Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

رمضان المبارک رحمتوں ، برکتوں ،نعمتوں کا ماہ مبارک

  1. رمضان المبارک کامہینہ اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے ۔ یہ حقیقت ہے کہ اس نعمت خداوندی سے ہمیں بارہا استفادہ کا موقع ملا اور یہ بھی حقیقت ہے کہ ماضی میں اس ماہ مبارکہ میں جن فیوض و برکات کو حاصل کرنا چاہیے تھا وہ ہم اس طرح حاصل نہیں کرسکے جس طرح نبی رحمت ﷺنے ہمیں تلقین کی تھی یا صحابہ کرام ؓ کا طریقہ رہاہے۔ یہ ایسا مہینہ ہے کہ جس میں اللہ تعالیٰ نے روز ہ فرض اور قیام سنت قرار دیا ہے۔ اس ماہ میں اگر کوئی ایک نفل ”نیکی “ سرانجام دیتاہے تو اسے ایک فرض ادا کرنے کے برابر ثواب ملتاہے اور ایک فرض ادا کرنے والے کو ستر فرائض کے برابراجر ملتاہے۔ یہ خیر خواہی اور غم خواری کامہینہ ہے۔ ایک ایسا مہینہ جس میں مومن کارزق بڑھادیاجاتاہے۔ یہ مہینہ جہاں انفرادی اصلاح ، تزکیہ نفس اور عبادات کاتقاضا کرتاہے وہیں خلق خدا سے محبت، ہمدردی اور خیر خواہی کا بھی متقاضی ہے۔ اور سب سے بڑی خیرخواہی تو یہی ہے کہ انسانیت اپنے خالق کائنات کے بتائے ہوئے طریقہ ¿ زندگی کو نہ صرف خوداختیار کرے بلکہ دوسروں کو بھی بندگی ¿ رب کے راستہ پر لگایا جائے تاکہ وہ اپنے نفس کی بندگی کی بجائے رب کی خواہش و مرضی کے مطابق اپنی پوری زندگی گذار سکیں ۔اللہ کے فضل و کرم سے ایک مرتبہ پھر یہ ماہ مبارکہ ہمارے اوپر سایہ فگن ہو رہاہے اورجلد ہی اس کی رحمتوں کی بارش ہماری زندگیوں کو سیراب کرنے کے لیے برس رہی ہوں گی۔ لیکن ایسا نہیں ہے کہ اس کی رحمتیں اور برکتیں ہر اس شخص کے حصہ میں آجائیں جو اس مہینہ کو پالے ۔ جب بارش ہوتی ہے تو مختلف ندی نالے اور تالاب اپنی اپنی وسعت و گہرائی کے مطابق ہی اس کے پانی سے فیض یاب ہوتے ہیں۔ ایک چھوٹے سے گڑھے کے حصہ میں اتنا وافر پانی نہیں آتا جتنا ایک بڑے تالاب میںآتا ہے اسی طرح جب پانی کسی چٹان یا بنجرز مین پر گرتاہے تو اس کے اوپر ہی سے بہہ جاتاہے۔ اس کو کوئی نفع نہیں پہنچاتا لیکن اگر زمین زرخیز ہو تو وہ لہلہا اٹھتی ہے۔ یہی حال انسانوں کی فطرت اور ان کے نصیب کاہے۔
    رمضان المبارک کا یہی مقصود ہے کہ رحمت ، مغفرت اور جہنم سے نجات کے اس بابرکت مہینے کا اصل مطلوب ایمان و تقویٰ کا زادِ راہ حاصل ہوجائے اور اس کے ساتھ ساتھ ان لاکھوں لوگوں کو جو روزے کے اصل تصور سے نا آشنا ہونے کی وجہ سے بے مقصدیت کی زندگی گذار رہے ہیں، کو مقصدِ زندگی سے آشنا کرکے عملی سرگرمیاں وضع کرنے کی پلاننگ کرلی جائے تاکہ اس ماہ کے ایک ایک لمحے کو قیمتی بنایاجاسکے۔ نبی ﷺکا طریقہ تھاکہ آپ شعبان کے مہینہ سے ہی رمضان المبارک کی تیاری شروع کردیتے تھے اور لوگوں کو بھی اس کی تلقین کرتے تھے۔
    نیت و ارادہ
    نبی کریم ﷺکا فرمان ہے کہ ”انما الاعمال بالنیات “یعنی اعمال کا دار ومدار نیتوں پر ہے۔ اس لیے پہلی چیز نیت اور مصمم ارادہ ہے۔ کیونکہ نیت شعور اور احساس پیداکرتی ہے ۔ شعور بیدار ہو تو ارادہ پیداہوتا ہے اور ارادہ محنت اور کوشش کی صورت میں ظاہر ہوتاہے۔اسی طرح اعمال میں صحیح نیت کی روح ہو تو وہ اثر آفرینی ، نشوونما اور نتیجہ خیزی کی قوت رکھتی ہے۔ نیت نہ صرف صحیح بلکہ خالص بھی ہونی چاہیے ۔ یعنی ہر کام صرف اور صرف اللہ کی رضا کے حصول اور اجر وانعام حاصل کرنے کے لیے ہو ۔ نیت ، ارادہ اور عزم و حوصلہ وہ طاقت ہے جس کے بغیر رمضان المبارک کا سفر اپنی منزل پر نہیں پہنچا سکتا۔
    تلاوت قرآن
    رمضان المبارک کا مہینہ اپنی مخصوص عبادات یعنی روزے اور قیام اللیل کو کسی نہ کسی صورت میں قرآن مجید پر مرکوز کردیتاہے۔ اس مہینے کا حاصل قرآن سننا ،پڑھنا اور قرآن سیکھنا اور اس پر عمل کرنے کی استعداد پیدا کرناہے۔ رمضان اور قرآن کا آپس میں گہرا تعلق ہے اس لیے سب سے زیادہ جس چیز کا اہتمام کرنا ہے وہ یہ ہے کہ ہمارے شب و روز قرآن کی صحبت و معیت میں بسر ہوں۔ قرآن کو اس طرح پڑھا جائے کہ نہ صرف ہمارے اندر جذب ہوجائے بلکہ اس کے ساتھ قلب و روح کا تعلق گہرا ہوجائے اور دل و دماغ و جسم سب تلاوت کے کام میں شریک ہوجائیں ۔ قرآن کے پیغام کو عام کیاجائے۔ تلاوت قرآن کا حقیقی مفہوم یہ ہے کہ قرآن کے پڑھنے کا حق ادا کیاجائے اور قرآن کا حق یہ ہے کہ اسے سوچ سمجھ کر صحیح مخارج سے پڑھا جائے اور پھر اس پر عمل کیاجائے اور اس کا ابلاغ کیاجائے، یعنی دوسروں کو بھی پڑھنے اور عمل کی ترغیب دی جائے۔
    احتساب و جائزہ
    روز ہ صرف پیٹ کا روزہ نہیںہے۔ آنکھ اور کان کا بھی روزہ ہے ۔ زبان اور ہاتھ کا بھی روزہ ہے یعنی وہ روزہ یہ ہے کہ آنکھ وہ نہ دیکھے ، کان وہ نہ سنے ،زبان وہ نہ بولے ،ہاتھ پاﺅں وہ کام نہ کریں جو اللہ تعالیٰ کو ناپسندہیں ۔ یہ ہمیں احتساب کا موقع بھی فراہم کرتاہے۔ اس پورے معاشرے کے ٹھیک ہونے سے پہلے ضرورت اس امر کی ہے کہ معاشرے کی اکائی یعنی فرد درست ہو۔ ذاتی احتساب و جائزہ کے ذیل میں رمضان کی اہمیت محتاج بیان نہیں ۔
    غیبت ، چغلی ، لعن طعن ،بدگمانی ، تکبر ، ظلم ، غصہ ،جھوٹ ،وعدہ خلافی ،بد نگاہی، حسد ،بغض وغیرہ....یہ سب اخلاقی برائیاں ہیں.... اور ماہ رمضان ان برائیوں کا علاج کرنے کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے۔
    نماز باجماعت
    قرآن مجید میں جگہ جگہ نمازبا جماعت قائم کرنے کی تلقین کی گئی ہے اور نماز با جماعت قائم کرنے کا مطلب ہی یہ ہے کہ نماز کے تمام حقوق ادا کیے جائیں۔ نماز کے حقوق کی ادائیگی کے لیے ضروری ہے کہ اذان کے بعد سب کام چھوڑ کر مسجد پہنچیں اور تکبیر تحریمہ کے ساتھ پہلی صف میں نماز ادا کرنے کی کوشش کریں ۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کا فرمان ہے کہ” جس شخص کو یہ بات پسند ہوکہ وہ مطیع و فرمانبردار بندے کی حیثیت سے روزِ قیامت اللہ سے ملے،تو اس کو پانچوں نمازوں کی دیکھ بھال کرنی چاہیے اور انہیں مسجد میںجماعت کے ساتھ ادا کرنا چاہیے....
    اہل ایمان باقاعدگی کے ساتھ نمازِ تراویح کا اہتمام کریں۔رات کے آخری تہائی حصے میں پڑھی جانے والی نمازتہجد بھی تقویٰ کے حصول کا بہترین ذریعہ ہے، اس کا بھی التزام کرنے کی کوشش کریں۔ سحر سے ذراقبل اُٹھ کر آپ بآسانی پورا ماہ صلوٰة اللیل کا اجر حاصل کرسکتے ہیں۔
    عفو و درگذر
    اللہ تعالیٰ کی یہ صفت ہے کہ وہ معاف کرنے والا اور زبردست درگذر کرنے والا ہے۔ اسی طرح نبی کریم ﷺ کی ذات گرامی بھی صبر کرنے ولوں میں سب سے افضل اور معاف کرنے والوں میں سب سے بہتر تھی۔ شہر µ رمضان عفوودرگذر ،بخشش و رحمت اور جہنم سے آزادی کا مہینہ ہے۔ جس طرح ہم خود اللہ سے معافی کے طلب گار ہوتے ہیں اسی طرح لازم ہے کہ ہم ستانے والوں کو معاف کردیں کیونکہ ارشاد ربانی ہے کہ :”جس نے معاف کیا اور اپنی اصلاح کرلی اس کا اجر اللہ کے ذمہ ہے۔ بلاشبہ وہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا ۔ “ اسی طرح سورة النساءمیں فرمایا گیاہے کہ :”تم نیکی اعلانیہ کرو یا چھپ کر تم کسی کی زیادتی کو معاف کرو ،بے شک اللہ معاف کرنے والا اور بدلہ لینے پر قادر ہے۔ بلاشبہ آپ کے ساتھ زیادتی کرنے والے کے لیے آپ کی معافی آپ کو اللہ کے قریب لے جائے گی اور اس کے بدلے بہترین اجر ملے گا۔ اس لیے اپنے دلوں کو صاف کیجیے اور ساتھیوں اور قرابت داروں کی فروگذاشتوں کو معاف کرکے قلبی تعلق پیدا کیجیے۔ کیونکہ بے شک صبر اور معافی عظیم کاموں میں سے ہیں۔ “
    افطار
    نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رمضان المبارک کو ہمدردی و غم خواری کا مہینہ قرار دیا ہے۔ہمدردی کا ایک پہلوکسی روزہ دار کا روزہ افطار کروانا بھی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے افطار کروانے کی ترغیب دی ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے : ”جوشخص کسی روزہ دار کا روزہ افطار کرائے تو اس کے لیے گناہوں سے مغفرت اور دوزخ کی آگ سے رہائی ہے۔اس کو اتنا ہی ثواب ملے گا جتنا روزہ دار کو، اور اس سے روزہ دار کے ثواب میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔“
    افطار کے پروگرامات کے ذریعے جہاں رابطہ عوام کاموقع میسر آتاہے ، وہیں جماعت کی دعوت اور فکر وعمل میں تبدیلی کی بات کرنے کا بھی موقع ملتاہے۔ یونین کونسلز ، گلی محلہ کی سطح پر چھوٹی بڑی افطار پارٹیز لوگوں کے اذہان و قلوب کو متاثر کرنے کا بہترین ذریعہ ہیں،اس لیے انفرادی و اجتماعی سطح پر افطاری کا اہتمام کریں۔افطار کے پروگرام میں درس قرآن، درس حدیث، لیکچروغیرہ کا اہتمام کریں۔ افطاری سے پہلے دعا سنت ہے اس لیے اس کا اہتمام کریں ۔ افطار پارٹیوں کو کھانے پینے کی نمایش کے بجائے دعوتی عمل کومہمیز دینے کا ذریعہ بنائیں۔غرباءو مساکین کو افطار پارٹیوں میں ضرور دعوت دیں۔پہلے افطار ،پھرنماز اورآخرمیں طعام کی ترتیب کو روا ج دیں۔
    اعتکاف
    حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیںکہ” جب رمضان کا آخری عشرہ آتاتوآپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کمر کس لیتے،راتوں کو جاگتے،اپنے گھر والوں کو جگاتے،اور اتنی محنت کرتے جتنی کسی اور عشرے میں نہ کرتے۔“
    رمضان المبارک کے آخری عشرے میں اعتکاف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا۔ ایک سال بوجوہ ناغہ ہوا توآپنے اگلے سال بیس دن اعتکاف کیا۔
    ....رمضان المبارک مومن کی تیاری کا مہینہ ہے تاکہ بقیہ گیارہ مہینے شیطانی قوتوں سے لڑنے کی قوت فراہم ہو جائے۔اعتکاف اس تیاری کا اہم جزو ہے۔
    ....اجتماعی اعتکاف اور شب بیداری کا پروگرام بنائیں اور ارکان،اُمیدواران رکنیت،زیر تربیت افراد اور کارکنان کو شوق دلا کر ایک مقام پر جمع کریں۔مگر اس میں زیادہ فوکس فرد کی تیاری ، آمادگی ، شوق اور رضا کارانہ اسپرٹ کا ہونا چاہیے۔ اگر اس سرگرمی کو اچھی تیاری اور ترجیح کے ساتھ منظم کرلیا جائے تو یہ عین ممکن ہے کہ سال بھر کی افراد سازی اور تربیتی نصاب کے مطالعہ کے اہداف کو حاصل کرلیا جائے۔ ہمارے بعض ساتھی جماعتی ذمہ داریوں کی وجہ سے اعتکاف نہیں کرتے حالانکہ سوچا جائے تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ ذمہ دارشخصیت کون سی ہوسکتی ہے ؟آپ صرف داعی نہیں بلکہ داعی اعظم تھے۔ پھر بھی اعتکاف کا اہتمام کرتے تھے ۔ اعتکاف کرنے والوں کے لیے افطاریوں کا انتظام۔19رمضان المبارک تک مکمل کرلیا جائے۔
    لیلة القدر
    اللہ تعالیٰ فرماتے ہیںکہ شب قدر ہزار مہینوں سے افضل ہے حضرت امام بخاریؒ نے حضرت ابوہریرہؓ کی روایت بیان کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:”جس شخص نے شب قدر میں ایمان اور خود احتسابی کی حالت میں قیام کیا تو اللہ رب العالمین اس کے پچھلے تمام گناہ معاف فرما دیں گے۔“
    ....آخری عشرے کی پانچ طاق راتوں،۱۲،۳۲،۵۲،۷۲ اور ۹۲ کو اعتکاف اور شب بیداری کے لیے مختص کردیں اور تمام متعلقین جماعت کو متعین تاریخوں میں متعین مساجد میں ان پروگرامات میں شریک کروائیں۔
    نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓکو شب قدر کی یہ دعابتائی۔ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کیا کرو: اَللّٰہُمَّ اِنَّکَ عَفُوّ µ تُحِبُّ ال ±عَف ±وَ فَاع ±فُ عَنِّی ±۔”اے اﷲ ! بلاشبہ تو معاف کرنے والا ہے، اور معاف کرنے کو پسند کرتا ہے ،پس تو مجھے معاف فرمادے۔ “
    انفاق فی سبیل اللہو زکوٰة و صدقات
    انفاق فی سبیل اللہ کواس ماہ مبارکہ سے خاصی نسبت ہے ۔ نماز کے بعد سب سے بڑی عبادت اللہ کی راہ میں خرچ کرناہے۔ نبی کریم ﷺ سارے انسانوں سے بڑھ کر سخی تھے ۔ حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے مروی ہے کہ :”آپ ﷺ بارش لانے والی تیز ہواﺅں سے بھی زیادہ سخاوت کرتے تھے۔ آپ نے فرمایا کہ: سخی اللہ تعالیٰ سے قریب ،لوگوں سے قریب ، جنت سے قریب اورجہنم سے دور جبکہ کنجوس اللہ تعالیٰ سے دور ،لوگوں سے دور ،جنت سے دور اور جہنم سے قریب ہوتاہے۔ اسی طرح جاہل سخی اللہ تعالیٰ کو کنجوس عبادت گزار سے زیادہ محبوب ہوتاہے۔ حضرت ابن عباسؓسے روایت ہے کہ رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر کو فرض قرار دیا ہے تاکہ روزے فضول ،لغو اور بے ہودہ باتوں سے پاک ہوجائیں اور مسکینوں کو کھانے پینے کا سامان میسر آئے۔صدقہ فطرعید کی آمد سے پہلے ہی ادا کرنے کی کوشش  کریںتاکہ غرباءومساکین بھی عید کی خوشیوں میں شریک ہوسکیں۔
     

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں



سوشل میڈیا لنکس