Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

اندھیروں میں روشنی کی نوید

  1. نبی اکرم ﷺ کی زندگی میں ایک مشکل ترین مرحلہ ، طائف کا سفر تھا۔ طائف کے سفر میں رسولِ رحمتﷺ یہ امید باندھے ہوئے مکہ سے نکلے تھے کہ اہلِ مکہ نے تو دعوتِ حق کو ٹھکرا دیا ، شاید بنو ثقیف اس دعوت کو قبول کر لیں، مگر وہاں پہنچنے پر معلوم ہوا کہ یہ تو اہلِ مکہ سے بھی زیادہ بے مروت، درشت خو اور سنگ دل ہیں۔ قبیلے کے تین سردار عبد یالیل، مسعود اور حبیب عربوں کی روایتی مہمان نوازی کے برعکس آپﷺ کے استقبال کے بجائے خندہ استہزا کے ساتھ آپ سے مخاطب ہوئے۔ عبدیالیل نے کہا: ”اگر تو اللہ کا رسول ہے تو پھر مارے شرم کے میں کعبہ کے سامنے جا کر اپنی ریش منڈوا دوں گا“۔ حبیب نے فلسفیانہ انداز میں کہا: ”میں تو تجھ سے بات بھی نہیں کروں گا۔اگر تو واقعی خدا کا رسول ہے تو میں کہیں گستاخی نہ کر بیٹھوں اور اگر تو خدا پر جھوٹ باندھتا ہے تو تجھ سے بات کرنا میرے شایانِ شان ہی نہیں“۔مسعود ثقفی نے کہا: ”کیا اللہ اتنا بے بس ہو گیا تھا کہ تجھے رسول بنا دیا، جس کے پاس سواری تک نہیں۔ کیا وہ کسی حاکم اور سردار کو رسول نہیں بنا سکتا تھا“۔

      قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے منکرین کے اس اعتراض کا ذکر فرمایا ہے۔ قریش بھی یہ اعتراض کیاکرتے تھے کہ یہ کیسا نبی ہے جس کے پاس دنیا کی دولت اور شان و شوکت نہیں، جس کے پاس باغات و محلات نہیں، جس کے در پر دربان نہیں.... اللہ نے ان سب لچر اعتراضات کی طرف سورةالانعام ، سورہ بنی اسرائیل ، سورة الفرقان اور سورة الزخرف میں اشارات فرمائے ہیں اور یہ حقیقت واضح کی ہے کہ دنیا کے مال و دولت کی فراوانی کا اللہ کی رحمت (نبوت و رسالت) سے موازنہ ہی حماقت ہے۔ ہم ذیل میں سورة الزخرف کی آیات ۳۱ تا ۳۵ کا ترجمہ دے رہے ہیں۔  

    "کہتے ہیں :یہ قرآن دونوں شہروں کے بڑے آدمیوں میں سے کسی پر کیوں نہ نازل کیا گیا؟ کیا تیرے رب کی رحمت یہ لوگ تقسیم کرتے ہیں؟ دنیا کی زندی میں ان کی گزر بسر کے ذرائع تو ہم نے ان کے درمیان تقسیم کیے ہیں اور ان میں سے کچھ لوگوں کو کچھ دوسرے لوگوں پر ہم نے بدرجہا فوقیت دی ہے تاکہ یہ ایک دوسرے سے خدمت لیں۔ اور تیرے رب کی رحمت (یعنی نبوت) اس دولت سے زیادہ قیمتی ہے جو (ان کے رئیس ) سمیٹ رہے ہیں۔ اگر یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ سارے لوگ ایک ہی طریقے کے ہو جائیں گے تو ہم خدائے رحمان سے کفر کرنے والوں کے گھروں کی چھتیں اور ان کی سیڑھیاں جن سے وہ اپنے بالاخانوں پر چڑھتے ہیں اور ان کے دروازے اور ان کے تخت جن پر وہ تکیے لگا کر بیٹھتے ہیں، سب چاندی اور سونے کے بنا دیتے۔ یہ تو محض حیاتِ دنیا کی متاع ہے اور آخرت تیرے رب کے ہاں صرف متقین کے لیے ہے“۔ (اس کے علاوہ ملاحظہ فرمایئے سورة الانعام، آیات ۱۲۲ تا ۱۲۴، سورہ بنی اسرائیل ، آیات ۹۰ تا ۹۳ اور سورة الفرقان، آیات ۷ ،۸)۔

     

    ان آیات کی روشنی میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی سیرت پر ایک نگاہ ڈالی جائے تو واضح ہوتا ہے کہ آپ کبھی احساس کمتری کا شکار نہ ہوئے۔ آپ نے فقر و فاقہ میں بھی اپنے کردار کی عظمت سے دنیا کے اہلِ ہوس پر برتری حاصل کی اور سارے وسائل حاصل ہو جانے کے بعد بھی ”الفقر فخری“ کا نمونہ بنے رہے۔ کردار کی عظمت ہی اصل چیز ہے۔

    طائف میں معاملہ محض یہیں تک نہ رہا بلکہ ان شقی القلب سرداروں نے شہر کے تمام اوباشوں کو جمع کیا اور آنحضورﷺ کو ایذا پہنچانے اور پتھر مارنے کا اشارہ کر دیا۔ سفر طائف میں آنحضورﷺ ان اوباشوں کی سنگ زنی سے زخمی ہو کر گر گئے۔ جاں نثار صحابی زید بن حارثہؓ آنحضورﷺ کو اپنے کندھوں پر اٹھا کر شہر سے باہر لائے۔ وادی نخلہ میں آنحضورﷺ نے دن کا آخری حصہ اور اگلی رات گزاری۔ اس رات وہ پہاڑی بھی بقعہ نور بن گئی، جہاں آنحضورﷺ کے زخموں کو حضرت زید بن حارثہؓ دھو رہے تھے اور مرہم پٹی کر رہے تھے۔ اسی مقام پرعتبہ و شیبہ، ابنائے ربیعہ کے ایک غلام عداس نے آنحضرت کی خدمت میں ایک رکابی پیش کی، جس میں تازہ انگور تھے۔ اگرچہ عتبہ و شیبہ اسلام دشمن تھے لیکن مصیبت کی اس گھڑی میں ازراہِ ہمدردی انھوں نے آنحضورﷺ کی خدمت میں یہ ہدیہ بھیجا تھا۔

     

    آنحضورﷺ نے بسم اللہ پڑھ کر انگوروں کا خوشہ اٹھایا‘ عداس نے یہ کلمہ سنا تو تعجب سے پوچھا کہ یہاں کے باشندے تو یہ کلمہ نہیں بولا کرتے۔ آپﷺ نے پوچھا: ”تم کہاں کے باشندے ہو اور تمہارا دین کیا ہے؟“ اس نے جواب دیا: ”میں حضرت عیسیٰ ؑ کا پیرو ہوں اور نینوا کا باشندہ ہوں"  آپﷺ نے فرمایا: "کیا تم مرد صالح یونس ؑبن متی کے ہم وطن ہو؟۔ عداس نے مزید تعجب سے پوچھا: "آپ کو اس کی کیسے خبر ہے؟ آپ نے فرمایا: "وہ میرا بھائی ہے۔ وہ بھی اللہ کا نبی تھا اور میں بھی اللہ کا نبی ہوں"۔ عداس نے اس موقع پر آنحضورﷺ کی طرف جھکتے ہوئے آپ کے سر، ہاتھوں اور قدموں کو چوما۔جب عداس اپنے آقاؤں کے پاس لوٹ کر گیا تو انھوں نے اسے سخت سست کہاکہ اس نے اجنبی مسافر کے ہاتھ پاؤں اور سر کیوں چومے۔ عداس نے جواب میں کہا: ”آقا!اللہ کی زمین پر آج اس شخص سے اعلیٰ و ارفع مقام کا حامل کوئی شخص نہیں۔ اس نے مجھے ایسی بات بتائی جو صرف نبی ہی بتا سکتا ہے۔ سرداروں نے اسے ڈانٹااور کہا کہ خبردار ! اس کے دین میں مت داخل ہونا، تیرا دین اس کے دین سے بہتر ہے۔

     

    نخلہ کی وادی میں اس رات دو اہم واقعات پیش آئے۔ ایک تو آنحضورﷺ کی وہ دعا جو اہلِ ایمان کے لیے اللہ سے جڑ جانے اور بدترین حالات میں بھی امید کی شمعیں روشن رکھنے کا بہترین نسخہ ہے۔ دوسرا جنوں کی ایک جماعت کا آنحضورﷺ سے قیام اللیل یا صلوٰة الفجر میں قرآن پاک کی تلاوت سننا اور اس پر ایمان لانا ہے۔ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ بندہ کبھی مایوس ہو کر ہتھیار نہ ڈال دے۔نیز اللہ کی راہ میں زخم کھانے والوں کے لیے اللہ کی مخلوق میں قبولیت کی راہیں کھلتی ہیں اور مدد ایسے راستوں سے آتی ہے جن کا وہم و گمان بھی نہیں ہوتا۔آنحضورﷺ کی وہ دعا اس قابل ہے کہ اسے ہر مسلمان یاد کر لے اور ہر مشکل گھاٹی میں پورے جذب و شوق سے بارگاہِ ربانی میں پیش کرے۔ مورخ ابن ہشام نے اپنی سیرت نبویﷺ کی جلد دوم میں صفحہ ۶۲ پر اسے نقل کیا ہے۔ اس کا ترجمہ مع متن نیچے درج ہے۔

     

    اَللّٰہُمَّ اِلَیکَ اَشکُوا ضَعفَ قُوَّتِی وَ قِلَّةَ حِیلَتِی وَ ھَوَانِی عَلَی النَّاسِ یَا اَرحَمَ الرَّاحِمِینَ! اَنتَ رَبُّ المُستَضعَفِینَ وَ اَنتَ رَبِّی، اِلٰی مَن تَکِلُنِی؟ اِلٰی بَعِیدٍ یَتَجَھَّمُنِی؟ اَم اِلٰی عَدُوٍّ مَلَّکتَہ‘ اَمرِی؟ اِن لَّم یَکُن بِکَ عَلَیَّ غَضَب فَلَا اُبَالِی ، وَلٰکِنَّ عَافِیَتَکَ ھیَ اَوسَعُ لِی اَعُوذُ بِنُورِ وَجھِکَ الَّذِی اَشرَقَت لَہُ الظُّلُمَاتُ وَ صَلُحَ عَلَیہِ اَمرُ الدُّنیَا وَالاٰخِرَةِِ مِن اَن تَنزِلَ بِی غَضَبُکَ اَو یَحِلَّ عَلَیَّ سُخطُکَ لَکَ العُتبٰی حَتّٰی تَرضٰی وَلَا حَولَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّا بِکَ۔

     

    الٰہی میں اپنی کمزوری، بے سروسامانی اور لوگوں کے سامنے بے وقعتی کی بابت تیرے سامنے فریاد کرتا ہوں، تو سب رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم کرنے والا ہے ،درماندہ عاجزوں کا مالک تو ہی ہے اور میرا مالک بھی تو ہی ہے۔ تو مجھے کس کے سپرد کرتا ہے، کیا بیگانہ ترش رو کے یا اس دشمن کے جسے تو نے میرے معاملے کا ذمہ دار بنایاہے؟ اگرمجھ پر تیرا غضب نہیں تو مجھے کچھ پروا نہیں، کیونکہ تیری عافیت میرے لیے زیادہ وسیع ہے۔ میں تیری ذات کے نور کی پناہ چاہتا ہوں، جس سے سب تاریکیاں روشن ہو جاتی ہیں اور دنیا و دین کے کام اس سے ٹھیک ہو جاتے ہیں، کہ تیرا غضب مجھ پر اترے یا تیری ناراضی مجھ پر وارد ہو۔ مجھے تیری ہی رضا اور خوشنودی درکار ہے اور نیکی کرنے یا بدی سے بچنے کی طاقت مجھے تیری ہی طرف سے ملتی ہے۔(یہ حدیث تفہیم الاحادیث: ج۲، ص۱۳۳پر بھی دیکھی جا سکتی ہے)

     

    جہاں تک جنوں کا تعلق ہے، سورة الاحقاف میں اللہ نے اس کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ پہلے ان آیات کا ترجمہ ملاحظہ فرمایئے، پھر ان آیات کی تفسیر پر مشتمل وہ حاشیہ جو مفسر قرآن سیدابوالاعلیٰ مودودی ؒ نے تحریر فرمایا ہے۔

     

    "(اور وہ واقعہ بھی قابلِ ذکر ہے) جب ہم جنوں کے ایک گروہ کو تمہاری طرف لے آئے تھے تاکہ قرآن سنیں۔ جب وہ اس جگہ پہنچے (جہاں تم قرآن پڑھ رہے تھے) تو انہوں نے آپس میں کہا خاموش ہو جاﺅ۔ پھر جب وہ پڑھا جا چکا تو وہ خبردار کرنے والے بن کر اپنی قوم کی طرف پلٹے۔ انہوں نے جا کرکہا: ”اے ہماری قوم کے لوگو! ہم نے ایک کتاب سنی ہے جو موسیٰ ؑ کے بعد نازل کی گئی ہے، تصدیق کرنے والی ہے اپنے سے پہلے آئی ہوئی کتابوں کی، رہنمائی کرتی ہے حق اور راہِ راست کی طرف۔ اے ہماری قوم کے لوگو! اللہ کی طرف بلانے والے کی دعوت قبول کر لو اور اس پر ایمان لے آﺅ، اللہ تمہارے گناہوں سے درگزر فرمائے گا اور تمہیں عذابِ الیم سے بچا دے گا اور جو کوئی اللہ کے داعی کی بات نہ مانے وہ نہ زمین میں خود کوئی بل بوتا رکھتا ہے کہ اللہ کو زچ کر دے اور نہ اس کے کوئی ایسے حامی و سرپرست ہیں کہ اللہ سے اس کو بچا لیں۔ ایسے لوگ کھلی گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں۔"(الاحقاف۴۶:۲۹-۳۲)

     

    [ان آیات کی] تفسیر میں جو روایات حضرت عبداللہ بن مسعودؓ، حضرت زبیرؓ، حضرت عبداللہ بن عباسؓ اور حضرات حسن بصریؒ، سعید بن جبیرؒ، زر بن حبیشؒ ، مجاہدؒ، عکرمہؒ اور دوسرے بزرگوں سے منقول ہیں وہ سب اس بات پر متفق ہیں کہ جنوں کی پہلی حاضری کا یہ واقعہ، جس کا اس آیت میں ذکر ہے بطنِ نخلہ میں پیش آیا تھا اور ابن اسحاق ، ابو نعیم اصفہانی اور واقدی کا بیان ہے کہ یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب نبیﷺ طائف سے مایو س ہو کر مکہ معظمہ کی طرف واپس ہوئے تھے۔ راستہ میں آپ نے نخلہ میں قیام کیا۔ وہاں عشاءیا فجر یا تہجد کی نماز میں آپﷺ قرآن کی تلاوت فرما رہے تھے کہ جنوں کے ایک گروہ کا ادھر سے گزر ہوا اور وہ آپ کی قرات سننے کے لیے ٹھہر گیا۔ اس کے ساتھ تمام روایات اس بات پر بھی متفق ہیں کہ اس موقع پر جن حضورﷺ کے سامنے نہیں آئے تھے، نہ آپ نے ان کی آمد کو محسوس فرمایا تھا، بلکہ بعد میں اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعہ سے آپﷺ کو ان کے آنے اور قرآن سننے کی خبر دی۔(تفہیم القرآن: ج۴)

     

    ان واقعات سے یہ حقیقت عیاں ہے کہ آنحضورﷺ اپنے فرائض سے کبھی غافل نہیں ہوئے نہ حالات کی شدت سے کبھی آپ کا حوصلہ پست ہوا ہے۔ آپ تو دنیا میں امید و رجا کی شمعیں روشن کرنے کے لیے آئے تھے۔ مایوس اور نا امید لوگوں کو حوصلہ بخشنے اور گرے ہوﺅں کو اوپر اٹھانے کا مشن آپ کے سپرد ہوا تھا۔ آپ نے اس کا حق ادا کیا۔ آج امت مسلمہ عجیب مخمصے میں ہے۔ بددلی اور مایوسی نے ہر جانب سے گھیراﺅ کر رکھا ہے اور تعداد میں سوا ارب سے زیادہ تعداد کرہ ارض پر آباد ہونے کے باوجود مسلمان بے یقینی کا شکار ہیں۔ بے یقینی تو غلامی سے بھی بڑی لعنت ہے۔

     

    سن اے تہذیبِ حاضر کے گرفتار

     

    غلامی سے بتّر ہے بے یقینی!

     

    آج بیش تر مسلمان یہ پوچھتے ہیں کہ کیا اس دور میں دین اسلام غالب آ سکتا ہے؟ کیا اسلامی نظام کا بھی دنیا میں نافذ ہونے کا کوئی امکان ہے؟حکیم الامت نے کیا خوب راہ نمائی کی ہے۔

     

    خدائے لم یزل کا دستِ قدرت تو ، زباں تو ہے

     یقیں پیدا کر اے غافل کہ مغلوبِ گماں تو ہے 

    یہ سوال دراصل دوں ہمتی اور مرعوبیت کی علامت ہیں۔ جس کا یقین محکم ہو اور جو قرآن و سنت اور سیرت مصطفےٰ پر نظر رکھتا ہو وہ حالات کی سنگینی کے باوجود ایسے سوال ذہن سے جھٹک کر عمل کے میدان میں سرگرم ہو جاتا ہے، کیونکہ اللہ نے انسان کو جدوجہد کا مکلف ٹھہرایا ہے، نتائج کی ذمہ داری اس پر نہیں ڈالی۔جو شخص اپنے حصے کا کام کر لیتا ہے ، اسے یقین ہوتا ہے کہ جس آقا کی اس نے مزدوری کی ہے، وہ حقِ خدمت سے زیادہ معاوضہ تو دیتا ہے، کم کبھی نہیں دیتا۔ دنیا میں باطل کے طوفان ہمیشہ اٹھتے رہے ہیں، لیکن ان کا منہ موڑنے کے لیے پر عزم اور یقین محکم سے سرشار مردانِ کار کی ضرورت ہوتی ہے، خواہ وہ تعداد میں تھوڑے ہی کیوں نہ ہوں۔

    اللہ رب العالمین کا ارشاد ہے: ”بارہا ایسا ہوا ہے کہ ایک قلیل جماعت، اللہ کے اِذن سے ایک بڑے گروہ پر غالب آگئی۔ اللہ صبر کرنے والوں کا ساتھی ہے“۔ (البقرة)

     

     

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں

سوشل میڈیا لنکس