Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

ہمیشہ برائی کے خلاف مزاحمت کریں

  1.  


                   تحریر : لیاقت بلوچ ۔

                 سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان۔ 

    اللہ نے قرآن پاک میں مسلمانوں کو حکم دیا ہے کہ وہ اللہ کے دشمنوںکے خلاف ، اپنے دشمنوں کے خلاف اور ان دشمنوںکے خلاف جو چھپے ہوئے ہیں ،مگر اللہ ان کو جانتا ہے ان کے خلاف اپنے گھوڑے اور اپنی فوج ہمیشہ تیار رکھیں ۔ اس سے ان کے دشمنوں پر ہیبت طاری ہوجائے گی۔اللہ نے مسلمانوں کو ایمان کی طاقت سے نوازا ہے۔انسانی تاریخ کسی بھی ایسی قوم کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے جو مسلمانوں سے زیادہ بہادر اور نڈر ہو۔ اللہ تعالی کی ان تعلیمات کو پھر سے یاد کرنے کی ضرورت ہے جنہیں ہم غالباً فراموش کرچکے ہیں۔کسی بھی خطرے یا برائی کے خلاف مزاحمت اسلام کے بنیادی اصولوں میں سے ایک ہے۔نبی پاکﷺ کی زندگی ایسی مثالوں سے بھری ہوئی ہے۔انہوں نے عرب کے کافروں کی غیر اخلاقی اور غیر مہذبانہ حرکات اور عادات کا بڑی استقامت سے سامنا کیا۔حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا کہ تم میں سے جو کوئی بھی برائی دیکھے ۔اسے چاہیے کہ اسے ہاتھ سے روکے ۔اگر وہ ایسا نہ کرسکے تو زبان سے روکے۔ اگر پھر بھی وہ ایسا نہ کرسکے تو اسے دل میں برا سمجھے۔اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے۔ 
     مسلم امہ اپنی تاریخ کے نازک ترین دور سے گزر رہی ہے۔ ہمیں کئی جانب سے خطرات کا سامنا ہے۔ان میں امریکہ ، انڈیا، اسرائیل اور کئی مغربی ممالک شامل ہیں۔یہ خطرات ماضی کی طرح معمولی نوعیت کے نہیں ہیں۔ بلکہ اب بحثیت مسلم امہ ہمارا اتحاد، شناخت اور حتیٰ کہ ایمان شدید خطرات سے دوچار ہے۔ اگرچہ ہمیں معاملے کی نزاکت کا احساس ہے ۔لیکن ہم ابھی بھی الجھن کا شکار ہیں ۔ کہیں اور کھوئے ہوئے ہیں۔شائید ہم اپنی شاندار تاریخ، فتوحات اور بہادری کی بے مثال داستانوں کو بھلا چکے ہیں۔ہمارے دشمن ہمارے مقابلے میں زیادہ مضبوط اور متحد ہیں۔ اگرچہ مسلمان دنیا کے مختلف حصوں میں ناانصافی، ظلم اور جارحیت کے خلاف مزاحمت کررہے ہیں ۔ لیکن یہ اس طرح کی مزاحمت اور احتجاج نہیں ہے جو ہمارے شاندار ماضی کے احیاءکے لیے درکار ہے۔ ایرانیوں نے امام خمینی کی قیادت میں ۰۴ سال تک مزاحمت کی ۔ فلسطینی ابھی تک اسرائیل کے مظالم کا مقابلہ کررہے ہیں۔ اگرچہ ان کی مزاحمت کافی کمزور ہے۔ اسی طرح کشمیری گذشتہ ۰۷ سال سے انڈیا کے مظالم کے خلاف مزاحمت کررہے ہیں۔ میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کی قربانیاں بھی ناقابل فراموش ہیں۔ وہ اپنی شناخت اور اپنے علاقے کے لیے جدوجہد کررہے ہیں۔دنیا کے مختلف حصوں میں مسلمانوں کے چھوٹے چھوٹے گروپ اپنی شناخت کے لیے برسرپیکار ہیں۔تمام مسلم تحریکیں تقریباً ناکام ہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ہمیں نئے انداز سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔
    سب سے پہلے ہمیں اپنے اندر اتحاد اور ہم آہنگی پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔دوسرا یہ کہ ہمیں اس معاملے میں باقائدہ پالیسیاں بنانے اور ان پر عمل درآمد کرنے کے لیے مشترکہ ٹاسک فورس تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔ ہمیں دوست اور دشمن کے درمیان تفریق کرنے کی ضرورت ہے۔
    نوم چونسکی ایک مشہور امریکی مصنف ہے ۔اس نے امریکہ کو دنیا کی سب سے بڑی دہشت گرد ریاست قرار دیا ہے۔ یہ دعوی درست بھی ہے۔کیونکہ امریکہ فلسطینی علاقے پر اسرائیل کے قبضے کی حمایت کررہا ہے۔مالی اور نظریاتی دونوں لحاظ سے۔امریکہ نے اقوام متحدہ میں ۰۴ سے زیادہ مرتبہ اسرائیل کے حق میں ووٹ دیا ہے۔امریکہ دنیا کے کسی بھی ملک سے زیادہ اسرائیل کو مالی امداد دے رہا ہے۔ یہ اسرائیل کے لیے کبھی بھی اپنی امداد بند نہیں کرتا۔ جبکہ امریکہ فلسطین کے مظلوم لوگوں کی امداد اکثر بند کردیتا ہے۔ہم اس موقع پرکشمیر کے معصوم اور مظلوم لوگوں کو نہیں بھلا سکتے۔ کشمیر بر صغیر کی تقسیم کا نامکمل ایجنڈا ہے۔کشمیری گزشتہ ۰۷ سالوں سے اپنے حق خود ارادیت کے لیے تحریک چلا رہے ہیں۔وہ آزادی کی خاطر اپنی، جان، مال اور عزت قربان کررہے ہیں۔انڈیا نے ان کی تحریک آزادی کودبانے کے لیے دس لاکھ فوج وادی میں لگا رکھی ہے۔لیکن سب بیکار ہے۔ان کی تحریک کو دبانا نا ممکن ہے۔پاکستان اخلاقی بنیادوں پر کشمیریوں کی مدد کررہا ہے۔ یہ ان کی اس طرح سے مدد نہیں کررہا ہے جیسے اس کو کرنی چاہیے۔اگر روہنگیا مسلمانوں کی حالت زار دیکھیں تو ہمیں دکھ ہوگا کہ ان کا کوئی پرسان حال نہیں۔ان کی مدد کرنے والا کوئی نہیں۔ ان پر ڈھائے جانے والے مظالم کا کسی سطح پر کوئی زکر نہیں۔ بدھ انتہا پسند ان کے گھروں کو جلا رہے ہیں اور ان کو ان کے گاو ¿ں سے بیدخل کررہے ہیں۔یہ حالات ہیں مسلم دنیا کے۔ہمیں اس مقصد کے لیے تمام انسانی وسائل کو بروئے کار لانا چاہیے۔مثلاً نوجوانوں، خواتین اور مردوں کے اسلامی مراکز قائم کیے جانے چاہییں۔ہماری حکومت کو ان تمام مسلمانوں کی آواز بننا چاہیے جو مظلوم، مجبور اور بے بس ہیں۔ان کی ہر سطح پر مدد کی جانی چاہیے۔ان کے حقوق کے لیے قومی اور بین الاقوامی سطح پر سفارتی دباو ¿ بڑھانا چاہیے۔مسلمان تعداد، قوت اور وسائل کے لحاظ سے کسی بھی طرح کم نہیں ہیں کہ وہ کسی مسئلے سے نپٹ نہ سکیں۔ ہم دنیا کی آبادی کا چوتھا حصہ ہیں۔ہم مسلمان مجموعی طور پر دنیا کی تیسری بڑی معیشت ہیں۔ہمیں اپنے اختلافات بھلانا ہوں گے۔ اپنے زاتی مفادات کو پس پشت ڈالنا ہوگا۔ میں ان الفاظ کے ساتھ بات ختم کرنا چاہوں گا کہ ہمیں قرآن کی تعلیمات پر عمل کرنا ہوگا۔ہمیں موجودہ خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے خود کو تیار کرنا ہوگا۔ اے اللہ ہمیں اتنی طاقت دے کہ ہم اپنے دین کی حفاظت کرسکیں اور مصیبت زدہ مسلمان بھائیوں کی مدد کرسکیں۔ آمین۔

     


 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں

سوشل میڈیا لنکس