Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

تیونس میں تبدیلی ایک سبق

  1. تیونس برادر اسلامی ملک ہے جسے طویل عرصے تک فرانسیسی استعمار کے مظالم سہنا پڑے۔ فرانس سے مارچ 1956ءمیں اسے آزادی ملی۔ شروع میں تیونسی لیڈر حبیب بورقیبہ نے فرنچ استعمار سے بھی بدترین قسم کی لادینت اور آمریت کے ساتھ اس ملک کو ظاہری آزادی کے باوجود حقیقی آزادی کا مزہ چکھنے سے محروم رکھا۔ بورقیبہ نے بلا شرکتِ غیرے 31سال تک حکومت کی۔ جب یہ بہت بوڑھا اور تقریباً معذور ہوگیا تو فوج نے پر امن اور غیر خونی انقلاب برپا کر کے اس کی حکومت کا خاتمہ کر دیا۔ اس کا تختہ الٹنے کے بعد جنرل زین العابدین نے 1987ءمیں اقتدار پر قبضہ جما لیا۔ اس وقت سے چند دن قبل تک کم از کم ربع صدی اس ظالم اور بد عنوان فوجی حکمران نے اہلِ تیونس پر ظلم و ستم کے کوڑے برسائے۔ اپنی تاریخ کے لحاظ سے تیونس اور اس کے باشندے اسلام سے گہری وابستگی کا تشخص رکھتے تھے۔ فرانسیسی دور استعمار میں فحاشی و عریانی اور لادینیت کے ساتھ عیسائی مشنریوں کی یلغار بھی آخری حدوں کو چھوتی رہی۔ اس غیر ملکی اور غیر اسلامی یلغار کا مقابلہ تو تیونسی آبادی نے خوب کیا مگر استعمار نے اپنے جانے کے بعد جن لوگوں کو یہاں مسلط کیا اور جن کی سرپرستی اور حفاظت ہمیشہ کرتا رہا انھوں نے اس سر زمین سے اسلامی اقدار کو کھرچ کھرچ کر مٹانے کا ریکارڈ قائم کر دیا۔
    بورقیبہ ایک دہریہ اور مذہب بیزار جنونی تھا۔ اس نے اسلام کا نام لینے والوں کے لیے یہ سرزمین تنگ کر دی۔ زین العابدین نے بھی اس پالیسی کو جاری رکھا۔ دینی سوچ رکھنے والے تمام قائدین بھی جلاوطنی پر مجبور ہوئے اور جمہوریت کے جراثیم رکھنے والوں کو بھی ملک بدر ہونا پڑا۔ جن لوگوں نے کبھی احتجاج کیا انھیں جان سے ہاتھ دھونا پڑے۔ نماز روزے پر پابندی تک کی جسارت کی گئی اور مسلمان عورتوں کا نقاب پہننا بڑا جرم شمار ہونے لگا۔ ہزاروں بے گناہ جیلوں میں گل سڑ کر موت کی نیند سو گئے اور ہزاروں ہنوز اپنی باری کا انتظار کر رہے تھے کہ نیا، عوامی انقلاب رونما ہو گیا جس کے سامنے فوج اور پولیس بھی بے بس ہوگئی ہے۔
    فرانس نے اپنے استعماری دور میں اس ملک کے وسائل کو بری طرح لوٹا تھا۔ اس ملک میں زرعی پیداوار کے علاوہ تانبے، پارے، پیتل، تیل اور لوہے کے کافی ذخائر موجود ہیں۔ یہاں کی دولت فرانس منتقل ہوتی رہی۔ آزادی کے بعد مقامی عرب حکمرانوں نے تو لوٹ مار کی نئی تاریخ رقم کی۔ جنرل زین العابدین کی دوسری بیگم لیلیٰ نے تو واقعی اس جرنیل کو مجنون بنا دیا تھا۔ وہ اس کی لوٹ مار میں برابر کا شریک تھا۔ کہا جاتا ہے کہ موصوفہ فرانس سے آئس کریم منگوانے کے لیے خصوصی طیارے بھجوایا کرتی تھی۔ بنک ان کی ذاتی ملکیت تھے، اب نئے انقلاب کے بعد یہ شاطر اور کرپٹ عورت ملک سے جاتے ہوئے دیگر اموال کے علاوہ سٹیٹ بنک کا ڈیڑھ ٹن سونا بھی لے اڑی ہے۔ یہ سب حقائق دل دہلا دینے والے اور بیچارے تیونسی عوام کی معاشی بدحالی کی وضاحت کرنے کے لیے کافی ہیں۔
    پوری عرب بلکہ مسلم دنیا کے عوام جس ناگفتہ بہ صورت حال سے دوچار ہیں وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ وطن عزیز کے زرداری صاحب ہوں یا لیبیا کے معمر قذافی، مصر کا ڈکٹیٹر حسنی مبارک ہو یا شام کا موروثی آمر بشار الاسد، شیوخ و ملوک ہوں یا فوجی حکمران، سبھی ملکی ٹیکسوں سے حاصل شدہ دولت اور قدرتی وسائل کو شیر مادر سمجھ کر ہڑپ کر جاتے ہیں۔ کئی مسلم ممالک میں بے روزگاری نے مقامی آبادیوں کو زندگی سے مایوس کر دیا گیا ہے۔ ان معاشی مشکلات سے تنگ اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان کئی بار احتجاجاً اپنی تعلیمی ڈگریاں جلانے پر مجبور ہوتے ہیں۔ تیونس کے ایک تعلیم یافتہ نوجوان نے ملازمت نہ ملنے کے نتیجے میں سبزی اور فروٹ کی ریڑھی لگانا شروع کی تو پولیس نے اس کی ریڑھی ضبط کرلی۔ عذر یہ تھا کہ اس کے پاس لائسنس نہیں۔ اس نے مایوس و مجبور ہوکر اپنی ڈگری چلانے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ خود سوزی کرکے خودکشی کرلی۔ ایسے ہی واقعات دوسرے ملکوں میں بھی رونما ہو رہے ہیں۔ ان تمام ممالک میں بھی تیونس کی طرح عوام کا لاوا پھوٹ نکلنے کو بے تاب ہے، اور حکمران بھی قدرے تشویش محسوس کر رہے ہیں مگر امریکی سرپرستی انھیں پھرلوریاں دے کر سلا دیتی ہے۔
    تیونس میں لوگ تنگ آمد بجنگ آمد کی آخری حد کو پہنچ چکے تھے۔ نوجوان کی خود سوزی نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ عوامی لاوا جو زیر زمین ابل رہا تھا پھٹ پڑا۔ ایک کروڑ سے زاید آبادی کے اس ملک میں نوجوان آبادی کی بھاری اکثریت ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے لاکھوں لوگ مظاہروں میں شریک ہوکر حکومت مخالف نعرے لگانے لگے۔ حکومت نے روایتی ہتھکنڈوں کے ذریعے تحریک کو کچلنا چاہا اور اب تک کم و بیش ایک سو کے قریب لوگ گولیوں سے بھون دیے گئے ہیں، لیکن مظاہروں میں کوئی کمی نہیں آئی۔ نتیجتاً ڈکٹیٹر کو اپنی فیملی سمیت ملک سے بھاگنا پڑا۔ چند روز قبل جب مظاہروں کا آغاز ہوا تو ”باخبر“ فرنچ حکومت کی وزیر خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ ہم تیونس حکومت کی مدد کے لیے ہنگاموں پر کنٹرول پانے والی خصوصی فورس بھیج سکتے ہیں لیکن جب پانی سر سے گزر گیا اور ”بے خبر“ فرنچ حکومت کو اندازہ ہوا کہ عوامی جذبات کیا ہیں تو اپنے وفادار ایجنٹ کی یہ درخواست مسترد کر دی کہ فرانس میں سیاسی پناہ دی جائے۔ صدر سرکوزی نے آنکھیں پھیر لیں اور آخر سعودی حکمرانوں نے اپنی سرزمین میں اس شرط پر انھیں پناہ دیدی کہ وہ کوئی سیاسی سرگرمی نہیں کریں گے۔
    اب نئی وجود میں آنے والی حکومت پر بھی عوام کو کوئی اعتماد نہیں۔ جمہوری قوتیں اور اسلامی تحریکیں اس وقت میدان میں اتری ہوئی ہیں اور زین العابدین حکومت کے باقیات السیئات کے سب گماشتے آہستہ آہستہ فرار ہوتے جا رہے ہیں یا نظر بند کیے جارہے ہیں۔ تمام عرب ملکوں میں تشویش کی لہریں دوڑ گئی ہیں ہر شخص سوچ رہا ہے کہ تیونس میں سیاست کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا۔ ابھی کچھ کہنا محال ہے تاہم دور رس تبدیلیاں سطح سمندر کے نیچے ہی نہیں اوپر بھی نظر آرہی ہیں۔ تیونس میں خودسوزی کے واقعہ کے بعد مصر میں بھی ایسے واقعات رونما ہوئے ہیں۔ مصر میں حالیہ انتخابات دنیا کی انتخابی تاریخ کا بدترین مذاق تھا۔ تبدیلی کی ہوائیں تیزی سے چل رہی ہیں مگر محض چہروں کی تبدیلی سے خیر اور بھلائی برآمد نہیں ہوتی۔ نظام کے بدلنے ہی سے حالات بدل سکتے ہیں۔ دیکھیے مستقبل قریب میں کیا کچھ سامنے آتا ہے۔ اس تناظر میں وطنِ عزیز کے اندر بھی عوام الناس سراپا سوال ہیں کہ کون ان کی قیادت کرکے ظلم کے اس نظام کو ختم کرے گا۔ المیہ یہ ہے کہ ظلم کے خاتمے کے لیے پھر آزمائے ہوئے مہروں پر عوام کی نظریں جم جاتی ہیں۔ اگر یہ عوامی سوچ بدل جائے تو ہماری تقدیر بھی بدل جائے۔ تبدیلی وہی لوگ لا سکتے ہیں جن کا دامن کرپشن اور بد دیانتی کے دھبوں سے پاک ہو۔
     

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں

سوشل میڈیا لنکس