Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

پروفیسرغلام اعظم کی گرفتاری

  1. -11جنوری 2012ءکو بنگلہ دیش کے بزرگ سیاسی راہ نما، بنگلہ دیش جماعت اسلامی کے سابق امیر، پروفیسر غلام اعظم (عمر90سال) کو گرفتار کرکے جیل بھیج دیا گیا ہے۔ ان پر پچاس سے زائد سنگین الزامات لگائے گئے ہیں۔ پروفیسر صاحب کو 1971ءمیں پاکستان سے بنگلہ دیش کی علیحدگی کے دوران جنگی جرائم کا مرتکب قرار دیا گیا ہے۔ جنگی جرائم کے ضمن میں قائم انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل کے حکم پر ان کی گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے۔ ان پر جو الزامات لگائے گئے ہیں وہ یہ ہیں کہ انھوں نے بنگلہ دیش کی جنگ ِآزادی کے دوران پاکستان آرمی کے ساتھ مل کر بنگلہ دیشی عوام کے قتل عام میں حصہ لیا۔ پروفیسر غلام اعظم جیسے متقی انسان پر جو لغو الزامات لگائے گئے ہیں ان کی فہرست طویل ہے۔ آتش زنی، لوٹ مار، عصمت دری اور قتل عام کے الزامات کے تحت انھیں گرفتار کیا گیا ہے۔ وہ گھر سے گرفتاری کے بعد وہیل چیئر پر باہر لائے گئے اور پولیس وین میں بٹھاکر ٹریبونل کے سامنے پیش کیے گئے۔ ان کے وکلا نے ان کی صحت اور عمر کے پیش نظر ٹریبونل کے سامنے ضمانت کی درخواست پیش کی مگر ٹریبونل نے یہ درخواست نامنظور کردی۔ اس کے فوراً بعد عدالت ہی سے جیل کی وین میں ڈال کر، انھیں ڈھاکہ سینٹرل جیل لایا گیا۔ جیل میں آئے پروفیسر صاحب کو تین گھنٹے انتظار میں رکھ کر آخرکار ان کا ابتدائی طبی معائنہ کیا گیا۔ جیل میں ان کا طبی معائنہ کرنے والا ہندو ڈاکٹر سجال کرشنا بینرجی تھا۔ جب اس نے پروفیسر غلام اعظم صاحب کا چیک اپ کرنا شروع کیا اور ان کی صحت کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے فرمایا: ”میں ٹھیک ٹھاک ہوں“۔ پروفیسر صاحب بڑے صاحبِ عزیمت انسان ہیں۔ ہندو ڈاکٹر کے سامنے انھوں نے کسی بیماری کا حوالہ دینا مناسب نہ سمجھا، حالانکہ بڑھاپے اور بزرگی کے علاوہ وہ دل، شوگر اور بلڈ پریشر کے ساتھ پیشاب کی تکلیف میں بھی مبتلا ہیں۔ ان کی میڈیکل فائل میں ان عوارض کی پوری ہسٹری اور علاج سے متعلق سب کچھ موجود ہے۔ ہندو ڈاکٹر نے ایک سوال کے جواب میں اخباری نمائندوں سے کہا: ”غلام اعظم کو کوئی بیماری لاحق نہیں، چیک اپ سے معلوم ہوا کہ ان کا دل ٹھیک کام کررہا ہے۔ بلڈ پریشر تھوڑا سا ہائی تھا اور معمولی سا پیشاب کا مسئلہ بھی درپیش ہے اور اس عمر میں یہ چیزیں تو معمول کا حصہ ہیں۔“ تاہم بعد میں جیل حکام ہی کے حکم پر انھیں مزید چیک اپ کے لیے شیخ مجیب میڈیکل یونی ورسٹی ہاسپٹل بھیجا گیا۔
    جب پروفیسر صاحب کے وکیلِ صفائی بیرسٹر عبدالرزاق نے ٹریبونل کے سامنے درخواست پیش کی کہ پروفیسر صاحب کی طبی سہولیات کے لیے خصوصی اہتمام کیا جائی، نیز ان کا مقدمہ سننے کے لیے بھی جیل کے اندر ہی انتظام کیا جائے تو جسٹس نظام الحق نے کہا کہ وکیل کو جیل حکام سے رابطہ کرنا چاہیے۔ اس دوران ان کے کیس کی سماعت کے لیے 15فروری کی تاریخ مقرر کردی گئی ہے۔ جیل میں پروفیسر صاحب کو لائے جانے کے بعد ڈاکٹروں نے آپس میں مزید مشورہ کرکے انھیں شیخ مجیب ہسپتال میں قائم سینٹرل جیل کے نظربندی احاطے میں منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔ اب ان کو سخت پہرے میں وہاں رکھا گیا ہے اور ڈاکٹر رات گئے تک ان کا چیک اپ کررہے تھے۔
    پروفیسر غلام اعظم کی گرفتاری پر جماعت اسلامی کے کارکنان کے علاوہ سول سوسائٹی، طلبہ اور وکلا نے بھی شدید احتجاج کیا ہے۔ اسلامک لائرز کونسل کے ڈھاکہ کے صدر بیرسٹر عبدالرزاق نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ ٹریبونل نے بہت سنگ دلانہ فیصلہ کیا ہے۔ اس سے پہلے اس عمر کے لوگوں کی ضمانت لیے جانے کی نظیریں موجود ہیں۔ اسلامی لائرز کونسل کے مرکزی صدر مسیح العالم نے کہا کہ محب وطن اور امن پسند شہریوں کو جس انداز میں نشانہ انتقام بنایا جارہا ہے اس سے ملک کی آزادی اور جمہوری چہرہ شدید خطرے میں ہے۔ ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف جیل خانہ جات مسٹر غلام حیدر نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ جیل میں پروفیسر غلام اعظم کو تین گھنٹے رکھا گیا۔ وہ وہیل چیئر پر تھے اور انھوں نے اپنے بڑھاپے اور اپنی بیماری کے حوالے سے کہا کہ انھیں ہسپتال میں رکھا جائے کیوں کہ انھیں مختلف نوعیت کی تکالیف ہیں۔ بہرحال ان کے متعلق یہ فیصلہ قدرے تاخیر سے جیل حکام تک پہنچا کہ انھیں ہسپتال کے جیل سیل میں رکھا جائے۔ ہسپتال کے ڈائریکٹر بریگیڈیئر جنرل عبدالمجاجد بویان نے کہا کہ اب ہم نے پروفیسر غلام اعظم کو ہسپتال میں قائم ایک جیل سیل کے اندر کڑے پہرے میں رکھا ہوا ہے۔ رات کو ان کا مکمل میڈیکل چیک اپ ہوگا اور کل ڈاکٹرز کا بورڈ یہ فیصلہ کرے گا کہ آیا انھیں یہاں رکھنے کی ضرورت ہے یا سینٹرل جیل بھیج دیا جائے۔ بریگیڈیئر جنرل عبدالماجد بویان بنگلہ دیش آرمی میڈیکل کور کے سینئر ڈاکٹر ہیں۔ انھوں نے بھی ہندو ڈاکٹر کی طرح کہا کہ غلام اعظم صاحب کی صحت نارمل ہے البتہ بلڈ پریشر قدرے ہائی ہے۔
    پروفیسر غلام اعظم کی گرفتاری کے بعد ابھی ان کے کیس کی سماعت شروع نہیں ہوئی مگر عوامی لیگ کے سیکریٹری جنرل اور وزیر لوکل گورنمنٹ اینڈ رولر ڈویلپمنٹ سید اشرف الاسلام نے انھیں مجرم کہنا شروع کردیا ہے۔ اس نے کہا کہ غلام اعظم کی گرفتاری بہت نیک شگون ہے۔ ایسے مجرموں کو عبرت ناک سزا ملنی چاہیے۔ ہم نے اپنے پچھلے دورِ حکومت میں بھی ان لوگوں کو قابو کرنے کی کوشش کی تھی مگر اُس وقت ہم اس میں کامیاب نہ ہوسکے۔ اب غلام اعظم کے بعد مزید جنگی مجرم بھی پکڑ لیے جائیں گے۔ وزیرِ صنعت دلیپ باروا نے ڈیلی اسٹار ڈھاکہ 12جنوری کے مطابق پروفیسر غلام اعظم کی گرفتاری پر خوشی کا اظہار کیا اور خالدہ ضیاءسے درخواست کی کہ وہ جماعت اسلامی کے مجرمین کا ساتھ چھوڑ دیں اور جمہوری قوتوں کے ہاتھ مضبوط کریں، جب کہ خالدہ ضیاءکا کہنا ہے کہ یہ ٹریبونل محض ایک ڈھونگ اور عدل وانصاف کا گلا گھونٹنے کے مترادف ہے۔ خالدہ ضیاءکی اپنی پارٹی کے بعض راہنما بھی انھی الزامات کے تحت جنگی جرائم کے ٹریبونل میں مقدمات بھگت رہے ہیں۔
    میڈیا کے لوگوں نے بحیثیت ِمجموعی یہ محسوس کیا کہ حکمران پارٹی کے سیکریٹری جنرل اور وزیر کی زبان جو شعلے اگل رہی تھی وہ عدالتی کارروائی پر اثرانداز ہونے کی ناروا کاوش ہے۔ حکمران پارٹی کے دیگر لوگوں میں ڈپٹی پارلیمانی لیڈر سیدہ ساجدہ چودھری نے بھی پروفیسر غلام اعظم کی گرفتاری پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔ بنگلہ دیش نیوز نے 12جنوری کو ان حکومتی ذمہ داران کے تفصیلی بیانات شائع کیے ہیں۔ ڈیلی اسٹار نے بھی اپنی 12جنوری کی اشاعت میں پروفیسر غلام اعظم کی گرفتاری پر ان کے حق میں ہونے والے مظاہروں اور ان کے خلاف دیے جانے والے بیانات کی تفصیلات بیان کی ہیں۔
    اس دوران ضلع کومیلا کے ہیڈ کوارٹر پر میونسپل کارپوریشن کے انتخابات مکمل ہوگئے ہیں۔ کل 27 نشستوں میں سے 13پر خالدہ ضیاءکی پارٹی BNP کامیاب ہوئی ہے، 3 پر BNP کی حلیف جماعت اسلامی بنگلہ دیش اور 2 نشستوں پر متحدہ اپوزیشن کی دو دیگر پارٹیوں کے نمائندے کامیاب ہوئے ہیں، یعنی کل 18۔ جب کہ عوامی لیگ کو 5 نشستیں ملی ہیں اور اس کی حامی، جنرل ارشاد کی جاتیو پارٹی کو ایک نشست حاصل ہوئی ہے۔ بقیہ 3 نشستوں پر دیگر چھوٹے گروپوں نے کامیابی کی۔ خواتین کی مخصوص نشستوں پر بھی BNP اتحاد کو بھاری اکثریت مل گئی ہے۔ BNP کا میئر منیرالحق ساکو بھاری اکثریت سے کامیاب ہوگیا ہے۔ حکومتی پارٹی کے اتحادی حسینہ واجد اور اس کی پالیسیوں کو کوس رہے ہیں کہ معاشی بدحالی، لوٹ کھسوٹ، اقربا پروری اور بدعنوانی کے نتیجے میں حکومتی اتحاد مشکلات کا شکار ہوگیا ہے۔ تمام سروے یہ بتارہے ہیں کہ آئندہ انتخابات میں بھارت نواز حسینہ واجد اور اس کے اتحادی منہ کی کھائیں گے۔ ورکرز پارٹی کے صدر رشید خاں مینن نے حسینہ واجد پر شدید تنقید کی ہے۔ حکمران ٹولے نے صدر ظل الرحمان سے گفت وشنید شروع کردی ہے تاکہ اپنی مرضی کا الیکشن کمیشن منظور کروا سکے۔ دیکھیے اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔
    واضح رہے کہ پروفیسر غلام اعظم صاحب بنگلہ دیش کے قیام کے وقت بنگلہ دیش میں موجود نہیں تھے۔ وہ دس بارہ سال پاکستان، کویت اور برطانیہ میں مقیم رہے۔ انھیں بنگلہ دیش واپس آنے کی اجازت ہی نہیں تھی۔ جنرل ضیاءالرحمن کے انقلاب کے بعد وہ بنگلہ دیش واپس آئے۔ پھر جب حسینہ واجد اپنے سابقہ دور میں وزیراعظم بنی تو ان کی شہریت ختم کردی گئی۔ عوامی لیگ کی حکومت کے اس ظالمانہ فیصلے کے خلاف پروفیسر غلام اعظم صاحب نے عدالتوں میں کیس لڑ کر اپنی شہریت بحال کرائی تھی۔ اب بھی وہ بڑے پُرعزم ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو سلامت رکھے۔ وہ اسلام اور پاکستان سے بے پناہ محبت رکھتے ہیں۔ اپنے سابقہ دورہ پاکستان میں انھوں نے کئی مقامات پر اپنی تقاریر میں اپنے ان جذبات کا کھل کر اظہار کیا۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں









سوشل میڈیا لنکس