Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

حجاب مسلم عورت کا تشخص

  1. تحریر  :  عالیہ شمیم

    اسلام امن و سلامتی اور فتنہ و فساد کا دشمن ہے ۔ فتنہ  ہر وہ چیز ہے جو  انسان کے دل و دما غ میں باعث کشمکش بن کر اس کی عقل ، و ضمیر کو کمزور اور عزم و ارادے کو متزلزل کر کے حق و صداقت سے دور کر دیتا ہے ۔خطرنا  ک ترین فتنہ شیطان کا ہے جس نے انسان کی ضلالت و گمراہی کا آغاذ ہی بے پردگی و بے حجابی سے کر وایا  ،حضرت آدم و حوا کو بہکاکر ان کے ستر کھلوا دیے اور جنت سے نکلو ا دیا۔اسلام دین فطرت ہے جو آرا ئش کا حکم دیتا ہے نما ئش کا نہیں اور معاشرتی اصلا ح کے لیے شریعت اسلامیہ میں ستر و حجاب کے احکام اسی قدر اہم ہیں جتنے نکاح و طلاق کے ، تاکہ شیطانی نفس کے لیے کہیں سے چور دروازہ نہ نکل سکے،اجنبی عورتوں کے حسن و زینت سے لطف اندوز ہو نا مردوں کے لیے اور اجنبی مردوں کو دیکھنا عورتوں کے لیے فتنہ کا موجب ہے جس کی روک کے لیے اسلام غض بصر کا حکم دیتا ہے              فرمان نبوی ہے :حیاء نصف ایمان ہے ۔جب تجھ میں حیاء نہیں تو پھر جو تیرا دل چاہے کرے(بخاری)

           آپ ﷺ نے مزید فرمایا :عورت پو شیدہ چیز ہے جب وہ باہر نکلتی ہے تو شیطان اسکی تاک جھانک میں لگا رہتا ہے (تر مذی)

    حیا ء ایک وصف اور ایمان کا جزو ہے ۔دونوں خیر کے داعی  اور شر سے انسان کو دور کرتے ہیں ۔ایمان اطاعت الہی کرنے اور گناہ میں

     ملوث  ہو نے سے روکتا ہے جب کہ حیاء انسان کو برے کام نہ کرنے پر ابھارتی ہے اور اہل حق کے حق کی ادائیگی میں کو تاہی کرنے سے ، فحش و بے حیائی سے روکتی ہے ۔اسی لیے صالح عورت کو حجاب کی تاکید کی گئی ہے ۔

    ارشاد ربانی ہے:    اے نبی اپنی بیویوں، بیٹیوں، مسلمان عورتوں سے کہہ دو کہ اپنے اوپر چادر کے گھونگھٹ ڈال لیا کریں اس تدبیر سے توقع ہے کہ وہ پہچان لی جائیں اور انہیں ستایا نہ جائے (سورہ احزاب:۵۹)

    عربی زبان میں بڑی چادر کو حجاب کہا جاتا ہے جو سر تا پاوٗں ڈھانکنے کے کام آتی ہے۔ زمانہ جاہلیت میں بھی عورتیں چادر اوڑھا کرتیں تھیں مگر اس طر ح کہ انکی پشت توڈھک جاتی تھی مگرسینہ کھلا رہتا تھا  اس آیت کریمہ  کے ذریعے اﷲ تعالی نے عورت کو چادر اوڑھنے کا شرعی طریقہ بتا کر پردہ لازمی قرار دے دیا گیا ۔

    حجاب امت مسلمہ کا تشخص اور شعائر اسلام ہے  اور حجاب کا مقصد ستر حاصل کرنا اور اپنے آپ کو فتنے سے بچانا ہے  زمانہ جا ہلیت میں پردے کا کوئی تصور نہ تھا ،اشراف کی عورتیں اور لونڈیاں کھلی پھرتی تھیں اور بدکار لوگ انکا پیچھا کرتے تھے  ۔اسلام کے بعد جوں جوں مسلمان معاشرے کی بنیا د پڑتی چلی گئی پردے و حجاب کے متعلق  احکام نازل ہو تے چلے گئے حتی کہ شریعت نے مسلمانوں کی شرم و حیاء کی پوری حد بندی کر دی ۔ زمانہ جاہلیت میں   عورتیں بے حجاب ،زیب و زینت سے آراستہ ہو کر  باہر نکلتی تھی جس کی ممانعت کر تے ہو ئے اﷲ ن نے فر مایا :        وقرن فی بیو تکن ولا تبرجن تبرج  الجاھلیۃالاولی۔ (سورہ الاحزاب:۳۳)                           اپنے گھروں میں ٹکی رہو اور سابق دور جاہلیت کی سی سج دھج دیکھا تی نہ پھروعورت کا پردہ بلا شبہ ایک دینی امر ہے  جس کا مقصد انسانی معاشرے کو خطر ناک مرض( جسے قرآن پاک نے فحش کہا ہے)سے بچا نا ہے۔ پردہ کی اہمیت کو اجاگر کر تے ہو ئے آپ ﷺ نے  مزید فر مایا : دیکھنے والے پر اور اس پر جس کی طرف نظر گئی اﷲ کی لعنت   ، یعنی دیکھنے والا جب بلا عذر شرعی   قصدا         دیکھے اور دوسرا قصدا دیکھائے ۔ (بیہیقی)

    حجاب کا دوسرا حکم سورہ نور کی آیت ۲۱ ہے  جو سابقہ آیت کے تسلسل میں ہے: اور اپنے گریبا نوں پر اپنی اوڑھنیاں ڈالے رہیں،(نور:۲۱)

    اوڑھنی/ دوپٹا  چادر کی ہی ایک شکل ہے  چہرہ ، سر، سینہ کو چھپانا ضروری ہے۔قرآن نے عورت کو اس کے جسم کے ساتھ بالخصوص  ۳ اعضاء جسمانی  چہرہ ، سر سینہ کو ڈھانکنا لازمی قرار دیا ہے   اور ترک پردہ کی اجازت  بلا ضرورت شریعہ ہر گز نہیں ۔ سنن ابو دادٗد کتاب الجہاد  میں ہے۔ایک خاتون صحابیہ ام خلاد کا بیٹا ایک جنگ میں شہید ہو گیا  وہ اس کی بابت در یافت کر نے با رگاہ رسالت  میں حاضر ہو ئیں مگر اس طرح کہ چہرے پر نقاب ڈالی ہو ئی تھی  ،بعض صحابہ نے حیرت سے کہا کہ اس وقت بھی تمھا رے چہرے پر نقاب ہے۔ ( یعنی بیٹے کی  شہادت کی خبر سن کر تو ایک ماں کو تو اپنا  ہوش نہیں رہتا اور تم اس اطمینان کے ساتھ با پر دہ آئی ہو )

              ان صحابیہ نے جوابا عرض کیا : میں نے بیٹا ضرور کھو یا ہے مگر اپنی  حیاء تو نہیں کھو ئی ۔   

    حجاب عورت کی عزت و عصمت کی پہچان اور معاشرے کی پا کیزگی کا ذریعہ ہے  یہ محض سر پر ڈھکے جانے والے والا کپڑے کا ٹکڑا نہیں بلکہ مسلم  و پاکیزہ عورت کی شناخت ہے مگر افسوسناک امر ہے کہ اسلام  دشمن عناصر  اسلامی تہذیب کے خدو خال کو پا مال کرنے میں سر گرم عمل ہیںمغرب کی نقالی و غلامی نے اسلامی تعلیمات سے بغاوت کو فروغ دیا ہے۔

    آج آزادی نسواں کے نام پر عورت کو چراغ خانہ کے بجائے شمع  محفل بنا کر فحش ڈراموں،مخلوط محافلوں،اور اشتہارات کے ذریعے عورت کو غیر ساتر  لباس میں پیش کر کے اس کی نسوانیت کو بر سر عام رسوا کیا جا رہا ہے تجارتی منڈیوںمیں عورت کا   استعمال اخلاقی پستی و گراوٹ کی انتہا ہے ۔عورت کو  ترقی کے نام پر بے حجاب کرنا شیطانی   قوتوں کا شاخسانہ ہے  اسلام اولین مذہب ہے جس نے حجاب کے ذریعے 

    مسلم عورت کی عزت و وقار کو سر بلند کیا ہے  ۔

    آیات قرآنیہ کا اصل مفہوم  عورتوں کو مرد کی ہوسناکی سے ،اور مردوں کو عورت کے فتنے سے بچانا ہے  مسلم معاشرے میں کبھی بھی مرد و زن کے اختلاط کی گنجائش نہیں ہے ۔صالح و پا کیزہ معاشرے کے قیام کے لیے ضروری امر ہے کہ اسلامی انقلاب و فطری حجاب کے ذریعے صالح معاشرے کی تشکیل کی جائے #

                                                   

     

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں



سوشل میڈیا لنکس