Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

فلسطین میں قتلِ عام اور عالمِ اسلام

  1. عبدالغفار عزیز


    ذرہ برابر عدل و انصاف اور رتی بھر انسانیت بھی باقی ہو تو ۱۴ مئی ۲۰۱۸ء سرزمین فلسطین پر غاصبانہ صہیونی قبضہ بے نقاب کرنے کے لیے کافی ہے۔ جب ایک ہی دن میں درجنوں لاشے تڑپا کر اور ہزاروں شہری زخمی کرتے ہوئے بیت المقدس پر اپنا قبضہ مستحکم کرنے کا پیغام دیا جارہا تھا۔ گذشتہ ۷۰برس سے اسی طرح ایک ایک قدم اُٹھاتے ہوئے فلسطین کی سرزمین ہڑپ اور قوم کو موت کے گھاٹ اُتارا جارہا ہے۔ فلسطین کی جگہ نام نہاد اسرائیلی ریاست کے قیام کی ۷۰ویں ’برسی‘ کے موقعےپر امریکی صدر نے ایک ارب ۷۰کروڑ مسلمانوں کے زخموں پر نمک پاشی کرتے ہوئے اپنا سفارت خانہ تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کر دیا۔
    اہل فلسطین اس منحوس اعلان کے بعد سے مسلسل سراپا احتجاج ہیں۔۳۰ مارچ سے انھوں نے مسیرۃ العودۃ (واپسی کا سفر) کی حالیہ تحریک شروع کردی۔ صہیونی افواج نے نہتے فلسطینیوں کے ان جلوسوں پر تباہ کن فائرنگ اور زہریلی گیسوں کی بارش کر دی۔ صرف گذشتہ دو ماہ میں ۲۰۰سے زائد بے گناہ فلسطینی شہری شہید اور ۱۰ ہزار سے زائد زخمی ہوچکے ہیں۔ لیکن صدآفرین کہ  اہلِ فلسطین کی ’واپسی کا سفر‘ جاری ہے۔ مسلسل جنازے بھی اُٹھ رہے ہیں۔ خوف زدہ ہونے کے بجاے وہ جنازوں کو بڑے جلوسوں میں بدل دیتے ہیں۔ اللہ اکبر اور لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ کی صدائیں بلند ہوتی ہیں۔ پسندیدہ ترین نعرہ یہ ہوتا ہے: عَلْقُدْس رَایحِین، شُہَدَاء بِالْمَلَایِینِ ہم القدس جارہے ہیں خواہ لاکھوں شہید ہوجائیں اور: لَااِلٰہَ اِلَّا اللہ ، الشہید حبیب اللہ۔ یہ صرف نعرے نہیں دنیا کے سامنے یہ حقیقت بیان کی جارہی ہے کہ گھر کا مالک کوئی اور ہے۔ قتل و غارت، غنڈا گردی اور امریکی سرپرستی میں کوئی دوسرا اس پر قبضہ جمانے کی ناکام کوشش کررہا ہے۔

    فلسطین کے خلاف صہیونی سازشیں
     سرزمین مسجد اقصیٰ پر تسلط کی یہ کوششیں ۷۰سال سے ہی نہیں، ۱۲۱سال پہلے سے جاری ہیں۔ ۲۹؍اگست ۱۸۹۷ء کو سوئٹزر لینڈ کے شہر بازل (Basel ) میں اس مکروہ منصوبے کا باقاعدہ اعلان کیا گیاتھا۔ کانفرنس کے اعلامیے میں کہا گیا تھا: ’’صہیونیت کا ہدف سرزمین فلسطین پر یہودی قوم کا علانیہ و قانونی قیام ہے‘‘۔اس صہیونی تحریک کا بانی اور یہودی ریاست کا اعلان کرنے والا آسٹریا کا ایک یہودی رہنما تھیوڈ ورڈ ہرٹزل تھا۔ اس کانفرنس میں چار اقدامات کا اعلان کیا گیا:
        ۱-    دنیا بھر کے یہودیوں کو فلسطین کی طرف ہجرت کا قائل اور ضرورت پڑنے پر مجبور کیا جائے۔
        ۲-    دنیا کے تمام یہودیوں کو مختلف مقامی اور عالمی تنظیموں کے تحت متحد اور منظم کیا جائے۔
        ۳-    یہودیوں کے دل میں اپنی قومیت اور وطنیت کے جذبات اُجاگر کیے جائیں۔
        ۴-    اس صہیونی ہدف کے لیے ہر ممکن عالمی تائید و سرپرستی حاصل کی جائے۔
    واضح رہے کہ اس کانفرنس کا انعقاد بنیادی طور پر جرمنی کے شہر میونخ میں ہونا طے پایا تھا۔ وہاں بہت مؤثر اور متمول یہودی آبادی مقیم تھی۔ لیکن خود اس یہودی آبادی نے ہی وہاں کانفرنس کا انعقاد مسترد کردیا۔ بالآخر جرمنی اور سوئٹزرلینڈ کی حدود پر واقع شہر میں یہ پہلی کانفرنس ہوئی۔ کانفرنس سے پہلے اور بعد میں کئی مواقع پر یہ تجویز بھی زیربحث آئی کہ مجوزہ صہیونی ریاست ارجنٹائن یا یوگنڈا میں قائم کی جائے۔ ایک موقعے پر یہ برطانوی پیش کش بھی سامنے آئی کہ وہ یوگنڈا میں اپنے زیرتسلط ۹ہزار مربع کلومیٹررقبہ اس ریاست کے لیے دینے کو تیار ہے۔ لیکن یہ تمام تجاویز مسترد کردی گئیں کہ فلسطین کے علاوہ کسی بھی جگہ یہودیوں کو اکٹھا کرنے کے لیے مذہبی بنیاد نہ ملتی تھی۔ دنیا کے مختلف ممالک میں مسلسل کانفرنسوں کے انعقاد، چار نکاتی ایجنڈے پر تیزی سے عمل درآمد اور برطانوی، فرانسیسی اور پھر کامل امریکی سرپرستی کے نتیجے میں ۱۴ مئی ۱۹۴۸ء کو اُمت مسلمہ کے قلب میں اس صہیونی ریاست کا مسموم خنجر گھونپ دیا گیا۔ وہ دن اور آج کا دن لاکھوں فلسطینی عوام مختلف کیمپوں میں یا بے مروت معاشروں اور ملکوں میں مہاجرت کی خاک چھان رہے ہیں۔ سرزمینِ فلسطین پر ہزاروں سال سے بسنے والے اصل باشندے دہشت گرد اور انھیں مسلسل شہید و زخمی یا بے گھر کرنے والے قاتل اور مالک قرار دیے جارہے ہیں۔
    سرزمین فلسطین پر قبضے کی اس داستان الم میں سب سے زیادہ حساس اور اہم حیثیت مسجد اقصیٰ اور بیت المقدس کی ہے۔ تقریباً سواسو سال پر محیط اس پورے عرصے میں جتنے بھی عالمی منصوبے، تقسیم کے فارمولے اور صلح کے معاہدے ہوئے، ان تمام معاہدوں اور نقشوں میں بیت المقدس کو مستثنیٰ قرار دیا جاتا رہا۔ ہمیشہ یہی کہا گیا کہ اس کا فیصلہ بعد میں کیا جائے گا۔ صہیونیت کے علَم بردار اور ان کے سرپرست جانتے ہیں کہ اپنے نبی کے قبلۂ اول کا مسئلہ پوری اُمت مسلمہ کے لیے کیا مقام رکھتا ہے۔ اگرچہ عملاً تو اس وقت بھی پورا بیت المقدس صہیونی افواج کے نرغے میں ہے۔ وہاں ہزاروں جدید ترین یہودی بستیاں تعمیر کرکے لاکھوں یہودیوں کو آباد کیا جاچکا ہے۔ مزید بستیوں کی تعمیر کا کام بھی تیزی سے جاری ہے، لیکن آج بھی تمام عالمی قوانین، اقوام متحدہ کے ضابطوں اور عالمی طاقتوں کے اعلانات کے مطابق یہ بستیاں غیر قانونی ہیں۔
    اپنے مزاج، کردار، بیانات اور اقدامات کی وجہ سے متنازعے ترین امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یہ سرخ لکیر بھی عبور کرچکے ہیں۔ ان کا یہودی داماد جیرڈ کشنر اور اس سے شادی کی خاطر عیسائیت چھوڑ کر یہودیت اختیار کرنے والی بیٹی ایوانکا ٹرمپ ان اقدامات کے نفاذ میں پیش پیش ہیں۔ وہ براہِ راست صہیونی رہنماؤں سے ہدایات لیتے او رعلانیہ ان کا اظہار و اقرار کرتے ہیں۔ اس پورے منصوبے میں وہی مختلف ممالک کے دورے اور مختلف حکمرانوں کے ساتھ ساز باز کررہے ہیں۔ ۱۴؍اگست کو بیت المقدس میں امریکی سفارت خانے کا افتتاح بھی انھوں نے اور ان کے ہمراہ آنے والے ۵۵؍امریکی سرکاری ذمہ داران نے کیا۔ یہ امر یقینا اتفاقیہ نہیں کہ اس اعلیٰ سطحی امریکی وفد کے سب ارکان یہودی تھے۔ امریکی سفارت خانے کی بیت المقدس منتقلی سے بظاہر کوئی بڑی تبدیلی واقع نہیں ہوئی کہ وہاں امریکی قونصل خانہ پہلے بھی کام کررہا تھا۔ اسی عمارت پر اب سفارت خانے کی تختی اور پرچم لگا دیا گیا ہے۔ شہر میں جابجا امریکی سفارت خانے کی راہ دکھانے والے بورڈ لگا دیے گئے ہیں اور بس۔ لیکن اگر اس اقدام کا اصل ہدف اور اہمیت جاننا ہو تو وہ قدآدم تصویر ملاحظہ فرمالیجیے، جو سفارت خانہ قائم ہونے کے ۹روز بعد ۲۳مئی کو بعض یہودی تنظیموں کی طرف سے اسرائیل میں امریکی سفیر ڈیوڈ فرائڈ مین (جو خود بھی یہودی ہے) کو پیش کی گئی ہے۔ ذرا دل پر ہاتھ رکھ کر سنیے کہ قہقہوں کے شور میں وصول کی جانے والی اس تصویر میں کہیں مسجد اقصیٰ کا نام و نشان تک نہیں ہے۔ مسجد اقصیٰ کی جگہ نام نہاد یہودی ہیکل سلیمانی کی شان دار عمارت دکھائی گئی ہے۔ یہی وہ اصل خدشہ ہے جو اہل فلسطین اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر واقفِ حال اُمتی کے لیے سوہانِ رُوح بنا ہوا ہے۔

    نیا صہیونی منصوبہ
    ٹرمپ حکومت کا جنونی پن صرف سفارت خانے کی منتقلی اور مسجداقصیٰ کی جگہ یہودی ہیکل کی تعمیر تک محدود نہیں ہے۔ خود صہیونی ذرائع ابلاغ کے مطابق اگر کوئی انہونی نہ ہوئی تووہ بہت جلد ایک اور تہلکہ خیز اعلان کرنے والے ہیں۔ اس اعلان کو ایک بار پھر امن مذاکرات اور امن معاہدے کا نام دیا جائے گا۔ ’صدی کے سودے‘ (Deal of the Century) منصوبے کے مطابق فلسطینیوں کو ان مذاکرات کی دعوت تو دی جائے گی، لیکن وہ مانیں یا نہ مانیں دونوں صورتوں میں امریکا خود ہی اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کرتے ہوئے، ایک منصوبہ پیش کردے گا اور کہا جائے گا کہ مسئلہ فلسطین حتمی طور پر اور ہمیشہ کے لیے حل کر دیا گیا ہے۔
    معروف اسرائیلی ویب سائٹ ’i24 ‘ نے صہیونی خفیہ اداروں کے حوالے سے اس    ’جامع حل‘ کے جو خدوخال بتائے ہیں، ان کے مطابق فلسطینیوں کے لیے محدود اختیارات کی حامل  ایک فلسطینی ریاست کے قیام کا اعلان کیا جائے گا ۔اسرائیل اس فلسطینی ریاست کے امن و امان کا ذمہ دار ہوگا۔ بیت المقدس شہر کے کچھ عرب علاقے فلسطینی ریاست کا حصہ ہوں گے، لیکن پرانا شہر (یعنی حرم اقصیٰ کا علاقہ) ’اسرائیلی بیت المقدس‘ کا حصہ ہوگا۔ فلسطینی ریاست کا دارالحکومت (مسجد اقصیٰ سے دو کلومیٹر دور) ابودیس نامی علاقہ ہوگا۔ غزہ کو بتدریج اس فلسطینی ریاست کا حصہ بنایا جائے گا بشرطیکہ حماس اپنا اسلحہ (بالخصوص میزائل) حکومت کے حوالے کردے۔ ان اسرائیلی ذرائع کے مطابق اس حتمی حل میں فلسطین سے بے گھر کرکے اپنے ملک سے نکال دیے جانے والے فلسطینیوں کی واپسی کی سرے سے کوئی بات ہی نہیں کی جائے گی۔واضح رہے کہ معروف فلسطینی ’مرکزِدانش‘ (Think Tank) الزیتونہ کے مطابق اس وقت فلسطینیوں کی کُل آبادی ۱۲ء۷ملین (ایک کروڑ ۲۷ لاکھ)، ہے جن میں سے ۸ء۴۹ ملین (۸۴ لاکھ ۹۰ ہزار) مختلف ممالک میں پناہ گزین کی حیثیت سے جی رہے ہیں۔ یہ کسی بھی ملک کے پناہ گزینوں کا سب سے زیادہ تناسب ہے، یعنی ۶۶ء۸ فی صد۔ دنیا کا کوئی باضمیر انسان بتائے یہ کیسا منصفانہ حل ہے کہ جس میں لاکھوں انسانوں اور ان کی نسلوں سے ان کی شناخت ہمیشہ کے لیے چھین لی جائے!
    ایک سے زیادہ ذرائع سے جاری کیے جانے والے اس منصوبے پر پہلی نظر ہی یہ بتانے کے لیے کافی ہے کہ یہ سابقہ نام نہاد امن منصوبوں ہی کا چربہ ہے۔ ایسے ہر منصوبے، معاہدے اور اعلان کے بعد اہل فلسطین پر ظلم کے مزید پہاڑ توڑے گئے۔ اسرائیلی مظالم کے ساتھ ساتھ خود  اہلِ فلسطین کو تقسیم کرتے ہوئے، انھیں ایک دوسرے کے مقابل لاکھڑا کیا گیا۔ مسلم عوام کو یہ دھوکا دیا گیا کہ خود فلسطینیوں نے اسے تسلیم کرلیا ہے تو ہم اسرائیل کو کیوں تسلیم نہیں کرتے؟

    عالمِ اسلام کی صورتِ حال
    غور طلب امر یہ ہے کہ آخر اب کیا ایسی نئی بات ہوگئی کہ جو وعدے اور دعوے پہلے سراب ثابت ہوچکے ہیں، وہ اب حقیقت بن جائیں گے؟ مختصر جائزہ لیں تو اس ضمن میں صہیونی ریاست اور ٹرمپ حکومت کو سب سے بڑی کامیابی یہ ملی ہے کہ وہ   عالمِ اسلام میں بڑی نقب لگانے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ ایسے کئی اہم ممالک کہ جن سے اہلِ فلسطین اور عالمِ اسلام کی اُمیدیں وابستہ ہوسکتی تھیں، اب (صہیونی و امریکی دعوے کے مطابق) ان کے ہم نوا بن چکے ہیں۔ کئی مسلمان ذمہ داران حکومت کے بارے میں افواہیں ہیں کہ وہ صہیونی ریاست کے خفیہ دورے کرچکے ہیں۔ اللہ کرے کہ یہ افواہیں غلط اور محض صہیونی پروپیگنڈا ہو، لیکن سب کو دکھائی دینے والے کئی دیگر امور بھی بہت سنگین ہیں۔ اس وقت کئی مسلم ممالک کے ذرائع ابلاغ میں اسرائیل کی وکالت و دفاع کے لیے جاری ابلاغی مہمات عروج پر ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ آزادی اقصیٰ کے لیے سب سے زیادہ قربانیاں دینے والی فلسطینی تحریکات کے خلاف انتہائی زہریلا پراپیگنڈا بھی خوب جاری ہے۔ اسرائیلی ذمہ داران مختلف مسلم ممالک کے خفیہ و علانیہ دورے کررہے ہیں۔ اسرائیل میں ہونے والی مختلف ثقافتی، سیاسی اور تجارتی اہم سرگرمیوں میں، کئی مسلم ممالک کے وفود اور ٹیمیں کھلم کھلا اور اپنے نام و پر چم اُٹھاکر شریک ہونے لگے ہیں۔
    ان سب اُمور سے زیادہ پریشان کن امر یہ ہے کہ کئی مسلم ممالک اور مسلم عوام کو ایک دوسرے کے خون کا پیاسا بنادیا گیا ہے۔ شام میں لاکھوں بے گناہوں کی شہادت اور پورے ملک کی تباہی، اور اسے عملاً پانچ ٹکڑیوں میں تقسیم کردینے کے بعد وہاں مزید قتل و غارت جاری ہے۔ مصر میں داروگیر اور بے گناہوں کو سزائیں دینے کا سلسلہ عروج پر ہے۔ پورا ملک ایک جیل خانے میں بدلا جاچکا اور معاشی لحاظ سے بدترین تباہ حالی کا شکار کردیا گیا ہے۔ ہزاروں نہیں لاکھوں مصری شہری یا تو زیر زمین رہنے پر مجبور ہیں یا ملک چھوڑ چکے ہیں۔ یمن میں باغی حوثی قبائل کے ساتھ جاری جنگ ایک خوف ناک دلدل میں تبدیل ہوچکی ہے۔ آئے دن سعودی عرب کے مختلف شہروں پر بھی میزائلوں سے حملے کیے جارہے ہیں۔ یمن کے کئی تاریخی علاقوں کو ملک سے کاٹ کر مختلف طاقتوں کی جانب سے ان پر قبضے کی کاوشیں ہورہی ہیں۔ عراق تباہ حال ہے اور لیبیا میں قتل و غارت سنگین تر ہے۔ چار عرب ممالک کی قطر سے قطع تعلقی اور حصار کا ایک سال مکمل ہوگیا ہے اور ایک دوسرے کے خلاف بیانات و دشنام طرازی اب عوام اور قبائل کی حد تک سرایت کر چکی ہے۔ جو ممالک   اب تک جنگ و جدال اور خوں ریزی سے بچے ہوئے ہیں، وہاں بھی سیاسی اختلافات، مختلف لسانی، قومی اور علاقائی تعصبات کی آنچ تیزی سے بھڑکائی جارہی ہے کہ ان ممالک کی حکومتوں اور عوام کو ان داخلی معرکوں سے اٹھ کر قومی وملّی اُمور پر توجہ دینے کی فرصت ہی نہ ملے۔
    یہی وہ منظرنامہ ہے جو صہیونی ریاست اور اس کی سرپرست عالمی طاقتوں کے لیے مثالی حیثیت رکھتا ہے۔ جس طرح گاہے گاہے پاکستان میں یہ شوشے چھوڑے جاتے ہیں کہ ہمارا دشمن تو ہندستان ہے، اس سے مقابلے اور اپنی مشکلات کے حل اور عالمی حمایت میں اضافے کے لیے اسرائیل کی خدمات سے استفادہ کرنا چاہیے۔ اسی طرح عرب ممالک اور ایران کو ایک دوسرے کے خلاف مشتعل اور خوف زدہ کرتے ہوئے اسرائیل سے پیار کی پینگیں بڑھانے کی بات کی جاتی ہے۔ خود صہیونی ریاست بھی مختلف ممالک اور ان کے حکمرانوں کو یہی خواب بیچ رہی ہے۔

    اہلِ فلسطین کا عزم
     اس گمبھیر اور تاریک صورتِ حال کے باوجود سرزمین اقصیٰ سے کئی حوصلہ افزا پیغامات آرہے ہیں۔ سب سے اہم پیغام تو یہی ہے کہ صہیونی افواج کی جانب سے اندھا دھند فائرنگ اور ایسی زہریلی گیسوں کے استعمال کے باوجود کہ جو جسم میں اترتے ہی اپنے ہدف کو ایک تڑپتی لاش میں بدل دیتی ہیں، فلسطینی نوجوان ہی نہیں خواتین اور بچے بھی مکمل سرفروشی سے ڈٹے ہوئے ہیں۔ اس ضمن میں بالخصوص اہل غزہ ایک بار پھر نئی تاریخ رقم کررہے ہیں۔ دنیا کو تو شاید یہ یاد ہی نہیں رہا تھا کہ غزہ کے ۲۰لاکھ انسان گذشتہ ۱۲ سال سے چاروں اطراف سے محصورایک بڑے قیدخانے میں بند ہیں۔ غزہ کی پٹی کو ایک ایسی جیل میں بدل دیا گیا ہے کہ  جس میں اب تک سیکڑوں مریض تڑپ تڑپ کر جان دے چکے ہیں۔ انھیں علاج کے لیے برادر پڑوسی ملک مصر بھی آنے کی اجازت نہیں دے رہا۔ سامان خوردونوش، توانائی کا کوئی بنیادی وسیلہ (تیل، گیس، ایندھن)، ناگزیر تعمیراتی سامان، کسی بھی طرح کے ضروری سپیئر پارٹس سمیت زندگی کی کسی بھی بنیادی ضروریات غزہ کے اندر لے جانے کی تمام راہیں مکمل مسدود ہیں۔
    اس خوف ناک صہیونی اور مصری حصار کے علاوہ خود فلسطینی اتھارٹی اور اس کے صدر محمود عباس کی جانب سے بھی غزہ کا مکمل بائیکاٹ ہے۔ ۲۰۰۶ء میں حماس کی قائم ہونے والی حکومت ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ وہ پورا کردیا گیا تو اپنے مقرر کردہ وزیراعظم عبداللہ کو وہاں نہیں بھیجا گیا۔ ایک روز اچانک ان کی آمد کا اعلان کیا گیااور راستے ہی میں ان پر قاتلانہ حملے کا ڈراما رچاکر واپس بلالیا گیا۔ اس پورے عرصے میں کئی سال سے ۲۰لاکھ انسانوں پر مشتمل اس آبادی کے کسی سرکاری ملازم کو تنخواہ نہیں دی گئی۔ شرط یہ لگائی جارہی ہے کہ وہ حماس کا ساتھ چھوڑنے کا اعلان کرتے ہوئے غزہ کے اندر بغاوت کردیں۔ حماس سے بھی ان کا بنیادی مطالبہ یہی ہے کہ اسرائیل کا مقابلہ کرنے کے لیے جو ہتھیار بھی آپ لوگوں نے تیار یا فراہم کیے ہیں، وہ فوراً ہمارے حوالے کیے جائیں… پتھروں اور غلیلوں سے مزاحمت شروع کرنے والوں نے اللہ کی توفیق سے اور سرفروشی کی نئی مثال قائم کرتے اور وَ اَعِدُّوْا لَھُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّۃٍ  پر عمل پیرا ہوتے ہوئے جو تھوڑی بہت قوت فراہم کی ہے، بجاے اس کے کہ اس میں اضافے کی فکر کی جاتی، اسے تباہ کرنے کی بات کی جارہی ہے۔ فلسطینی اتھارٹی کے اس مطالبے اور صہیونی ریاست کے مطالبات میں آخر کیا فرق باقی رہ جاتا ہے۔
    صہیونی دشمن کی کارروائیوں کا دائرہ صرف فلسطین تک ہی محدود نہیں رہا۔ حالیہ تحریک کے دوران انھوںنے ملائیشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں ایک نوجوان فلسطینی پروفیسر فادی البطش کو نماز فجر کے لیے جاتے ہوئے شہید کردیا۔ موساد نے اس کی شہادت کی ذمہ داری بھی قبول کرلی۔ فادی کا گناہ صرف یہ تھا کہ وہ فلسطینی اور تحریک حماس کا رکن تھا، ساتھ ہی ایک ہونہار و کامیاب سائنس دان بھی۔ اس کی کئی ایجادات عالمی سطح پر رجسٹرد کی جاچکی ہیں۔ موساد کا کہنا ہے کہ وہ   اہلِ غزہ کے میزائل پروگرام کو مزید بہتر بنانے میں معاونت کررہا تھا۔ اس سے پہلے اسی طرح تیونس کے ایک نوجوان محمدالزواوی کو اس کے گاؤں جاکر شہید کردیا گیا۔ اس کا گناہ بھی یہ بتایا گیا کہ وہ اہلِ غزہ کو ڈرون ٹکنالوجی فراہم کررہا تھا۔
    صہیونی دشمنوں کی سفاکی اور اپنوں کی نادانی و مخالفت کے باوجود اہل غزہ کے پاے استقامت میں کوئی کمی نہیں آئی۔ ۳۰ مارچ سے شروع ہونے والے ’واپسی کے سفر‘ کا بنیادی مرکز بھی غزہ ہے۔ فلسطین پر قابض صہیونی افواج نے ۴۰کلومیٹر لمبی آہنی باڑھ کھڑی کرتے ہوئے، اس کے ساتھ ٹینکوں اور جدید اسلحے کے ڈھیر لگا رکھے ہیں۔ دوسری جانب نہتے فلسطینی عوام ہیں، جو دشمن کی فائرنگ اور زہریلی گیسوں سے بچنے کے لیے ٹائر جلا کر اور غلیلوں کے ذریعے ان کا مقابلہ کررہے ہیں۔ دو ماہ سے جاری اس تحریک کے دوران سیکڑوں ایمان افروز واقعات رونما رہورہے ہیں۔ شدید آنسو گیس سے بچنے کے لیے سات سال کے ایک بچے نے انوکھی تدبیر اختیار کی۔ اس نے ناک اور سرپر کپڑا لپیٹتے ہوئے ناک کے سامنے ایک پیاز باندھ لیا۔ کہیں سے سن رکھا تھا کہ پیاز سے زہریلی گیس کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے۔ لمبی ڈنٹھل والی سبز پیاز باندھ کر، یہودی فوجیوں کے عین سامنے جابیٹھنے والا  یہ بچہ صحافیوں کی نگاہ میں بھی آگیا۔ انھوں نے بعد میں اس سے پوچھا: ’’آپ کو ڈر نہیں لگ رہا تھا؟‘‘ بچے کی آنکھوں میں ایک عجیب روشنی چمکی۔ بلاتوقف فوراً بولا: ’’میں نہیں وہ فوجی خوف زدہ تھے۔ میں کیوں ڈرتا میں تو اپنی سرزمین پر کھڑا تھا۔ وہ غاصب ہیں اس لیے ڈر بھی رہے تھے‘‘۔

    عالمی ردعمل اور مستقبل
    ٹرمپ انتظامیہ کے ان اقدامات کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے سفارتی محاذ پر بھی اہل فلسطین کی مدد کی ہے۔ گذشتہ دسمبر میں ٹرمپ سفارت خانہ بیت المقدس   منتقل کرنے کا اعلان کیا گیا تو اقوام متحدہ میں ۱۲۸ ممالک نے اس فیصلے کی مخالفت کی۔ مخالفت کرنے والوں میں ہندستان جیسے ان ممالک کو بھی شریک ہونا پڑا جو صہیونی ریاست کے ہرظلم اور ہرفیصلے میں اس کا ساتھ دیتے ہیں۔ صرف ۹ ممالک نے اعلان ٹرمپ کی حمایت کی،جو تقریباً سب کے سب غیر معروف ممالک ہیں۔ امریکا نے اس عالمی مخالفت کے باوجود بھی سفارت خانہ بیت المقدس منتقل کردیا، تو اس وقت بھی تقریباً تمام بڑی اور اہم عالمی طاقتوں نے اس تقریب میں شرکت اور تائید کرنے سے انکار کردیا۔ ریاستی سطح کے علاوہ دنیا بھر کے انصاف پسند عوام نے بھی اس فیصلے کی مخالفت کی۔ برطانیہ میں ہونے والے ایک مظاہرے میں ایک معمر سفید فام برطانوی خاتون اپنی بچی کے ساتھ کتبہ اُٹھائے کھڑی تھی: ’’مظلوم فلسطینیوں کا ساتھ دینے کے لیے مسلمان ہونا نہیں، انسان ہونا ضروری ہے‘‘۔
    خوش قسمتی سے اس وقت مسلم ممالک کی تنظیم او آئی سی کی سربراہی ترکی کے پاس ہے۔ صدر طیب ایردوان نے ٹرمپ کے اعلان دسمبر اور اب مئی میں اس پر عملی اقدام کے فوراً بعد مسلم ممالک کا سربراہی اجلاس بلایا۔ پانچ ماہ کے مختصر عرصے میں ہونے والے دو سربراہی اجلاسوں نے بھی بیک آواز ٹرمپ پالیسی کو مسترد کرنے کا اعلان کیا۔ مسلم ممالک نے اقوام متحدہ سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ مظلوم فلسطینی عوام کی جان و مال کا تحفظ کرنے کے لیے وہاں حفاظتی افواج بھیجے۔   اختتامی اعلامیے میں واضح طور پر کہا گیا کہ: ’’فلسطین پر قابض صہیونی افواج ان تمام وحشیانہ جرائم کا ارتکاب امریکی حکومت کی پشت پناہی سے کررہی ہے۔ امریکا نے اسرائیل کو سیکورٹی کونسل میں بھی جواب دہی سے بچایا اور اپنا سفارت خانہ بیت المقدس منتقل کرتے ہوئے فلسطینی شہریوں کے خلاف اسرائیلی حکومت کی غنڈا گردی کی حوصلہ افزائی کی‘‘۔
    یہ درست ہے کہ اس اہم کانفرنس میں مذمت اور غم و غصّے کے اظہار کے علاوہ امریکی حکومت سمیت سب شریک جرم طاقتوں کے خلاف کوئی جرأت مندانہ اقدام کرنے کی ضرورت تھی،    لیکن ظاہر ہے کہ یہ فیصلہ صرف ترکی یا مزید ایک آدھ ملک نے نہیں اجتماعی طور پر ہی کیا جانا تھا۔ مسلم حکومتوں کے رویے کااندازہ اسی بات سے لگا لیجیے کہ قبلۂ اول جیسی مقدس امانت خطرے میں ہے اور اس کے لیے بلائی گئی یک نکاتی کانفرنس میں ۵۷میں سے ۴۰ ملک شریک ہوئے، جن میں سے صرف ۱۳ سربراہان تھے، جب کہ تین نائب سربراہان تھے۔ ۱۲ممالک کی نمایندگی ان کے وزراے خارجہ نے کی اور گیارہ کی مزید کم درجے کے نمایندوں نے۔ یہی نہیں امریکا اور اسرائیل کے ان اقدامات کے خلاف مضبوط موقف اختیار کرنے والے ملک ترکی کے بارے میں منفی پروپیگنڈا مہم شروع کردی گئی۔ کہا گیا کہ ترکی منافقت کررہا ہے: ایک طرف یہ بیان بازی، کانفرنسیں اور بڑے عوامی پروگرام کررہا ہے اور دوسری طرف اسرائیل کے ساتھ تعلقات رکھے ہوئے ہے۔ اسے تیل اور سامانِ تجارت کی فراہمی جاری رکھے ہوئے ہے۔
    یہ اعتراض یقینا حقیقت پر مبنی ہے۔ ترکی میں مصطفےٰ کمال پاشا کے وارثوں نے باقی سب مسلم ممالک سے پہلے ۱۹۴۹ء ہی میں اسرائیل کو تسلیم کرلیاتھا۔ تب سے اب تک دونوں ممالک کے مابین تجارت و تعاون کے کئی راستے کھلے ہیں۔ لیکن یہ بھی واضح حقیقت ہے کہ طیب ایردوان حکومت کے دوران یہ دو طرفہ تعلقات اپنی بدترین صورت تک جاپہنچے۔ ۲۰۱۰ءمیں ترک سفینے ’مرمرہ‘ کے ذریعے غزہ کا محاصرہ توڑنے کی کوشش کے دوران کئی ترک شہری شہید کردیے گئے۔  تین سال تک تعلقات منقطع رہے۔ بالآخر اسرائیل کو معذرت کرتے ہوئے تمام شہدا کی کامل دیت اور جرمانہ ادا کرنا پڑا۔ حالیہ امریکی اقدامات اور اسرائیلی افواج کے ذریعے قتل عام کے بعد بھی ترکی نے اسرائیلی سفیر کو تمام تر سفارتی حقوق سے محروم کرکے ذلت کے ساتھ ملک بدر کردیا۔   یقینا ترکی کو اس سے بھی زیادہ اقدامات کرنا چاہییں، لیکن آپ ذرا کئی دیگر مسلم حکمرانوں سے موازنہ کرکے دیکھیے۔ ایک طرف ترکی ہے، جس کی حکومت تمام تر اندرونی و بیرونی خطرات کے باوجود، اسرائیل سے دُوری اور لمحہ بہ لمحہ تعلقات ختم کرنے کی جانب آگے بڑھ رہی ہے، اور دوسری طرف  کئی مسلم حکمران ہیں کہ صرف لیلاے اقتدار ملنے کے لالچ میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کی جانب دوڑے چلے جارہے ہیں۔
    اُمت مسلمہ کے ہرفرد کو یہ حقیقت ہمیشہ یاد رکھنا ہوگی کہ فلسطین اور عالمِ اسلام میں وقوع پذیر حالیہ تمام تبدیلیوں کا اصل ہدف وسیع تر اسرائیلی ریاست کا قیام ہے۔ جس کی سرحدیں دریاے فرات سے لے کر دریاے نیل تک اور جنوب میں (خاکم بدہن) مدینہ منورہ تک پھیلی ہوئی ہیں۔ اگر  ساقی کوثر صلی اللہ علیہ وسلم کے دست ِ مبارک سے جامِ کوثر حاصل کرنے کی تمنا حقیقی اور سچی ہے تو یہ سچائی عمل سے ثابت کرنا ہوگی۔ ایسے حکمران منتخب کرنا ہوںگے اور ان حکمرانوں کو ایسے اقدامات کرنا ہوں گے کہ جو قبلۂ اوّل کے بارے میں ہرسودے بازی اور منصوبے کو مسترد کر دیں۔ ربِ ذوالجلال کا اعلان، دعوتِ عمل دیتے ہوئے حوصلہ افزائی کر رہا ہے:
    اِنْ تَنْصُرُوا اللہَ يَنْصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ اَقْدَامَكُمْ۝ (محمد۴۷:۷) اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو وہ تمھاری مدد کرے گا اور تمھارے قدم مضبوط جما دے گا۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں









سوشل میڈیا لنکس