Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

میدان بدر



  1. بدر مدینہ منورہ سے مکہ کی جانب تقریباًاسی میل کے فاصلے پر واقع ایک چھوٹی سی آبادی ہے۔ یہاں چند بدووں کے گھر اور پانی کے چشمے یا کنوئیں تھے۔ مکہ معظمہ سے بدر کا فاصلہ جانب شمال تقریباً سوا دو سو میل تھا۔ اس میدان میں تاریخ انسانی کی سب سے معروف جنگ لڑی گئی جسے قرآن مجید نے فیصلہ کن معرکہ قرار دیا۔ جب حضور اکرم میدان بدر میں پہنچے تو آپ نے ایک مقام پر خیمے لگانے کا ارادہ فرمایا۔ اس موقع پر آپ کے 33سالہ صحابی حضرت حباب بن المنذر نے عرض کیا: ”یارسول اﷲ کیا یہ حکم ربانی ہے یا یہ آپ کا حتمی فیصلہ ہے؟ اگر ایسا ہے تو تاب مجال نہیں‘ لیکن اگر ایسا نہیں تو میں عرض کرتا ہوں کہ یہاں خیمے لگانے کے بجائے اس جگہ خیمے لگائے جائیں جہاں بدر کے کنوئیں ہیں۔“حضور اکرم نے فرمایا کہ ”یہ میری رائے ہے اور جنگ میں تو چالیں چلی جاتی ہیں۔“
    حضرت حبابؓ نے عرض کیا:”ایک تو پانی پر ہمارا قبضہ ہوگا اور دشمن کی رسائی وہاں تک نہ ہوسکے گی۔ نیز اگر بارش ہوگئی تو وہ جگہ اونچی ہے لہٰذا خشک رہے گی اور یہ جگہ نیچی ہے جو دلدل بن جائے گی“۔آنحضور نے ان کے دلائل سن کر ان کی بہت تعریف کی اور ان کی رائے کے مطابق خیمے لگوائے۔ اسی موقع پر نبی پاک نے حضرت حبابؓ کو ذولرّای (صاحب الرائے) کا لقب عطا فرمایا تھا۔
    جنگ بدر میں اہل ایمان کے لےے بے شمار سبق ہیں۔ مندرجہ بالا واقعہ سے اسلام میں مشورے کی اہمیت اور اس کے آداب کا پتہ چلتا ہے۔ اس سے ایک تو یہ معلوم ہوا کہ مشورہ میں خیر اور بھلائی ہوتی ہے۔ حضور پاک نے ایک حدیث میں فرمایا ہے کہ جس نے مشورہ کرلیا وہ شرمسار نہ ہوگا۔ دوسرا یہ معلوم ہوا کہ مشورہ دینے والا کوئی بھی ہو صاحب امر کو اس کے مبنی بر صواب ہونے کی صورت میں اپنی رائے سے رجوع کر لینا چاہےے۔ خاتم المرسلین سے بڑا مرتبہ کس کا ہے؟ آپ نے اپنی رائے تبدیل کر کے امت کو ایک عظیم درس سکھایا ہے۔ تیسری بات جو نہایت اہم ہے یہ معلوم ہوئی کہ مشورہ دینے والا جب کسی رائے کا اظہار کرے تو وہ محض خواہش ہی نہ ہونی چاہےے‘ بلکہ اس کے ساتھ دلیل بھی ہونی چاہےے کہ وہ یہ مشورہ کس بنیاد پر دے رہا ہے۔
    جنگ ِبدر کے دوران عملاً یہی ہوا کہ بارش ہوگئی اور قریش کے خیموں کی جانب پانی جمع ہوجانے سے دلدل سی بن گئی۔ قرآن مجید میں اﷲ تعالیٰ نے اس کا ذکر یوں فرمایا ہے: ”اس وقت کو یاد کرو جب اﷲ آسمان سے تمھارے اوپر پانی نازل کر رہا تھا تاکہ تمھیں پاک کرے اور تم سے شیطان کی ڈالی ہوئی نجاست دور کرے اور تمھاری ہمت بندھائے اور اس کے ذریعے سے تمھارے قدم جمادے۔ “(سورہ الانفال آیت ۱۱)
    حضرت سعد بن معاذؓ نے مشورہ دیا کہ حضور اکرم کے لےے ایک نسبتاً بلند اور محفوظ مقام پر عریش (کمان پوسٹ) بنا دی جائے‘ چنانچہ اس مشورے کے مطابق حضرت سعد بن معاذؓ نے خود یہ عریش تیار کرایا اور حضور اس میں جلوہ افروز ہوئے۔ اس عریش میں حضور اکرم نے یوم بدر سے پہلی شب جس گریہ و زاری سے بارگاہ ایزدی میں دعا کی اس کا تذکرہ حدیث اور سیرت کی کتابوں میں تفصیل سے ملتا ہے۔ عریش کی تجویز اور تیاری پر نبی اکرم نے رئیس اوس سیدنا سعد بن معاذؓ کی بہت تعریف فرمائی اور ان کے حق میں دعا کی۔ اس موقع پر حضور اکرم نے نصرت اور فتح کی بشارت دی تھی۔ اور مسلمانوں کو اس کا یقین بھی تھا‘ مگر اس کے باوجود حزم و احتیاط کا ہر پہلو صحابہ کرامؓ نے ملحوظ رکھا تھا اور جنگ کی حالت میں یہی حکم ربانی ہے کہ اپنی استطاعت کے مطابق پوری احتیاط اور تیاری کا اہتمام کیا جائے۔ (سورہ انفال آیت ۶۰)
    حضرت سعد بن معاذؓ نے عریش کے قریب تیز رفتار اونٹنیوں کا بھی انتظام کر رکھا تھا۔ ان کے پیش نظر یہ تھا کہ فتح کی صورت میں اہل مدینہ کو جلد از جلد خوشخبری سنا دی جائے اور اگر خدانخواستہ جنگ کا پانسہ پلٹ جائے تو حضور اکرم کو بحفاظت مدینہ منورہ پہنچایا جائے۔ حضور اکرم نے حضرت سعدؓ کو دعا دی اور مسکراتے ہوئے فرمایا: ”اے سعد اﷲ تعالیٰ تمھارے لےے اچھا ہی فیصلہ کرے گا۔ “یعنی فتح و کامیابی سے ہمکنار فرمائے گا۔ پھر حضور اکرم نے میدان بدر میں ایک چکر لگایا۔ آپ کے دست مبارک میں ایک نیزہ تھا۔ آپ نے نیزے سے میدان کے مختلف مقامات پر نشان لگائے اور فرمایا: ”یہاں ابوجہل کل قتل ہو جائے گا‘ یہاں فلاںسردارقتل ہوگا….“ یہ پیشین گوئی حضرت انس بن مالکؓ کی روایت کے مطابق یوں پوری ہوئی کہ نامزد سرداران قریش میں سے کوئی بھی بالشت بھر ادھر ادھر نہ تھا۔ سبھی اپنے اپنے متعین مقتل ہی پر قتل ہوئے۔
    قریش کی فوجوں کی آمد سے قبل حضور اکرم اپنے ساتھیوں سمیت بدر پہنچ گئے تھے۔ ابوسفیان اپنا راستہ بدل کر مکہ کی جانب نکل گیا تھا۔ اس نے مکہ کے قرب و جوار سے ابوجہل کے نام پیغام بھی بھیجا کہ چونکہ کاروان تجارت بخیریت مکہ آگیا ہے اس لیے تم بھی واپس آجاو


    ¿‘ مگر ابوجہل قوت کے نشے میں بدمست تھا۔ وہ جگہ جگہ تقریریں کرتا رہا تھا کہ مدینہ اور اہل مدینہ کو تباہ و برباد کر کے لوٹے گا۔ راستے میں کئی مقامات پر اس سے مختلف قبائل کے سردار ملے اور اپنے تعاون کا یقین دلایا۔ اس نے شکرےے کے ساتھ ان کی مدد لینے سے انکار کر دیا۔ اس کے نزدیک اس لشکر جرار کو کسی مزید مدد کی حاجت نہ تھی۔ بنو غفار کے علاقے سے قریش کا گزر ہوا تو رئیس قبیلہ خفاف بن ایماءالغفاری نے اپنے بیٹے کو ابوجہل کے پاس بھیجا۔ وہ اپنے ساتھ ضیافت کے جانور بھی لے کر گیا‘ تاکہ لشکر کی خدمت کی جاسکے۔ پھر اس نے اپنے والد کی طرف سے یہ پیغام پہنچایا کہ اگر ضرورت ہو تو اسلحہ اور جنگجو جوان حاضر ہیں۔ اس کے جواب میں ابوجہل نے کہا: اپنے باپ کو میرا سلام اور شکرےے کا پیغام دے دینا۔ تم لوگوں نے صلہ رحمی کا حق ادا کر دیا ہے اور دوستی کو خوب نبھایا ہے۔میری عمر کی قسم! آج کوئی فوج ہمارے سامنے نہیں ٹھہر سکتی۔
    قرآن مجید نے ابوجہل کا نقشہ یوں کھینچا ہے“ اور ان لوگوں کے رنگ ڈھنگ نہ اختیار کر و جو اپنے گھروں سے اتراتے اور لوگوں کو اپنی شان دکھاتے ہوئے نکلے اور جن کی روش یہ ہے کہ اﷲ کے راستے سے روکتے ہیں۔ جو کچھ وہ کر رہے ہیں وہ اﷲ کی گرفت سے باہر نہیں ہے۔ ذرا خیال کرو اس وقت کا جبکہ شیطان نے ان لوگوں کے کرتوت ان کی نگاہوں میں خوشنما بنا کر دکھائے تھے اور ان سے کہا تھا کہ آج کوئی تم پر غالب نہیں آسکتا اور یہ کہ میں تمھارے ساتھ ہوں۔“(سورہ انفال آیات ۴۷-۴۸)
    قریش نے بدر کے میدان میں پہنچ کر عمیر بن وہب الجمحی کو بھیجا کہ وہ مسلمانوں کی تعداد کا اندازہ لگائے۔ اس نے گھوڑے پر سوار ہر کر اسلامی لشکر کے گرد چکر لگایا اور آکر بتایا کہ تین سو کے لگ بھگ تعداد ہے۔ پھر اس نے مسلمانوں کی جرات و ہمت کا جو نقشہ کھینچا وہ ناقابل فراموش ہے۔ اس نے کہا کہ یثرب کے اونٹ تمھارے لےے موت کا پیغام اٹھائے ہوئے یہاں پہنچے ہیں۔ ان لوگوں میں سے کوئی شخص زندگی سے محبت کرنے والا نظر نہیں آتا۔ وہ مرنے اور مارنے کے لےے ہی گھروں سے نکلے ہیں۔
    عمیر بن وہب کی باتوں سے کئی قریشی سرداروں کے حوصلے پست ہوئے۔ حکیم بن حزام نے عتبہ بن ربیعہ کے پاس جاکر کہا: ”اے ابوالولید بخدا تمھارا قوم کے درمیان ایک عظیم مقام ہے۔ اس موقع پر تم کوئی ایسا کام کر جاو جس کی بدولت ہمیشہ تمھارا نام زندہ ہوجائے“۔
    عتبہ نے پوچھا : ”تمھارا مطلب کیا ہے؟“ حکیم نے جواب دیا: ” مسلمانوں کے ہاتھوں قتل ہونے والا عمرو بن الحضرمی تمھارا حلیف تھا۔ تم اس کا خون بہا معاف کر دو اور اپنے دوست ابوالحکم (ابو جہل) کو بھی سمجھاو کہ ہم خونریزی کے بجائے واپس مکہ چلے جائیں۔ ابوجہل کے سوا کوئی بھی اس معاملے میں تمھاری مخالفت نہیں کر سکتا۔“
    عتبہ بلاشبہ سمجھدار اور حلیم الطبع انسان تھا۔ یہ بات اس کی سمجھ میں آگئی اور اس نے اپنے گردونواح میں جمع نوجوانوں کو مخاطب کر کے کہا:”اے اہل قریش محمد اور اس کے ساتھیوں کے ساتھ لڑائی کوئی پسندیدہ اور خوشگوار عمل نہیں ہوگا۔ تمھیں اپنے چچا یا ماموں‘ بھانجے یا بھتیجے‘ بلکہ ممکن ہے باپ یا بیٹے پر تلوار اٹھانی پڑے۔ میرا خیال ہے چلو ہم واپس چلتے ہیں۔اگر محمد دوسرے قبائل سے نبرد آزما ہوا تو وہ اس کا کام تمام کر دینگے اور تم خوش ہوجاو


    ¿ گے اور اگر اسے فتح مل گئی تو بہر حال وہ تمھارا ہی بھائی بھتیجا ہے۔“
    حکیم بن حزام ابوجہل کے پاس گیا اورکہا کہ عتبہ نے اسے بھیجا ہے کہ لڑائی سے اجتناب کیا جائے۔ ابوجہل یہ بات سن کر غصے سے دہاڑا اور کہا۔ خدا کی قسم عتبہ پر محمد کا جادو کام کر گیا ہے۔ بخدا عتبہ اپنے بیٹے ابوحذیفہ کی وجہ سے بھی متزلزل ہوگیا ہے جو محمد کے ساتھ ہے۔ ہم تو اب رب کعبہ کا نام لے کر اس گروہ کا خاتمہ کےے بغیر یہاں سے نہیں ٹلیں گے۔“ پس اگلے دن معرکہ ہوا اور ابوجہل سمیت 70 کفار تہہ تیغ ہوئے اور ستر جنگی قیدی بنا لیے گئے۔

     

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں

سوشل میڈیا لنکس