحیت و صالحیت کا سکہ منوا لیا ہے اور فوج کے منہ زور گھوڑے کی لگامیں کامیابی سے اپنے قابو میں کرلی ہیں۔ یہ سارا سفر پر امن جمہوری طریقے سے طے کیا گیا ہے۔ مراکش میں بھی وہاں کے بادشاہ کی معتدل حکمت عملی کی بدولت حکومت کا تختہ الٹے بغیر تبدیلی رونماہوئی ہے اور انتخابات کے ذریعے اسلامی تحریک برسر اقتدار آگئی ہے۔ عرب دنیا میں اب شام کی باری ہے۔ یہاں سفاک نُصَیری حکمران بشار الاسد کی طرف سے جس قدر خون ریزی اور ظلم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں، اس کی مثال دنیا کی تاریخ میں کم ہی ملتی ہے مگر اب تک عوام نے جس پامردی کا مظاہرہ کیا ہے، اسے دیکھ کر یقین ہوجاتا ہے کہ اسلامی انقلاب ان شاءاللہ اس تاریخی خطے کی قسمت میں بھی لکھا جاچکا ہے۔ ہم ان تمام شہداءکو سلامِ عقیدت پیش کرتے ہیں جو اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرکے زندہ جاوید ہوچکے ہیں۔
    اگر مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ میں رونما ہونے والی یہ خوش کن بہار محض عرب بہار ہوتی تو باطل اور طاغوتی قوتوں کو قبول تھی، مگر اس نے اسلامی بہار کا روپ دھار لیا ہے جس سے یہ شیطانی عناصر بوکھلا اٹھے ہیں۔ انھیں اپنے وجود اور مفادات اس خطے میں خطرے میں محسوس ہو رہے ہیں۔ اسرائیل اور امریکہ کے ایوانوں میں خطرے کی گھنٹیاں واضح طور پر سنی جارہی ہیں۔ وہ اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لیے ہر حربہ اختیار کرسکتے ہیں۔ اسلامی تحریکوں کے لیے اب پہلی جدوجہد سے بھی زیادہ فیصلہ کن مرحلے آگئے ہیں۔ اب ان کی قیادت کی ذہانت، اعصاب اور حکمت و قوت کا امتحان ہے۔ امریکی پالیسی ہمیشہ یہی رہی ہے کہ یا گڑسے دشمن کو مارو یا ڈنڈا استعمال کرو۔ انگیزی محاورے میں اسے گاجر اور لاٹھی (Carrot and Stick) کہا جاتا ہے۔ اسرائیل اور امریکہ نے جو اقدامات شروع کر رکھے ہیں ان میں سے چند ایک کا تجزیہ ان سطور میں کیا جارہا ہے۔ یہ موضوع بڑا وسیع و عریض ہے اور بھرپور و تفصیلی مطالعے و تجزیے کا طالب مگر اس مضمون میں اس کی گنجائش نہیں۔ مصر کے حالیہ انتخابات کے بعد اخوان نے بڑی کامیاب حکمتِ عملی اختیار کی اور حزب النور اور حزب الوفد کے ساتھ مفاہمت کرکے سپیکر اور ڈپٹی سپیکرز کے مناصب کے لیے متفقہ طور پر تین پارٹیوں کے نمائندوں کو بلا مقابلہ کامیاب کروایا۔ داخلی محاذ پر بعض اسلام دشمن عناصر توقع کر رہے تھے کہ یہ پارٹیاں پارلیمان میں ایک دوسری سے دست و گریباں ہوں گی مگر ان کی امیدیں خاک میں مل گئیں۔
    اخوان المسلمون کے سیاسی ونگ حزب العدالہ والحریہ کے نمائندے جناب ڈاکٹر سعد الکتاتنی کو سپیکر منتخب ہونے پر اسرائیل کی پالیمان (کینسٹ) کے سپیکر رو وین ریوولین نے دعوت بھیجی کہ وہ خیر سگالی کے طور پر اسرائیل کا دورہ کریں اور اپنی طرف سے خواہش ظاہر کی کہ وہ بھی مصر کا جوابی دورہ کرنے میں خوشی محسوس کرے گا۔ سعد الکتاتنی نے اسرائیلی سپیکر کی اس دعوت کو مسترد کر دیا اور کہا کہ مقبوضہ فلسطین کی آزادی تک وہ اس مقبوضہ سرزمین پر قدم نہیں رکھیں گے اور نہ ہی غاصب صہیونی حکومت کے کسی نمائندے کو اپنی سرزمین پر خوش آمدید کہیں گے۔ ان کے اس موقف کو تمام مغربی اور بعض مقامی NGOs نے نشانہ تنقید بنایا ہے مگر بحیثیت مجموعی عالمِ اسلام، بالخصوص مصر میں ان کے اس جرات مندانہ اور غیرت سے بھرپور موقف کو بہت سراہا گیا ہے۔ مصر کے اخبارات نے بھی اسے بہت نمایاں کرکے شائع کیا ہے اور کویت کے عالمی ہفت روزہ ”المجتمع“ نے اپنی ۴ فروری کی اشاعت میں اس پر جناب سعد کو خصوصی خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔
    اسرائیلی سپیکر نے اپنے مصری ہم منصب کے علاوہ اردن اور ترکی کے سپیکرز کو بھی خیر سگالی کے پیغامات ارسال کیے۔ المجتمع کے مطابق اردنی پارلیمان کی پہلی سال گرہ کے موقع پر رووین نے اردنی مجلس کے سپیکر جناب طاہر المصری کو مبارک باد اور خیر سگالی کا مراسلہ بھیجا۔ حکومتی سطح پر دونوں ممالک نے آپس میں کیمپ ڈیوڈ معاہدے کے بعد سفارتی تعلقات بحال کر لیے تھے مگر اردن کے عوام اور سیاسی حلقوں میں اب تک اسرائیل کے بارے میں خیر سگالی کے کوئی جذبات دیکھنے میں نہیں آئے۔ موروثی بادشاہت اور مغربی اثرات کے تحت اُس وقت کے اردنی حاکم شاہ حسین نے جو فیصلہ کرلیا تھا اس کا جانشین بیٹا اس پر قائم ہے مگر اردنی عوام کا حال یہ ہے کہ انھوں نے اس پر ”خاموشی“ تو اختیار کی مگر دل سے اسے کبھی نہیں تسلیم کیا۔ یہ ”خاموشی“ جس طرح فوجی آمریتوں کے تحت زندگی گزارنے والی عرب آبادیوں میں آمروں کے خلاف قوت بن چکی ہے، اسی طرح موروثی بادشاہتوں کے خلاف بھی اس کا لاوا پھٹنے والا ہے۔ یہ معنی خیز خاموشی دیکھیے کب ٹوٹتی ہے۔ اردنی پارلیمان کے سپیکر جناب طاہر مصری نے کہا کہ یہ مراسلہ ہم نے وصول کرنے ہی سے انکار کر دیا تھا۔ یہ ناپاک مراسلہ کیسے وصول کیا جاسکتا تھا جس پر لکھا ہوا تھا کہ ”اسرائیل کے دارالحکومت بیت المقدس سے یہ مراسلہ ارسالِ خدمت ہے۔ “بیت المقدس ہمارا قبلہ اول ہے۔ اس پر اسرائیل کا غاصبانہ قبضہ ہر گز تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔
    اسرائیلی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے اس اردنی ردعمل کو افسوسناک قرار دیا اور کہا کہ ہمارا مراسلہ وصول کیے بغیر ہمارے سفارت خانے کو بھجوا دیا گیا۔ اردنی وزارتِ خارجہ نے اپنے اس عمل کو مبنی برصواب قرار دیا ہے۔ جہاں یہ عمل مثبت اشارہ دے رہا ہے وہاں یہ سوال بھی خاصا معنی خیز ہے کہ جس ملک سے اس نوعیت کی نفرت ہو کہ اس کا خط بھی قبول کرنا گوارانہ ہو، اسے تسلیم کرنا چہ معنی دارد؟ بہرحال یہ ایک اشارہ ہے تبدیلی کی اس ہوا کی طرف جو مستقبل میں اس بادشاہت میں بھی رونما ہونے والی ہے۔ بڑے بڑے انقلابات چھوٹے چھوٹے واقعات سے جنم لیتے ہیں۔ تیونس اور لیبیا کے انقلاب تو بالکل اسی طرح رونما ہوئے حالانکہ طویل عرصے کی بدترین آمریت نے ہر طرف بددلی و مایوسی پھیلا دی تھی۔
    ترکی پارلیمان کے سفیر جناب جمیل تشیک کو بھی اسرائیلی سپیکر کی طرف سے دعوت نامہ بھیجا گیا کہ وہ اسرائیل کا دورہ کریں۔ انھوں نے اس دعوت نامے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ترکی اور اسرائیل میں کوئی قدر مشترک نہیں ہے۔ گذشتہ چند سالوں سے اسرائیل کے خلاف ہم نے ہر محاذ پر اصولی موقف اختیار کیا ہے۔ ہم اپنے اس اصولی موقف سے واپسی کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔ محصورین غزہ پر اسرائیل کے مظالم کے خلاف سفینہ آزادی ہمارا تاریخی اقدام تھا۔ ہم اپنے شہداءکو کیسے بھول سکتے ہیں جو پر امن فلوٹیلا کے ساتھ مظلوم فلسطینیوں کو غزہ میں دوائیں اور دیگر سامان و خوراک پہنچانے کی پاداش میں اسرائیلی درندوں کی بمباری سے شہادت پاگئے۔ اسرائیلی سپیکر کو ان تینوں شخصیات کے جواب سے بہت مایوسی ہوئی اور اسرائیل کے کئی تھنک ٹینکس نے کہنا شروع کر دیا ہے کہ آس پاس کے ممالک میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کا توڑ ضروری ہے ورنہ اسرائیل کا وجود بھی خطرے میں پڑ جائے گا۔ انھوں نے اپنے سرپرست امریکہ کو آوازیں دینا شروع کر دی ہیں مگر اب افغانستان میں شکست خوردہ امریکہ اور اس کے اتحادی اپنا دورِ استبداد زیادہ عرصہ جاری نہ رکھ سکیں گے۔
    مصر کے معزول صدر حسنی مبارک کی اہلیہ نے بھی امریکہ کے حکمرانوں کو مسلسل خطوط لکھ کر کہا ہے کہ بنیاد پرستوں کی طرف سے اس کے خاوند اور بیٹوں کو پھانسی لگا دیا جائے گا۔ اس کا موقف یہ ہے کہ حسنی مبارک اور اس کے پورے خاندان نے امریکہ کے ساتھ دوستی کا حق ادا کیا تھا اور اب خطرے کی اس گھڑی میں انھیں اپنے سرپرست کی امداد اور مداخلت کی ضرورت ہے۔ مصری عالم معاشیات ڈاکٹر سعد الدین ابراہیم (صدر ابن خلدون تجزیاتی سینٹر برائے ڈویلپمنٹ) نے کہا ہے کہ حسنی مبارک نے اپنے آخری دنوں میں ان کے مرکز کے تجزیوں کی وجہ سے انھیں دھمکیاں دیں اور ان کی گرفتاری کا حکم صادر کرکے حوالہ زنداں کر دیا۔ حسنی مبارک نے ان کے مرکز پر بھی بین لگا دیا تھا مگر قدرت کا کرشمہ ہے کہ آج میں بھی آزاد ہوں اور میرا ادارہ بھی اپنا کام کر رہا ہے مگر ظالم آمر زندگی کی بھیک مانگ رہا ہے اور اس کی بیوی ہر جگہ آنسوبہا کر جذبہ ترحم پیدا کرنے کی ناکام کوششیں کر رہی ہے۔ جب برا وقت آتا ہے تو ظالم کے سب سہارے جواب دے جاتے ہیں۔ حسنی مبارک کا کیس لڑنے کے لیے مشہور وکیل فرید الدیب کی خدمات حاصل کی گئی تھیں۔ مصر میں یہ وکیل بہت قابل سمجھا جاتا ہے۔ حسنی مبارک کے خلاف جوں جوں شواہد سامنے آتے گئے، اس وکیل کے پاﺅں بھی ڈگمگانے لگے۔ اب نتیجہ یہ نکلا ہے کہ وکیل صاحب اپنا دفتر بند کرکے غائب ہوگئے ہیں۔ مصر کی سابقہ ملکہ اس پر بھی نوحہ کناں ہے کہ پیسہ بھی برباد ہوا اور فائلیں بھی گم۔ یہ جائے عبرت ہے کہ دو سال قبل جو شخص اپنے بیٹے جمال مبارک کی تاج پوشی کے منصوبے بنا رہا تھا، آج وہ اس بے بسی کی تصویر پیش کر رہا ہے۔ فاعتبروا یا اولی الابصار۔ ”حذر اے چیرہ دستاں کہ سخت ہیں فطرت کی تعزیریں۔“
     

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں

سوشل میڈیا لنکس