Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

لیلتہ القدر کی تلاش

  1. قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

    رسول اللہؐ نے فرمایا: جماعت کی نماز اکیلے شخص کی نماز سے ستائیس درجے زیادہ فضیلت (ثواب) رکھتی ہے‘‘۔ (عن عبداللہ بن عمرؓ)
    (وضاحت: باجماعت نماز پڑھنے کا ثواب اکیلے نماز پڑھنے سے 27 گنا زیادہ ملتا ہے۔ (فتح الباری)
    رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو تکبیر (نماز فجر کی اقامت) کے بعد دو رکعتیں (فجر کی سنتیں) پڑھتے ہوئے دیکھا، جب آپؐ نماز فجر سے فارغ ہوئے تو سب نے اس کو گھیرلیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس سے فرمایا: ’’کیا تم صبح کی بھی چار رکعتیں پڑھتے ہو؟
    اس نے کہاکہ میں فجر کی 2 سنتیں پڑھ رہا تھا‘‘ (عن مالک بحینہ رضی اللہ عنہ)
    (وضاحت: جب فرض نماز کی اقامت ہوجائے تو فرض نماز کے سوا اور کوئی نماز نہیں پڑھنی چاہیے۔ ( فتح الباری)

    حضرت عبداللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لیلۃ القدر کے بارے میں پوچھا گیا تو آپؐ نے فرمایا کہ وہ رمضان میں ہوتی ہے۔
    جس رات میں قرآن نازل کیا گیا تھا اور جس کو قرآن مجید میں لیلۃ القدر کہا گیا ہے چونکہ وہ رمضان کی ایک رات تھی، اس لیے لازماً ہر رمضان میں ایک رات لیلۃ القدر ہے۔ لیکن کون سی رات ہے، اس کا تعین نہیں ہوسکا بجز اس کے کہ وہ رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں سے کوئی رات ہے۔
    (کتاب الصوم، نومبر2000ء۔ ص 275-274)
    رمضان کے مختلف حصوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اعتکاف میں بیٹھنے کے واقعے سے معلوم ہوتا ہے کہ آپؐ لیلۃ القدر کو تلاش کررہے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ پہلے آپؐ نے رمضان کے پہلے دس دن اعتکاف کیا۔ پھر بیچ کے دنوں میں کیا۔ پھر آپؐ کو اشارہ کیا گیا کہ لیلۃ القدر رمضان کے آخری دس دنوں میں ہے، چنانچہ آپؐ نے اُن صحابہؓ سے جو آپؐ کے ساتھ اعتکاف میں بیٹھے تھے یہ فرمایا کہ اب تم بھی آخری دس دنوں میں اعتکاف کرو۔
    حدیث کے متن میں اِنِّیْ اُنْسِیْتُھَا کے الفاظ آئے ہیں جن کا ترجمہ یہ ہے کہ وہ رات مجھے بھلادی گئی۔ یہ نہیں فرمایا کہ میں بھول گیا۔ اس جگہ ایک نازک نکتہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی چیز بطور ہدایت نازل ہو یا کسی چیز کا علم اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسولؐ کو دیا گیا ہو اور وہ اسے بھول جائے تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ نعوذ باللہ رسالت محفوظ نہیں ہے، ظاہر ہے کہ ایسا ہونا بعیدازعقل و امکان ہے۔ لیکن اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھلا دیا جائے تو اسے اختیار ہے کہ وہ اپنے نبیؐ کے ذہن سے جس بات کو چاہیے محو کردے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ ہر کام کے کرنے کا اختیار رکھتا ہے اسی طرح وہ اپنے کیے ہوئے کسی کام کو محو کردینے اور منسوخ کردینے کا اختیار بھی رکھتا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے وہ علم اپنے نبیؐ سے چھپایا بھی نہیں لیکن اس کو ظاہر کرنے کے بعد اس کے ذہن سے اس کو محو بھی کردیا، تاکہ جس چیز کی خبر اللہ تعالیٰ لوگوں کو نہیں دینا چاہتا تھا وہ لوگوں تک نہ پہنچے۔ اسی لیے حضورؐ نے ارشاد فرمایا کہ اِنِّیْ اُنْسِیْتُھَا وہ رات مجھے بھلادی گئی۔
    اب یہ سوال کہ اس کی حقیقت کیا ہے کہ لیلۃ القدر رمضان کی اکیسویں رات ہے، تو اس کا جواب یہ ہے کہ چوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بتایا تھا کہ مجھے خواب میں جو چیز دکھائی گئی ہے وہ یہ تھی کہ وہ کوئی بارش والی رات ہے اور صبح کو میں نے کیچڑ میں سجدہ کیا ہے۔ اس لیے جب لوگوں نے دیکھا کہ اکیس تاریخ کو بارش ہوئی ہے اور صبح کی نماز کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی پر پانی اور مٹی کا نشان تھا، لوگوں نے خیال کیا کہ حضورؐ کی بتائی ہوئی بات کے مطابق یہی رات لیلۃ القدر ہے۔ لیکن یہ بات واضح رہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود یہ نہیں فرمایا کہ یہی اکیسویں رات لیلۃ القدر ہے۔ حضرت ابوسعید خدریؓ نے خود یہ قیاس کیا کہ یہی رات لیلۃ القدر ہوگی۔ ہوسکتا ہے کہ حضورؐ کو کوئی اور رات دکھائی گئی ہو، کیوں کہ عبداللہ بن اُنیسؓ کی روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ وہ تئیسویں رات تھی۔ چنانچہ اس طرح بھی 21 تاریخ کا قطعی تعین نہیں ہوا… اس طرح دراصل حکمتِ الٰہی کا یہ مقصود کہ لوگوں کو ٹھیک ٹھیک اس رات کی تاریخ کا علم نہ ہو، روایات کے اختلاف نے پورا کردیا۔ نہ روایات متفق ہوسکیں اور نہ خود رسول اللہؐ ہی نے یہ وضاحت فرمائی کہ یہی وہ رات ہے جو میں نے خواب میں دیکھی تھی۔
    (کتاب الصوم، نومبر 2000ء۔ ص268-267)
    حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: ’’یارسول اللہؐ! آپؐ کا کیا خیال ہے، اگر مجھے معلوم ہوجائے کہ کون سی رات لیلۃ القدر ہے، تو مجھے اس میں کیا کہنا چاہیے؟ آپؐ نے فرمایا: یوں کہو: ’’اے میرے خدا، تُو بڑا معاف کرنے والا ہے، تُو معاف کرنے کو پسند کرتا ہے، لہٰذا مجھے معاف فرمادے‘‘۔ (احمد، ابن ماجہ، ترمذی)
    (کتاب الصوم، نومبر2000ء۔ص 273)

    صدقہ ٔ فطر

    صدقہ کا مفہوم
    صدقہ اردو زبان میں تو بہت برے معنوں میں بولا جاتا ہے، مگر اسلام کی اصطلاح میں یہ اس عطیے کو کہتے ہیں جو سچے دل اور خالص نیت کے ساتھ محض اللہ کی خوشنودی کے لیے دیا جائے، جس میں کوئی ریا کاری نہ ہو، کسی پر احسان نہ جتایا جائے، دینے والا صرف اس لیے دے کہ وہ اپنے رب کے لیے عبودیت کا سچا جذبہ رکھتا ہے۔ یہ لفظ صدق سے ماخوذ ہے، اس لیے صداقت عین اس کی حقیقت میں شامل ہے۔ کوئی عطیہ اور کوئی صرف مال اُس وقت تک صدقہ نہیں ہوسکتا جب تک اس کی تہ میں انفاق فی سبیل اللہ کا خالص اور بے کھوٹ جذبہ موجود نہ ہو۔
    (تفہیم القرآن، پنجم، ص 315، سورۃ الحدید، حاشیہ 31)
    صدقۂ فطر کا صحیح مصرف
    صدقۂ فطر کا تعلق خاص طور پر عید سے ہے۔ اس کا مقصد عید کے موقع پر معاشرے کے نادار لوگوں کی مدد کرنا ہے۔ [مثلاً ] آپ کسی کو سلائی مشین دینا چاہیں تو اس کے لیے صدقات اور اعانت کی دوسری صورتیں موجود ہیں۔ لیکن اگر آپ یہ کام صدقۂ فطر سے لینا چاہتے ہیں تو اندازہ کرلیں کہ کتنے لوگوں کے حصے کا فطرانہ جمع کرکے ایک مشین خرید سکیں گے۔ اس طرح فطرانے کی بڑی رقم ایک جگہ صرف ہونے سے بہت سے مستحق افراد کی حق تلفی ہوسکتی ہے۔ صدقۂ فطر تو اس لیے ہے کہ غریب لوگ بھی عید مناسکیں اور عید کی خوشیوں میں شریک ہوسکیں۔
    (-5 اے ذیلدار پارک، اول، اپریل 1978ء، ص 35-34)
    صدقۂ فطر کی مقدار
    فطرے کی مقدار میں اختلاف کی وجہ یہ ہے کہ عرب میں جو اوزان اور پیمانے اُس وقت رائج تھے ان کو موجودہ زمانے کے اوزان اور پیمانوں کے مطابق بنانے میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ مختلف اہلِ علم نے اپنی تحقیق سے جو کچھ اوزان بیان کیے ہیں، عام لوگ ان میں سے جس کے مطابق بھی فطرہ دیں گے، سبکدوش ہوجائیں گے۔ اس معاملے میں زیادہ تشدد کی ضرورت نہیں ہے۔ فطرہ ہر اُس شخص کو دینا چاہیے جو عید کے روز اپنی ضروریات پوری کرنے کے بعد فطرہ نکالنے کی استطاعت رکھتا ہو۔ اور بیوی مستطیع ہو تو وہ بیوی ہی پر واجب ہوگا، کیوں کہ اس کے شوہر کا نفقہ اس کے ذمہ نہیں ہے۔ لیکن میرے خیال میں اسے اولاد کا فطرہ نکالنا چاہیے۔
    (رسائل و مسائل، چہارم، اپریل 1981ء، صفحہ 350)

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں



سوشل میڈیا لنکس