Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

پانی کے عالمی دن کا مطالبہ ’’فطرت اور پانی، ساتھ ساتھ

  1.  

    21ویں صدی میں جہاں انسانی زندگی فطرت سے دور رہ کر مصائب اور مشکلات میں گھر گئی وہیں پانی جیسی بنیادی ضرورت بھی ناپید ہوتی جا رہی ہیں۔
    اب اِن ضروریات اور مسائل کا ایک مختصر اور ناپیدار حل ’’اقوام متحدہ‘‘ کے تحت عالمی دن کا منایا جاناہے۔ یعنی ’’ماں‘‘ کا تقدس بھی سال میں صرف ایک دن ، محبت بھی ایک دن اور بچوں کی حفاظت اور نگہبانی بھی سال میں صرف ایک بار یاد رہتی ہیں۔ 1993ء میں پہلی بار پانی کے عالمی بحران کے پیش نظر 22 مارچ کو ’’پانی‘‘ کا عالمی دن منا گیا۔ رواں سال۔ اسی دن کو ’’فطرت اور پانی‘‘ کے عنوان سے منایا گیا۔
    آج کے 8 ارب انسانوں کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ پہلے فطرت کو مسخ کرنے پر تُلے ہوئے تھے اور اب مُضر اثرات کے باعث دوبارہ فطرت کے احیاء کی بات کرتے ہیں۔ یہ معاملہ جدید علوم اور سائنس و ٹیکنالوجی کے نام پر پہلو میں غالب بلکہ افراتفری کا شکار رہا ہے چاہے ہاتھ دھونے کے معاملے میں ہو۔ جنسی احتیاط کے معاملے ہوں ماں کا بچوں کو دودھ پلانے کے معاملے میں ہو۔ انسان زندگی میں روز اول سے انسان سہولت اور بہتری کی تلاش میں رہتا ہے مگر 20 ویں اور 21 ویں صدی میں حضرت انسان سائنس اور ٹیکنالوجی کی تیز رفتاری کے باعث، فطرت اور کلچر و اقدار کو سہولت و فائدے کی خاطر مسخ کرنے پر تُلا ہوا ہے۔
    یہی معاملہ پانی کا ہے۔ پانی کا ضیاع اور بے جاء استعمال ایک صدی میں اتنا زیادہ بڑھ گیا کہ صدیوں کا پانی، انسانی حوس و طلب کے باعث کم پڑ رہا ہے اگرچہ کرہ ارض کا 75 فی صد حصہ پانی پر ہی مشتمل ہے لیکن اس پر اور دست یاب پانی کا 97.5 فی صد حصہ نمکین یعنی پینے کے قابل نہیں جب کہ 2.5 فی صد ہی پانی میٹھا ہے۔ اس میٹھے پانی کی فراہمی میں گلیشیر کا حصہ 68.7 فی صد زیر زمین پانی کا 30.1 فی صد، زمینی اور بخاراتی پانی کا تناسب 0.4 فی صد ہے۔ آبی ماہرین کے مطابق غیر متوقع موسمیاتی تبدلیاں، گلوبل وارمنگ اور بڑھتی ہوئی ماحولیاتی آلودگی کے باعث دنیا بھر میں صاف اور میٹھے پانی کے سب سے بڑے ماخذ گلیشیرز تیزی سے پگھل رہے ہیں۔ جس سے سمندر کی سطح بلند ہونے کے ساتھ، سمندری طوفان، سیلاب اور خشک سالی میں روز افزوں اضافہ ہو رہا ہے اور یہی پینے کا صاف پانی تک انسان کی آسان رسائی کو مشکل بنانے کی ایک اہم ترین وجہ ہے۔
    عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ کے مطابق، صاف پانی کی عدم دستیابی پیٹ کی مختلف بیماریوں کا سبب بنتی ہیں اور آلودہ پانی کے نتیجے میں ہر سال 842000 افراد لقمہ اجل بن جاتے ہیں جن میں پانچ سال سے کم عمر کے 361000 بچے بھی شامل ہیں۔ جب کہ پانی کی کمی سے خوراک کی قلت، مال مویشی کی ہلاکتیں، بڑے پیمانے پر آبادی کا انخلا، معاشی اور سیاسی حالات میں بگاڑ جسے جیسے بڑے مسائل بھی جنم لے رہے ہیں۔
    پینے کے صاف پانی کی فراہمی اب ایک سہولت نہیں بلکہ یہ انسان کا بنیادی حق ہے۔ ہمارے معاشرے میں جہاں تعلیم، روٹی، ہنر، مکان اور علاج مہنگا اور مشکل تر ہو رہا ہے وہی پینے کے صاف پانی کا انتظام، حکومتی پالیسیوں کے باعث مشکل تر ہو رہا ہے اور پاکستان پانی کے شدید قلت کے شکار ممالک میں 36 ویں نمبر پر ہے۔ پاکستان میں گزشتہ برسوں میں آنے والے سیلابوں کی وجہ سے 38 ارب ڈالر سے زائد نقصان ہوا ہے۔ مارچ 2012ء میں اقوام متحدہ کی جانب سے جاری کردہ ’’ورلڈ ڈویلپمنٹ رپورٹ‘‘ کے مطابق، سیلاب سے متاثرہ ممالک میں پاکستان نویں نمبر پر ہے۔
    انسانی آبادی 1927ء میں صرف دو ارب تھی جو 2011ء میں بڑھ کر 7 ارب ہوگئی اور ماہرین کا کہنا ہے کہ 2050ء میں یہی آبادی 9.3 ارب ہوجائے گی۔ اندیشہ ہے کہ 2025ء تک تین ارب انسان پانی کی کمی کا شکار ہوں گے جن میں ایشیاء اور افریقا کے لوگوں کی تعداد سب سے زیادہ ہوگی۔
    امریکی ادارے ’’ورلڈ ریسورسز انسٹیٹیوٹ‘‘ کے مطابق، پاکستان میں 60 سال پہلے فی فرد 50 لاکھ لیٹر پانی دست یاب تھا۔ جو اب پانچ گنا کمی کے بعد 10 لاکھ لیٹر فی فرد رہ گیا ہے۔ پاکستان دنیا بھر میں سے سب سے زیادہ پانی ضائع کرنے والے ممالک کی فہرست میں چوتھے نمبر پر ہے۔ اگر یہی روش، طرز زندگی اور حکومتی پالیسیاں نہ بدلیں تو بدقسمتی سے یہ پہلے نمبر بھی آسکتے ہیں۔
    المیہ یہ ہے کہ زرعی مقاصد کے لیے 70 سے 94 فی صد تک میٹھا پانی استعمال ہوتا ہے اور پانی کے استعمال میں احتیاطی تدابیر نہ اختیار کرتے ہوئے ہم بحیثیت قوم خود کشی کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ سیاسی افراتفری اور رشوت و کرپشن نے ہر شعبہ زندگی کو شدید متاثر کیا ہے جب کہ طرز زندگی نہ بدلنے اور حکمت و دانش کا رویہ چھوڑ کر ہم قومی امراض کے شکار ہو رہے ہیں۔ کراچی میں صاف پانی کی کمی اور پینے کے پانی کا معاملہ و دیگر خرابیوں کا تذکرہ سپریم کورٹ کے ریمارکس میں ہوتا رہتا ہے۔ جب کہ کوئٹہ میں پانی کی کمی اور صوبے میں زراعت و مالداری کی تباہی صوبے کی سیاسی جماعتوں، بیوروکریسی اور عوام کے سامنے ہیں۔ پانی ہی زندگی ہے کے عنوان سے برسوں پہلے ترقی فاؤنڈیشن نے زیارت سے کوئٹہ تک نوجوانوں کی سرگرمی، آگاہی کے لیے پروگرام ڈیزائن کیا تھا اور خوبصورت تقریب بھی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ امجد رشید کی طرح کوئٹہ کا ہر باسی اور ہر ادارہ پانی کے ضیاع روکنے اور بہتر و موثر استعمال کے لیے آگاہی اور رویہ طرز عمل تبدیل کرنے میں اپنا کردار ادا کرے۔
    بحیثیت معاشرہ ہمیں اپنے رویے اور اداروں پر غور کرنا ہوگا اور سائنس و ٹیکنالوجی سے استفادہ و سہولت کے ساتھ کفایت شعاری، فطری طرز زندگی اور ایک دوسرے کے لیے ہمدردی و اپنائیت کا رویہ اختیار کرنا ہوگا۔ ہمارا عقیدہ و دین ہمیں تعلیم دیتا ہے کہ دریا کے کنارے ایک فرد وضو کرے یا نہائے تب بھی اسے بقدر ضرورت ہی پانی کا استعمال کرنا چاہیے۔
    پانی کے عالمی دن کے موقع اور سال 2018ء کے عنوان ’’فطرت اور پانی‘‘ پر غور کرکے درج ذیل اقدامات اُٹھانے چاہیے۔
    1۔ حکومت پینے کے صاف پانی کے لیے پالیسیوں پر غور کرے اور واسا، PHE، زراعت اور شہری حکومتیں ملکر مربوط اور قابل عمل منصوبہ بنائے۔ زرعی آبپاشی اور پینے کے صاف پانی کے نظام کو مربوط کرے۔
    2۔ پینے کے صاف پانی کی فراہمی، حکومت کی بنیادی ذمے داری ہیں اسی فرض کو پورا کرنے کے لیے لائحہ عمل تیار کریں۔
    3۔ والدین اور شہری پانی کے استعمال میں ضیاع کو روکے۔
    4۔ مائیں بالخصوص چھوٹے بچوں کو پانی کے استعمال میں کفایت شعاری کی تربیت دیں۔
    5۔ تعلیمی اداروں اور تمام اجتماعی مواقع پر پانی کے استعمال میں احتیاطی تدابیر پر سیمینار و آگاہی ہو۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں









سوشل میڈیا لنکس