Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

حجاب ۔ ایک طرزِ زندگی

  1.  

    روبینہ فرید

     ـ’’کُنــ‘‘ کہہ کہ اس عظیم الشان کائنات کو تخلیق کرنے والے علیم وحکیم رب نے اپنی خلافت کامنصب جب حضرت آدم ؑ کے سُپرد کیا تو اشرف المخلوقات قرار دئیے گئے ’’ انسان ‘‘ کی نسل کا سلسلہ جا ری رکھنے کے لئے ’ عورت‘‘ کے وجود کو پسند فرمایا اور اس بلند منصب پر فائز کردہ اپنی ہی تخلیق کو ’’ حجاب و حیا ‘‘ کا پروٹوکول عطا کیا گیا۔ خاک سے آدم کا پُتلا بنا کر اسے ایک مُدتِّ خاص تک سیکھنے کے لئے چھوڑدینے والے رب نے ’’حوّا‘‘ کو خاک کے بجائے’’ آدمؑ ‘‘ کی پسلی سے پیدا کر کے یکبارگی ہی اس میں جان ڈال دی اور آدم ؑ  نے اپنی زندگی بھر کی ساتھی کو اپنے سامنے ’’جیتا جاگتا‘‘ پایا۔ ’’ حیا و حجاب ‘‘ رب کی عطا کردہ اعلیٰ روحانی قدر ہے  جسے انسان سے زیادہ ’’ شیطان ‘‘ نے پہچانا اور موقع ملتے ہی پہلا وار ہی اس قدر کے ڈھانے پر کیا ۔ انسانی فطرت میں اللہ تعالیٰ نے حیا کا خمیر رکھا ہے جب ہی آدم ؑ و حوّا خلقتِ روحانی اُتر جانے پر جنّت کے پتوں سے اپنے آپ کوڈھانپنے میں مصروف ہو گئے ۔ انسان جب تک اپنی فطرت پر قائم رہے گا ۔ حیا و حجاب کو پسند کرتا رہے گا ۔ اور شیطان ہمیشہ یہ کوشش کرتا رہے گا کہ لبرلزم ، سیکولرزم کلچر ، ماڈرن ازم ، ترقی اور جدیدیت کے نام پر اسے ان اعلیٰ اقدار سے محروم کر دے تاکہ اپنے ساتھ ساتھ انسان کو بھی جہنم کی آگ میں گرا دے ۔

    حیا کی صفت تو اللہ تعالیٰ نے مرد و عورت دونوں اصناف کے لئے  پسندیدہ قرار دی لیکن عورت کو ’’حجاب‘‘ کی تلقین کر کے اس حیا کو ظاہری شکل دینے کی بھی تاکید کی گئی ۔ وہ جنّت جس میں یہ نعمت اپنی انتباہ کی شکل میں موجود ہو گی ۔ جب اس میں موجود حوروں کا ذکر قرآن میں کیا جاتاہے ۔تو ان کے لئے رب

    ’’ نیچی نظروں والی، شرمگیں‘‘، ’’ چھپائے گئے موتی ، ’’جسے پہلے کسی نے نہ چھوا ہو‘‘ کی صفات استعمال کرتا ہے ۔ اپنی پسندیدگی کی ان صفات کا اظہار واضح کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ عورت میں کن صفات کو دیکھنے کا خواہش مند ہے ۔  دنیا سے جاتے وقت بھی جہاں مردوں کا لباس تین کپڑوں پر مشتمل ہوتا ہے وہاں عورت کے کفن میں دو اضافی کپڑے محض وقتِ رُخصتی بھی اس حجاب کو برقرار رکھنے کی تاکید کوظاہر کرتے ہیں۔

    اس حکمت رکھنے والے رب کی ’’حجاب ‘‘کے حکم میں مضمر حکمتوں پہ ہم غور کریں تو سمجھ آتا ہے کہ ’حجاب‘ـ دراصل محض چند گزپرمشتمل کپڑے کا نام نہیں جس  سے سر یا چہرہ چھپا لیا جائے۔ بلکہ یہ دراصل ایک اعلیٰ روحانی قدر کا نام ہے ۔ جو ایک پورے ’’ لائف اسٹائل ‘‘ کو جنم دیتی ہے ۔ اس اعلیٰ قدر کا آغاز نظریں نیچی رکھنے کے حکم سے ہوتا ہے ۔ مسلمان مرد و عورت کو نظریں نیچی رکھنے کا حکم دے کر دراصل ’’ اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغِ زندگی ‘‘ کا درس دیا گیا ہے ۔ نظریں نیچی رکھنے کے مشترک حکم کے بعد عورت کے لئے محارم کے محفوظ دائرے میں زیب و زینت  سے رہنے کی اجازت ہے جب کہ غیر محارم سے اسے حجاب کے ذریعے محفوظ بنانے کا انتظام  ہے ۔’’ تاکہ پہچان لی جائیں اور ستائی  نہ جائیں۔‘‘

    گویا حجاب میں بھی نماز و روزے کی طرح ایک علامت ہے ۔ رب رحمان کی مرضی کے آگے سر اطاعت خم کرنے کی جو اپنے اندر یہ اعلان رکھتی ہے کہ

    ’’ میں  رحمان کی بندی ہوں۔‘‘میرا ہر قدم اس کی اطاعت میں اُٹھے گا ۔ کو ئی  مجھ سے غلط توقعات وابستہ نہ کرے۔  دنیا کے کسی اعلیٰ ادارے سے منسلک ہو جانے والے بڑے فخر کے ساتھ اپنے  یونیفارمز زیب تن کر کے نکلتے ہیں اور ان کا یو نیفارم ہی ان کی شان کی کہانی بیان کر رہا ہوتا ہے ۔ ایک مسلمان عورت کے لئے یہ بات کتنی مسرت آئند ہے کہ جمیل و جمال رکھنے اور جمال کو پسند کرنے والے رب نے اس کے وجود کے ہر رنگ کو پُر کشش  بنایا ۔  اور اس کی کشش کو نظرِ بد سے بچانے کے لئے اسے حجاب جیسا یو نیفارم عطا کیا گیا ۔ دنیا کی ہر قیمتی شے کو ایک ڈھال ، ایک حفاظتی تہہ عطا کی جاتی ہے اور ’’ مسلمان عورت ‘‘ اللہ کے نزدیک اتنی قیمتی ہے کہ وہ اسے ’’ حجاب ‘‘ کے تحفظ میں دیکھنا ہی پسند کرتا ہے ۔  بھلا تخلیق کر نے والا اپنی تخلیق کو کیسے آلودہ دیکھ سکتا ہے ؟

     

     

    جب ایک مسلمان عورت پورے شعور کے ساتھ اس یونیفارم کو  اپنا کہ ’’حزب ِ اللہ ‘‘ کا حصّہ بن جاتی ہے تو وہ اس امر کو پا جاتی ہے کہ اللہ اسے ظاہر کی فکر سے بے پروا بنا کر اسے باطن کو مصفّا کرنے کا مشن سپرد کر رہا ہے ۔وہ کامل اطمینان سے اپنے کردار کو صدق و امانت ، خدمت و دیانت ، شجاعت واستقامت

    بلند آرزوؤں اور اُمنگوں سے روشن کرنے میں لگ جاتی ہے اور اپنی گود میں اُٹھنے والی نسل کو بھی یہی اسباق پڑھاتی ہے ۔ بچہ اپنی ماں کی گود میں جو اسباق ذہن نشین کرتا ہے وہ زندگی بھر نہیں بھلاپاتا۔ ـ’حجاب‘ وہ علامت ہے جسے زیب تن کرتے ہی بندگیِ رب کا احساس جنم لیتا ہے۔ تحفظ، وقار اور آسودگی کا احساس ہوتا ہے۔ یہ عورت کے اندر کی پیاس ہے جب ہی تو غیر مسلم عورتیں بھی اسلام کے قریب آتے ہی سب سے پہلے بغیر کسی کے کہے حجاب اختیار کر لیتی ہیںاور مزاحمتوں کے باوجود اس پر جمی رہتی ہیں۔

    ازل سے آدم و ابلیس کی جنگ جاری ہے اور تا ابد رہے گی۔آج کے دور میں یہ جنگ عورت کے لئے بہت شدت اختیار کر گئی ہے جہاں اسے ـ’امپاورمنٹ‘ کے نعروں نے بہلا کر ایک ایسے سراب کے پیچھے لگا دیا گیا ہے جہاں تنہائی، عدم تحفظ اور نا قدری کے سوا کچھ حاصل نہیں۔ ’حجاب ‘ جیسی روحانی قدر اسے نظروں کی حفاظت و پاکیزگی ، خیالات کی حفاظت ، محرم و نا محرم کی تمیز، خاندان کی مرکزیت کی ترجیح، نسلوں کی تربیت اور کردار کی استقامت کا سبق دیتی ہے تو ’بے حجابی‘ اسے نظروں اور خیالات کی بے قید آزادی ، خاندان کیرئیر کی راہ میں رکاوٹ ، ظاہر کی آراستگی اور باطن کی فکر سے بے پروائی۔ محرم و نامحرم کی فکر سے غفلت اور نسلوں کو مادیت پرستی کے اسباق پڑھانے پہ ابھارتی ہے۔

    آخر وقت میں اسلام کے دنیا بھر پہ چھا جانے سے قبل یہ جنگ ابھی اور تیز ہوگی۔ اس تہذیبی جنگ میں مسلمانوں کے اصل قلعے انکے گھر اور خاندان ہیں۔ جب تاک مسلمان مائیں، بہنیں اور بیٹیاں اس مورچے کی حفاظت کرتی رہیں گی ، نوجوان نسل کی مثالی تربیت کرتی رہیں گی اس پورے نظام میں کوئی رخنا نہیں ڈال سکتا ۔

    اس حجاب یافتہ خاتون کی شجاعت سے آج باطل لرزاںہے۔ یہی حجاب پہنی ہوئی خاتون فلسطین میں ہو تو وہ نسل پیدا کرتی ہے جو ایک ہاتھ میں فیڈر اور دوسرے ہاتھ میں باطل کے لئے پتھر تھامے بڑی ہوتی ہے ۔ ۔کشمیر میں ہو تو اپنے ہاتھوں اسے اپنے بیٹوں اور شوہروں کو شہادت کے لئے تیار کر کے بھیجتی ہے۔ اور کبھی خود سڑکوں پر باطل کے مقابلے کے لئے نکل آتی ہے ۔ یہ شام کی عمارتوں کے بم سے کھنڈر بن جانے پر بھی جب ملبے سے نکلتی ہے تو چہرے پر نقاب ڈال کر نکلتی ہے۔ اس حجاب کے ساتھ یہ شوہر اور بچوں اور خاندان کی خدمت بھی کرتی ہے ۔ علم و تحقیق کے میدانوں میں بھی آگے بڑھتی ہے اور تخلیق کے جوہر بھی دکھاتی ہے۔ باطل اس کے وجود سے خائف ہو کہ ’’حجاب ‘‘ پر پابندی کے قوانین بناتا رہتا ہے اور یہ اپنے حُسنِ عمل سے لوگوں کے دلوں کو مسخر کر کے اپنی صفوں کو مضبوط بناتی چلی جاتی ہے۔

    ہر سال ۴ ستمبرکادن  ’’ یوم ِ حجاب ‘‘ کا نقیب بن کر مژدہ سناتا ہے کہ ’’ سحر قریب ہے ، دل سے کہو نہ گھبرائے‘‘

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں



سوشل میڈیا لنکس