Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

اسلام میں حجاب کا تصور اور مغربی معاشرہ

  1.  

    قدسیہ مدثر۔۔راولپنڈی

     سورہ احزاب کی آیت نمبر 59 میں  اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔اے نبی ص اپنی بیویوں۔بیٹیوں اور اہل ایمان کی عورتوں سے کہہ دو اپنے اوپر اپنی چادروں کے پلو لٹکا لیا کریں۔یہ زیادہ مناسب طریقہ ہے تا کہ پہچان لی جائیں اور نا ستائی جائیں۔اللہ غفور و رحیم ہے۔

    قرآن میں اس آیت میں الخمار۔جلباب سے متعلق یہ ہدایت فرمائی کہ مسلمان خواتین گھر سے باہر نکلیں تو اس کا کچھ حصہ اپنے اوپر لٹکا لیا کریں۔تا کہ ستائی نہ جائیں۔

    رب العالمین نے عورت کو صنف نازک کہا اور مستور کا لفظ استعمال کیا کہ چھپا کر رکھنے والی۔آپ کے مشاہدے میں یہ بات یقیناً آئی ہو گی جو چیز ہماری سب سے قیمتی ہوتی ہے ہم اسے چھپا کر رکھتے ہیں کہ کوئی اسے دیکھ نا لے اور اگر کوئی دیکھ لے تو اس کے دل میں بوجہ حسرت چوری کرنے کا ارادہ نہ بن جائے۔اللہ تعالیٰ نے عورت کو بھی حکم دیا کہ اے نبی  مومن عورتوں سے کہہ دو کہ اپنی نظریں بچا کر رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں اور بناؤ سنگھار نا دکھائیں بجز اس کے جو خودبخود ظاہر ہو جائیں وہ اپنے سینوں پر اپنی اوڑھنیوں کے آنچل ڈالے رہیں۔اور اپنے پاؤں زمین پر مارتے ہوئی نا چلا کریں کہ اپنی جو زینت انہوں نے چھپا رکھی ہو اسکا لوگوں کو علم ہو جا ئے۔النور۔

    اس کی تشریح میں ابن کثیر لکھتے ہیں کہ عورتوں کو اپنی عصمت کا بچاؤ کرنا چاہئے۔بدکاری سے دور رہیں  اپنا آپ کسی کو نا دکھائیں۔اجنبی غیر مردوں کے سامنے اپنی زینت کی کسی چیز کو ظاہر نا کریں۔

    پردہ نسواں سے متعلق قرآن مجید کی سات آیات اور حدیث کی 70 روایات کا حاصل یہ معلوم ہوتا ہے کہ اصل مطلوب شرعی حجاب ہے۔یعنی عورتوں کا وجود اور ان کی  نقل وحرکت مردوں کی نظروں سے مستور ہو۔جو گھروں کی چار دیواری میں رہ کر ہو سکتا ہے..

    آج ہمارا معاشرہ جس بے راہ روی کا شکار ہے۔امت مسلمہ اپنا قیمتی سرمایہ  کھو چکی ہے ۔اور احساس زیاں بھی من حیث امت کم کم ہی باقی رہ گیا ہے کسی بھی معاشرے کی تعمیر کا بنیاری گھر۔مدرسہ ہیں اور آج ایک تیسرے یعنی میڈیا کا اضافہ ہو گیا ہے۔جہاں تعلیم گاہیں روشن خیالی کی جگہیں بن جائیں۔جہاں پڑھایا جانے والا نصاب اغیار کی آروزوں کے مطابق ہو وہاں کیسی نسل پروان چڑھے گی ؟

    مغربی تہزیب مردو زن کو ایک دوسرے سے متصادم کرکے بہت بڑا فتنہ پیدا کرنا چاہتی ہے۔وہاں عورت کو ناچ گانے اور تھرکنے کے کام پر لگا کر اسے شمع محفل بنا دیا گیا۔لیکن جب اسکا حسن ختم ہو جاتا ہے تو وہ پھول کی طرح مرجھا جاتی ہے اور دل لبھانے والی چیز نہی رہتی تو اسے ایک بوجھ سمجھ کر گھر سے باہر پھینک دیا جاتا ہے۔اسلامی تہزیب اور ہمارے معاشرے میں ماں۔بیوی۔بیٹی کو جو احترام حاصل ہے مغرب تہزیب میں اسکا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا

    اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ نظام حیات میں پردے اور حجاب کے احکام کس حکمت کے ساتھ دئیے گئے ہیں۔جن اقوام نے ان پر عمل کیا اللہ نے انہیں اوج بام تک پہنچا دیا اور جس نے منہ موڑا ذلت و رسوائی اس کا مقدر ٹھہری

    آج مغرب ہمیں بتا رہا ہے۔کہ عورت اور مرد میں مساوات ہونی چاہئے ان کے برابر کے حقوق ہونے چاہئے  اور عورت کو روشن اور آزاد خیالی کا بہکاوا دے کر اسے شمع محفل بنا کر بے پردہ کر دیا۔جبکہ ?نے عورت اور مرد دو الگ صنفیں بنائیں ہیں دونوں کے جزبات۔ساخت۔احساسات الگ ہیں۔یہ ?کی حکمت ہے کہ اس نے دو مختلف صفات کی تخلیق کی انہیں ساتھ ساتھ بھی رکھا لیکن حجاب برقرار رکھا۔اسی طرح ?تعالیٰ سورہ الرحمن میں دو سمندروں کی مثال دے کر واضح کرتے ہیں یہ دو سمندر الگ الگ ہیں جو آ پس میں مل نہی سکتے انکی ساخت اور ذائقہ مختلف ہے۔اگر یہ آپس میں ملے تو نقصان کا اندیشہ ہو گا۔اسی طرح اگر مرد اور عورت میں حجاب حائل نا ہوتا تو معاشرمیں  کڑواہٹ اور بے حیائی ہوتی۔

      ذرا تاریخ کے اوراق کھنگالیں تو پتہ چلتا ہے کہ مسلمانوں میں بے حجابی کا آغاز اٹھارویں صدی کے اواخر اور انیسویں صدی کے آغاز کا زمانہ تھا۔مغرب قومیں اسلامی ممالک پر اپنا تسلط برقرار رکھنے میں کامیاب ہو گئیں۔مسلمان قوم یورپ کی غلام بن گئیں  اور جب انقلاب کی تکمیل ہو چکی مسلمانوں کی آنکھیں کھلیں تو ان پر شکست اور غلام قوم میں مرعوبیت اور دہشت زدگی پھیل چکی تھی۔مسلم سوسائٹی کو مغرب معاشرے میں ڈھالنے کی کوششیں عروج پر تھیں۔جس کے نتیجے میں ہمارا طرززندگی۔مغرب لباس۔مغربی معاشرت۔مغربی آداب و اطوار چال ڈھال بول چال سب مغرب زدہ ہو گیا۔مسلمانوں کی تاریخ کا یہ دور انتہائی شرمناک تھا۔پردے کی بحث چھڑی۔بے حجابی کی ابتدا ء  ہوئی نقاب کا مزاق اڑایا جانے لگا اسے خیمہ  کفن پوش جنازہ کہہ کر پکارا گیا۔اور ہم قرآنی احکامات کو پس پشت ڈال کر براداشت کرتے رہے۔اور آج  آزاد ہونے کے باوجود مغربی طاقتوں کی سازشوں کا ہدف مسلمان معاشرہ ہے  مسلم دنیا کی پاکیزگی دور کرنا بے حیائی کی دلدل میں دھکیلنا عورت کو ترقی کے نام پر بے حجاب کرنا شیطانی قوتوں کا ہدف ہے اور اب ہم آزاد ہونے کے باوجود اپنی اقداروراوایات اپنی اسلامی معاشرت اپنا تشخص ہونے کے باوجود غلام ذہنیت اپنائے ہوئے مغرب کی نقالی کو فخر گردانتے ہوئے انہی کی طرززندگی اپنا کر اپنے آپ کو روشن خیال تصور کر کے فخر محسوس کرتے ہیں۔

    4 ستمبر بین الاقوامی حجاب ڈے گزشتہ کئی سالوں سے پاکستان اور مسلم ممالک میں منایا جاتا ہے جو کہ شہید حجاب مروہ الشربینی کی یاد کو تاز ہ رکھتا ہے۔ امت مسلمہ کویہ شعور دینے کے لئے کہ ہمارا مقصد علامتی حجاب کی ترویج  کی بجائے اسلام کے نظام عفت وعصمت سے آگاہی اور معاشرے میں اسلامی تہزیب کی کمزور ہوتی اقدار کو پھر سے زندہ کرنا ہے۔حجاب امت مسلمہ کا شعار۔فخروامتیاز ہے جو اسلامی معاشرے کو پاکیز گی عطا کرتا ہے۔یہ حجاب مسلمان عرت کے لئے ایک تحفظ ہے۔ایک تکریم ہے جو ہمارے رب نے ہمیں دی وہ عزت وتکریم جو کسی بے حجاب خاتون کو کبھی میسر نہی آئی آج بھی معاشرے میں باحجاب عورت کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے پبلک پوانٹ پر کبھی راستہ کبھی بیٹھنے کی جگہ اور اگر قطار میں ہوں تو پیچھے رہ کر عزت دی جاتی ہے۔آج جب کہ دین اجنبی ہو گیا ہے۔بہت بڑی تعداد میں ہماری موجودگی معاشرے میں روح اسلامی کے زندہ رہنے کی علامت ہے۔اس ترقی کی راہ میں رکاوٹ سمجھنے والے بھی جان لیں یہ حجاب جو ?نے ہم پر فرض کیا کسی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہر گز نہی۔آج کی باشعور۔باحجاب عورت نے یہ ثابت کر دیا کہ خواہ عورت کشمیر میں آزادی و خود۔مختاری کی جنگ لڑتے ہوئے میدان جنگ میں ہو حجاب کو ترک نہ کیا۔میڈیکل کی تعلیم۔ہاؤس جاب۔ٹیچنگ۔ریسرچ اسکالر اور اسمبلیوں میں بھی اپنے فرائض ححجاب میں رہ کر ادا کئے۔

    بے حجابی۔بے حیائی کا نکتہ آغاز ہے  یہ وہ خرابی ہے جو کبھی اکیلے نہی آتی مخلوط معاشرے کی تمام تر خباثتیں ساتھ لاتی ہے۔یہ ?کے خوف سے کیا گیا مکمل حجاب ہی ان کا سد راہ بن سکتا ہے۔کیونکہ  اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔سورہ الحزاب

    یہ تمہارے اور ان کے دلوں کی پاکیزگی کے لئے زیادہ مناسب طریقہ ہے۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں



سوشل میڈیا لنکس