Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

یتیم بچوں کا عالمی دن

  1. نیو ایئر۔محبت کا دن ،بسنت ڈے ان دِنوں میں تو موج میلہ ہوتا ہے۔مزہ آتا ہے۔میڈیا کو اشتہار ملتے ہیں۔جام چھلکتے ہیں۔جوانیاں ،بکھرتی اورنکھرتی ہیں۔کاروباری طبقہ کروڑوں روپے کی ا?ﺅٹ ڈور مہم چلاتا ہے۔بی بی سی۔سی این این سمیت عالمی اور مقامی میڈیا اور چینل ہر رنگ اور زاویہ سے تقریبات کو نمایاں کرتے ہیں۔مگر یہ یتیم بچوں کا دن بھلا اس میں کیا مزہ ہے ؟کونسا فن ہے ؟ اسے کیوں منایا جائے ؟میں آج جب کچھ دانش ور دوستوں کے پاس بیٹھا یومِ یتامیٰ منانے کے طریقوں پرغور کر رہا تھا تو مجھے ایسے ہی بہت سارے سوالوں کا سامنا تھا۔ پھر مزدورں /کسانوں کا عالمی دن ہو تو اسے مزدور /کسان تنظیمیں بناتی اور مناتی ہیں۔مدر /فادر ڈے ہو تو مائیں یا باپ مناتے ہیں۔کینسر ڈے ہو تو مریض یہ دن مناتے ہیں۔عید ،کرسمس اور دیوالی ہو تو ان مذاہب کے ماننے والے اسے مناتے ہیں۔یتیم بچوں کا دن تو بچوں کی نہ کوئی تنظیم ہے اور نہ کوئی آواز پھر اسے کون اور کیوں منائے۔یہ اور اس طرح کے بہت سے مشکل سوالات تھے جو پاکستان آرفن کیئر فورم کے سامنے تھے ،جب اس تنظیم نے طے کیا کہ یہ لوگ مل کر پاکستان میں ایک نئی روایت ،جدت اور خوشگوار بدعت کو جنم دیں گے۔پاکستان آرفن کیئر فورم(پی او سی ایف) 25تنظیموں پر مشتمل ایک فورم ہے جس نے آج سے چار سال قبل اس مہم کا بیڑا اٹھایا۔یہ ساری رفاہی تنظیمیں ( این جی اوز) پاکستان میں یتیم بچوںکی کفالت ،تعلیم اور صحت کے حوالے سے کام کرتی ہیں۔انہیں جب معلوم ہوا کہ او آئی سی نے 2013ءمیں ترکی کی تجویز پر 15رمضان المبارک کو یتیموں کے عالمی دن کے طور پر منائے جانے کی قرارداد پاس کی ہے تو انہیں حوصلہ ملا کہ وہ اس کھٹن مگر اہم کام کا آغاز پاکستان میں بھی کر سکتے ہیں۔پاکستان آرفن کیئر فورم نے ایک طرف تو قومی اداروں ( قومی اسمبلی اور سینٹ) سے درخواست کی کہ وہ اوآئی سی کی پیروی کرتے ہوئے 15رمضان کو یتیموں کا عالمی دن قرار دے اور الحمد للہ پاکستان کے ان دونوں ایوانوں نے متفقہ طور پر پی او سی ایف کی درخواست قبول کرتے ہوئے 15رمضان کو یتامیٰ کا قومی دن قرار دیا اوردوسری طرف پبلک فورمز پر اس دن کو منانے کی مہم کاآغاز کیا۔سوال یہ ہے کہ یتیم بچوں کا قومی /عالمی دن منانے کی ضرورت کیا ہے آیئے مل جل کر پہلے اس کو سمجھ لیتے ہیں۔اس وقت پاکستان میں تقریباً 42لاکھ بچے یتیم ہیں۔یہ خاصی بڑی تعداد ہے۔زلزلے ،قدرتی آفات ،جنگ اور دہشت گردی کے واقعات نے اس تعداد میں خاصا اضافہ کیا ہے۔افغانستان ،عراق ،شام ،لیبیا ، یمن اور فلسطین میں گولہ بارود کی بارش نے لاکھوں خاندانوں کو اجاڑ کر رکھ دیا ہے اور کئی کروڑ معصوم بچوں کو والد کی شفقت سے محروم کر دیا ہے۔صرف ترکی اورشام کے بارڈر پر 70ہزار سے زائد ایسے خاندان پناہ گزیں ہیں جن کے باپ شہید ہو چکے ہیں۔روہنگیا آگ میں جھلس کر ایک اور ویرانہ بن چکا ہے ،جہاں اَن گنت یتیم بچے اپنے مستقبل سے نا آشنا اندھیر نگری میں زندہ رہنے پر مجبور ہیں۔مشرق وسطی اور جنوبی ایشیاءمیں ڈیڑھ کروڑ سے زائد بچے بے بسی اور یتیمی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔تھوڑی دیر کےلئے اپنی آنکھیں بند کیجیے اور سوچئے ، مسلم دنیا کے کروڑوں کی تعداد میں بھوکے، ننگے ،افلاس کے مارے اور علم سے ناآشنا یہ بچے،جب آج سے پندرہ بیس سال بعد جوان ہوں گے تو ہماری گلیاں ،بازار اور جیلیں کس طرح کے انسانوں سے بھری ہوں گی۔پندرہ بیس سال تو شاید ہمیں ابھی زیادہ دور لگ رہے ہوں۔ا س وقت بھی دنیا بھر کے لاوارث بچوں کو لاکھوں کی تعداد میں ترغیب دے کر جنسی جرائم کی دنیا میں جس طرح دھکیلا جا رہا ہے اور انسانی منڈیوں میں بیچا جا رہا ہے اس کی خبروں سے نہیں ،صرف تصور ہی سے روح کانپ اٹھتی ہے۔اگر ہم اپنے مستقبل کو خوش گوار اور روشن دیکھنا چاہتے ہیں تو یہ ناممکن ہے کہ ہم ان بچوں کے مستقبل کو پرسکون بنائے بغیر خود کو محفوظ اور مطمئن رکھ سکیں۔یہ تو مسئلے کا ایک دھندلا اور الجھا ہوا رخ ہے۔اس کا روشن رخ یہ ہے کہ پیارے نبی نے ہمیں بتایا ہے کہ یتیم بچے کسی اور کی نہیں میری اور آپ کی ذمہ داری ہیں۔یہ ہمارا خوش گوار ”آج “بھی ہیں اور یہی بچے ہمارا خوش گوار ”کل“ بھی ہیں۔اللہ سے ج ±ڑنے اور اس کی خوشنودی کا سیدھا اور آسان راستہ ہیں۔یہ ہماری ”مجبوری“ نہیں یہ ہمارے خوشی اور راحت ہیں۔کہتے ہیں یتیم مسکرائے تو کائنات مسکرانے لگتی ہے۔کلیاں چٹکتی ہیں اور فضائیں خوشبو سے معطر ہو جاتی ہیں۔پاکستان آرفن کیئر فورم ( پی او سی ایف)یوم یتامیٰ منا کر اسی آگہی کو عام کرنا چاہتا ہے۔

    کتنا مانوس ہوں، فطرت سے کلی جب چٹکی
    میں نے جھک کر یہ کہا مجھ سے کچھ ارشاد کیا؟
    ہم یتیم بچوں کی ان کلیوں کو کھلتا دیکھنا چاہتے ہیں اور ہمیں یقین ہے کہ آپ بھی اس سوچ ،اس خوشی اور اس غم میں ہمارے ساتھ شریک ہیں۔پاکستان آرفن کیئر فورم کے لوگ یہ چاہتے ہیں کہ ا?پ جو کچھ بھی ہیں اس دن کو منانے میں اپنا کردار ادا کریں۔فخر محسوس کریں۔
    o آپ صحافی ہیں تو ان یتیم بچوں کے مستقبل پر کالم لکھیں۔پ ±رانے وقتوں کے کامیاب یتیم بچوں کی امید افزاءکہانیاں لکھیں۔(Success Stories)
    o آپ ٹی وی پروگرام کے میزبان ہیں تو اپنے پروگرام کا آغاز اس طرح کریں کہ " آج 15 رمضان ( 21مئی)اور یوم یتامیٰ ہے۔آیئے ان پھولوں اور کلیوں کے تذکرے سے اپنے پروگرام کا آغاز کرتے ہیں"۔
    o آپ ا ±ستاد ہیں تو یتیموں پر شفقت بھرالیکچر دیجیے۔
    o آپ سماجی اور سیاسی قائد ہیں یا اعلیٰ سرکاری عہدیدار تو یتیم بچوں کے اداروں کا وزٹ کریں یا اپنے دفتر /ڈیرے پر ان بچوں کی افطاری کا اہتمام کریں۔
    o آپ عالم دین ہیں تو مساجد کے خطبات میں یتیموں کا تذکرہ اور فضلیت بیان کیجے
    o اگر آپ خاندان کے محض سربراہ ہیں تو اپنے عزیزوں/محلہ داروں میں کسی یتیم خاندان کو اپنے گھر ، اپنے بچوں کے ساتھ افطاری پر بلائیے۔ان سے ٹوٹ کر محبت کیجے۔انہیں کوئی اچھا سا تحفہ دیجیے، آپ کا پورا گھر خوشبوﺅں سے معطر ہو جائے گا۔آپ کے اپنے بچے چہچہانے لگیں گے اور ایسے لگے گا کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں کی بلندی سے آپ کو دیکھ کر مسکرا رہا ہے اور کہہ رہا ہے ” واہ میرے بندے“
    15رمضان کو یہ کام کر کے دیکھئے آپ کو مزہ آئے گا۔حقیقی محبت کا دن۔سچا بسنت ڈے۔اصلی نیو ایئر نائٹ۔اللہ آپ کو ہمیشہ ایسی ہی خوشیاں دیتا رہے۔


 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں



سوشل میڈیا لنکس