Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

یہود یثرب اور میثاق مدینہ

  1. سیدابوالاعلی مودودی

     رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو آپؐ کا پہلا عظیم الشان کارنامہ انصار و مہاجرین کے درمیان نظامِ مواخات کا قیام تھا۔ اس کے ساتھ ہی مکّے کے اہلِ ایمان کو مدینے (دارالاسلام) کی طرف ہجرت کا حکم دیا گیا، کیوں کہ مدینۂ طیبہ ایک شہری ریاست بن چکا تھا، جس میں مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان چند واضح شرائط پر ایک معاہدہ میثاقِ مدینہ طے پاگیا کہ کوئی کسی کے حقوق پر دست درازی نہ کرے گا، اور بیرونی دشمنوں کے مقابلے میں دونوں فریق متحد ہوکر مدینے کا دفاع کریں گے۔ میثاقِ مدینہ مسلمانوں کے نزدیک اس لیے اہم تھا کہ اس معاہدے کے مطابق قوت و اقتدار کا مرکزی کردار آنحضوؐر کی ذات کو تسلیم کرلیا گیا تھا۔
    یہاں مناسب معلوم ہوتا ہے کہ یہود کی تاریخ اور یہود حجاز کے طرزِعمل پر ایک نگاہ ڈالی جائے تاکہ اندازہ ہوسکے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود کے ساتھ جو معاہدہ کیا، وہ کیوں ضروری تھا، اور اس کے حقیقی اسباب کیا تھے؟
    یھودِ مدینہ کی تاریخ
    عرب کے یہودیوں کی کوئی مستند تاریخ دنیا میں موجود نہیں ہے۔ انھوں نے خود اپنی کوئی ایسی تحریر کسی کتاب یا کتبے کی شکل میں نہیں چھوڑی ہے جس سے ان کے ماضی پر کوئی روشنی پڑسکے۔ اور عرب سے باہر کے یہودی مؤرخین و مصنفین نے اُن کا کوئی ذکر نہیں کیا ہے، جس کی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ جزیرۃ العرب میں آکر وہ اپنے بقیہ ابناے ملّت سے بچھڑگئے تھے ، اور دنیا کے یہودی سرے سے اُن کو اپنوں میں شمار ہی نہیں کرتے تھے، کیونکہ انھوں نے عبرانی تہذیب، زبان، حتیٰ کہ نام تک چھوڑ کر عربیت اختیار کر لی تھی۔ حجاز کے آثار قدیمہ میں جو کتبات ملے ہیں، اُن میں پہلی صدی عیسوی سے قبل یہودیوں کا کوئی نشان نہیں ملتا، اور ان میں بھی صرف چند یہودی نام ہی پائے جاتے ہیں۔ اس لیے یہودِ عرب کی تاریخ کا بیش تر انحصار اُن زبانی روایات پر ہے جو اہلِ عرب میں مشہور تھیں، اور ان میں اچھا خاصا حصہ خود یہودیوں کا اپنا پھیلایا ہوا تھا۔
    حجاز کے یہودیوں کا یہ دعویٰ تھا کہ سب سے پہلے وہ حضرت موسٰی علیہ السلام کے آخر عہد میں یہاں آکرآباد ہوئے تھے۔ اس کا قصّہ وہ یہ بیان کرتے تھے کہ حضرت موسٰی ؑ نے ایک لشکر یثرب کے علاقے سے عَمالِقَہ کو نکالنے کے لیے بھیجا تھا اور اسے حکم دیا تھا کہ اس قوم کے کسی شخص کو زندہ نہ چھوڑیں۔ بنی اسرائیل کے اس لشکر نے یہاں آکرفرمانِ نبی کی تعمیل کی، مگر عَمالقہ کے بادشاہ کا ایک لڑکا بڑا خوب صورت نوجوان تھا، اسے انھوں نے زندہ رہنے دیا اور اس کو ساتھ لیے ہوئے فلسطین واپس پہنچے۔ اُس وقت حضرت موسٰی ؑ کا انتقال ہو چکا تھا۔ اُن کے جانشینوں نے اِس بات پر سخت اعتراض کیا کہ ایک عمالیقی کو زندہ چھوڑ دینا نبی کے فرمان اور شریعتِ موسوی کے احکام کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اس بنا پر انھوں نے اِس لشکر کو اپنی جماعت سے خارج کر دیا، اور اسے مجبوراً یثرب واپس آکر یہیں بس جانا پڑا (کتاب الاغانی، ج ۱۹، ص ۹۴)۔ اس طرح یہودی گویا اس بات کے مدعی تھے کہ وہ ۱۲ سو برس قبل مسیح سے یہاں آباد ہیں۔ لیکن درحقیقت اس کا کوئی تاریخی ثبوت نہیں ہے،اور اغلب یہ ہے کہ یہودیوں نے یہ افسانہ اس لیے گھڑا تھا کہ اہلِ عرب پر اپنے قدیم الاصل اور عالی نسب ہونے کی دھونس جمائیں۔
    دوسری یہودی مہاجرت، خود یہودیوں کی اپنی روایت کے مطابق ۵۸۷ قبلِ مسیح میں ہوئی، جب کہ بابِل کے بادشاہ بُختِ نَصَّر نے بیت المَقدِس کو تباہ کر کے یہودیوں کو دنیا بھر میں تتربتر کر دیا تھا۔ عرب کے یہودی کہتے تھے کہ اُس زمانے میں ہمارے متعدد قبائل آکر وادی القُریٰ، تَیماء اور یثرب میں آباد ہوگئے تھے (فُتوح البُلدان، البلاذُرِی)۔ لیکن اِس کا بھی کوئی تاریخی ثبوت نہیں ہے۔ بعید نہیں کہ اس سے بھی وہ اپنی قدامت ثابت کرنا چاہتے ہوں۔
    حقیقت کیا ھے؟
    درحقیقت جو بات ثابت ہے وہ یہ ہے کہ جب سنہ ۷۰ء میں رومیوں نے فلسطین میں یہودیوں کا قتلِ عام کیا، اور پھر سنہ ۱۳۲ء میں انھیں اس سرزمین سے بالکل نکال باہر کیا، اُس دَور میں بہت سے یہودی قبائل بھاگ کر حجاز میں پناہ گزین ہوئے تھے، کیونکہ یہ علاقہ فلسطین کے جنوب میں متصل ہی واقع تھا۔ یہاں آکر انھوں نے جہاں جہاں چشمے اور سرسبز مقامات دیکھے، وہاں ٹھیر گئے اور پھر رفتہ رفتہ اپنے جوڑ توڑ اور سُودخواری کے ذریعے سے اُن پر قبضہ جما لیا۔ اَیلہ، مَقنا، تبوک، تَیماء، وادی القُریٰ، فَدَک اور خیبر پر اُن کا تسلّط اسی دَور میں قائم ہوا۔ اور بنی قُرَیَظہ، بنی نَضِیر، بنی بَہدَل اور بنی قَینُقَاع بھی اُسی دور میں آکر یثرب پر قابض ہوئے۔
    یثرب میں آباد ہونے والے [تین] قبائل میں سے بنی نَضِیر اور بنی قُرَیَظہ زیادہ ممتاز تھے ، کیونکہ وہ کاہنوں (Cohens یا Priests) کے طبقے میں سے تھے، انھیں یہودیوں میں [بنوقَینُقاع کے مقابلے میں] عالی نسب مانا جاتا تھا اور ان کو اپنی ملّت میں مذہبی ریاست حاصل تھی۔ یہ لوگ جب مدینے میں آکر آباد ہوئے، اُس وقت کچھ دوسرے عرب قبائل یہاں رہتے تھے جن کو انھوں نے دبا لیا اور عملاً اِس سرسبز و شاداب مقام کے مالک بن بیٹھے۔ اس کے تقریباً تین صدی بعد سنہ ۴۵۰ء یا ۴۵۱ء میں یمن کے اُس سیلابِ عظیم کا واقعہ پیش آیا جس کا ذکر سورۂ سبا کے دوسرے رکوع میں آیا ہے۔ اِس سیلاب کی وجہ سے قومِ سبا کے مختلف قبیلے یمن سے نکل کر عرب کے اطراف میں پھیل جانے پر مجبور ہوئے۔ ان میں سے غَسّانی شام میں، لَخمی حِیرَہ (عراق) میں، بنی خُزاعہ جدّہ و مکّہ کے درمیان، اور اَوس و خَزرَج یثرب میں جاکر آباد ہوئے۔ یثرب پرچونکہ یہودی چھائے ہوئے تھے، اس لیے انھوں نے اوّل اوّل اَوس و خَزرَج کی دال نہ گلنے دی اور یہ دونوں عرب قبیلے چارو ناچار بنجر زمینوں پر بس گئے، جہاں اُن کو قُوتِ لایمُوت بھی مشکل سے حاصل ہوتا تھا۔ آخرکار ان کے سرداروں میں سے ایک شخص اپنے غَسّانی بھائیوں سے مدد مانگنے کے لیے شام گیا اور وہاں سے ایک لشکر لا کر اس نے یہودیوں کا زور توڑ دیا۔ اس طرح اَوس و خَزرَج کو یثرب پر پورا غلبہ حاصل ہو گیا۔ یہودیوں کے دو بڑے قبیلے، بنی نَضِیر اور بنی قُرَیَظہ شہر کے باہر جاکر بسنے پر مجبور ہوگئے۔ تیسرے قبیلے بنی قَینُقاع کی چونکہ اِن دونوں یہودی قبیلوں سے اَن بن تھی، اس لیے وہ شہر کے اندر ہی مقیم رہا، مگر یہاں رہنے کے لیے اُسے قبیلۂ خَزرَج کی پناہ لینی پڑی۔ اور اُس کے مقابلے میں بنی نَضِیر و بنی قُرَیَظہ نے قبیلۂ اَوس کی پناہ لی، تاکہ اطرافِ یثرب میں امن کے ساتھ رہ سکیں۔۔۔
    یھودِ یثرب کے نمایاں خدوخال
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلّم کی تشریف آوری سے پہلے، آغازِ ہجرت تک، حجاز میں عموماً اور یثرب میں خصوصاً یہودیوں کی پوزیشن کے نمایاں خدوخال یہ تھے:
    l عربیت کا رنگ: زبان، لباس،تہذیب، تمدّن، ہر لحاظ سے انھوں نے پوری طرح عربیت کا رنگ اختیار کرلیا تھا، حتیٰ کہ ان کی غالب اکثریت کے نام تک عربی ہوگئے تھے(ایضاً، ص ۹۲۔۹۴)۔ یہودی قبیلے جو حجاز میں آباد ہوئے تھے، ان میں سے بنی زَعُورا کے سوا کسی قبیلے کا نام عبرانی نہ تھا۔ ان کے چند گنے چُنے علما کے سوا کوئی عبرانی جانتا تک نہ تھا۔ زمانۂ جاہلیت کے یہودی شاعروں کا جو کلام ہمیں ملتا ہے، ان کی زبان اور خیالات اور مضامین میں شعراے عرب سے الگ کوئی امتیازی شان نہیں پائی جاتی جو انھیں مُمیَّز کرتی ہو۔ اُن کے اور عربوں کے درمیان شادی بیاہ تک کے تعلقات قائم ہو چکے تھے۔ درحقیقت ان میں اور عام عربوں میں دین کے سوا کوئی فرق باقی نہ رہا تھا۔ لیکن اِن ساری باتوں کے باوجود وہ عربوں میں جذب بالکل نہ ہوئے تھے، اور انھوں نے شدّت کے ساتھ اپنی یہودی عصبیّت برقرار رکھی تھی۔ یہ ظاہری عربیت انھوں نے صرف اس لیے اختیار کی تھی کہ اس کے بغیر وہ عرب میں رہ نہ سکتے تھے۔
    اسرائیلیت کا شدید تعصب: ان کی اِس عربیت کی وجہ سے مغربی مُستشرقین کو یہ دھوکا ہوا ہے کہ شاید یہ بنی اسرائیل نہ تھے بلکہ یہودی مذہب قبول کرنے والے عرب تھے، یا کم از کم ان کی اکثریت عرب یہودیوں پر مشتمل تھی۔ لیکن اس امر کا کوئی تاریخی ثبوت نہیں ملتا کہ یہودیوں نے حجاز میں کبھی کوئی تبلیغی سرگرمی دکھائی ہو، یا ان کے علما نصرانی پادریوں اور مشنریوں کی طرح اہلِ عرب کو دین یہود کی طرف دعوت دیتے ہوں۔
    اس کے برعکس ہم یہ دیکھتے ہیں کہ ان کے اندر اسرائیلیت کا شدید تعصب اور نسلی فخر و غرور پایا جاتا تھا۔ اہلِ عرب کو وہ اُمّی (gentiles) کہتے تھے، جس کے معنی صرف اَن پڑھ کے نہیں بلکہ وحشی اور جاہل کے تھے۔ ان کا عقیدہ یہ تھا کہ ان اُمّیوں کو وہ انسانی حقوق حاصل نہیں ہیں جو اسرائیلیوں کے لیے ہیں اور ان کا مال ہر جائز و ناجائز طریقے سے مار کھانا اسرائیلیوں کے لیے حلال و طیب ہے۔ سردارانِ عرب کے ماسوا، عام عربوں کو وہ اس قابل نہ سمجھتے تھے کہ انھیں دین یہود میں داخل کرکے برابر کا درجہ دے دیں۔ تاریخی طور پر اس کا کوئی ثبوت نہیں ملتا، نہ روایاتِ عرب میں ایسی کوئی شہادت ملتی ہے کہ کسی عرب قبیلے یا کسی بڑے خاندان نے یہودیت قبول کی ہو۔ البتہ بعض افراد کا ذکر ضرور ملتا ہے جو یہودی ہوگئے تھے۔ ویسے بھی یہودیوں کو تبلیغ دین کے بجاے صرف اپنے کاروبار سے دل چسپی تھی۔ اِسی لیے حجاز میں یہودیت ایک دین کی حیثیت سے نہیں پھیلی بلکہ محض چند اسرائیلی قبیلوں کا سرمایۂ فخروناز ہی بنی رہی۔ البتہ یہودی علما نے تعویذ گنڈوں اور فال گیری اور جادُوگری کا کاروبار خوب چمکا رکھا تھا، جس کی وجہ سے عربوں پر اُن کے ’علم‘ اور ’عمل ‘کی دھاک بیٹھی ہوئی تھی۔
     مضبوط معیشت اور سود خواری: معاشی حیثیت سے ان کی پوزیشن عرب قبائل کی بہ نسبت زیادہ مضبوط تھی۔ چونکہ وہ فلسطین و شام کے زیادہ متمدن علاقوں سے آئے تھے، اس لیے وہ بہت سے ایسے فنون جانتے تھے جو اہلِ عرب میں رائج نہ تھے، اور باہرکی دنیا سے ان کے کاروباری تعلقات بھی تھے۔ اِن وجوہ سے یثرب اور بالائی حجاز میں غلّے کی درآمد اور یہاں سے چھواروں کی برآمد ان کے ہاتھ میں آگئی تھی۔ مرغ بانی اور ماہی گیری پر بھی زیادہ تر انھی کا قبضہ تھا۔ پارچہ بافی کا کام بھی ان کے ہاں ہوتا تھا۔ جگہ جگہ مے خانے بھی انھوں نے قائم کر رکھے تھے، جہاں شام سے شراب لاکر فروخت کی جاتی تھی۔ بنی قَینُقاع زیادہ تر سُنار اور لوہار اور ظروف سازی کا پیشہ کرتے تھے۔ اس سارے بَنجَ بیوپار میں یہ یہودی بے تحاشا منافع خوری کرتے تھے۔ لیکن ان کا سب سے بڑا کاروبار سودخواری کا تھا، جس کے جال میں انھوں نے گردوپیش کی عرب آبادیوں کو پھانس رکھاتھا، اور خاص طور پر عرب قبائل کے شیوخ اور سردار، جنھیں قرض لے لے کر ٹھاٹ جمانے اور شیخی بگھارنے کی بیماری لگی ہوئی تھی، ان کے پھندے میں پھنسے ہوئے تھے۔ یہ بھاری شرح سُود پر قرضے دیتے، اور پھر سُوددر سُود کا چکر چلاتے تھے، جس کی گرفت میں آجانے کے بعد مشکل ہی سے کوئی نکل سکتا تھا۔ اِس طرح انھوں نے عربوں کو معاشی حیثیت سے کھوکھلا کر رکھا تھا، مگر اِس کا فطری نتیجہ یہ بھی تھا کہ عربوں میں بالعموم ان کے خلاف ایک گہری نفرت پائی جاتی تھی۔
    دوغلی پالیسی: ان کے تجارتی اور مالی مفادات کا تقاضا یہ تھا کہ عربوں میں کسی کے دوست بن کر کسی سے نہ بگاڑیں اور نہ ان کی باہمی لڑائیوں میں حصہ لیں۔ لیکن دوسری طرف ان کے مفاد ہی کا تقاضا یہ بھی تھا کہ عربوں کو باہم متحد نہ ہونے دیں، اور انھیں ایک دوسرے سے لڑاتے رہیں، کیونکہ وہ اس بات کو جانتے تھے کہ جب بھی عرب قبیلے باہم متحد ہوئے، وہ اُن بڑی بڑی جایدادوں اور باغات اور سرسبز زمینوں پر انھیں قابض نہ رہنے دیں گے جو انھوں نے اپنی منافع خوری اور سُودخواری سے پیدا کی تھیں۔ مزیدبرآں اپنی حفاظت کے لیے ان کے ہر قبیلے کو کسی نہ کسی طاقت ور عرب قبیلے سے حلیفانہ تعلقات بھی قائم کرنے پڑتے تھے، تاکہ کوئی دوسرا زبردست قبیلہ ان پر ہاتھ نہ ڈال سکے۔ اس بناپر بارہا انھیں نہ صرف ان عرب قبائل کی باہمی لڑائیوں میں حصہ لینا پڑتا تھا، بلکہ بسااوقات ایک یہودی قبیلہ اپنے حلیف عرب قبیلے کے ساتھ مل کر کسی دوسرے یہودی قبیلے کے خلاف جنگ آزما ہو جاتا تھا جس کے حلیفانہ تعلقات فریق مخالف سے ہوتے تھے۔ یثرب میں بنی قُرَیَظہ اور بنی نَضِیر اَوس کے حلیف تھے اور بنی قَینُقاع خَزرَج کے۔ ہجرت سے تھوڑی مدّت پہلے اَوس اور خَزرَج کے درمیان جو خوں ریز لڑائی بُعاث کے مقام پر ہوئی تھی، اُس میں یہ اپنے اپنے حلیفوں کے ساتھ مل کر ایک دوسرے سے نبرد آزما ہوئے تھے۔
    میثاقِ مدینہ
    یہ حالات تھے جب مدینے میں اسلام پہنچا اور بالآخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کے بعد وہاں ایک اسلامی ریاست وجود میں آئی۔ آپؐ نے اس ریاست کو قائم کرتے ہی جو اوّلین کام کیے، ان میں سے ایک یہ تھا کہ اَوس اور خَزرَج اور مہاجرین کو ملاکر ایک برادری بنائی، اور دوسرا یہ تھا کہ اس مسلم معاشرے اور یہودیوں کے درمیان واضح شرائط پر ایک معاہدہ طے کیا، جس میں اس امر کی ضمانت دی گئی کہ کوئی کسی کے حقوق پر دست درازی نہ کرے گا اور بیرونی دشمنوں کے مقابلے میں یہ سب متحدہ دفاع کریں گے۔
    اس معاہدے کے چند اہم فقرے یہ ہیں، جن سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ [نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سربراہی میں] یہود اور مسلمانوں نے ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات میں کن اُمور کی پابندی قبول کی تھی:
    اِنَّ عَلَی الْیَہُوْدِ نَفَقَتُہُمْ وَعَلَی الْمُسْلِمِیْنَ نَفَقَتُہُمْ ، وَ اِنَّ بِیْنَہُمُ النَّصْرُ عَلٰی مَنْ حَارَبَ اَہْلَ ہٰذِہِ الصَّحِیْفَۃِ ، وَ اِنَّ بَیْنَھُمْ النُّصْحُ وَالنَّصِیْحَۃُ وَالْبِرُّ دُوْنَ الْاِثْمِ ، وَاِنَّہُ لَمْ یَاثَمْ اِمْرَؤٌ بِحَلِیْفِہٖ ، وَ اِنَّ النَّصْرَ لِلْمَظْلُوْمِ، وَ اِنَّ الْیَہُوْدَ یُنْفِقُوْنَ مَعَ الْمُؤْمِنِیْنَ مَا دَامُوا مُحَارِبِیْنَ ، وَ اِنَّ یَثْرَبَ حَرَامٌ جَوْفُھَا لِاَہْلِ ہٰذِہِ الصَّحِیْفَۃِ ۔۔۔۔۔۔ وَ اِنَّہُ مَا کَانَ بَیْنَ اَہْلِ ہٰذِہِ الصَّحِیْفَۃِ مِنْ حَدَثٍ اَوْ اِشْتَجَارِ یُخَافُ فَسَادُہُ فَاِنَّ مَرَدَّہُ اِلَی اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ وَاِلٰی مُحَمَّدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ۔۔۔۔۔۔ وَ اِنَّہُ لَا تُجَارُ قُرَیْشٌ وَلَا مَنْ نَصَرَہَا، وَ اِنَّ بَیْنَہُمُ النَّصْرُ عَلٰی مَنْ دَہِمَ یَثْرِبَ ۔ عَلٰی کُلِّ اُنَاسٍ حِصَّتَہُمْ مِنْ جَانِبِھِمْ الَّذِیْ قِبَلَہُمْ (ابن ہشام، ج ۲ ، ص ۱۴۷ تا ۱۵۰)
    یہ کہ یہودی اپنا خرچ اٹھائیں گے اور مسلمان اپنا خرچ، اور یہ کہ اس معاہدے کے شرکا، حملہ آور کے مقابلے میں ایک دوسرے کی مدد کے پابند ہوں گے۔ اور یہ کہ وہ خلوص کے ساتھ ایک دوسرے کی خیرخواہی کریں گے اور ان کے درمیان نیکی و حق رسانی کا تعلق ہوگا نہ کہ گناہ اور زیادتی کا۔ اور یہ کہ کوئی اپنے حلیف کے ساتھ زیادتی نہیں کرے گا، اور یہ کہ مظلوم کی حمایت کی جائے گی، اور یہ کہ جب تک جنگ رہے ، یہودی مسلمانوں کے ساتھ مل کر اُس کے مصارف اٹھائیں گے۔ اور یہ کہ اس معاہدے کے شرکا پر یثرب میں کسی نوعیت کا فتنہ و فساد کرنا حرام ہے۔ اور یہ کہ اس معاہدے کے شرکا کے درمیان اگر کوئی ایسا قضیہ یا اختلاف رونما ہو جس سے فساد کا خطرہ ہو تو اس کا فیصلہ اللہ کے قانون کے مطابق محمد رسول اللہ کریں گے۔۔۔ اور یہ کہ قریش اور اس کے حامیوں کو پناہ نہیں دی جائے گی، اور یہ کہ یثرب پر جو بھی حملہ آور ہو، اس کے مقابلے میں شرکاے معاہدہ ایک دوسرے کی مدد کریں گے۔۔۔ ہر فریق اپنی جانب کے علاقے کی مدافعت کا ذمہ دار ہوگا۔
    یہ ایک قطعی اور واضح معاہدہ تھا جس کی شرائط یہودیوں نے خود قبول کی تھیں۔ لیکن بہت جلدی انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلّم اور اسلام اور مسلمانوں کے خلاف معانِدانہ روش کا اظہار شروع کر دیا اور ان کا عناد روز بہ روز سخت سے سخت تر ہوتا چلا گیا۔ اس کے بڑے بڑے وجوہ تین تھے:
    ___ایک یہ کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلّم کو محض ایک رئیسِ قوم دیکھنا چاہتے تھے جو اُن کے ساتھ بس ایک سیاسی معاہدہ کرکے رہ جائے اور صرف اپنے گروہ کے دنیوی مفاد سے سروکار رکھے، مگر انھوں نے دیکھا کہ آپؐ تو اللہ اور آخرت اور رسالت اور کتاب پر ایمان لانے کی دعوت دے رہے ہیں (جس میں خود اُن کے اپنے رسولوں اور کتابوں پر ایمان لانا بھی شامل تھا)، اور معصیت چھوڑ کر اُن احکام الٰہی کی اطاعت کرنے اور اُن اخلاقی حُدود کی پابندی کرنے کی طرف بلا رہے ہیں جن کی طرف خود ان کے انبیا بھی دنیا کو بلاتے رہے ہیں۔ یہ چیز ان کو سخت ناگوار تھی۔ اُن کو خطرہ پیدا ہو گیا کہ یہ عالم گیر اصولی تحریک اگرچل پڑی تو اس کا سیلاب ان کی جامد مذہبیت اور ان کی نسلی قومیت کو بہا لے جائے گا۔
    ___دوسرے یہ کہ اَوس و خَزرَج اور مہاجرین کو بھائی بھائی بنتے دیکھ کر، اور یہ دیکھ کر کہ گردوپیش کے عرب قبائل میں سے بھی جو لوگ اسلام کی اِس دعوت کو قبول کر رہے ہیں وہ سب مدینے کی اِس اسلامی برادری میں شامل ہو کر ایک ملّت بنتے جا رہے ہیں، انھیں یہ خطرہ پیدا ہو گیا کہ صدیوں سے اپنی سلامتی اور اپنے مفادات کی ترقی کے لیے انھوں نے عرب قبیلوں میں پھوٹ ڈال کر اپنا اُلّو سیدھا کرنے کی جو پالیسی اختیار کر رکھی تھی، وہ اب اِس نئے نظام میں نہ چل سکے گی، بلکہ اب ان کو عربوں کی ایک متحدہ طاقت سے سابقہ پیش آئے گا، جس کے آگے ان کی چالیں کامیاب نہ ہو سکیں گی۔
    ___تیسرے یہ کہ معاشرے اور تمدّن کی جو اصلاح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلّم کر رہے تھے، اس میں کاروبار اور لین دین کے تمام ناجائز طریقوں کا سدّباب شامل تھا، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ سُود کو بھی آپؐ ناپاک کمائی اور حرام خوری قرار دے رہے تھے، جس سے انھیں خطرہ تھا کہ اگر عرب پر آپؐ کی فرماں روائی قائم ہوگئی تو آپؐ اسے قانوناً ممنوع کر دیں گے۔ اِس میں ان کو اپنی [معاشی اور سماجی] موت نظر آتی تھی۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں

سوشل میڈیا لنکس