Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

سیّدابوالاعلیٰ مودودیؒ……قومی اور ملی خدمات کے آئینے میں

  1. اظہراقبال حسن    
    ڈپٹی سیکرٹری جنرل  
    جماعت اسلامی پاکستان


        مولانا سیّدابوالاعلیٰ مودودیؒ 25؍ستمبر1903؁ء کو اورنگ آباد، انڈیامیں پیدا ہوئے اور 22؍ستمبر 1979؁ء کو 76؍برس کی عمر میں اس دنیائے فانی سے کوچ کرگئے۔ آج ان کو وفات پائے ہوئے 40؍سال ہوگئے ہیں۔
        مولانا سیّد ابوالاعلیٰ مودودیؒ امام العصراوراپنی ذات میں ایک انجمن تھے۔ وہ ایک بہترین مصنف بھی تھے اورشاندار ادیب بھی، صحافی بھی تھے اورعالمگیرسکالربھی، مفسرقرآن بھی تھے اور محدث بھی، واعظ شیریں بیان بھی تھے اورذہنوں کو متاثر کرنے والے مدرس بھی۔ ان کو تحریک اسلامی کے بانی امیر، راہنما اور صدی کے مجددہونے کااعزازبھی حاصل ہے۔
        اسلام دین فطرت ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے انسانیت کے لیے ہدایت کا آخری سرچشمہ اور ضابطہ حیات کی مکمل شکل میں انسانیت کے پاس موجود ہے۔ اسلام اپنے پیروکاروں کو زندگی کے جملہ معاملات میں راہ نمائی، اصول، قوانین اور روشن ہدایات سے نوازتا ہے۔ سیّد مودودیؒ کی خدمات میں سب سے بڑا کام اوراہم کارنامہ اسلام کو بحیثیت قابل عمل دین اور نظام زندگی کے طور پر پیش کرناہے۔ اس کے لیے مولانا کے چارنکاتی پروگرام کا اہم جزو اسلامی حکومت کا قیام تھاجس کوانہوںنیؤ مؤثرانداز میں عوام الناس کو سمجھایااور امت مسلمہ کو واضح اصولوں کے ساتھ ہدایات دیںاوراسلام کودیگرنظام ہائے کفر کے سامنے لاکھڑا کیا۔ جب انھوں نے اپنی کوششوں کا آغاز کیا۔ تو اُس وقت کے اہل علم، علماء کرام، صوفیا عظام اورکچھ مذہبی جماعتیں اپنے اپنے انداز اور دائرے میں دین کاکام کر رہی تھیں لیکن اُن کا کام دین کے چند احکام کی تکمیل تک محدودتھا۔
        قرآن مجید کی تفسیر’’تفہیم القرآن‘‘ مولانا مودودیؒ کا عظیم کارنامہ اورامت مسلمہ کے لیے نایاب تحفہ ہے۔ تفہیم القرآن کا دنیا بھرکی دیگر زبانوں میں ترجمہ ہوا ہے جونہ صرف جدید اور قدیم ذہنوں کو متاثر کرتاہے بلکہ عام فہم اور جدید اسلوب کے پیرائے میں عوام والناس کی راہ نمائی کرتاہے اور اسلامی نظام زندگی کو اپنانے اور اسے ایک نظام حکومت کے قیام کے لیے ابھارتا اور تحریک پیدا کرتا ہے۔
        انھوں نے انسانیت کے خیرخواہ نظام یعنی اسلامی نظام زندگی کو انوکھے، انمول اندازاورایک زندہ نظریے کے طور پردنیا کے سامنے پیش کیا۔ دین کی تعبیر اور تشریح عام فہم، جامع انداز اور جدیداسلوب کے ساتھ بیان کی ۔ جس میں اعلیٰ تعلیم یافتہ اورکم تعلیم یافتہ آدمی دین کی بنیادی تعلیم واحکام کو نہ صرف معلوم کرسکتاہے بلکہ آسانی سے اس پر عمل پیراہوکردنیا وآخرت میں کامیاب ہوسکتاہے۔ انہوں نے عقلی دلائل سے ثابت کیا ہے کہ موجودہ حالات میں اسلام کی تعلیمات پرنہایت آسانی سے عمل کیا جاسکتاہے۔ جس طرح یہ چودہ سوسال پہلے نظام زندگی کی حیثیت رکھتا تھا، آج بھی اسی طرح قابل عمل ضابطہ حیات کی شکل میں موجود ہے اور انسانیت کے ہمہ پہلو مسائل کا بہترین حل پیش کرتا ہے۔
        عبادات ہوںیا عقائد، معاشرت ہویا معیشت، سیاست ہویا عدل و انصاف، اللہ تعالیٰ کے عائد کردہ فرائض سے تعلق ہویابندوں کے لیے مقررکردہ حقوق، انھوں نے تحریر وتقریر کے ذریعے قوم کی راہ نمائی کی اوردوٹوک انداز میں بتایا کہ اسلامی نظام زندگی کے نفاذ کے لیے ہرمسلمان کو اپنا کرداراداکرنا چاہیے اور اِس مقصد عظیم کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہیں کرنا چاہیئے۔ اس کے بدلے میں اللہ تعالیٰ کی رحمتوں اور برکتوں کے نزول کی خوش خبری سنائی کیونکہ یہی بندہ مومن کی راہ اور منزل مقصود ہے۔
        اسلام کو نظام زندگی کے طور پر پیش کرنے کے بعد اس کے قیام کے لیے 26؍اگست1941؁ء کوافراد کار کی تیاری کاکام اور عملاً تحریک اسلامی کی شکل میں تنظیم کھڑی کر کے جدوجہد شروع کر دی۔ فکری اور دعوتی میدان میں لٹریچر کی تیاری کا کام سرانجام دیا اور1947ء میں پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے بعد منظم انداز میں پاکستان میں اسلامی حکومت کے قیام کے لیے اپنی تمام ترسعی اس عظیم کام کی تکمیل کے لیے لگا دی۔
        قیام پاکستان سے لے کر آج تک خودمولانا مودودیؒ اوران کے تمام سابقہ اور موجودہ رفقاء تشدداورقید و بند کی سخت صعوبتوں سے گزرے لیکن اپنے مقصد زندگی یعنی اسلامی حکومت کے قیام کی جدوجہد سے ایک لمحہ کے لیے بھی پیچھے نہیں ہٹے۔ مسلسل آگے بڑھتے اور پیش رفت کرتے رہے اور اپنے رب کے ہاں سرخروہوتے رہے۔
        1953؁ئمیںجب مسئلہ قادیانیت کاکتابچہ لکھنے پر مولانامودودیؒ کو پھانسی کی سزا سنائی گئی توانہوںنے واضح انداز میں کہاکہ مجھے کسی سے کوئی رحم کی اپیل نہیں کرنی ہے۔ زندگی اور موت کے فیصلے زمین پر نہیں آسمان پر ہوتے ہیں۔ اگر وہاں پر میری موت کا فیصلہ ہوچکاہے تو دنیا کی کوئی طاقت مجھے موت سے نہیں بچا سکتی اور اگر وہاں سے میری موت کا فیصلہ نہیں ہوا ہے تو دنیا کی کوئی طاقت میرا بال بھی بیکا نہیں کرسکتی۔
        سیّد مولانا مودودیؒ نے مقبوضہ کشمیر کا واحد حل…جہادکوقراردیا۔ انہوںنے کہاکہ’’اب صرف ایک آخری صورت رہ جاتی ہے اور وہ یہ ہے کہ ہم اللہ کے بھروسے پر اُٹھیں اور اپنے خدا پر اعتماد کرتے ہوئے اپنے دست و بازو سے اس مسئلے کو حل کریں۔ میرے نزدیک بس یہی ایک صورت ہے۔ اس سے پہلے بھی برسوں سے میں یہ بات کہتا رہا ہوں اور آج پھر کہتا ہوں کہ کشمیر کے مسئلے کا ایک ہی حل ہے اور وہ ہے جہاد……آج بالکل صریح طور پر یہ بات ہر ایک کے سامنے آچکی ہے کہ اس مسئلے کا اس کے سوا کوئی اور حل نہیںہے۔‘‘
        سیّد مودودیؒ کی فکر اور لٹریچرنے دنیا بھرمیںاسلامی تحریکات کو زندہ رکھا ہے اور وہ تطہیرافکارکے لئے کوشاں ہیں۔ امت مسلمہ کے روشن مستقبل کی مبارک جدوجہد میں مصروف کارہیں۔ تاکہ ان کی کھوئی ہوئی عظمت رفتہ بحال کی جائے اورمثبت اسلامی اقدارکے ذریعے علمی، فکری، اخلاقی،معاشی، معاشرتی اور مادی ترقی کو پھر سے دنیااورانسانیت کے لیے مثال بنادیاجائے۔ آج مولانا کی برپاکردہ تحریک اسلامی کے اثرات اور فیوض وبرکات دنیا بھر میں ہر جگہ موجود ہیں، کروڑوں نفوس اس کے دست وبازو ہیںاور اس کے مشن اور مقصد کو آگے بڑھانے کے لیے ہر طرح کی محنت اورقربانیاں دے رہے ہیں۔
        رب کریم مولانا کی قبر کو نور سے بھر دے اور تحریک اسلامی کی موجودہ قیادت اوروابستگان کو استقامت کے ساتھ اسلامی نظام حکومت کے قیام کے لیے جدوجہد کی ہمت، توفیق اور مطلوبہ صلاحیتوں سے نوازے۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں



سوشل میڈیا لنکس