Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

نتن یاہو کا دورہ بھارت۔پاکستان ہوشیار باش


  1. میر افسر امان

    دنیا کے ملکوں کے سربراہ ایک دوسرے کے ہاں آتے جاتے رہتے ہیں یہ معمول کا کام ہے۔ مگر کچھ مخصوص ملک اور لیڈر ہوتے ہیں جن کا آپس میں ملنا کسی نہ کسی شر کا پیش خیمہ ہو تا ہے۔ ایسی ہی کچھ دو دہشت گردوں،نتن یاہو اور مودی کی ملاقات کے بارے میں ایک مسلمان کے تاثر ہے۔ یہ دونوں پاکستان اور مسلمانوں کے دشمن نمبر ون ہیں۔پاکستان کے خلاف گریٹ گیم کے تین میں سے دو مہرے ہیں۔ ایک فلسطین میں مسلمانوں کی زمینوں پر ناجائز قابض ہے اور اس کے جائز باشندوں کو مولی گاجر کی طرح کاٹ کر دربدر کر دیااور ان پر قیامت برپا کی ہوئی ہے۔ تو دوسرا مسلمان ریاست کشمیر پر ناجائز قبضہ جمائے ہوئے ہے ۔اپنی آٹھ لاکھ فوج کے ذریعے کشمیر کو فوجی چھاونی بناکر ان کو ظلم کی بھٹی میں جلا رہا ہے۔دونوں میں قدر مشترک ہے کہ دونوںپاکستان کے خلاف گریٹ کے سرخیل امریکا کے قریبی دوست اور امریکا کی ہی آشیر اباد پر پاکستان سے دشمنی کرتے ہیں۔امریکا اسلامی اور ایٹمی پاکستان کو ایک نظر پسند نہیں۔وہ پاکستان کی ایٹمی قوت کو ختم کرنے کی تدبیریں کرتا رہتا ہے۔کوئی سوال کر سکتا ہے کہ ایسا کیوں ہے۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ پاکستان اسلامی دنیا کا واحد ایٹمی اور میزائل قوت والا ملک ہے۔ یہ مذہب کی بنیاد پر وجود میں آیا ہے۔ اس کے عوام اسلام پر مرمٹنے کے عزم والے ہیں ۔یہ اسلامی دنیا کی حفاظت کرنے کی پھر پور صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ بات یہودیوں،عیسائیوں اور بھارت کے برہمن ہنودوں کومنظور نہیں ۔ اس لیے پاکستان کے خلاف گیٹ گیم کے یہ تینوںامریکا،بھارت اور اسرائیل پاکستان کے سخت مخالف ہیں ۔یہ پاکستان کو نیست ونابود کرنے کی سازشیں کرتے رہتے ہیں۔ پاکستانی عوام کو یہ یاد ہے کہ امریکا نے پاکستان توڑنے کے منصوبے بنائے ہوئے ہیں۔ اس کام کے لیے امریکا نے کئی سال پہلے نقشے تک جاری کیے ہوئے ہیں۔پیپلز پارٹی کے سابق وزیر داخلہ سندھ ذوالفقار مرزا صاحب نے غدار وطن الطاف حسین کا بھونڈا عین چورائے پر پھوڑ دیا تھا۔ اس نے الیکٹرونک میڈیا پر قرآن سر پر رکھ کر کہا تھا کہ غدار پاکستان الطاف حسین نے اس سے ایک میٹینگ میں کہا تھا کہ امریکا پاکستان توڑنے میں لگا ہوا ہے اور میںاُس کا ساتھ دوں گا۔ اسی الطاف حسین نے برطانیہ کے سابق وزیر اعظم  ٹونی بلیئر کو خط لکھا تھا کہ آپ پاکستان کی آئی ایس آئی کو ختم کرو۔ میں اس کے لیے آپ کی مدد کروں گا۔میرے ۳۵۰۰۰ مسلح کارکن برطانیہ کے کراچی کے کونسل خانے کی حفاظت کے لیے موجود ہیں۔(حوالہ ڈان اخبار) سب کو معلوم ہے کہ یہ سازشیں اب اپنے عروج پرپہنچ چکی ہیں۔ امریکا اور برطانیہ عیسائی ریاستیںہیں۔عیسائیوں سے مسلمانوں کی صلیبی جنگوں کی ایک طویل داستان ہے۔۹؍۱۱ کے جعلی واقعہ کے بعد امریکی صدر بش نے پھر سے مسلمانوں کے خلاف صلیبی جنگ چھیڑی ہوئی ہے۔(حوالہ ( ر)جنرل اسلم بیگ کا مضمون) امریکا نے شام، ٹیونس ،لیبیا،سوڈان،یمن،عراق،افغانستان اور پاکستان میں تباہی پھیلائی ہوئی ہے۔                                                                                                                                     
    صاحبو! ایک زمانے میںمسلمانوں نے روم کی عیسائی ریاستوں سے موجودہ مسلمان علاقے فتح کیے تھے۔کیا مسلمانوں کو یاد نہیں کہ اسپین پر ایک عیسائی راڈرک حکمران تھا۔ جسے افریقہ کے مسلمان گورنر موسیٰ بن نصیر کے جرنیل،طارق بن زیادر بر بر نے شکست دی تھی۔ اور آٹھ سو سال مسلمانوں نے اسپین پر حکومت کی تھی۔ مسلمانوں کے زوال پرپھرعیسائیوں نے اسپین پر قبضہ کیا اور اسپین سے مسلمانوں کا نام و نشان تک مٹا دیا۔ اسرائیل تو عیسائیوں کی ناجائز اولاد ہے۔ جنہوں نے یہودیوں کو دنیا سے اکٹھا کر مسلمانوں کے قبلہ اوّل کی سرزمین فلسطین میں بیٹھا کر مسلمانوں کی پیٹھ پر چھرا کھونپا ہے۔ اسرائیل پاکستان کا اس لیے مخالف ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ اور مستقل طور پر عربوں اورفلسطینیوں کی حمایت کی ہے۔قرآن میں یہودیوں کو اللہ تعالیٰ نے چارشیٹ کیا ہے۔ہمارے قرآن نے مسلمانوں کو پہلے ہی سے بتا دیا ہے یہودو نصارا تمھارے دوست نہیں ہو سکتے جب تک تم ان جیسے نہ بن جائو۔اللہ نے قرآن میں یہودیوں کودھتکار دیا ہے۔ پاکستان اسلام کے نام پر بنا ہے۔ اس کے عوام اسلام سے بے پناہ محبت کرتے ہیں۔ یہ چیز اسرائیل کو پسند نہیں۔
     اس طرح ہم برسوں سے لکھتے آئے ہیں کہ امریکا،اسرائیل اور بھارت تین شیطانوں کاپاکستان خلاف اتحاد ثلاثہ ہے۔ جسے ہم گریٹ گیم کے کارندے لکھتے ہیں۔اس میں تاریخ حقیت بھی ہے۔بھارت برصغیر میں مسلمانوں کا اس لیے مخالف ہے کہ مسلمانوں نے ان پر ایک ہزار سال حکمرانی کی ہے۔انگریزوں کے ہندوستان سے جانے پر بانی پاکستان حضرت قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے دو قومی نظریہ کی بنیاد پراسلامی پاکستان حاصل کیا ۔ مودی ہندوئوں کی انتہا پسند جماعت ایس ایس آر کا کٹر مذہبی بنیادی رکن ہے۔ آ رآر ایس کا ماٹو ہندوستان کو کٹر ہندو ریاسست بنانا ہے ۔ مودی اس کو اپنامذہبی فریضہ سمجھتا ہے۔ اپنے آباء کے نقش قدم پر چلتے ہوئے کہتا کہ پہلے پاکستان کے دو ٹکڑے کیے تھے اب پاکستان کے مذیدٹکڑے کر کے اس کو اکھنڈ بھارت میں شامل کر کے دم لوں گا۔قائد اعظمؒ کے پاکستانیوںکو یاد رکھنا چاہیے کہ پاکستان بنتے وقت ہندو لیڈروں نے یہ عزم کیا کہ جب دوقومی نظریہ
    ڈھیلا پڑھ جائے گا تو ہم پاکستان کے ٹکڑے کر واپس بھارت میں شامل کر لیں گے۔ اسی لیے بھارت نے پاکستان میں ایک عرصہ سے سیکولر زم کی مہم جاری کی ہوئی ہے۔پاکستان کے اسلامی تشخص ، دو قومی نظریہ ،بانی ِپاکستان قائد اعظمؒ اور مصورِ پاکستان علامہ اقبالؒ پر حملے کیے جاتے ہیں۔ اپنے آپ کو سیکولر کہنے والے نواز
    شریف نے جمعہ کے دن ہفتہ وار چھٹی اور علامہ اقبالؒ کے قومی دن کی چھٹی بھی ختم کر دی۔ آپ آئے روز الیکٹرک میڈیا پر قائد اعظم ؒ اور علامہ اقبالؒ کے خلاف پروگرام دیکھ سکتے ہیں۔بھارت نے اسی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے قوم پرست غدار وطن شیخ مجیب کا ساتھ دے کر پاکستان کے دو ٹکڑے کیے تھے۔نواز شریف پاکستان کی مخالفت کرتے ہوئے اب مجیب کو محب وطن کہہ رہا ہے۔جس وقت بھارت نے غدار پاکستان شیخ مجیب سے ملک کرپاکستان کے دوٹکڑے کیے تھے۔ اُس وقت بھارت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی نے کہا تھا کہ میں نے دوقومی نظریہ خلیج بنگال میں ڈبو دیا ہے۔ مسلمانوں سے ہنددئوں پر ہزار سالہ(۱۰۰۰) حکمرانی کرنے کابدلہ بھی لے لیا ہے۔ اے کاش! کہ پاکستان میں تیس سال حکمران رہنے والے نواز شریف بھی بھارت سے پاکستان توڑنے کا بدلہ لینے کا عہد کرتے اور قسم کھاتے؟ مگر پاکستان کے حکمران خواب ِغفلت میں سوئے ہوئے ہیں۔ جبکہ بھارتی حکومت کے تمام حکومتی اہلکار پاکستان کے ٹکڑے کرنے کی گردانیں دہراتے رہتے ہیں۔دہشت گرد مودی نے بھارت میں جنگ کا ساماں پیدا کیا ہوا ہے۔ لین آف کنٹرول اور ورکنگ بائونڈری پر اشتعال انگیزی کر کے نہتے سولین کو آئے روز شہید کرتا رہتا ہے۔اب تو اس کی فوج کا چیف آف اسٹاف بپن راوت جو مخبوط ا لحواس ہو گیا ہے، کہتا ہے پاکستان کی ایٹمی صلاحیت کوایک خواب سمجھتا ہوں۔ یہ بیان ایک نفسیاتی جنگ کا آلہ ہے۔ جسے بپن راوت نے استعمال کیا ہے۔ مودی نے مسلمان دشمن پاگل ڈونلڈ ٹرمپ سے دفاعی معاہدہ کیا۔اسرائیل کے اسلحہ کا سب سے بڑا خریدار ہے اور اس نے اسلحہ کے انبار لگا دیے ہیں۔ خارجہ پالیسی کامیابی سے استعمال کرتے ہوئے پڑوسی ملک افغانستان کو پاکستان مخالف بنا دیاہے۔ بنگلہ دیش میں پاکستان سے محبت کرنے والے دوقومی نظریہ کے حامی بنگالیوں کو چن چن کر حسینہ واجد کے ہاتھوں قتل کروا رہا ہے۔
    ایران کی چاہ بہار پورٹ بنا کر اس سے دوستی کی ہوئی ہے۔ کئی سالوں سے ایران کے ساتھ پاکستان کی ٹرین سروس بند ہے۔ ایران بات بات پر پاکستان کی سرحد پر راکٹ برساتا رہتا ہے۔بھارتی حاضر سروس فوجی جاسوس کلبھوشن یادیو ایران میںبیٹھ کرپاکستان اور خاص کر بلوچستان اور کراچی میں دہشت گردی کر تارہا ہے۔سپریم کورٹ سے تا حیات نا اہل قرار پانے والے نواز شریف نے آج تک کلبھوشن یادیو کے خلاف زبان نہیں کھولی۔بلکہ بھارت سے آلو پیاز کی تجارت کی باتیں کرتا رہتا تھا۔کراچی میں غدار وطن الطاف حسین نے بھارت کا آلہ کار بن کر پاکستان کو ستر(۷۰) فی صد ریوینیو کما کر دینے والے شہر کو تیس برس تک آگ و خون نہلائے رکھا۔بھارت نے عرب ملکوں سے تعلوقات بہتر کر لیے ہیں۔یمن کے بارے پاکستان کی پالیسی سے سعودی عرب کے بھی تعلوقات پہلے جیسے نہیں ہیں۔ بھارت نے عرب امارات سے دوستی کی۔ ان کے فوجیوں نے بھارت کی آزادی کے دن بھارتی فوجوں کے ساتھ گذشہ سال مشترکہ پریڈکی تھی۔تاریخ میں پہلی مرتبہ امارات میں مندر بنانے کی اجازت دی گئی۔ بھارت نے امریکی کی مدد اور اشارے پرکامیاب خارجہ پالیسی سے یہ سارے حالات پیدا کر لیے ہیں۔بھارت پاکستان کو دنیا میں اکیلا کرنے کے لیے دہشت گردی کے ا لزام لگاتا رہتا ہے۔ جبکہ نواز شریف پاکستان کے لیے۲۰۱۳ء سے کل وقتی وزیر خارجہ ہی نہیں بنایابلکہ پاکستان کو قرضوں کے بوجھ تلے دبا دیا ہے۔                                                                                    
    محترم قارئین! پاکستان کے ازلی دشمن،بھارت کے عزاہم خطرناک ہیں۔وہ امریکا اور اسرائیل کے ساتھ مل کر پاکستان کوتوڑناچاہتا ہے۔مشرقی پاکستان توڑتے وقت روس سے دفاعی معاہدہ کیا تھا۔اب پھر پاکستان توڑنے کے لیے امریکا سے دفاعی معاہدہ کیا ہے۔ اسرائیل سے دنیا میں سب سے زیادہ اسلحہ خریدا ہے۔نتن یاہو کے چھ روزہ دورے کے بعد دونوں نے کہا ہے کہ ہماری جدید تہذیب کے خلاف مسلمان انتہا پسند رکاوٹ ہیں۔ ان کے خلاف یکجاہ ہونا ہے۔یہ بات مودی اور ڈونلڈ ٹرمپ امریکا کے دورے کے دوران مشترکہ کانفرنس میں کہہ چکے۔پاکستان پر گریٹ گیم کے اہلکاروں کا دبائو دیکھ کرنواز شریف نے بھی خطرناک راستہ اختیارکرلیا ہے۔وہ بوکھلاہٹ کا شکار ہو کر ملک کے خلاف بیان دے رہا ہے۔ عدلیہ پر دبائو ڈال کر اپنے خلاف نیب میں جاری کرپشن کے مقدمات ختم کروانا چاہتا ہے۔ اس سے عوام کے ہمدردیاں تقسیم ہو رہی ہیں۔نواز شریف نے تیس سالہ دور حکمرانی میں اپنی ذاتی مفاد کے لیے پاکستان کے سارے ادارے تباہ کر رکھ دیے ہیں۔اپنے دورحکمرانی میںفوج کو پنجاب جیسی پولیس بنانے کی کوشش کی مگر کامیاب نہ ہواتو فوج کے خلاف ہو گیا ہے۔ملک کی اعلیٰ عدلیہ کے خلاف بھی مہم چلائی ہوئی ہے۔لہٰذا نیپ میں کرپشن کے مقدمات کو جلد فیصلہ آنا چاہیے۔ کرپشن ثابت ہونے کی شکل میں سارا پیسا واپس لا کر ملک کے خزانے میں داخل کر نا چاہیے۔سپریم کورٹ اور نیب میں درج ۴۵۳؍ آف شور کمپنیاں رکھنے والے عناصر کے جلد فیصلہ کر کے ان سے بھی کرپشن کا پیسا واپس وصول کر ملک کے خزانے میں جمع کرنا چاہیے۔ پہلے والی نیب نے ریکارڈ نہ ملنے پر سابق صدر زرداری کے کرپشن کے مقدمات ختم کیے تھے۔ ان کے بھی خلاف نئے سرے سے کرپشن کرنے کے مقدمات قائم ہونے چاہییں۔کرپشن ثابت ہونے پر ان سے بھی پیس واپس وصول کر کے ملک کے خزانے میں داخل کرنا چاہیے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان عوام، سیاسی مذہبی جماعتوںاور ملکی اداروں میں مکمل یکجہتی کی فضا قائم ہونی چاہیے۔ الیکشن مقررہ وقت پر ہونے چاہییں۔ موجودہ پارلیمنٹ کو اپنا وقت پورا کرنا چاہیے۔ملک ِ پاکستان میںکرپشن اور سیاست کو علیحدہ علیحدہ رہنا چاہیے۔احتساب کا عمل جاری رہنا چاہیے۔ اس ملک میں جس نے بھی کرپشن کی ہے چائے وہ سیاستدان ہے،فوج کاجرنیل ہے،عدلیہ کا جج ہے یا بیروکریٹ ہے سب کا احتساب ہونا چاہیے۔ گریٹ گیم کے سرخنہ امریکا کے بھارت سے تعلوقات اورنتن یاہو کے دورہ بھارت کے ممکنہ اثرات کو زائل کرنے کے لیے ایٹمی اور میزائل طاقت پاکستان کو ہوشیار باش ہونا چاہیے۔اللہ مملکت اسلامی جمہوریہ پاکستان کی حفاظت فرمائے آمین۔                                                         





 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں









سوشل میڈیا لنکس