Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

5فروری ۔یومِ یکجہتی کشمیر اور اس کے تقاضے۔ ایک لمحہ فکریہ

  1. پروفیسر الیف الدین ترابی

    5فروری کا دن اس اعتبار سے ہماری ملی تاریخ میں ایک اہم دن کی حیثیت رکھتا ہے کہ یہ دن موجودہ تحریکِ جہاد ِ کشمیر کے اوائل ہی سے پورے پاکستان میں تحریکِ آزادی ¿ کشمیر کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے دن کے طور پر منایا جاتا ہے ۔ اور اس حوالے سے تجدید عہد کیا جاتا ہے کہ تحریکِ آزادی ¿ کشمیر کے سلسلے میں ہم پر جو ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں ۔ہم ان کی ادائیگی میں کوئی کوتاہی نہیں کریں گے ۔ یہاں یہ ملحوظ رہے کہ یہ دن صرف پاکستان میں ہی نہیں منایا جاتا ہے بلکہ پاکستان کے علاوہ دوسرے تمام اسلامی ملکوں کی اسلامی تحریکوں کی طرف سے بھی یہ دن تحریکِ آزادی ¿ کشمیر کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لےے اہتمام کے ساتھ منایا جاتا ہے ۔ چنانچہ اس دن پاکستان کے علاوہ دنیائے اسلام کے دوسرے حصوں میں بھی وہاں کی اسلامی تحریکوں کی طرف سے تحریکِ آزادی ¿ کشمیر کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لےے خصوصی پروگراموں مثلاً سیمیناروں ، کانفرنسوں اور ریلیوں وغیرہ کا اہتمام کیا جاتا ہے ۔

    یوم یکجہتی کشمیر اور مقبوضہ کشمیر میں جاری حالیہ تحریک مزاحمت

    اس سال 5 فروری - یوم یکجہتی کشمیر- ایسے موقع پر منایا جا رہا ہے جب مقبوضہ کشمیر میں بھارتی تسلط کے خلاف جاری تحریک مزاحمت ایک فیصلہ کن موڑ پر پہنچ چکی ہے ۔ بھارت کے خلاف جاری یہ پرامن تحریک مزاحمت ایک ہمہ گیر تحریک مزاحمت ہے جس میں ریاست کا ہر فرد چاہے اس کاتعلق زندگی کے کسی بھی شعبے سے ہو بھر پور طریقے سے شریک ہے ۔ شہری ہو یا دیہاتی، مرد ہو یا عورت، بچہ ہو یا بوڑھا، سرکاری ملازم ہو یا تجارت پیشہ یہاں تک کھیت جوتنے والا کسان ہو یا بکریاں چرانے والا چرواہا ہر شخص اس عظیم الشان تحریک سے وابستہ ہے اور اس میں اپنے اپنے طریقے سے اپنا اپنا کردار ادا کررہا ہے ۔ اس عظیم الشان تحریک کے ہمہ گیر ہونے پر جہاں ریاست کے طول و عرض میں واقع تمام شہر، دیہات اور قصبے گواہی دے رہے ہیں وہاں اس کی گواہی ان بھارتی پارلیمانی وفود کو بھی دینا پڑی جو بھارت نے پچھلے عرصے کے دوران میں مقبوضہ کشمیر میں مذاکرات کے لئے بھیجے ہیں ۔ اس عظیم الشان تحریک کا دوسرا نمایاں پہلو یہ ہے کہ یہ ایک مکمل طور پر پرامن تحریک ہے ۔ بھارتی قابض فوج اور پولیس کی گولیوں اورسنگینوں کے مقابلے میں کشمیری نوجوان مرد اور عورتیں اپنے سینے پیش کرتے ہوئے صرف آزادی اور حق خود ارادیت کے حق میں نعرے لگاتے ہیں ، گویا وہ زبان حال سے پکارتے ہیں: 

      ا دھر آ ستم گر ہنر آزمائیں    تو تیز آزما ہم جگر آزمائیں

    یوں اس عظیم الشان تحریک کے نتیجے میں بھارت کا یہ پروپیگنڈا اپنی موت آپ مرگیا کہ یہ دہشت گردی کی تحریک ہے جسے پڑوسی ملک پاکستان کی طرف سے مسلط کیا گیا ہے ۔ 

    اس عظیم الشان تحریک کا تیسرا اہم پہلو یہ ہے کہ اس کی منزل بالکل واضح ہے ۔ تحریک کے دوران میں اپنی جانیں نچھاور کرنے والے کشمیری مردوں ، عورتوں اور بچوں کا ایک ہی نعرہ ہے:

    آزادی کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ    پاکستان سے رشتہ کیا لا الہ الا اللہ

    اور وہ لوگ جو اس تحریک کی منزل اور اس کے نصب العین کے حوالے سے ابہام پیدا کرنا چاہتے ہیں، وہ یاتو خود فریب خوردہ ہیں یا دوسروں کو فریب دے رہے ہیں۔ اس تحریک کا چوتھا اہم پہلو یہ ہے کہ اس تحریک کو اللہ تعالی نے جو قیادت ودیعت کر رکھی ہے وہ علامہ اقبال کے اس شعر کی عملی تعبیر ہے : 

      نگاہ بلند سخن دلنواز جان پرسوز  یہی ہے رخت سفر میر کارواں کے لئے

    اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالی نے اس قیادت کو بے پناہ عزیمت و استقامت سے بھی نواز رکھا ہے اور فراست مومنانہ سے بھی یہی وجہ ہے کہ بھارت اب تک نہ جبر وتشدد کے ہتھکنڈوں سے اس قیادت کو دبا سکا ہے ‘ نہ ترغیب و تحریص کے حربوں سے خرید سکا ہے اور نہ مکرو فریب کے ہتھکنڈوں سے اسے اپنے دام فریب میں پھانس سکا ہے ۔ بلاشبہ یہ قیادت مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے لئے مذاکرات کا تو خیر مقدم کرتی ہے لیکن مذاکرات کے نام پر بھارت کے فریب میں آنے کو تیار نہیں ۔ تحریک آزادی کشمیر کی اس قیادت میں کئی گرامی قدر قائدین کے نام شامل ہیں بلاشبہ وہ سب کے سب قابل احترام ہیں لیکن یہ ایک امر واقعہ ہے کہ ان قائدین میں سب سے نمایاں اور قد آور شخصیت جناب سید علی گیلانی کی ہے ۔ ہم یوم یکجہتی کشمیر کے اس موقع پر اس عظیم الشان تحریک کے لئے اپنے کشمیری بھائیوں اور ان کی عظیم الشان قیادت کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں اور اللہ تعالی سے دعا کرتے ہیں کہ وہ اس عظیم الشان تحریک کے دوران میں پیش کی گئی لازوال قربانیوں کو قبول فرمائے اور اس تحریک کو کامیابی سے ہمکنار کرے ۔ 

    یومِ یکجہتی کشمیر کا پسِ منظر

    5 فروری کو یومِ یکجہتی کشمیر کے طور پر منانے کا آغاز 1990 ء کے اوائل میں موجودہ تحریکِ آزادی ¿ کشمیر کے آغاز میں ہوا ۔ اس دن کو یومِ یکجہتی کشمیر کے طور پر منانے کے حوالے سے سب سے پہلے جماعتِ اسلامی پاکستان کے سابق امیر محترم قاضی حسین احمد صاحب نے جنوری 1990ء کے اوائل میں اپیل کی تھی ۔ یہ بات اپنے بیگانے سب تسلیم کرتے ہیں کہ محترم قاضی صاحب کی حیثیت موجودہ تحریکِ آزادی ¿ کشمیر کے آغاز سے اس کے ایک بہت بڑے محسن اور پشتیبان کی رہی ہے اور انہوں نے اس تحریک کی تائید وحمایت کے حوالے سے ذاتی طور پر بھی اور جماعتی حیثیت سے بھی جو گرانقدر کوششیں کی ہیں ۔ اس کی پورے ملک میں کوئی نظیر نہیں ملتی ہے ۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ ان کی اس اپیل کا بھرپور خیر مقدم کیا گیا ۔ اس وقت چونکہ پنجاب میں اسلامی جمہوری اتحاد کی حکومت تھی اور محترم میاں محمد نواز شریف وزیرِ اعلیٰ تھے ۔ لہٰذا انہوں نے محترم قاضی صاحب کی اپیل سے اتفاق کرتے ہوئے 5 فروری 1990 ء کو پنجاب بھر میں سرکاری طور پر یومِ یکجہتی کشمیر منانے کا اعلان کر دیا ۔ مرکز میں اس وقت محترمہ بینظیر بھٹو مرحومہ کی حکومت تھی لہٰذا انہیں بھی اس دن کو سرکاری طور پر یومِ یکجہتی کشمیر کے طور پر منانے کا اعلان کرنا پڑا ۔ اس کے ساتھ ہی محترم قاضی صاحب نے مختلف ممالک کی اسلامی تحریکوں سے بھی یہ دن یومِ یکجہتی کشمیر کے طور پر منانے کی اپیل کی ۔ چنانچہ اس کے بعد سے یہ دن نہ صرف یہ کہ سرکاری طور پر اہتمام کے ساتھ پورے ملک میں منایا جاتا ہے بلکہ دنیا کے اکثر ملکوں میں وہاں کی اسلامی تحریکوں کی طرف سے بھی اسے یومِ یکجہتی کشمیر کے طور پر منایا جاتا ہے ۔ اس دن نہ صرف پورے ملک بلکہ پورے عالم ِ اسلام میں تحریکِ آزادی ¿ کشمیر کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لےے جلسوں ، جلوسوں ، کانفرنسوں اور سیمیناروں کا اہتمام کیا جاتا ہے ۔ اخبارات و رسائل خصوصی ایڈیشن شائع کرتے ہیں ۔ اور تجدید ِ عہد کیا جاتاہے کہ تحریکِ آزادی ¿ کشمیر کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے حوالے سے ذمہ داریوں کو ادا کرنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی جائے گی۔

    یوں تحریکِ آزادی ¿ کشمیر کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کایہ اہتمام 5فروری کو ہر سال کیا جاتا ہے ، اور بلاشبہ یہ بات اپنی جگہ بہت بڑی اہمیت رکھتی ہے ۔ اس موقع پر پوری قوم بشمول حکومت تحریکِ آزادی ¿ کشمیر کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے یہ یقین دہانی کرتی ہے کہ ہم بحیثیت قوم آزادی اور حق ِ خودارادیت کی جدو جہد میں اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ ہیں ۔ اور ساتھ رہیں گے ۔ لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ 5 فروری کو تحریکِ آزادی ¿ کشمیر کے ساتھ یکجہتی کا اظہار اور اعلان کرنے کے بعد ہم پر جو ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں اور ان سے عہدہ برآ ہونے کے جو تقاضے ہیں کیا ہم واقعی سنجیدگی سے انہیں سمجھنے اور انہیں پورا کرنے کا اہتمام کرتے ہیں ۔

    تحریکِ آزادی ¿ کشمیر کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے حوالے سے قول و فعل کے تضاد کے نقصانات :

    تحریکِ آزادی ¿ کشمیر کے ساتھ اظہار یکجہتی کا اعلان کرنے کے بعد اس کے تقاضوں پر عمل نہ کرنے سے تحریکِ آزادی ¿ کشمیر کو جو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچتا ہے ، اس کا اندازہ کرنے کے لےے یہاں ہم سابق صدر پرویز مشرف کے دور کو مثال کے طور پر پیش کرتے ہیں ہم دیکھتے میں کہ سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں بھی 5فروری کو ہر سال یومِ یکجہتی کشمیر کے طور پر پورے اہتمام سے منایا جاتا رہا ۔ چنانچہ اس موقع پر اہتمام سے کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا جاتا تھا ۔ اور اس عہد کی تجدید کی جاتی تھی کہ ہم تحریکِ آزادی ¿ کشمیر کے ساتھ یکجہتی کے تقاضوں کو پورا کرنے کے حوالے سے اپنی ممکنہ کوششوں میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھیں گے ۔ اور پھر ابھی تحریک ِ آزادی ¿ کشمیر کے ساتھ یکجہتی کے حوالے سے تجدید عہد کے یہ الفاظ ہوا میں تحلیل بھی نہ ہو پاتے کہ خود صدر پرویز مشرف کی طرف سے اس عظیم تحریک کو سبوتاژ کرنے کے لےے سازشوں اور ریشہ دوانیوں کا آغاز کر دیا جاتا ۔ جس کے نتیجے میں تحریکِ آزادی ¿ کشمیر کے خلاف خود حکومت کی سرپرستی میں ہونے والی ان سازشوں اور ریشہ دوانیوں کے تناظر میں تحریکِ آزادی ¿ کشمیر کے ساتھ یکجہتی کا اظہار اور اعلان ایک مذاق بن کے رہ جاتا ۔ چنانچہ ان کے نو سالہ دور اقتدار کا جائزہ لینے سے اندازہ ہوتا ہے کہ انہوں نے اس عرصے کے دوران میں ہر سال 5 فروری کو تحریکِ آزادی کشمیر کے ساتھ یکجہتی کے عہد کی تجدید کے ساتھ ساتھ اپنے اقدامات کے ذریعے اس تحریک کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی ۔ ان کے ان اقدامات میں سے جن سے تحریک ِ آزادی ¿ کشمیر کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا ۔ مثال کے طور پر چند اقدامات کا ذکر یہاں کیا جا رہا ہے ۔ 

    انہوں نے اکتوبر 2003 ء میں ریاست جموں و کشمیر میں کنٹرول لائن پر یک طرفہ جنگ بندی کے ذریعے بھارت کو یہ موقع فراہم کیا کہ وہ کنٹرول لائن پر برقی تاروں کی باڑ لگاکر کشمیری مجاہدین کی آمد و رفت کا سلسلہ بند کر دے تاکہ اسے مقبوضہ کشمیر میں تحریک ِ جہاد کو کچلنے کے لےے سرکاری دہشت گردی کے ہتھکنڈوں کے آزادانہ استعمال کا موقع مل سکےحالانکہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کی رو سے کشمیری عوام کی کنٹرول لائن پر آمدورفت پر پابندی عائد نہیںکی جا سکتی ۔ اسی طرح انہوں نے جنوری 2004ء میں بھارت کے اس وقت کے وزیرِ اعظم اٹل بہاری واجپائی کے ساتھ باہمی متنازعہ معاملات کو حل کرنے کے معاہدے کے بعد یکایک مسئلہ کشمیر کے حوالے سے پاکستان کے اصولی موقف سے جو ٹھوس آئینی اور اخلاقی بنیادوں پر قائم تھا ، دستبرداری کا اعلان کر دیا ۔ جب کہ بھارت اپنے غلط موقف پر جس کی کوئی آئینی اور اخلاقی بنیاد ہی نہیں تھی ، پوری قوت اور ڈھٹائی سے قائم رہا جس سے مسئلہ کشمیر اور تحریکِ آزادی ¿ کشمیر کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا ، چنانچہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے پاکستان کے اصولی موقف سے دستبرداری کے اس غیر دانشمندانہ اقدام کا ایک طرف تو یہ نتیجہ نکلا کہ پاکستان کا مسئلہ کشمیر کے حوالے سے سرے سے کوئی موقف ہی نہیں رہا ۔ جب کہ اس کا دوسرا نتیجہ یہ نکلا کہ اپنے اصولی موقف سے دستبرداری کے اعلان کے بعد پاکستان مسئلہ کشمیر کا بنیادی فریق ہی نہیں رہا ۔ اس لےے کہ وہ صرف اپنے اصولی موقف کی وجہ سے مسئلہ کشمیر کا ایک بنیادی فریق تھا ۔ لہٰذا اپنے اصولی موقف سے دستبرداری کے بعد پاکستان کسی فورم پر مسئلہ کشمیر کے حوالے سے آواز اٹھانے کے قابل نہ رہا ۔

    صدر مشرف کا ایک دوسرا اقدام جس سے تحریک ِ آزادی ¿ کشمیر کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا ، ان کا پاکستان کے اس اصولی موقف سے انحراف کا فیصلہ تھا کہ جب تک بھارت مسئلہ کشمیر کو متنازعہ مان کر اس کے حل پر آمادگی کا اظہار نہیں کرتا ہے ،اس سے تعلقات خصوصاً تجارتی تعلقات کی بحالی ممکن نہیں ہے ۔ بھارت کے ساتھ تعلقات کی بحالی ،خصوصاً تجارتی تعلقات کی بحالی کے حوالے سے پاکستان کا یہ اصولی موقف قیامِ پاکستان کے پہلے دن سے تھا ۔ لیکن صدر مشرف نے ظلم یہ کیا کہ پاکستان کے اس اصولی موقف سے انحراف کرتے ہوئے بھارت کی طرف سے مسئلہ کشمیر کو اپنا داخلی مسئلہ اور کشمیر کواپنا اٹوٹ انگ قرار دینے کے ھٹ دھرمی پر مبنی موقف کے باوجود بھارت کے ساتھ تعلقات کی بحالی کا فیصلہ اور اعلان کر دیا جس کے بعد بھارت سے آنے والے ایرے غیرے نتھو خیرے کا پاکستان میں سرکاری سطح پر استقبال کیا جانے لگا ۔ خصوصاً وہاں سے آنے والے ایکٹروں ، ایکٹرسوں اور بھانڈوں کا تو اس طرح استقبال کیا جانے لگا کہ گویا وہ ” وی ۔ وی ۔ آئی۔ پی “ قسم کے لوگ ہوں ۔ اور پھر ستم بالائے ستم یہ کہ بھارت سے آنے والے یہ تمام بھانڈ اور میراثی واہگہ پہنچنے پر پاکستان اور بھارت کے درمیان واقع نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کو ختم کرکے دوبارہ اکھنڈ بھارت بنانے کی باتیں کرتے ۔اس سے مقبوضہ کشمیر میں تحریکِ آزادی ¿ کشمیر سے وابستہ لوگوں کو یہ پیغام پہنچنے لگا کہ جو پاکستان ان کی آرزوﺅں اور تمناﺅں کا مرکز و محور اور نصب العین ہے ، وہ خود بھارت کے ساتھ تعلقات کی بحالی کے لےے اس قدر بے چین ہے اور اس مقصد کے لےے اس کے سامنے بچھا جا رہا ہے جس کے نتیجے میں ان کے جذبہ جہاد و آزادی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا یا 

    لیکن صدر پرویز مشرف کے جس اقدام سے تحریکِ آزادی ¿ کشمیر کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا ۔ وہ یہ تھا کہ انہوں نے تحریکِ آزادی ¿ کشمیر کی قیادت میں اختلافات کو پروان چڑھایا اور اس کے لےے اپنی سرکاری حیثیت اور وسائل کا بڑی بے دردی سے استقبال کیا جس سے تحریک کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا ۔ 

    اسی طرح اس دوران میں صدر پرویز مشرف نے ایک اور ستم یہ ڈھایا کہ وہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے امریکی روڈ میپ پر عملدرآمد کے لےے وقتاً فوقتاً نئے نئے فارمولے پیش کرتے رہے ، کبھی یونائٹڈ سٹیٹس آف کشمیر کا فارمولہ اور کبھی کشمیر کو لسانی خطوں میں تقسیم کرنے کا فامولہ ۔ اگرچہ ان کے پیش کردہ یہ سارے فارمولے تحریکِ آزادی ¿ کشمیر کے تقاضوں کے یکسر منافی تھے۔ لیکن اس کے باوجود وہ انتہائی ڈھٹائی کے ساتھ ہر سال 5 فروری کو یومِ یکجہتی کشمیر کے موقع پر تحریکِ آزادی ¿ کشمیر کے ساتھ یکجہتی کا اظہار اور اعلان بھی کرتے رہے ہیں ۔ بلاشبہ یہ طرزِ عمل تحریکِ آزادی ¿ کشمیر کے ساتھ ایک سنگین مذاق ہونے کے ساتھ ساتھ کشمیری عوام کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف تھا ۔ 

    یہ ایک امرِ واقعہ ہے کہ سابق صدر پرویز مشرف کے اس طرزِ عمل کو کشمیری عوام کے ساتھ ساتھ پاکستانی عوام نے بھی مسترد کر دیا جس کا نتیجہ 18 فروری 2008ئ کے انتخابات میں ان کی حامی حکمران جماعت ق لیگ کی عبرتناک شکست کی صورت میں سامنے آیا ۔ 

    تحریک آزادی ¿کشمیر اور پاکستان کی موجودہ حکومت

    جہاں تک موجودہ حکومت کا تعلق ہے‘ اسے اقتدار میں آئے ہوئے تین سال ہونے کو ہیں لیکن یہ بات انتہائی دکھ اور افسوس کے ساتھ کہنا پڑتی ہے کہ تحریک آزادی کشمیر کے حوالے سے اس حکومت کا رویہ بھی پرویز مشرف کی حکومت کے رویے سے کچھ زیادہ مختلف نہیں ہے جہاں تک صدر اور وزیر اعظم کی طرف سے کشمیری عوام کی تحریک آزادی کی تائید و حمایت میں کبھی کبھار جاری ہونے والے بیانات کا تعلق ہے تووہ اس پہلو سے کچھ خاص اہمیت نہیں رکھتے کہ ان نرے بیانات کے ساتھ وہ مطلوبہ تائید و حمایت نہیں ہے جو آج تحریک آزادی کشمیر کی ضرورت ہے ۔ بلکہ اس سے بھی زیادہ افسوس ناک بات یہ ہے کہ آج موجودہ حکومت کے دور میں پاکستان کے اندر امن و امان اور کرپشن کی جو افسوسناک صورت حال ہے وہ تحریک آزادی کشمیر کے لئے مزید مایوسی کا سامان پیدا کررہی ہے ۔ 

    تحریکِ آزادی ¿ کشمیر سے یکجہتی کے تقاضے

    یوم یکجہتی کشمیر کے اس موقع پرہم تحریک آزادی کشمیر کے ساتھ یکجہتی کے حقیقی تقاضوں کا ذکر کرتے ہیں تاکہ قوم بشمول حکومت ان تقاضوں کا صحیح ادراک بھی کرسکے او ران پر عملدرآمد کو یقینی بھی بنائے۔تحریکِ آزادی ¿ کشمیر کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے ان تقاضوں کو صحیح طور پر سمجھنے کے لےے یہ بات جاننا ضروری ہے کہ اس وقت مقبوضہ کشمیر میں آزادی اور حق خود ارادیت کی جو تحریک جاری ہے ، وہ ریاست جموں و کشمیر کی آزادی اور حق خودارادیت کی تحریک ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستان کی تکمیل اور بقا کی تحریک بھی ہے ۔ اور ہمارے مقبوضہ کشمیر کے بھائی گزشتہ اکیس سال کے عرصے میں کشمیر کی آزادی اور پاکستان کی بقا کی اس تحریک کے دوران میں ایک لاکھ سے زیادہ شہداءکے مقدس لہو کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں ۔ جن میں مر د ، عورتیں ، بچے اور بوڑھے سبھی شامل ہیں ، اس کے علاوہ اس عرصے کے دوران میں لاکھوں کی تعداد میں کشمیری مسلمان مرد ، عورتیں ، بچے اور بوڑھے زخمی اور اپاہج ہو چکے ہیں ۔ چنانچہ آج مقبوضہ کشمیر میں کوئی گھر ایسا نہیں ہے جس کا کوئی نہ کوئی فرد شہید یا زخمی نہ ہوا ہو ، یا جس کی کسی ماں ، بہن یا بیٹی کی عصمت نہ لٹی ہو ۔ اسی طرح آج مقبوضہ کشمیر میں بستیوں کی بستیاں ویرانوں میں تبدیل ہو چکی ہیں ۔ مقبوضہ کشمیر کا کوئی شہر یا گاﺅں ایسا نہیں ہوگا جہاں شہدائے کرام کے مزار نہ ہوں ۔ یوں وہ کشمیر جو اپنی قدرتی خوبصورتی اور رعنائی کی وجہ سے جنتِ ارضی کہلاتا تھا ، بھارت کی سرکاری دہشت گردی کی وجہ سے موت کی وادی میں تبدیل ہو چکا ہے ۔ اور کشمیری عوام نے یہ ساری قربانیاں اپنے حق ِ خود ارادیت اور پاکستان کی تکمیل اور بقاءکے لےے دی ہیں ۔ ماﺅں نے اپنے جگر گوشے ، بہنوں نے اپنے بھائی اور بیویوں نے اپنے سہاگ اسی عظیم مقصد کے لےے پیش کئے ہیں ۔ اب اگر کوئی شخص ان کی ان عظیم اور لا زوال قربانیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر کے کسی ایسے حل کی بات کرتا ہے جو ان کے حق خودارادیت اور آزادی کے مطالبے سے مطابقت نہیں رکھتا ہے ، تو وہ ان کی ان عظیم اور لازوال قربانیوں کا مذاق اڑاتا ہے ۔ اسی طرح اگر کوئی شخص اہل ِ کشمیر کی اتنی عظیم قربانیوں کے بعد مسئلہ کشمیر کے حل پر بھارت کی آمادگی کے بغیر اس کے ساتھ تعلقات کی بحالی اور تجارت کی بات کرتا ہے تو وہ دراصل کشمیری ماﺅں ، بہنوں اور بیٹیوں کے زخموں پر نمک پاشی کرتا ہے ۔ اور وہ شخص تو کسی صورت بھی قابلِ معافی نہیں ہے ۔ جو 5 فروری کو تحریکِ آزادی ¿ کشمیر کے ساتھ یکجہتی کا اظہار اور اعلان کرنے کے بعد تحریکِ آزادی ¿ کشمیر کے خلاف کی جانے والی سازشوں اور ریشہ دوانیوں میں بھی حصہ لیتا ہے ۔

    تحریکِ آزادی ¿ کشمیر کی اہمیت اور اس کے ساتھ اظہار ِ یکجہتی کے ان تقاضوں کا ذکر کرنے کے بعد ہم یہاں اختصار کے ساتھ بعض ایسے اقدامات کا ذکر کرتے ہیں ، جن پر عملدرآمد کے بغیر تحریک ِ آزادی ¿ کشمیر کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے تقاضے کسی صورت بھی پورے نہیں ہو سکتے ہیں ۔ یہ اقدامات حسبِ ذیل ہیں ۔ 

    اولاً: ملتِ پاکستان بشمول حکومت پاکستان اس حقیقت کا شعوری طور پر ادراک کرے کہ مقبوضہ کشمیر میں جاری مزاحمت کی تحریک جہاں کشمیری عوام کی آزادی اور حق خودارادیت کی تحریک ہے وہاں پاکستان کی تکمیل اور بقا کی تحریک بھی ہے ۔ اور اس تحریک سے بیگانگی قومی خود کشی کے مترادف ہو گی ۔

    ثانیاً: حکومت ِ پاکستان اس بات کا واضح اور دو ٹوک طور پر اعلان کرے کہ پاکستان مسئلہ کشمیر کے حوالے سے اپنے اصولی موقف پر جو تقسیم ِ برصغیر کے اصولوں اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں کشمیر میں آزادانہ اور غیر جانبدارانہ رائے شماری کے مطالبے پر مبنی ہے ، قائم ہے اور قائم رہے گا ۔

    ثالثاً: حکومتِ پاکستان کو اس بات کا بھی واضح اور دو ٹوک انداز میں اعتراف اور اعلان کرنا چاہےے کہ پاکستان چونکہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی رو سے مسئلہ کشمیر کا بنیادی فریق ہے ۔ اس لےے سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق کشمیر میں رائے شماری کے مطالبے اور اس پر عملدرآمد کے لےے جاری تحریکِ مزاحمت کی تائید و حمایت کرنا پاکستان کا آئینی و قانونی اور اخلاقی فرض اور ذمہ داری ہے ۔ جس سے پاکستان لا تعلق اور بیگانہ نہیں رہ سکتا ہے ۔ لہٰذا سلامتی کونسل کی ان قراردادوں کی رو سے پاکستان اس بات کا پابند ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں جاری تحریکِ مزاحمت کی بھرپور تائید و حمایت کرے ۔ جو اس کا حق بھی اور فرض بھی ۔

    رابعاً: حکومت ِ پاکستان کو اس بات کا بھی واضح اور دو ٹوک انداز میں اعلان کرنا چاہےے کہ جب تک بھارت مسئلہ کشمیر کو متنازعہ تسلیم کر کے اسے حل کرنے پر آمادہ نہیں ہوجاتا ہے ، اس وقت تک نہ تو بھارت کے ساتھ تعلقات کی بحالی کا عمل شروع کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس کے ساتھ کسی طرح کی تجارت کی جا سکتی ہے ۔

    خامساً: صدر پرویز مشرف نے امریکی ایجنڈے کی تکمیل کے لےے تحریکِ آزادی ¿ کشمیر کی قیادت میں اختلاف کو ہوا دینے کا جو گھناﺅنا عمل شروع کیا تھا ۔ موجودہ حکومت کو فوری طور پر اسے بندکرنے کا اہتمام کرنا چاہےے ۔

    سادساً: اہلِ پاکستان کو حکومتی سطح پر بھی اور عوامی سطح پر بھی ، اس عہد کی تجدید کرنی چاہےے کہ جب تک مسئلہ کشمیر کو کشمیری عوام کی امنگوں اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل نہیں کیا جاتا ہے ، اس وقت تک بھارتی مصنوعات کا مکمل طور پر بائیکاٹ جاری رکھا جائے گا ۔

    سابعاً: اہلِ پاکستان کو حکومتی سطح پر اور عوامی سطح پر بھی اس بات کا ادراک ہونا چاہےے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی ریاستی دہشت گردی کے نتیجے میں جو لوگ متاثر ہوئے ہیں ان کو ریلیف بہم پہنچانا ہماری دینی و اخلاقی ذمہ داری ہے ۔ لہٰذا ہمیں ہر صورت اس کا اہتمام کرنا چاہےے ۔

    ثامناً : آزادکشمیر میں جو تحریک آزادی ¿ کشمیر کا بیس کیمپ ہے اور جسے آزادکشمیر کی مختلف سیاسی جماعتوں نے اقتدار کی کشمکش اور اکھاڑ پچھاڑ کا اڈا بنا رکھا ہے ،کو ایک مثالی اسلامی معاشرہ قائم کرنے کا اہتمام کیا جائے تاکہ صحیح معنوں میں تحریک اسلامی کا بیس کیمپ ثابت ہوسکے اس کے لئے مناسب رہے گا کہ مقبوضہ کشمیر میں تحریک آزادی ¿ کشمیر کی تکمیل تک آزاد کشمیر میں ایک ایسی قومی حکومت تشکیل دی جائے جو آزاد کشمیر میں ایک فلاحی اسلامی معاشرہ قائم کرنے کے ساتھ ساتھ مقبوضہ کشمیر میں جاری تحریک آزادی میں بھی ایک م ¶ثر اور فیصلہ کن کردار ادا کرسکے ۔ 

    تاسعاً : اسی طرح پاکستان جو تحریک آزادی ¿ کشمیر کی منزل ہے قائد اعظم اور علامہ اقبال کے فرمودات کے مطابق صحیح معنوں میں ایک مکمل اسلامی نظام قائم کرکے اسے ایک حقیقی فلاحی اسلامی ریاست بنایا جائے تاکہ اس کے نتیجے میں تحریک آزادی ¿ کشمیر کو ایک نئی مہمیز مل سکے ۔

    ہمیں یقین ہے کہ ان اقدامات پر عمل درآمد کے نتیجے میں تحریک آزادی ¿ کشمیر کے ساتھ یکجہتی کے تقاضے صحیح طور پر پورے ہو سکیں گے ۔ اور یہی یوم یکجہتی کشمیر کا تقاضہ ہے ۔ 

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں









سوشل میڈیا لنکس