Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

ماہ ربیع الاول کا پیغام

  1.  

    سیدمنورحسن

     ربیع الاول کی آمد کے ساتھ ہی ہر مسلمان کے دل کی کلی کھل اٹھتی ہے۔ دنیا بھر میں جہاں جہاں مسلمان بستے ہیں خوشی اور مسرت کی لہر دوڑ جاتی ہے اور آقا صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی نسبت کو اجاگر کرنے، آپ کے دامن سے ازسر نو وابستہ ہونے، آپ کی سنتوں کو اپنانے اور آپ کی شریعت مطہرہ کو جدوجہد کا عنوان بنانے کے لیے پوری امت شمالاً جنوباً اور شرقاً غرباً تحرک اور سرگرمی کا عنوان دکھائی دیتی ہے۔اور پھر ربیع الاول اپنے تک ہی محدود نہیں رہتا، ربیع الثانی بھی ربیع الاول نظر آتا ہے اور چاردانگ عالم میںنبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی چھوڑی ہوئی جدوجہد اور کشمکش کاخوگر دکھائی دیتا ہے۔

    کسی معاشرے میں نبی کی بعثت نظاموں کی کشمکش کو جنم دیتی ہے۔ موجود نظام اور قائم شدہ معاشرہ جہالت، شرک و بت پرستی اور ظلم کے ہر عنوان کو اپنے اندر سموئے ہوتاہے جبکہ نبی بندوں کو بندوں کی غلامی سے نکال کر بندوں کے رب کی طرف بلانے کی دعوت پیش کرتاہے۔ اس طرح نظاموں کی یہ آویزش دور و نزدیک ہر شے کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے۔ پرانا نظام اپنے تحفظ اور بقا کی جنگ ہر مورچے اور محاذ پر لڑتاہے،اور نبی کا پیش کردہ نظام نعرے کے مقابلے میں نعرہ، فلسفے کا متبادل فلسفہ، نظریے کا توڑ نظریہ، جدوجہد کے مقابلے میں جدوجہد، نیز استقامت، اولوالعزمی اور صبر و حوصلہ کے چراغ روشن کرتاہے۔

    نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جس معاشرے میں بعثت ہوئی وہ معاشرہ ان تمام خرابیوں اور برائیوں کی آماجگاہ تھا جس کا تصور انسان ہونے کے ناطے کیا جاسکتاہے۔ آپ کی مخالفت کرنے والے آپ کی ذات سے تو تعلق رکھتے تھے اور نباہ بھی کرنا چاہتے تھے، صادق و امین کہتے تھے لیکن وحی الٰہی کی بنیاد پر آپ جس تبدیلی اور تزکیے کی طرف بلارہے تھے وہ پرانے آباؤاجداد کے دین اور ہر رسم و رواج کونگل جانے والا نظام تھا لہٰذا جو لوگ آپ کی مخالفت کررہے تھے،سوچ سمجھ کر کررہے تھے،جانتے بوجھتے ایسا کررہے تھے اوراپنے نظام کے ٹمٹماتے چراغ کو ہر قیمت تحفظ دینا چاہتے تھے۔ اسی طرح جو آپ کے ہمنوا بن کر اٹھے اور آپ پرایمان لانے والے اور آپ کے جلو میں چلنے والے قرار پائے وہ بھی دل کی گہرائی سے اس کشمکش کو مول لے رہے تھے۔ تبھی تویہ ممکن ہے ہو سکا کہ انھیں آگ کے انگاروں پر لیٹنا بھی گوارا تھا۔

    اس سلسلے میں ایک اہم بات یہ ہے کہ نظاموں کی کشمکش میں قائم شدہ نظام کا دفاع کرنے والوں کو بھی ایک ٹیم اور معاشرے کی پشتیبانی درکار ہوتی ہے،اور نیا نظام جن دعووں، مقاصد اور اہداف کے لیے اٹھا ہو، اسے بھی اپنی تائید اور اپنے موقف کو واشگاف کرنے کے لیے ایک ٹیم درکار ہوتی ہے۔اس لیے ہر نبی پرانے انسانوں میں سے نئے انسان تلاش کرتا ہے، پرانے معاشرے میں سے نئے معاشرے کو اٹھاتاہے اور پرانے عمر بن خطاب میں سے نئے حضرت عمر فاروق ؓ جنم لیتے ہیں۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے نتیجے میں جو نئے انسان دریافت ہوئے، پرانے اور بوسیدہ معاشرے ہی سے تازہ ہوا کے جھونکے آنے شروع ہوئے۔گویا’پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے‘تبدیلی و انقلاب کی یہ لہر جس نے پرانے سانچوں کو توڑ پھوڑ دیا، جاہلیت کے ایوانوں میں کھلبلی مچادی، افراد کی سطح ُپر نقطہ نظربدلا،سوچ کے زاویے بدلے، زاویہ ہائے نگاہ بدلے، زندگی اور اس کی ترجیحات بدلیں، اس کے ساتھ اجتماعیت کے اسلوب بدلے۔ دعوت اور طریق دعوت نے تربیت اور تعمیر سیرت کے نئے چراغ روشن کیے۔ آپ نے گئے گزرے اور ان پڑھ و ان گڑھ لوگوں کو رہتی دنیا تک آنے والے انسانوں کا رہنمااور ان کے کردار اور سیرت کو تاریخ کے ہر دور کے لیے روشنی کا مینار بنایا۔قرآن پاک اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ آپ کی طبیعت کی نرمی اور گداز اور آپ کے اسلوب کی خیرخواہی محیط تھی انسانوںکو انسانیت کش راہوں سے روکنے، آگ میںگرنے والے لوگوں کو فلاح اخروی کا تصور جاگزیں کرنے اور انھیں ایک بڑے مقصد کے لیے آمادہ و تیار کرنے کے لیے۔ جہاں ایک طرف قرآن پاک یہ بتاتا ہے کہ :

    لقد من اللہ علی المومنین اذ بعث فیھم رسولا من انفسھم یتلوا علیھم ایاتہ و یزکیھم و یعلمھم الکتاب والحکمۃ وان کانوا من قبل لفی ضلال مبین(اٰل عمران)

    ”در حقیقت اہل ایمان پر تو اللہ نے یہ بہت بڑا احسان کیا ہے کہ ان کے درمیان خود انھی میں سے ایک ایسا پیغمبر اٹھایا جو اس نے کی آیات انھیں سناتا ہے، ان کی زندگیوں کو سنوارتا ہے اور ان کو کتاب اور دانائی کی تعلیم دیتاہے، حالانکہ اس سے پہلے یہی لوگ صریح گمراہیوں میں پڑے ہوئے تھے۔“

    کہ آپ کس طرح قرآن پاک کی طرف لوگوں کی بلاتے رہے، نفوس کا تزکیہ کرتے اور کتاب و حکمت کی تعلیم دیتے رہے وہیں دوسری طرف قرآن پاک کی گواہی دیتا ہے۔فبمارحمۃ من اللہ لنت لھم ولوکنت فضا غلیظ القلب لانفضو ا من حولک(اٰل عمران)

    (اے پیغمبر) یہ اللہ کی بڑی رحمت ہے کہ تم ان لوگوں کے لیے بہت نرم مزاج واقع ہوئے ہو ورنہ اگر تم تندخو اور سنگ دل ہوتے تو یہ سب تمھارے گرد و پیش سے چھٹ جاتے۔“

    کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت خاص سے آپ کے اندر نرمی ڈال دی تھی جو لوگوں کی توجہ کا مرکز اور انھیں جذب و انجذاب کے مراحل سے گزارنے کا باعث بنی۔

    مکے میں اگر آپ کی دعوت کا محور ایمان باللہ، ایمان بالاخرت اور توحید و رسالت تھا اوربحیثیت داعی الی اللہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم گتھیوں کو سلجھانے، ایمان کی دعوت دل نشیں پیرائے میں دل میں اتارنے اور قلب و نظر کی دنیا کو فتح کرنے میں مصروف تھے تومدینے میں اسلامی ریاست کی تشکیل کے ذریعے حکومت الٰہیہ کے قیام سے اسلام کو مقتدر اور فرمانروابنانے کی جدوجہد میں سراپا متحرک نظر آتے ہیں۔ مکے میں اگر توحید پر مرمٹنا ، احد احد پکارنا اور اسی پر جم جانا دعوت تھی تو مدینے میں اللہ کی سرزمین پر اللہ کی حاکمیت کا قیام اور اسی کا نظام دعوت قرار پایا تھا۔( للہ الواحد القہار)

    نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نبی آخر الزماں ہیں، نبوت کا سلسلہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر تمام ہوا۔اب کوئی نبی نہیں آناہے۔قرآن پاک کی حفاظت کا ذمہ خود اللہ تبارک وتعالیٰ نے لیاہواہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور شریعت بھی محفوظ ہے۔ اب قیامت تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت آپ کی قائم مقام ہے۔ فرمایا:کنتم خیر امۃ اخرجت للنا س تامرون بالمعروفوتنھون عن المنکر و تومنون باللہ

    (اٰ ل عمران(

    ”اب دنیا میں وہ بہترین گروہ تم ہوجسے انسانیت کی ہدایت و اصلاح کے لیے میدان میں لایا گیاہے۔ تم نیکی کا حکم دیتے ہو، بدی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔“

    جس مشن کو لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا میں تشریف لائے اور اس کو اعلیٰ ترین صورت میں پورا کیا، پوری امت کی ذمہ داری ہے کہ اس مشن کی علمبردار بنے۔

             واقعات میں آتا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر سے واپس لوٹے،حضرت فاطمہ ؓ نے بڑھ کردروازہ کھولا، آپ کی پیشانی کو بوسہ دیا ، آپ کو لے کر بیٹھ گئیںاور آپ کا سر دھونے لگیں تآنکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو احساس ہوا جیسے فاطمہ ؓ رورہی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر بیٹھ گئے اور پوچھا فاطمہؓ کیا بات ہے، کیوں روتی ہو؟ حضرت فاطمہؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے بالوں کودھول میں اٹا ہوادیکھتی ہوں، آپ کے بدن پر پیوند لگے کپڑے اور وہ بھی گردآلود دیکھتی ہوں، آپ کے چہرہ انور پرتھکن کے آثار دیکھتی ہوں، بیٹی ہوں رونا آگیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سنا تو فرمایا کہ فاطمہ ؓ گریہ و زاری نہ کر، اس لیے کہ تیرے باپ کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایک ایسے منصب پر مامور کیاہے، ایک ایسا مشن اس کے حوالے کیا ہے جس کے نتیجے میں یہ دین وہاں وہاں پہنچے گا جہاں جہاں سورج کی کرنوں کی پہنچ ہے اور یہ دین غالب ہو کررہے گاخواہ کوئی عزت کے ساتھ قبول کرے یا ذلت کے ساتھ قبول کرے۔

    نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غلبہ دین کی بشارت بھی سنا رہے ہیں اور رہتی دنیا تک اپنی امت کو جدوجہد و کشمکش مول لینے کا خوگر بھی بنا رہے ہیں۔ لہٰذا اقامت دین یا غلبہ دین کے اس مشن کو لے کر اٹھنا، دعوت الی اللہ کا سراپا بننا اور بندوں کو بندوں کی غلامی سے نکال کر ان کے رب کی طرف بلانا، یہی راستہ ہے جو ایمان کی پکار پر لبیک کہنے کا راستہ ہے اور ظلم و جور اور نا انصافی کی طویل رات کو سحر کرنے کا راستہ ہے۔

                                شب گریزاں ہوگی آخر جلوہ خورشید سے

                                 یہ چمن معمور ہوگا نغمہ توحید سے

     

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں

سوشل میڈیا لنکس