Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

5فروری یوم یکجہتی کشمیر اوراس کے تقاضے

  1.  

    یومِ یکجہتی کشمیرکا پس منظر

    آج 5 فروری کو یوم یکجہتی کشمیر ایسے حالات میں منایا جا رہا ہے کہ ہم میں وہ شخصیت موجود نہیں ہے جس نے سب سے پہلے 5 فروری کو یوم یکجہتی کشمیر کے طور پر منانے کا تصور پیش کیا تھا۔ لہذا ضرورت اس امر کی ہے آج جب ہم 5 فروری کو یوم یکجہتی کشمیر منا رہے ہیں تو اس تصور کو بھی پوری طرح سامنے رکھیں جو یہ دن منانے کے حوالے سے قاضی صاحب رحمہ اللہ کے سامنے تھا۔

    یوم یکجہتی کشمیر کے تصور کے بنیادی اصول و مبادی :

     جب ہم یوم یکجہتی کشمیر منانے کے سلسلے میں قاضی صاحب رحمہ اللہ کے تصور کا جائزہ لیتے ہیں تو اس کے حسب ذیل اصول و مبادی واضح ہو کر ہمارے سامنے آتے ہیں۔

    اولاً: کشمیر کے ساتھ یکجہتی کے حوالے سے قاضی حسین احمد رحمہ اللہ کے تصور کا پہلا بنیادی اصول یہ تھا کہ جہاد کشمیر اپنی نوعیت او راہمیت کے اعتبار سے کشمیر کی آزاد ی کے ساتھ ساتھ پاکستان کی بقاءو سالمیت اور تکمیل کی جنگ بھی ہے۔ اس سلسلے میں وہ مسئلہ کشمیر کو تقسیم برصغیر کے ایجنڈے کا حصہ قرار دیتے تھے اور قائد اعظم رحمہ اللہ کے الفاظ میں کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ سمجھتے تھے اور اپنی تقریروں اور گفتگوؤں میں ہمیشہ مسئلہ کشمیر کے اس بنیادی پہلو کو پیش نظر رکھتے تھے۔

    ثانیاً : کشمیر کے ساتھ یکجہتی کے حوالے سے قاضی حسین احمد رحمہ اللہ کے تصور کا دوسرا بنیادی اصول یہ تھا کہ وہ مقبوضہ کشمیر کی بھارت سے آزادی کو مقبوضہ کشمیر میں اسلام، اسلامی تہذیب اور مسلمانوں کی بقا کے لئے ضروری سمجھتے تھے اور ان کا پختہ یقین تھا کہ اگر مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کی آزادی اور حق خودارادیت کے لئے جدوجہد نہ کی گئی تو کشمیر میں بھارتی حکمرانوں کے ہاتھوں اسلامی تہذیب اور مسلمانوں کا وہی انجام ہوگا جو قبل ازیں اندلس میں اسلام اور مسلمانوں کا ہوچکاہے۔

    ثالثاً: کشمیر کے ساتھ یکجہتی کے حوالے سے قاضی حسین احمد رحمہ اللہ کے تصور کا تیسرا بنیادی اصول یہ تھا کہ وہ سمجھتے کہ مقبوضہ کشمیر پر بھارت کا جارحانہ تسلط تقسیم برصغیر کے اصولوں کےساتھ ساتھ سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق بھی غیر آئینی اور غیرقانونی ہے ۔ لہذا کشمیری مسلمان اپنی تحریک مزاحمت میں ہر لحاظ سے حق بجانب ہیں۔ جبکہ بھارت کی حیثیت ایک جارح سامراجی قوت کی ہے ۔

    رابعاً : کشمیر کے ساتھ یکجہتی کے حوالے سے قاضی حسین احمد رحمہ اللہ کے تصور کا چوتھا بنیادی اصول یہ تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی قابض فوجوں کے ہاتھوں ظلم و استبداد کا شکار کشمیری مسلمان مردوں، عورتوں اور بچوں کی مدد کرنا پاکستانی مسلمانوں پر واجب ہے۔

    خامساً: کشمیر کے ساتھ یکجہتی کے حوالے سے قاضی حسین احمد رحمہ اللہ کے تصور کا پانچواں بنیادی اصول یہ تھا کہ وہ بھارت کے جارحانہ عزائم کو صرف کشمیر یا پاکستان تک محدود نہیں سمجھتے تھے بلکہ وہ سمجھتے تھے کہ بھارت،کشمیر اور پاکستان کے ساتھ ساتھ عالم اسلام اور مقدسات اسلامیہ کے خلاف اپنے عزائم کی تکیل چاہتا ہے اور اکھنڈ بھارت کے نام سے اس خطے میں ایک ایسی برہمنی ریاست قائم کرنا چاہتا ہے جس کی حدود ملائشیا اور انڈونیشیا سے لے کر دریائے نیل تک وسیع ہیں۔

    سادساً : کشمیر کے ساتھ یکجہتی کے حوالے سے قاضی حسین احمد رحمہ اللہ کے تصور کا چھٹا بنیادی اصول یہ تھا کہ کشمیر کی بھارت سے آزادی پاکستان کی اقتصادی اور زرعی ترقی کے لئے بھی ضروری ہے ۔ اس لئے کہ اگر کشمیر پر بھارتی تسلط قائم رہا تو وہ کشمیر سے نکلنے والے دریاؤں پر ڈیم بنا کر پاکستان کو بنجر اور صحرا بنادے گا۔

    سابعاً : کشمیر کے ساتھ یکجہتی کے حوالے سے قاضی حسین احمد رحمہ اللہ کے تصور کا ساتواں بنیادی اصول یہ تھا کہ وہ یہ سمجھتے تھے کہ کشمیر کی بھارت سے آزادی اور پاکستان سے الحاق 20کروڑ بھارتی مسلمانوں کے بھی بہترین مفاد میں ہے ۔ اس لئے کہ ایک مضبوط اور توانا پاکستان بھا رتی مسلمانوں کے دین، تہذیب اورمفادات کے تحفظ کی بہتر ضمانت فراہم کرسکتا ہے۔

    5 فروری 1990 ء یومِ یکجہتی کشمیر کی حیثیت سے

     قاضی صاحب رحمہ اللہ تحریک آزادی ءکشمیر کے ساتھ یکجہتی کے ان اصول و مبادی کو سیاسی نعروں کے طور پر استعمال نہیں کرتے تھے بلکہ اپنے عقیدے کا حصہ سمجھتے تھے اور وہ یہ چاہتے تھے کہ کشمیر کے ساتھ یکجہتی کے ان اصولوں کو پوری قوم ایک سیاسی عقیدے اور ایجنڈے کے طور پر اختیار کرے ۔ لہذا اس مقصد کے لئے انہوں نے یہ پروگرام بنایا کہ1990ءمیں تحریک جہاد کشمیر کے باقاعدہ آغاز کے بعد اس تحریک کے ساتھ یکجہتی کے لئے قومی سطح پر ایک مخصوص دن منایا جائے اور اس کے لئے 5 فروری 1990ءکشمیر کے ساتھ یکجہتی کے دن کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا گیا۔ چنانچہ اس کے لئے قاضی حسین احمد رحمہ اللہ تعالیٰ نے 9 جنوری 1990ءکو ایک پریس کانفرنس میں یہ دن منانے کے حوالے سے باقاعدہ اپیل کی ۔یہ بات اپنے بیگانے سب تسلیم کرتے ہیں کہ محترم قاضی صاحب کی حیثیت موجودہ تحریکِ آزادیءکشمیر کے آغاز سے اس کے ایک بہت بڑے محسن اور پشتیبان کی رہی تھی ۔ اور انہوں نے اس تحریک کی تائید وحمایت کے حوالے سے ذاتی طور پر بھی اور جماعتی حیثیت سے بھی جو گرانقدر کوششیں کی تھیں ۔ اس کی پورے ملک میں کوئی نظیر نہیں ملتی ۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ ان کی اس اپیل کا بھرپور خیر مقدم کیا گیا ۔ اس وقت چونکہ پنجاب میں اسلامی جمہوری اتحاد کی حکومت تھی اور محترم میاں محمد نواز شریف وزیرِ اعلیٰ تھے ۔ لہٰذا انہوں نے محترم قاضی صاحب کی اپیل سے اتفاق کرتے ہوئے 5 فروری 1990 ء کو پنجاب بھر میں سرکاری طور پر یومِ یکجہتی کشمیر منانے کا اعلان کر دیا ۔ مرکز میں اس وقت محترمہ بینظیر بھٹو مرحومہ کی حکومت تھی لہٰذا انہیں بھی اس دن کو سرکاری طور پر یومِ یکجہتی کشمیر کے طور پر منانے کا اعلان کرنا پڑا ، طے پایا کہ اس مقصد کے لیے پورے ملک میں ہر شہر اور ہر قصبے کے ہر محلے میں تمام سیاسی جماعتوں کے ذمہ داران پر مشتمل کمیٹیاں تشکیل دی جائیں،جن کے روح و رواں جماعت کے ارکان اور کارکنان ہوں۔

    ٭یہ بھی طے پایا کے ان کمیٹیوں کے زیر اہتمام 5 فروری کو پورے ملک کے ہر شہر اور ہر قصبے میںکشمیر کانفرنسوں اور کشمیر ریلیوں کا اہتمام کیا جائے۔

    ٭یہ بھی طے پایا کے5 فروری1990 کو کشمیر ی عوام کے ساتھ اظہا ر یکجہتی کے لیے منعقد ہونے والی کشمیرکانفرنسوں اور کشمیر ریلیوں میں انسانی ہاتھوں کی زنجیر بنا کر کشمیر ی عوام کو یہ پیغام دیا جائے کہ ہم ان کے ساتھ ہیں ۔اس سلسلے میں یہ بھی طے پایا کہ انسانی ہاتھوں کی زنجیر کا اہتمام یوں توتمام بڑے بڑے شہروں میں منعقد ہونے والی کانفرنسوں اور ریلیوں میں کیا جائے، لیکن خصوصیت کے ساتھ آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباداور کنٹرول لائن پر مقبوضہ کشمیر کی سرحد کے قریب واقع چکوٹھی کے قصبے میں بطور خاص ہاتھوں کی زنجیر بنانے کا اہتمام کیا جائے۔

    ٭یہ بھی طے پایا کے محترم قاضی حسین احمد صاحب ملک کے تمام بڑے بڑے شہروں خصوصاًمظفر آباد اور چکوٹھی میں منعقدہ کشمیر کانفرنسوں اور کشمیر ریلیوں میں بطور خاص خطاب فرمائیں گے، تاکہ کشمیر ی عوام تک ان کی طرف سے یکجہتی کا پیغام پہنچ سکے، چنانچہ طے پایا کےاس مقصد کے لیے ایک ہیلی کاپٹر ایک دن کے لیے کرائے پر لیا جائے،تاکہ محترم قاضی صاحب متعلقہ مقامات پر بر وقت پہنچ سکیں۔

    ٭یہ بھی طے پایا کہ کوشش کی جائے کہ پنجاب کے وزیر اعلٰی میاں نواز شریف صاحب اور پاکستان کی وزیر اعظم محترمہ بے نظیر بھٹو بھی اس سلسلے میں منعقدہ ریلیوں میں شریک ہو کر خطاب کریں یا کم از کم اس موقع پر تحریک آزادءکشمیر کی تائید و حمایت میں خصوصی بیانات جاری کریں۔

    ٭یہ بھی طے پایا کہ یوم یکجہتی کشمیر کی تمام سرگرمیوں کو پاکستان کے قومی ذرائع ابلاغ خصوصاً ٹیلی وژن ، ریڈیو اور اخبارات کے ذریعےزیادہ سے زیادہ اجاگر کرنے کا اہتمام کیا جائے۔

    5فروری یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر ان اقدامات کے نتیجے میں نہ صرف یہ کہ پورے پاکستان میں تحریک آزادی کشمیر کے حوالے سے بیداری اور یکجہتی کی ایک ایسی فضا پیدا ہوئی جس کے نتیجے میں ملک کا ہر فر د ،خیبر سے کراچی تک ،تحریک آزادی کشمیر کے جذبے سے پوری طرح سرشار ہو گیا اور اس کے نتیجے میں مقبوضہ کشمیر کے عوام تک یہ پیغام بھی پہنچا کہ وہ بھارت سے آزادی اور حق خود ارادیت کی جدوجہد میں تنہا نہیں ہیں بلکہ ان کے آزاد کشمیر اور پاکستان کے بھائی بھی ان کے ساتھ ہیں اور یہی 5 فروری کو یوم یکجہتی کشمیر منانے کااصل مقصد تھا۔

     اس کے ساتھ ہی محترم قاضی صاحب نے مختلف ممالک کی اسلامی تحریکوں سے بھی یہ دن یومِ یکجہتی کشمیر کے طور پر منانے کی اپیل کی ۔ چنانچہ اس کے بعد سے یہ دن نہ صرف یہ کہ سرکاری طور پر اہتمام کے ساتھ پورے ملک میں منایا جاتا ہے بلکہ دنیا کے اکثر ملکوں میں وہاں کی اسلامی تحریکوں کی طرف سے بھی اسے یومِ یکجہتی کشمیر کے طور پر منایا جاتا ہے ۔ اس دن نہ صرف پورے ملک بلکہ پورے عالم ِ اسلام میں تحریکِ آزادی کشمیر کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لےے جلسوں ، جلوسوں ، کانفرنسوں اور سیمیناروں کا اہتمام کیا جاتا ہے ۔ اخبارات و رسائل خصوصی ایڈیشن شائع کرتے ہیں ۔ اور تجدید ِ عہد کیا جاتاہے کہ تحریکِ آزادیءکشمیر کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے حوالے سے ذمہ داریوں کو ادا کرنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی جائے گی۔

    یومِ یکجہتی کشمیر کے سلسلے میں مظفر آبادمیں اعلیٰ سطحی عالمی اسلامی کانفرنس کا انعقاد:

    یوم یکجہتی کشمیر کے ذریعے تحریک آزادءکشمیر کے پیغام کو آزاد کشمیر اور پاکستان کے ایک ایک فرد تک پہنچانے کے بعد اب اگلا مرحلہ تحریک آزادی کشمیر کے پیغام کو امت مسلمہ کے ایک ایک فرد تک عام کرنے کا تھا اور اس مقصد کے لیے یہ طے پایا تھا کہ یہ کام دو مرحلوں میں انجام دیا جائے گا، پہلے مرحلے میں آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد میں ایک اعلیٰ سطحی عالمی اسلامی کانفرنس منعقد کی جائے گی جس میں عالم اسلا م کی تمام اسلامی تحریکوں کی قیادت کو مدعوکیا جائے گا ، جبکہ دوسرے مرحلے میں محترم قاضی صاحب رحمہ اللہ کی قیادت میں ایک اعلٰی سطحی پارلیمانی وفد تمام مسلم ممالک کا دورہ کر کے وہاں کی حکومتوں اور عوام کو مسئلہ کشمیر اور تحریک آزادی کشمیر کی اہمیت اور تقاضوں اورعالم اسلام کے خلاف بھارتی عزائم سے آگاہ کرے گا ۔

    اس فیصلے کے مطابق مئی 1990ءکے اوائل میں مظفر آباد میں محترم قاضی حسین احمد صاحب رحمہ اللہ کی صدارت میں ایک اعلٰی سطحی عالمی اسلامی کانفرنس منعقد کی گئی جس میں تمام عالمی اسلامی تحریکوں کے قائدین اور نمائندے شریک ہوئے،عالمی اسلامی تحریکوں کے ان قائدین میں کویت کی اسلامی تحریک جمعیة الاصلاح الاجتماعی کے رہنما ڈاکٹر جاسم المہلہل اور عالم اسلام کے ممتاز خطیب شیخ احمد القطان ،متحدہ عرب امارات کی اسلامی تحریک کے جناب عمر المدفع اور جناب احمد رستمانی بطور خاص قابل ذکر ہیں جبکہ مصر سے اخوان المسلمون کےمرشد عام محمد حامدابو النصر اوردوسرےقائدین کو اس کانفرنس میں شرکت کی اجازت نہیں ملی، لہذا ان کی نمائندگی پاکستان میں اخوان المسلمون کے نمائندے جناب احمد منصور کاتب نے کی، اس کانفرنس میں تمام عالمی اسلامی تحریکوں کی طرف سے یہ اعلان کیا گیا کہ دنیا کی تمام عالمی اسلامی تحریکیں آزادی اور حق خود ارادیت کی جدوجہد میں اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ ہیں۔

    جہاد کشمیر کے پیغام کو عالم اسلام کی سطح تک اجاگر کرنے لئے قاضی صاحب رحمہ اللہ کی قیادت میں اعلیٰ سطحی پارلیمانی وفد کا مسلم ممالک کا دورہ:

    جیسا کہ طے پایا تھا کہ آزاد کشمیرکے دارالحکومت مظفر آباد میں عالمی اسلامی کانفرنس کے انعقاد کے بعد عالم اسلام کو تحریک آزادی کشمیر اور مسئلہ کشمیر کی اہمیت اور تقاضوں سے آگاہ کرنے کے لیے محترم قاضی حسین احمد صاحب کی قیادت میں ایک اعلٰی سطحی پارلیمانی وفد مسلمان ممالک کا دورہ کر کے وہاں کی حکومتوں اور اسلامی تحریکوں کو مسئلہ کشمیر اور تحریک آزادی کشمیر کی نوعیت اور اہمیت سے آگاہ کرنے کے ساتھ ساتھ اس سلسلے میں بھارت کے گمراہ کن پروپیگنڈے کا توڑ بھی کرے گا۔ چنانچہ اس سلسلے میں جو اعلٰی سطحی پارلیمانی وفد تشکیل پایا، اس میں اس وقت کی حکمران پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کے ارکان پارلیمنٹ کے ساتھ ساتھ جماعت اسلامی آزاد کشمیر کے امیر جناب عبدالرشید ترابی بھی شامل تھے، پروگرام کے مطابق قاضی حسین احمد صاحب رحمہ اللہ کی قیادت میں اس وفدنے ترکی، مصر ، سوڈان ،کویت اور متحدہ عرب امارات وغیرہ کا دورہ کیا ۔

    اس پارلیمانی وفد کے حوالے سے پاکستان کی وزارت خارجہ نے تمام متعلقہ ملکوں میں اپنے سفارتخانوں کو مطلع کر دیاتھا کہ وہ اس پارلیمانی وفد کی متعلقہ حکومتوں کے ذمہ داروں سے میٹنگوں کا شیڈول پہلے سے طے کر لیں۔ یوں اس پارلیمانی وفد کی حکومتوں کے اعلٰی سطحی ذمہ داروں سے قاضی صاحب رحمہ اللہ اور دوسرے ارکان پارلیمانی وفد کی میٹنگیں طے ہو چکی تھیں ،اس کے ساتھ ساتھ مرکز جماعت اسلامی پاکستان کی طرف سے بھی ان ممالک کی اسلامی تحریکوں کو اس پارلیمانی وفد کے دورے کا شیڈول بھیجا جا چکا تھا اور ان کے قائدین سے محترم قاضی صاحب رحمہ اللہ اوردوسرے اراکین پارلیمانی وفد کی ملاقاتیں طے ہو چکی تھیں، یوں یہ پارلیمانی وفد جس ملک میں بھی پہنچا وہاں کی حکومت اور وہاں کی تحریک اسلامی کے ذمہ داران سے اس کی ملاقاتوں کے شیڈول پہلے سے طے پا چکے تھے۔ چنانچہ اس شیڈول کے مطابق وفد نے ان ممالک کی حکومتوں اور اسلامی تحریکوں کے ذمہ داران سے ملاقاتیں کر کے ان کو مسئلہ کشمیر کی نوعیت و اہمیت سے بھی آگاہ کیا اور بھارت کے اسلام اور عالم اسلام کے خلاف عزائم سے بھی آگاہ کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ مقبوضہ کشمیرمیں آٹھ لاکھ سے زیادہ بھارتی قابض فوجوں کے ہاتھوں وہاں کے نہتے مردوں ، عورتوں اور بچوں پر ڈھائے جائے جانے والے مظالم سے بھی اور یہ بھی بتایا کہ کس طرح بھارت کی ریاستی دہشت گردی کے نتیجے میں کشمیر کی جنت نظیروادی اب موت کی وادی میں تبدیل ہو چکی ہے ۔

    تحریکِ آزادی کشمیر سے یکجہتی کے تقاضے:

     یوم یکجہتی کشمیر کے اس موقع پرہم تحریک آزادی کشمیر کے ساتھ یکجہتی کے تقاضوں کا ذکر کرتے ہیں تاکہ قوم بشمول حکومت ان تقاضوں کا صحیح ادراک بھی کرسکے او ران پر عملدرآمد کو یقینی بھی بنائے۔تحریکِ آزادی کشمیر کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے ان تقاضوں کو صحیح طور پر سمجھنے کے لیے یہ بات جاننا ضروری ہے کہ اس وقت مقبوضہ کشمیر میں آزادی اور حق خود ارادیت کی جو تحریک جاری ہے ، وہ ریاست جموں و کشمیر کی آزادی اور حق خودارادیت کی تحریک ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستان کی تکمیل اور بقا کی تحریک بھی ہے ۔ اور ہمارے مقبوضہ کشمیر کے بھائی گزشتہ تئیس سال کے عرصے میں کشمیر کی آزادی اور پاکستان کی بقا کی اس تحریک کے دوران میں ایک لاکھ سے زیادہ شہداءکے مقدس لہو کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں ۔ جن میں مر د ، عورتیں ، بچے اور بوڑھے سبھی شامل ہیں ، اس کے علاوہ اس عرصے کے دوران میں لاکھوں کی تعداد میں کشمیری مسلمان مرد ، عورتیں ، بچے اور بوڑھے زخمی اور اپاہج ہو چکے ہیں ۔ چنانچہ آج مقبوضہ کشمیر میں کوئی گھر ایسا نہیں ہے جس کا کوئی نہ کوئی فرد شہید یا زخمی نہ ہوا ہو ، یا جس کی کسی ماں ، بہن یا بیٹی کی عصمت نہ لٹی ہو ۔ اسی طرح آج مقبوضہ کشمیر میں بستیوں کی بستیاں ویرانوں میں تبدیل ہو چکی ہیں ۔ مقبوضہ کشمیر کا کوئی شہر یا گاؤں ایسا نہیں ہوگا جہاں شہدائے کرام کے مزار نہ ہوں ۔ یوں وہ کشمیر جو اپنی قدرتی خوبصورتی اور رعنائی کی وجہ سے جنتِ ارضی کہلاتا تھا ، بھارت کی سرکاری دہشت گردی کی وجہ سے موت کی وادی میں تبدیل ہو چکا ہے ۔ اور کشمیری عوام نے یہ ساری قربانیاں اپنے حق ِ خود ارادیت اور پاکستان کی تکمیل اور بقاءکے لےے دی ہیں ۔ ماؤں نے اپنے جگر گوشے ، بہنوں نے اپنے بھائی اور بیویوں نے اپنے سہاگ اسی عظیم مقصد کے لےے پیش کئے ہیں ۔ اب اگر کوئی شخص ان کی ان عظیم اور لا زوال قربانیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر کے کسی ایسے حل کی بات کرتا ہے جو ان کے حق خودارادیت اور آزادی کے مطالبے سے مطابقت نہیں رکھتا ہے ، تو وہ ان کی ان عظیم اور لازوال قربانیوں کا مذاق اڑاتا ہے ۔ اسی طرح اگر کوئی شخص اہل ِ کشمیر کی اتنی عظیم قربانیوں کے بعد مسئلہ کشمیر کے حل پر بھارت کی آمادگی کے بغیر اس کے ساتھ تعلقات کی بحالی اور تجارت کی بات کرتا ہے تو وہ دراصل کشمیری ماؤں ، بہنوں اور بیٹیوں کے زخموں پر نمک پاشی کرتا ہے اور وہ شخص تو کسی صورت بھی قابلِ معافی نہیں ہے ۔ جو 5 فروری کو تحریکِ آزادیءکشمیر کے ساتھ یکجہتی کا اظہار اور اعلان کرنے کے بعد تحریکِ آزادیءکشمیر کے خلاف کی جانے والی سازشوں اور ریشہ دوانیوں میں بھی حصہ لیتا ہے ۔

     تحریکِ آزادیءکشمیر کی اہمیت اور اس کے ساتھ اظہار ِ یکجہتی کے ان تقاضوں کا ذکر کرنے کے بعد ہم یہاں اختصار کے ساتھ بعض ایسے اقدامات کا ذکر کرتے ہیں ، جن پر عملدرآمد کے بغیر تحریک ِ آزادیءکشمیر کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے تقاضے کسی صورت بھی پورے نہیں ہو سکتے ہیں ۔ یہ اقدامات حسبِ ذیل ہیں ۔

      اولاً: ملتِ پاکستان بشمول حکومت پاکستان اس حقیقت کا شعوری طور پر ادراک کرے کہ مقبوضہ کشمیر میں جاری مزاحمت کی تحریک جہاں کشمیری عوام کی آزادی اور حق خودارادیت کی تحریک ہے وہاں پاکستان کی تکمیل اور بقا کی تحریک بھی ہے ۔ اور اس تحریک سے بیگانگی قومی خود کشی کے مترادف ہو گی ۔

      ثانیاً: حکومت ِ پاکستان اس بات کا واضح اور دو ٹوک طور پر اعلان کرے کہ پاکستان مسئلہ کشمیر کے حوالے سے اپنے اصولی موقف پر جو تقسیم ِ برصغیر کے اصولوں اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں کشمیر میں آزادانہ اور غیر جانبدارانہ رائے شماری کے مطالبے پر مبنی ہے ، قائم ہے اور قائم رہے گا ۔

     ثالثاً: حکومتِ پاکستان کو اس بات کا بھی واضح اور دو ٹوک انداز میں اعتراف اور اعلان کرنا چاہےو کہ پاکستان چونکہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی رو سے مسئلہ کشمیر کا بنیادی فریق ہے ۔ اس لے سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق کشمیر میں رائے شماری کے مطالبے اور اس پر عملدرآمد کے لےی جاری تحریکِ مزاحمت کی تائید و حمایت کرنا پاکستان کا آئینی و قانونی اور اخلاقی فرض اور ذمہ داری ہے ۔ جس سے پاکستان لا تعلق اور بیگانہ نہیں رہ سکتا ہے ۔ لہٰذا سلامتی کونسل کی ان قراردادوں کی رو سے پاکستان اس بات کا پابند ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں جاری تحریکِ مزاحمت کی بھرپور تائید و حمایت کرے ۔ جو اس کا حق بھی اور فرض بھی ۔

     رابعاً: حکومت ِ پاکستان کو اس بات کا بھی واضح اور دو ٹوک انداز میں اعلان کرنا چاہےے کہ جب تک بھارت مسئلہ کشمیر کو متنازعہ تسلیم کر کے اسے حل کرنے پر آمادہ نہیں ہوجاتا ہے ، اس وقت تک نہ تو بھارت کے ساتھ تعلقات کی بحالی کا عمل شروع کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس کے ساتھ کسی طرح کی تجارت کی جا سکتی ہے ۔

     خامساً: صدر پرویز مشرف نے امریکی ایجنڈے کی تکمیل کے لےے تحریکِ آزادی کشمیر کی قیادت میں اختلاف کو ہوا دینے کا جو گھناونا عمل شروع کیا تھا ۔ موجودہ حکومت کو فوری طور پر اسے بندکرنے کا اہتمام کرنا چاہےا ۔

     سادساً: اہلِ پاکستان کو حکومتی سطح پر بھی اور عوامی سطح پر بھی ، اس عہد کی تجدید کرنی چاہےے کہ جب تک مسئلہ کشمیر کو کشمیری عوام کی امنگوں اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل نہیں کیا جاتا ہے ، اس وقت تک بھارتی مصنوعات کا مکمل طور پر بائیکاٹ جاری رکھا جائے گا ۔

     سابعاً: اہلِ پاکستان کو حکومتی سطح پر اور عوامی سطح پر بھی اس بات کا ادراک ہونا چاہےے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی ریاستی دہشت گردی کے نتیجے میں جو لوگ متاثر ہوئے ہیں ان کو ریلیف بہم پہنچانا ہماری دینی و اخلاقی ذمہ داری ہے ۔ لہٰذا ہںیت ہر صورت اس کا اہتمام کرنا چاہےء۔

     ثامناً : آزادکشمیر میں جو تحریک آزادیءکشمیر کا بیس کیمپ ہے اور جسے آزادکشمیر کی مختلف سیاسی جماعتوں نے اقتدار کی کشمکش اور اکھاڑ پچھاڑ کا اڈا بنا رکھا ہے ،کو ایک مثالی اسلامی معاشرہ قائم کرنے کا اہتمام کیا جائے تاکہ صحیح معنوں میں تحریک اسلامی کا بیس کیمپ ثابت ہوسکے اس کے لئے مناسب رہے گا کہ مقبوضہ کشمیر میں تحریک آزادی کشمیر کی تکمیل تک آزاد کشمیر میں ایک ایسی قومی حکومت تشکیل دی جائے جو آزاد کشمیر میں ایک فلاحی اسلامی معاشرہ قائم کرنے کے ساتھ ساتھ مقبوضہ کشمیر میں جاری تحریک آزادی میں بھی ایک موثر اور فیصلہ کن کردار ادا کرسکے ۔

      تاسعاً : اسی طرح پاکستان جو تحریک آزادءکشمیر کی منزل ہے قائد اعظم اور علامہ اقبال کے فرمودات کے مطابق صحیح معنوں میں ایک مکمل اسلامی نظام قائم کرکے اسے ایک حقیقی فلاحی اسلامی ریاست بنایا جائے تاکہ اس کے نتیجے میں تحریک آزادی کشمیر کو ایک نئی مہمیز مل سکے ۔

     ہمیں یقین ہے کہ ان اقدامات پر عمل درآمد کے نتیجے میں تحریک آزادءکشمیر کے ساتھ یکجہتی کے تقاضے صحیح طور پر پورے ہو سکیں گے ۔ اور یہی یوم یکجہتی کشمیر کا تقاضہ ہے ۔

     

     

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں



سوشل میڈیا لنکس