Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

تحریک ختم نبوتؐ اور علما ء کا کردار

  1.                                     تحریر  :  منظور حسین نظامی

        تحریک ختم نبوت ؐمیں مختلف مکاتب فکر کے علمائے کرام نے تاریخی کردار ادا کیا، خاص طور پر مولانا گلزاراحمد مظاہریؒنے تحریک ختم نبوت ؐ میں کلیدی کردار ادا کیاہے ۔
        حضرت مولانا گلزار احمد مظاہری مرحوم ملک کے ممتاز، منفرد اور نامور عالم دین ، بے بدل خطیب ، واعظ خوش بیان ، اتحاد امت کے نقیب ، جمعیت اتحاد العلماء پاکستان کے صدر ، جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی رہنما اور تحریک ختم نبوت کے جری و دبنگ مبلغ اور بے باک رہنما تھے ۔ مولانا ؒ 1922 ء کو پنجاب کے تاریخی شہر بھیرہ کی معروف پراچہ برادری کے ایک تاجر گھرانے میں پیدا ہوئے ۔ میٹرک کے بعد ان کے والد گرامی حاجی عبدالمجید پراچہ نے انہیں اعلیٰ تعلیم کے لیے مسلم یونیورسٹی علی گڑھ بھیجا لیکن انہوں نے وہاں بمشکل دو سال کی تعلیم مکمل کی اور علم دین کی پیاس بجھانے کے لیے پہلے خیر المدارس جالندھر اور پھر مظاہر العلوم سہارن پور میں داخل ہوئے ۔شیخ الحدیث مولانا محمد ذکریا ؒ کے شاگر د بنے ۔ شاہ عبدالقادرؒ رائے پوری سے بیعت ہوئے ۔ فارغ التحصیل ہونے کے بعد پہلے مجلس احرار ِ اسلام میں شامل ہوئے پھر جماعت اسلامی پاکستان میں شمولیت اختیار کی ۔ زندگی بھر دعوت و تبلیغ میں مصروف رہے ۔ پاکستان کے طول و عرض میں ہزاروں جلسوں ، ریلیوں ، سیرت النبی ؐ اور ختم نبوت ؐ کانفرنسوں سے خطاب کیا۔ مشرقی و مغربی پاکستان کا کوئی قابل ذکر شہر ، قصبہ ، دیہات اور گوٹھ ایسا نہیں کہ جہاں مولانا مظاہری ؒ توحید و رسالت ؐکی دعوت اور عقیدہ ختم نبوت ؐ کا پیغام لے کر نہ پہنچے ہوں ۔
        چونکہ جھوٹے مدعی نبوت مرزا غلام احمد قادیانی کے پہلے خلیفہ حکیم نورا لدین کا تعلق بھیرہ سے تھا اس لیے بھیرہ کی پراچہ برادری کے کچھ خاندان مرتد ہو کر قادیانی ہوگئے تھے بلکہ یوں بھی تھاکہ باپ قادیانی اور بیٹا مسلمان یا باپ مسلمان بیٹا قادیانی ۔ اسی طرح مختلف خاندانوں میں باہمی شادیوں کے نتیجہ میں مسلمان خواتین غیر مسلموں کے عقد نکاح میں تھیں اور اسے کوئی برائی بھی تصور نہیں کیا جاتا تھا ۔ مولانا گلزار احمد مظاہر ی ؒ جب مظاہر العلوم سے عالم دین بن کر بھیرہ واپس آئے تو انہوںنے اپنے محلہ کی بڑی جامع مسجد میں پہلے ہی خطبہ جمعہ میں واضح ، دوٹوک الفاظ میں اعلان کیا کہ قادیانی کافر اور دائرہ ٔاسلام سے خارج ہیں ان کی نماز جنازہ پڑھنا ، انہیں مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا اور ان کے ساتھ رشتہ داریاں قائم کرنا ناجائز ، خلاف اسلام اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دلآزاری اور انہیں تکلیف پہنچانے کے مترادف ہے ۔مولانا مظاہری کے اعلان حق نے پوری پراچہ برادری میں ہی نہیں ، پورے شہر میں ایک نیا جذبہ اور نئی بیداری پیدا کردی جس کے نتیجہ میں کچھ ہی عرصہ بعد قادیانی اچھوت بن گئے ۔ سگے بیٹوں نے اپنے قادیانی باپ کا جنازہ پڑھنے سے انکار کردیا ۔ قادیانیوں کے سماجی بائیکاٹ کا یہ سب سے پہلا بڑا اور منظم مظاہرہ تھا ۔1953 ء کی تحریک ختم نبوت ؐ کے موقع پر مولانا مظاہری جماعت اسلامی ضلع میانوالی کے امیر تھے ۔ اس مرحلہ پر تحفظ ختم نبوت کا علم لے کر انہوںنے ملک بھر کا طوفانی دورہ کیا ۔ کراچی سے خیبر تک شہر شہر قریہ قریہ ختم نبوت کانفرنسوں سے خطاب کیا ۔ ان کے پرجوش خطاب نے ملک بھر میں اہل ایمان کے دلوں میں عشق مصطفیٰؐ کی آگ لگا دی جس سے گھبرا کر حکمرانوں نے انہیں کراچی کے ایک جلسہ کے بعد گرفتار کر لیا ۔ لاہور کے شاہی قلعہ میں انہیں نظر بند کر دیا گیا ۔ شاہی قلعہ کے صعوبت خانے میں ان پر تشدد بھی ہوا لیکن ان کے پائے استقامت میں کوئی لغزش نہیں آئی بلکہ’’ بڑھتا ہے ذوق جرم یہاں ہر سزا کے بعد ‘‘ کے مصداق قید و بند نے ان کے جوش و خروش اور عزم و ولولہ کو مزید بلند کردیا ۔
        مولانا گلزار احمد مظاہری ؒ نے 1974 ء کی تحریک ختم نبوت ؐ سے دو سال پہلے ہی قادیانیوں کے خلاف منبر و محراب اور قرطاس و قلم کے ذریعے بھر پور مہم کا آغاز کیا ۔ انہوںنے اس موقع پر قادیانیت اور ان کے عزائم کو بے نقاب کرنے کے لیے مختلف عنوانات پر انتہائی مدلل اور پر اثر کتابچے تحریر کیے اور انہیں ہزاروں کی تعداد میں شائع کر کے ملک بھر میں پھیلایا ان کتابوں کے عنوانات بتاتے ہیں کہ ان میں ہر کتابچہ ایک مکمل کتاب کی حیثیت رکھتاہے اور ان کے موضوعات وسیع اور متنوع ہیں ، مثلاً
        ۱۔قادیانی اقلیت کیوں         ۲۔اسرائیل سے ربوہ تک         ۳۔قادیانیوں کی سیاسی منزل
        ۴۔قادیانی آزادی کشمیر کے دشمن         ۵۔مرزائیت اپنی تحریروں کے آئینہ میں  ۶۔قادیانیوں کے اسلام دشمن عزائم
        ۷۔Case against qadianism ،تحریر ڈاکٹر فرید احمد پراچہ
        مولانا گلزار احمد مظاہری ؒ نے قادیانیوں کے عزائم سے ملت اسلامیہ کو آگاہ کرنے کا سلسلہ جاری رکھا اور قادیانیوں کو اقلیت قرار دلوانے کا مطالبہ پوری شدت سے اٹھایا ۔ اسی سلسلہ میں انہوںنے رابطہ عالم اسلامی کے اجلاس مکہ مکرمہ میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کی قرار داد پیش کی اور الحمد للہ مولانا مظاہری ؒ کی کوشش سے رابطہ عالم اسلامی نے 1972 ء میں قادیانیوں کو کافر اور دائرہ ٔ اسلام سے خارج قرار دینے کی قرار داد متفقہ طور پر منظور کی ۔
        مولانا مظاہری ؒ نے قادیانیوں کا تعاقب جاری رکھا اور 1974 ء میں سعود ی عرب ، قطر اورمتحدہ عرب امارات کے دورے کر کے ان ممالک کے علمائے کرام ، اسلامی تحریکوں اور حکومتی زعما سے ملاقاتیں کیں اور انہیں عالم اسلام کے خلاف قادیانیوں کے عزائم اور ان کے یہود سے رابطو ں سے آگاہ کیا ۔ اسی طرح انہوںنے 1974 ء میں برطانیہ ، ناروے ، ڈنمارک اور یورپ کے دیگر ممالک کا دورہ کیا اور وہاں متعدد ختم نبوت اور سیرت النبیؐ کانفرنسوں سے خطاب کیا جن میں ہزاروں پاکستانیوں نے پرجوش شرکت کی ۔
        برطانیہ کا ان کا دورہ جاری تھاکہ اس دوران ربوہ ریلوے سٹیشن پر نشتر میڈیکل کالج کے طلبہ پر قادیانیوں کے وحشیانہ تشدد کے بعد پورے ملک میں تحریک ختم نبوت شدت کے ساتھ اٹھ کھڑی ہوئی ۔ مولانا کے صاحبزادے فرید احمد پراچہ اس وقت پنجاب یونیورسٹی سٹوڈنٹس یونین کے صدر تھے ، انہوںنے پورے ملک کے طلبہ کو متحرک کیا اور پنجاب بھر کے طوفانی دور ے کیے اس دوران اکابر علمائے کرام کی طرف سے مولانا مظاہری ؒ کو فوراً واپس پہنچنے کا حکم ملا ۔ عقیدہ ختم نبوت کے ساتھ مولانا کی لازوال محبت کا یہ بین ثبوت ہے کہ اگرچہ وہ برطانیہ میں بھی یہی مشن لے کر گئے تھے لیکن جب انہیں اکابر علمائے کرام کی طرف سے وطن واپسی کا حکم ملا تو بلاتاخیر پہلی فلائٹ سے پاکستا ن واپس پہنچے اور پھر پورے ملک کا مسلسل دورہ کر کے ہزاروں اہل توحید کے دلوں میں ختم نبوت اور عشق رسالت ؐ کی شمع روشن کی ۔ یہ بھی مولانا مظاہری کے عقیدہ ختم نبوت پر لازوال یقین اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے غیر متزلزل محبت کی دلیل ہے کہ جب ان کی سب سے چھوٹی بیٹی عابدہ نسیم کے لیے ربوہ ریلوے سٹیشن پر قادیانیوں کے وحشیانہ تشدد کے باوجود تاج و تخت ختم نبوت زندہ باد کے نعرے بلند کرنے والے نشتر میڈیکل کالج ملتان کی طلبہ یونین کے صدر ڈاکٹر ارباب عالم خان کے رشتہ کی تجویز پہنچی تو مولانا نے اپنے خاندان میں موجود مختلف رشتوں کے باوجود یہ کہہ کر بلاتامل ہاں کردی کہ ارباب عالم کا سب سے بڑا اعزاز غلامی ٔ رسول ؐ ہے اور اس سے بڑا اعزاز اور کوئی ہو ہی نہیں سکتا ۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں



سوشل میڈیا لنکس