Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

۴؍ستمبریومِ حجاب

  1. اظہراقبال حسن

        اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں ارشادفرمایاہے:               ’’اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور اہل ایمان کی عورتوں سے کہہ دو کہ اپنے اوپر اپنی چادروں کے پلو لٹکا لیاکرو۔ یہ زیادہ مناسب طریقہ ہے تاکہ وہ پہچان لی جائیں اور نہ ستائی جائیں‘‘۔(سورۃ الاحزاب:17)

    پردے کاعالمی دن ہرسال 4؍ستمبرکو پوری دنیا میںمنایاجاتاہے۔ اس روز مسلم خواتین کی تنظیمیں، ایسوسی ایشنزاور NGO'sپردے کی اہمیت، ضرورت، افادیت اوردنیابھرکی خواتین کو آگاہی دینے کے لیے سیمی نارز اور دیگر پروگرامات ترتیب دیتی ہیں اوراسلام کی روشن اورتابندہ تہذیب وتمدن کا اعلان اور اظہارکرتے ہوئے اسے اپنانے کی ترغیب دیتی ہیں۔

    دینِ اسلام نے عورت کوبہت ہی بلندمقام ومرتبہ، عزت و احترام اور ابدی حقوق سے نوازاہے جو دوسرے نظاموں اور مذاہب میں ناپید ہیں۔ دیگرنظام عورت کوصرف تشہیراوردیگر مقاصدکے لیے استعمال توکرتے ہیںمگر اس کے حقوق وفرائض کاتعین ہرگزنہیں کرتے۔

    پردہ کرنا ایک عورت کا حق اور اس کا ذاتی معیارانتخاب ہے۔ جس طرح نماز، روزہ، زکوٰۃ اور دیگر فرائض کی پابندی ضروری ہے اس طرح  ایک عورت کے لیے پردہ کرنا بھی اللہ تعالیٰ کا حکم ہے۔ جبکہ پردہ نہ کرنا اللہ تعالیٰ کے حکم کی صریح خلاف ورزی، ناراضگی کا سبب اور دنیا وآخرت میں رسوائی کاباعث ہے۔

    یورپ کی تہذیب نے فیشن اور تشہیرکے مقاصد کے لیے عورت کو بے پردہ کردیاہے۔ عورت میں نمایاں ہونے کا شوق پیداکر کے اُس کی شخصیت سے کھیلا جارہاہے، اُس کو چُست، بھڑکیلے، باریک اور مختصرلباس کا شوقین بنا کر اُس کی نسوانیت کو سربازارنیلام کر دیاہے، تعلیمی اداروں کو خصوصی ہدف بنا کر نوجوان نسل کو بے راہ کیا جارہاہے اور اِس مقصد کے لیے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی جارہی ہے تاکہ وہ بے پردہ ہو کر اپناتماشاکرے، لوگوں کی نگاہوں کا مرکز بنے اور بُرائی کی دعوت کاذریعہ بنے۔

    اللہ کے فضل وکرم سے مسلمان خواتین میں پردے اور حجاب کارجحان مسلسل بڑھ رہاہے اور یورپ میں پردے پر پابندی کو قبول نہ کرکے اور ان قوانین کے خلاف قانونی جدوجہد کرکے مسلمان خواتین نے بیداری اور اسلامی اقدارسے محبت کا زبردست ثبوت دیاہے۔

    پردہ عورت کی زینت، وقاراور حُسن ہے۔ یہ اسلامی معاشرے کی روح اور شعارہے اور پردہ کرنے میں ایک عورت کی عزت و حرمت محفوظ ہے۔ ایک مسلمان عورت اپنی مرضی و اختیار سے پردہ کرتی ہے، اس میں کسی کا جبرنہیں ہے اورہر انسان کویہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے دین اورکلچر پر آزادی سے عمل کرے او ر اس کے لیے کوئی اِنفرادی اور قانونی روک ٹوک نہ ہواوریہی دنیا کا دستورہے۔

    اللہ تعالیٰ نے اِنسان کو تخلیق کیاہے۔ وہ ہی اُس کا خالق، رازق، پروردگاراورمالک ہے۔ وہ صرف اللہ ورسولؐ کے احکام کا پابند ہے۔ جبکہ انسانوں کے بنائے ہوئے ایسے اصولوں اور قوانین کاپابندنہیں ہے جو اللہ اوررسولؐ کے احکامات سے متصادم ہوں۔

     2003؁ء میں فرانس، ہالینڈ اورڈنمارک میں حجاب پر پابندی لگادی۔ یورپ اور مغرب ممالک میں مسلمانوں کی تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی اور مسلم مرد وخواتین کے اسلامی اقدارکو اپنانے سے حکومتیں اور پالیسی سازادارے خوف زدہ ہیں۔ امت مسلمہ کی بیداری اور دینی شعار سے محبت اور عمل پیرا ہونے کا شوق دیدنی ہے اور مغرب اسے اپنی خدابیزار، نفسانی خواہشات پرمبنی اور بے رُوح تہذیب وثقافت کے لیے خطرہ اور زوال کی علامت سمجھتا ہے۔

    آج مغرب میں مادرپدرآزادی ہے اوربے راہ روی، شراب وکباب کی مجالس اور فحاشی وعریانی عام ہورہی ہے ۔ مغربی معاشرہ اخلاقی تباہی و بربادی کے کنارے پرآن لگاہے۔ انہوںنے موجودہ حالات میں پردہ کرنے کو دقیانوسی اوردہشت کی علامات بنا دیاہے جو کہ سراسر ناانصافی، ظلم اور جہالت کے سِواکچھ نہیں ہے۔ اس کے مقابلے میں وہ اسلام اور اسلامی تہذیب وثقافت اورتمدن کو اپنے کھوکھلے کلچرکے لیے خطرہ محسوس کررہاہے۔ جس کو مٹانے کے لیے منفی، بودے اور بے سروپا دلائل کاسہارالے کرجھوٹے پروپیگنڈہ کااہتمام کررہاہے۔

    اہل مغرب درحقیقت اسلامی تہذیب کی خوبیوں، برکات اور نعمتوں سے نابلدہیں یاپھران کے دل ودماغ میں اسلام سے تعصب کی آگ بھری ہوئی ہے جو انھیں کسی پَل اطمینان کا سانس نہیں لینے دیتی۔ بِلاشبہ اسلامی تہذیب وکلچرہی انسانیت کی خیر خواہ ہے۔ اس کے اپنانے سے انسان دنیا میں بھی اوررب کعبہ کے روبروبھی سرخرواور بامراد ہوسکتاہے۔ میں مشورہ دوں گا کہ ہر شخص مولانا سیّد ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی کتاب ’’پردہ‘‘ کامطالعہ کرے تاکہ نہ صرف وہ خود اسلامی تہذیب وتمدن کی برکات کوجان کر اُن کو اختیار کرنے میں فخر محسوس کرے بلکہ غیر مسلموں کے زہریلے پروپیگنڈے کا بھی مدلل جواب دے سکے۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں



سوشل میڈیا لنکس