Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

حجاب المرأۃ

  1.  

    ڈاکٹر میمونہ حمزہ

    حجاب کا مادہ ’’ح ج ب‘‘  جس کے معنی آڑ، روکنا، یا ڈھانپنا کے ہیں،  ابن منظور کہتے ہیں کہ اس سے مراد  ستر ہے، اور حجاب  المرأۃسے مراد عورت کا ستر کو ڈھانپنا ہے،  کعبہ کے پردے کو ’’حجابۃ الکعبۃ‘‘ کہا جاتا ہے۔لغوی دلیل اور شرعی اصطلاح کے مطابق ’’حجاب سے مراد وہ اوڑھنی ہے جو عورت غیر محرم مردوں کی نگاہوں سے بچنے کے لئے استعمال کرتی ہے‘‘۔

    حجاب کا حکم

    فقہاء کا اس امر پر اتفاق ہے کہ بالغ اور عاقل مسلمان عورت پر حجاب فرض ہے۔اور بلوغت سے مراد وہ عمر ہے جس میں اس پر دیگر احکام فرض ہو جاتے ہیں۔ سورۃ النور کی آیات نمبر۳۱میں اس کا حکم آیا ہے:

    {اے نبیؐ، مومن عورتوں سے کہہ دو کہ اپنی نظریں بچا کر رکھیں، اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں،  اور اپنا بناؤ سنگھار نہ دکھائیں بجز اس کے جو خود ظاہر ہو جائے، اور اپنے سینوں پر اپنی اوڑھنیوں کے آنچل ڈالے رہیں۔ وہ اپنا بناؤ سنگھار نہ ظاہر کریں مگر ان لوگوں کے سامنے: شوہر، باپ، شوہروں کے باپ، اپنے بیٹے، شوہروں کے بیٹے، بھائی، بھائیوں کے بیٹے، بہنوں کے بیٹے، اپنے میل جول کی عورتیں، اپنے لونڈی غلام، وہ زیر دست مرد جو کسی اور قسم کی نگاہ نہ رکھتے ہوں، اور وہ بچے جو عورتوں کی پوشیدہ باتوں سے ابھی واقف نہ ہوئے ہوں۔ وہ اپنے پاؤں زمین پر مارتی ہوئی نہ چلا کریں، کہ اپنی جو زینت انہوں نے چھپا رکھی ہواس کا لوگوں کو علم ہو جائے۔

    اس سے مراد یہی ہے کہ عورت اپنی زینت کو غیر محرم سے چھپائے، اپنی نگاح کی بھی حفاظت کرے، زینت والی اشیاء کو حدود میں رہتے ہوئے اتعمال کرے اور پردہ پوش حصّوں کو مردوں کی نگاہوں سے دور کر کے ان کی حفاظت کرے، گویا یہ عورت کے حصار کی دیواریں ہیں، جن کا التزام کر کے وہ اپنے آپ کو محفوظ بنا لیتی ہے۔

    رسول ِ کریم ﷺ نے فرمایا: ’’جب لڑکی بالغ ہو جائے تو اس کے جسم کا کوئی حصّہ نظر نہ آنا چاہئے بجز چہرے اور کلائی  کے جوڑ تک ہاتھ کے‘‘۔(پردہ، سید ابوالاعلی مودودیؒ، ص۲۴۱)

    شریعت نے حجاب کو لازم کیا ہے، یہ حجاب کیسا ہونا چاہئیے؟ اسلام کسی مخصوص لباس کو لازم نہیں کرتا، بلکہ اس کے اوصاف پر متوجہ کرتا ہے، عورت کو باوقار لباس پہننا چاہئے، جو درج ذیل خصوصیات والا ہو، جس میں کسی صورت بھی لباس کے نام پر بے لباسی نہ ہو۔

    ٭ جمہور فقہاء کے قول کے مطابق، حجاب ایسا ہو کہ چہرے اور ہتھیلیوں  کے سوا پورا جسم ڈھانپا جائے۔

    نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:  ’’کسی عورت کے لئے جو اللہ اور روزِ آخرت پر ایمان رکھتی ہو، یہ جائز نہیں ہے کہ وہ  اپنا ہاتھ اس سے زیادہ کھولے، (یہ کہہ کر اس آپ نے کلائی کے نصف پر ہاتھ رکھا)‘‘۔ ابن ِ جریر

    ٭ اوڑھنی یا گاؤن جسم سے چپکا ہوا نہ ہو، بلکہ ایسا ڈھیلا ڈھالا ہو کہ جسم کو نمایاں نہ کرے۔

    ٭ ایسے شفاف یا باریک کپڑے کا نہ بنا ہو، کہ جسم یا لباس دکھائی دے۔

    حضرت حفصہ ؓبنت عمران حضرت عائشہؓ کے پاس آئیں اور وہ ایک باریک دوپٹہ اوڑھے ہوئی تھیں، آپ ؓ نے انکا دوپٹہ پھاڑ دیا اور انہیں ایک موٹی اوڑھنی ان پر ڈالی۔ (موطا امام مالک)

    نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’لعن اللہ الکاسیات العاریات‘‘۔ اللہ تعالی کی لعنت ہے ان عورتوں پر جو لباس پہن کر بھی ننگی کی ننگی ہیں۔(حدیث صحیح)

    ٭ عورت مردوں کے مشابہ لباس نہ پہنے۔

    ٭ مسلمان عورت کافر عورتوں سے مشابہ لباس یا زینت اختیار نہ کرے۔

    ٭ ایسا لباس نے پہنے جو لباسِ فاخرہ کے زمرے میں آتا ہو، یعنی اس کا حجاب ایسا ہو کہ اسے بہت الگ کر کے نہ دکھائے۔

    حجاب کا حکمم عورت کو دیکر اللہ تعالی نے مرد کو مطلق آزاد نہیں چھوڑ دیا، بلکہ اس پر بھی ستر پوش لباس کی پابندی لگائی ہے، البتہ اس کا ستر  ناف سے گھٹنے تک ہے، نگاہ کو بچانے اور دوسروں کو نہ تاکنے کی ذمہ داری مرد و خواتین دونوں پر یکساں طور پر عائد کی ہے۔

    حجاب کی فضیلتیں

    حجاب کی کئی فضیلتیں ہیں، اور اس کا باحجاب خواتین کو بھی فائدہ ہو گا اور عمومی طور پر معاشرے کو بھی، چند درج ذیل ہیں:

    ٭جب عورت حجاب کو اللہ کا حکم سمجھ کر عمل کرتی ہے تو اسے فرائض کی پابندی اور اطاعتِ خداوندی کا اجر ملتا ہے، یہ اللہ کی رضا حاصل کرنے کا راستہ ہے۔

    ٭ حجاب اسے غیر مردوں سے الگ کر دیتا ہے، سو وہ بہت سی تکلیفوں سے بھی دور ہو جاتی ہے، جو مردوں سے اختلاط کے سبب پہنچتی ہیں۔

    ٭ عورت کا حجاب پہننا مردوں کو برائی میں ملوث ہونے سے دور کر دیتا ہے، با حجاب معاشرے میں اختلاط کے مواقع بھی کم ہو جاتے ہیں۔

    ٭ حجاب سے ارد گرد کی فضا بھی پاکیزہ ہو جاتی ہے، اس میں بھلائیوں کو پنپنے کا موقع ملتا ہے۔

    ٭ حجاب مسلمان عورت کی پہچان ہے، ایک غیر مسلم معاشرے میں بھی عورت حجاب پہن کر  اپنے آپ کو بہت سے شرور سے بچا لیتی ہے، اور مسلم معاشرے میں اس کی توقیر بڑھ جاتی ہے۔

    حجاب کی ضرورت

    عورت مستور ہے،  رسول اللہ ﷺ نے اس کے بارے میں فرمایا: ’’عورت مستور ہے،  جب وہ باہر نکلتی ہے تو شیطان اسے تاکتا ہے‘‘۔ (رواہ الترمذی)

    عورت کا اصل مقام گھر ہے، جو اس کے لئے ایک قلعے کی حیثیت رکھتا ہے، وہ اسی وقت گھر سے نکلے ،جب اسے کوئی ضرورت درپیش ہو، وہ تعلیم حاصل کرنے، علم کو پھیلانے، معاشرے کو فائدہ پہنچانے والے مفید علوم اور مہارتیں سیکھنے کے لئے بھی گھر سے نکل سکتی ہے، اور معاشرے کی تعمیر کے کسی کام کے لئے بھی، تفریح بھی اس کا حق ہے، البتہ اس اس بات کا خیال رکھنا ہو گا کہ اس کا باہر نکلنا شیطان کے تاکنے کا موجب نہ بنے، اور یہ اسی طرح ممکن ہے کہ وہ باہر نکلتے ہوئے اپنے سراپے پر نگاہ ڈال لے، کیا اس نے اپنی زینت کو چھپانے کا مناسب انتظام کر لیا ہے، اس کے جسم سے اٹھنے والی خوشبو مردوں تک تو نہیں پہنچے گی؟ اس کے زیور آواز تو نہیں دیتے کہ ان کی جھنکار قریب سے گزرتے صنف ِ مخالف کو متوجہ تو نہیں کر رہی؟ اس کی آواز کا درجہ اور انداز کیا ہے؟کہیں وہ مردوں کے لئے فتنہ تو نہیں بن رہی؟ اور اگر کہیں مردوں سے رابطے یا بات کرنے کی پرورت پڑ جائے تو الفاظ اور انداز میں محتاط رویہ ہے یا نہیں؟ ان احتیاطوں کے ساتھ ہی عورت باہر نکلتے ہوئے شیطان کی نگاہ سے دور ہو سکتی ہے۔

    ٭٭٭

     

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں



سوشل میڈیا لنکس